خطبہ اول:
ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے، اس کی توفیق اور اس کی نوازشوں پر، اور اس کی بھرپور نعمتوں اور احسانات پر۔ کائنات میں پھیلی ہوئی اس کی متنوع نشانیوں پر، اور ہمیں نوازی گئی بڑی بڑی عنایتوں پر اس کا شکر ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اس کی ذات و صفات میں اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ خاتم الانبیاء والمرسلین ہیں۔ اللہ درود و سلام نازل کرے آپ ﷺ پر، آپ کی آل و اصحاب پر اور اولیاء پر۔
اما بعد!
یقیناً سب سے اچھی بات اللہ کا کلام ہے، سب سے اچھا طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے، سب سے بری باتیں دین میں ایجاد کردہ باتیں ہیں، اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ اللہ کے بندو، میں تمہیں اللہ کی اطاعت، تقویٰ کو لازم پکڑنے، نفس کے محاسبے اور خواہش نفس کی مخالفت کرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: “اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر شخص دیکھ بھال لے کہ کل قیامت کے واسطے اس نے اعمال کا کیا ذخیرہ بھیجا ہے، اور ہر وقت اللہ سے ڈرتے رہو اللہ تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے۔”
لوگو! پانی عظیم ترین نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے، یہ ہر جاندار کی تخلیق کی اصل ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ1
اور ہر زندہ چیز کو ہم نے پانی سے پیدا کیا۔
پانی زندگی کا جوہر ہے اور ماحول کا وہ عنصر ہے جس کی پوری کائنات ضرورت مند ہے۔ اس سے نہ انسان، نہ حیوان اور نہ نباتات بے نیاز ہو سکتے ہیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:
هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً لَكُمْ مِنْهُ شَرَابٌ وَمِنْهُ شَجَرٌ فِيهِ تُسِيمُونَ يُنْبِتُ لَكُمْ بِهِ الزَّرْعَ وَالزَّيْتُونَ وَالنَّخِيلَ وَالْأَعْنَابَ وَمِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ2
وہی تمہارے فائدے کے لیے آسمان سے پانی برساتا ہے جسے تم پیتے بھی ہو اور اس سے اگے ہوئے درختوں کو تم اپنے جانوروں کو چراتے ہو، اسی سے وہ تمہارے لیے کھیتی اور زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل اگاتا ہے۔ بے شک ان لوگوں کے لیے تو اس میں بڑی نشانی ہے جو غور و فکر کرتے ہیں۔
اللہ کے بندو! پانی پاکی کا ذریعہ ہے جو کہ نصف ایمان ہے۔ نماز اور بہت سی دوسری عبادتوں کی شرط ہے، اسی سے وضو اور غسل ہوتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: “اور وہی ہے جو بارانِ رحمت سے پہلے خوشخبری دینے والی ہواؤں کو بھیجتا ہے اور ہم آسمان سے پاک پانی برساتے ہیں تاکہ اس کے ذریعہ سے مردہ شہر کو زندہ کر دیں اور اسے ہم اپنی مخلوقات میں سے بہت سے چوپایوں اور انسانوں کو پلاتے ہیں۔
اور فرمایا:
وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً لِيُطَهِّرَكُمْ بِهِ3
اور تم پر آسمان سے پانی برساتا ہے کہ اس پانی کے ذریعہ سے تم کو پاک کر دے۔
اللہ کے بندو! بارش عظیم ترین نعمتوں میں سے ہے جن پر شکر واجب ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَهُوَ الَّذِي يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِنْ بَعْدِ مَا قَنَطُو4
اور وہی ہے جو لوگوں کے ناامید ہو جانے کے بعد بارش برساتا اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے، وہی کارساز ہے اور وہی قابل حمد و ثنا ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے بارش کے لیے اندازے کے مطابق ایک وقت متعین کیا ہے اور موسم بنایا ہے جس کا انتظار کیا جاتا ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:
أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يُزْجِي سَحَابًا ثُمَّ يُؤَلِّفُ بَيْنَهُ ثُمَّ يَجْعَلُهُ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَالِهِ وَيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاءِ مِن جِبَالٍ فِيهَا مِن بَرَدٍ فَيُصِيبُ بِهِ مَن يَشَاءُ وَيَصْرِفُهُ عَن مَّن يَشَاءُ ۖ يَكَادُ سَنَا بَرْقِهِ يَذْهَبُ بِالْأَبْصَارِ5
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ بادلوں کو چلاتا ہے پھر انہیں ملاتا ہے پھر انہیں تہہ بہ تہہ کر دیتا ہے پھر آپ دیکھتے ہیں کہ ان کے درمیان میں سے مینہ برساتا ہے، وہی آسمان کی جانب سے اولوں کے پہاڑ میں سے اولے برساتا ہے پھر جنہیں چاہے ان کے پاس انہیں برسائے اور جن سے چاہے ہٹا دے۔ بادل ہی سے نکلنے والی بجلی کی چمک ایسی ہوتی ہے کہ گویا اب آنکھوں کی روشنی لے چلی۔
اور فرمایا:
وَمِنْ آيَاتِهِ أَن يُرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرَاتٍ وَلِيُذِيقَكُم مِّن رَّحْمَتِهِ وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ بِأَمْرِهِ وَلِتَبْتَغُوا مِن فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ6
اس کی نشانیوں میں سے خوشخبریاں دینے والی ہواؤں کو چلانا بھی ہے اس لیے کہ تمہیں اپنی رحمت سے لطف اندوز کرے اور اس لیے کہ اس کے حکم سے کشتیاں چلیں اور اس لیے کہ اس کے فضل کو تم ڈھونڈو اور اس لیے کہ تم شکرگزاری کرو۔
لوگو! بارش میں جب تاخیر ہوتی ہے تو لوگوں کی گھبراہٹ اور مصیبت شدید ہو جاتی ہے۔ انہیں قحط سالی اور پریشانی کا سامنا ہوتا ہے، کھیتیاں اور درخت تباہ ہوتے ہیں، چشمے اور کنویں خشک ہو جاتے ہیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:
قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَصْبَحَ مَاؤُكُمْ غَوْرًا فَمَن يَأْتِيكُم بِمَاءٍ مَّعِينٍ7
کہہ دے کیا تم نے دیکھا اگر تمھارا پانی گہرا چلا جائے تو کون ہے جو تمھارے پاس بہتا ہوا پانی لائے گا ؟
لوگوں کو خشک سالی نے آلیا اور انبیاء ان کے درمیان موجود تھے، انبیاء نے نقصان کے ازالے اور مصیبت کے چھٹنے کے اسباب کی طرف ان کی رہنمائی کی اور اللہ نے بہت سی قوموں کو خشک سالی اور پھلوں میں کمی کر کے پکڑا کہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ لیکن ہمارے نبی ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ آپ ﷺ کی امت کو قحط سالی سے ہلاک نہ کرے اور اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی دعا قبول کی۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَلَقَدْ أَخَذْنَا آلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِينَ وَنَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ
اور ہم نے فرعون والوں کو مبتلا کیا قحط سالی میں اور پھلوں کی کم پیداواری میں تاکہ وہ نصیحت قبول کریں۔(سورۃ الاعراف:130)
اور جب اللہ اپنے بندوں کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے تو رحمتیں نازل ہوتی ہیں، وہ بندوں کی مدد کرتا ہے، ملک سیراب ہوتے ہیں، زمین خوشنما اور آراستہ ہوتی ہے اور شادمانی کے آثار ظاہر ہوتے اور پھل پھیل جاتے ہیں۔
اللہ کے بندو! نعمتوں کا شکر واجب ہے، یہ نعمتوں کی بقاء اور پائیداری کا سبب ہے اور ان نعمتوں کے کمال شکر میں سے یہ ہے کہ ان کے بعد سچی حمد اور خالص اطاعت ہو۔ اس لیے کہ جب نعمتوں کی شکر گزاری کی جاتی ہے تو نعمتیں ہمیشہ رہتی ہیں اور بڑھتی ہیں اور جب ناشکری کی جاتی ہے تو نعمتیں چھین لی جاتی ہیں اور ختم ہو جاتی ہیں
۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ8
اور جب تمہارے پروردگار نے تمہیں آگاہ کر دیا کہ اگر تم شکرگزاری کرو گے تو بے شک میں تمہیں زیادہ دوں گا اور اگر تم ناشکری کرو گے تو یقیناً میرا عذاب بہت سخت ہے۔
تم اللہ کو یاد کرو، اللہ تمہیں یاد کرے گا، اس کی نعمتوں اور نوازشوں پر اس کا شکر بجا لاؤ وہ تمہیں مزید نوازے گا۔ ہم اس عظیم رحمت پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں جس کا نفع عام ہے، جس کا خیر وسیع ہے، جو ضرورت کے وقت آئی ہے، جس سے کھیتیاں لہلہا اٹھی ہیں، دل باغ باغ ہو گئے ہیں۔ ہم اللہ سے اس کے فضل کے قائم رہنے کی دعا کرتے ہیں۔
تمام تعریف اللہ کے لیے ہے اس پر کہ اس نے ہم پر بارش نازل کی اور اس پر کہ اس میں برکتیں بھلائی اور اثر رکھا۔ اس نے اس کے ذریعے سے ملکوں کو سیراب کیا اور خوب کیا اور ایک اندازے کے مطابق اس کے ذریعے زمین کو زندہ کیا اور اس سے دلوں کو تروتازہ کیا۔ اے اللہ! تیرے لیے ایسی حمد ہے جو تیرے جلال کے شایانِ شان ہو، جو تیری پے در پے نعمتوں اور نوازشوں کے برابر ہو۔ تیری حمد ہے تیری وسیع رحمت، عظیم احسان اور بھرپور نوازش پر۔ تیری حمد ہے کہ تو نے بھرپور نوازش کی، پردہ رکھا، نعمتیں عطا کیں، کرم کیا۔ ہم تیری تعریف نہیں گن سکتے، تو ویسا ہے جیسا تو نے اپنی تعریف میں کہا ہے۔
اللہ کے بندو! نعمتوں کی شکرگزاری میں سے یہ ہے کہ نعمتیں نعمت عطا کرنے والے اللہ کی طرف منسوب کی جائیں اور ان کے بدلے فرمانبرداری کی جائے اور انہیں ان چیزوں میں خرچ کیا جائے جو اللہ کو خوش کریں اور یہ کہ وہ توبہ اور اللہ کی طرف رجوع، گناہوں اور نافرمانیوں کے چھوڑنے اور بکثرت استغفار کا سبب ہوں۔ یہ ساری باتیں نعمتوں کے دوام، برکتوں کے نزول اور بارش برسنے کا سبب ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: “اور میں نے کہا کہ اپنے رب سے اپنے گناہ بخشواؤ اور معافی مانگو، وہ یقیناً بڑا بخشنے والا ہے، وہ تم پر آسمان کو خوب برستا ہوا چھوڑ دے گا اور تمہیں خوب پے در پے مال اور اولاد میں ترقی دے گا اور تمہیں باغات دے گا اور تمہارے لیے نہریں نکال دے گا۔”
لوگو! بارش اللہ کی نشانیوں میں سے ایک عظیم نشانی ہے جو اللہ کے کمالِ قدرت اور اس کی نافذ ہونے والی حکمت کی یاد دلاتی ہے۔ بارش کے نازل ہونے میں عبرت و نصیحت ہے، اس کے اندر ایمانی پیغام ہے جو دلوں کو جگاتا ہے۔ موت، فنا، دوبارہ زندہ اٹھائے جانے، حساب کتاب اور جزا کی یاد دلاتا ہے۔ بنجر زمین میں بارش جو موت کے بعد زندگی، خشکی کے بعد شادابی اور سختی کے بعد خوشحالی پیدا کرتی ہے وہ ایک مادی دلیل ہے جو موت اور دوبارہ زندہ اٹھائے جانے کی یاد دلاتی ہے کہ بعد اس کے کہ زمین مردہ اور بنجر تھی، لہلہا اٹھی، پھلنے پھولنے لگی اور ہر قسم کی خوش منظر نباتات اگانے لگی۔
اللہ کا فرمان ہے:
وَمِنْ آيَاتِهِ أَنَّكَ تَرَى الْأَرْضَ خَاشِعَةً فَإِذَا أَنزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ ۚ إِنَّ الَّذِي أَحْيَاهَا لَمُحْيِي الْمَوْتَىٰ ۚ إِنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ9
“اس اللہ کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ تو زمین کو دبی دبائی دیکھتا ہے پھر جب ہم اس پر مینہ برساتے ہیں تو وہ تروتازہ ہو کر ابھرنے لگتی ہے، جس نے اسے زندہ کیا وہی یقینی طور پر مردوں کو بھی زندہ کرنے والا ہے، بے شک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کا اور فرمان ہے:
يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَإِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن تُرَابٍ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِن مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَيِّنَ لَكُمْ ۚ وَنُقِرُّ فِي الْأَرْحَامِ مَا نَشَاءُ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوا أَشُدَّكُمْ ۖ وَمِنكُم مَّن يُتَوَفَّىٰ وَمِنكُم مَّن يُرَدُّ إِلَىٰ أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِن بَعْدِ عِلْمٍ شَيْئًا ۚ وَتَرَى الْأَرْضَ هَامِدَةً فَإِذَا أَنزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَأَنبَتَتْ مِن كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ10
لوگو! اگر تمہیں مرنے کے بعد جی اٹھنے میں شک ہے تو سوچو ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر نطفہ سے پھر خون بستہ سے پھر گوشت کے لوتھڑے سے جو صورت دیا گیا تھا اور بے نقشہ تھا، یہ ہم تم پر ظاہر کر دیتے ہیں اور ہم جسے چاہیں ایک ٹھہرائے ہوئے وقت تک رحمِ مادر میں رکھتے ہیں پھر تمہیں بچپن کی حالت میں دنیا میں لاتے ہیں پھر تاکہ تم اپنی پوری جوانی کو پہنچو، تم میں سے بعض تو وہ ہیں جو فوت کر لیے جاتے ہیں اور بعض ارذل عمر کی طرف فی سے لوٹا دیے جاتے ہیں کہ وہ ایک چیز سے باخبر ہونے کے بعد پھر بے خبر ہو جائیں۔ دیکھتا ہے کہ زمین بنجر اور خشک ہے پھر ہم اس پر بارشیں برساتے ہیں تو وہ ابھرتی ہے اور پھولتی ہے اور ہر قسم کی رونق دار نباتات اگاتی ہے، یہ اس لیے کہ اللہ ہی حق ہے وہی مردوں کو جلاتا ہے اور وہ ہر ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔”
اللہ مجھے اور آپ کو قرآن عظیم میں برکتوں سے نوازے، اس کے اندر موجود آیات اور ذکرِ حکیم سے مجھے اور آپ کو فائدہ پہنچائے۔ میں وہ کہہ رہا ہوں جو آپ سن رہے ہیں اور میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں، آپ بھی اس سے مغفرت طلب کریں یقیناً وہ بڑا بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔
[خطبہ کا دوسرا حصہ]ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے اس کے احسان پر، اور اس کا شکر ہے اس کی توفیق و نوازش پر۔ اور درود و سلام ہو ہمارے نبی محمد ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل و اصحاب، پیروکاروں اور مددگاروں پر۔
اللہ کے بندو! بہت سے لوگ فارغ وقتوں اور چھٹیوں کو سفروں اور سیاحتوں میں اور صحراؤں اور تفریحی مقامات میں گزارنا چاہتے ہیں۔ اور مسلمان کے لیے مناسب یہ ہے کہ جب وہ ایسا ارادہ کرے تو اس کے احکام کی معرفت حاصل کرے اور اس کے آداب کی پابندی کرے۔ احکام و آداب میں سے اہل و عیال کو الوداع کہنا، سوار ہونے اور نکلنے کی دعا کرنا ہے۔
ابْنَ عُمَرَ عَلَّمَهُمْ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَوَى عَلَى بَعِيرِهِ خَارِجًا إِلَى سَفَرٍ ؛ كَبَّرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ : ” { سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ } { وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ11
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ ﷺ کسی سفر کے لیے نکلتے ہوئے جب اپنی اونٹنی پر سوار ہو جاتے تو تین مرتبہ “اللہ اکبر” کہتے اور پھر کہتے: “سبحان الذی سخر لنا ھٰذا وما کنا لہ مقرنین و انا الٰی ربنا لمنقلبون۔
االلَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ، وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ.13(صحیح مسلم:1342) [/efn_note]
اے اللہ! ہم تجھ سے اپنے اس سفر میں نیکی اور تقویٰ کا سوال کرتے ہیں، اور ایسے عمل کی توفیق مانگتے ہیں جس سے تو راضی ہو جائے۔ اے اللہ! ہمارے اس سفر کو ہمارے لیے آسان فرما دے، اور اس کی مسافت کو سمیٹ دے۔ اے اللہ! تو ہی سفر میں ہمارا ساتھی ہے اور اہلِ خانہ میں ہمارا نگہبان ہے۔ اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں سفر کی مشقت سے، دل کو غمگین کرنے والے منظر سے، اور مال و اہل کے بارے میں بُرے انجام سے۔۔
وَإِذَا رَجَعَ قَالَهُنَّ، وَزَادَ فِيهِنَّ : ” آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ14
اور جب آپ ﷺ واپس تشریف لاتے تو یہی دعا پڑھتے اور اس میں یہ الفاظ بھی بڑھا دیتے:
ہم لوٹنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں، اور اپنے رب کی حمد بیان کرنے والے ہیں۔
سفر کے آداب میں سے یہ ہے کہ نیک ساتھیوں کا ساتھ لیا جائے اور تنہا سفر نہ کیا جائے کہ ساتھ ہونا اطاعت پر مددگار ہوتا ہے اور شیطان سے اور لغزشوں سے بچاتا ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: “اگر لوگ جان لیں کہ تنہائی میں کیا ہے تو کوئی سوار رات میں اکیلے نہ چلے۔”
آداب میں سے یہ ہے کہ وقتوں پر فرائض ادا کیے جائیں اور شریعت نے مسافر کے لیے یہ رخصت دی ہے کہ چار رکعت والی نمازوں کو قصر ادا کرے جبکہ اس کا سفر سفر کی مسافت کے بقدر ہو۔ ا
للہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَقْصُرُوا15
جب تم سفر میں جا رہے ہو تو تم پر نمازوں کے قصر کرنے میں کوئی گناہ نہیں۔
اسی طرح شریعت نے موزوں پر مسح کرنے میں بھی رخصت دی ہے، مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات اور مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں جبکہ انہیں وضو کی حالت میں پہنا ہو۔ اسی طرح زخم پر لگی پٹی پر بھی مسح مشروع ہے جب تک کہ اس کی ضرورت ہو، پٹی کا حالتِ وضو میں باندھنا شرط نہیں اور نہ اس کے لیے کوئی محدود مدت ہے۔ اور جو پانی کے استعمال سے قاصر ہو کسی بیماری کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے جو اسے پانی کے استعمال سے روکے یا ایسی سخت سردی سے جس سے اسے نقصان کا اندیشہ ہو تو شریعت نے اس کے لیے تیمم کی رخصت دی ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَإِن كُنتُم مَّرْضَىٰ أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنكُم مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُورًا16
اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو یا تم نے عورتوں سے مباشرت کی ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی کا قصد کرو اور اپنے منہ اور اپنے ہاتھ پر مل لو۔(سورۃ النساء:43)
سفر کے آداب میں سے ہے کہ سلامتی اور سیر و تفریح کے نظام پر توجہ دی جائے، جانوں سے کھیلنے، لاپروائی برتنے اور جانوں کو جوکھم میں ڈالنے سے بچا جائے۔ آداب میں سے ہے کہ سیر و تفریح کرنے والوں کو تکلیف نہ پہنچائی جائے، انہیں پریشان نہ کیا جائے، ان کی حرمتوں سے نگاہیں نیچے رکھی جائیں، ان کے راز و اسرار کے پیچھے نہ پڑا جائے، ان کے راستوں اور گزرگاہوں میں نہ رکا جائے، عوامی املاک، آلات و وسائل اور اس سے مخصوص سہولیات کو ضائع نہ کیا جائے۔
آداب میں سے یہ بھی ہے کہ ماحول کی صفائی کا خیال رکھا جائے، تفریح گاہوں کو آلودہ نہ کیا جائے اور کوڑے کرکٹ کو ایسی جگہوں پر نہ پھینکا جائے جو ان کے لیے مخصوص نہیں۔ لوگوں کے راستوں اور سایوں میں قضائے حاجت نہ کی جائے کہ اس پر وعید آئی ہے۔
آپ ﷺ فرماتے ہیں:
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اتَّقُوا اللَّعَّانَيْنِ “. قَالُوا: وَمَا اللَّعَّانَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ:الَّذِي يَتَخَلَّى فِي طَرِيقِ النَّاسِ، أَوْ فِي ظِلِّهِمْ17
لعنت کے دو کاموں سے بچو۔” صحابہ کرام نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ﷺ! لعنت کے وہ کون سے دو کام ہیں؟آپ ﷺ نے فرمایا: “جو لوگوں کے راستے میں یا ان کے سائے میں پاخانہ کرتا ہے-
انہیں لعنت والے کام اس لیے کہا گیا کہ جو یہ کرتے ہیں ان پر لوگ لعنت بھیجتے ہیں، چنانچہ ایسا کرنا جائز نہیں کہ یہ تکلیف دہ ہے اور مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ نہ اسے تکلیف پہنچاتا ہے اور نہ نقصان۔
اللہ ہمیں اور آپ کو ان میں سے بنائے جو باتیں سنتے ہیں تو سب سے اچھی باتوں کی پیروی کرتے ہیں، یہی لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت بخشی ہے اور یہی لوگ عقل والے ہیں۔ اے اللہ! ہمیں ہدایت دے، ایمان کو ہمارے لیے محبوب بنا دے، اسے ہمارے دلوں میں مزین کر دے اور ہمارے لیے کفر، فسق اور نافرمانی کو مبغوض کر دے اور ہمیں ہدایت یافتہ لوگوں میں سے بنا۔
اے اللہ! ہم تجھ سے دنیا و آخرت میں معافی اور عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ اے اللہ! ہم تجھ سے معافی اور عافیت طلب کرتے ہیں اپنے دین میں، دنیا میں، اہل و عیال اور مال و منال میں۔ اے اللہ! ہماری ستر پوشی کر، ہمارے ڈر کو امن سے بدل دے اور ہمیں اپنی حفظ و نگہبانی میں محفوظ رکھ۔
اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا کر، اپنے موحد بندوں کی مدد کر۔ اے اللہ! اس ملک کو اور مسلمانوں کے بقیہ تمام ملکوں کو امن و سکون والا بنا۔ اے اللہ! ہماری سرحدوں پر تعینات ہمارے سپاہیوں کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ان کے مردوں کو قبول کر، ان کے مریضوں کو شفا دے اور انہیں ان کے اہل و عیال کے پاس صحیح سالم بامراد لوٹا اے رب العالمین۔
اے اللہ! مسلمانوں کے احوال درست فرما، انہیں ان کے وطنوں میں امن سے نواز، انہیں متحد کر، انہیں حق پر یکجا کر، ان کے دلوں میں الفت ڈال، ان کے باہمی رشتے درست کر۔ اے اللہ! انہیں ظاہر و باطن ہر اختلاف سے بچا۔ اے اللہ! ہمیں ہمارے وطنوں میں امن سے نواز، ہمارے سربراہوں اور حکمرانوں کی اصلاح فرما۔ اے اللہ! ہمارے سربراہ خادم الحرمین الشریفین کو اپنی توفیق سے توفیق یاب کر، تو انہیں اپنی تائید سے مضبوط کر، ان سے تو اپنے دین کو معزز کر اور انہیں صحت و عافیت کا لباس پہنا اے رب العالمین۔ اے اللہ! انہیں اور ان کے ولی عہد کو اس چیز کی توفیق دے جو تجھے پسند ہو اور جس سے تو راضی ہو اے دعاؤں کے سننے والے۔ اے اللہ! تو ہماری طرف سے قبول فرما یقیناً تو سننے والا جاننے والا ہے اور ہماری توبہ قبول کر یقیناً تو بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا بڑا مہربان ہے۔
اللھم صل علیٰ محمد وعلیٰ آلہ وصحبہ اجمعین۔
خطبہ جمعہ مسجد نبوی
تاریخ: 20 رجب 1447 ہجری بمطابق 09 جنوری 2026 عیسوی
خطیب: فضیلۃ الشیخ عبداللہ البعیجان حفظہ اللہ
- (سورۃ الأنبیاء :21)
- (سورۃ النحل:10-11)
- (سورۃ الانفال:11)
- (سورۃ: الشوریٰ:28)
- (سورۃ: النور:43)
- (سورۃ الروم:46)
- (سورۃ الملک:30)
- ( سورۃ ابراہیم:07)
- (سورۃ حم سجدہ:39)
- (سورۃ الحج:05)
- (صحیح مسلم:1342)
- 12
- (صحیح مسلم:1342)
- (سورۃ النساء:101)
- (سورۃ النساء:43)
- (صحیح مسلم:269)
