اسلام ایک کامل ضابطۂ حیات ہے، جو انسانی زندگی کے انفرادی، خاندانی اور اجتماعی تمام پہلوؤں میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ نکاح اسلامی نظامِ زندگی کا ایک اہم ستون ہے، جو عفت و پاک دامنی کے تحفظ، نسلِ انسانی کے تسلسل، صالح خاندان کی تشکیل اور معاشرتی استحکام کا بنیادی ذریعہ ہے۔ اس کے اثرات فرد کی اخلاقی و روحانی تربیت سے لے کر خاندان کی خوش حالی اور معاشرے کی اصلاح تک پھیلے ہوئے ہیں۔ نکاح کے دینی، دنیوی اور معاشرتی فوائد و ثمرات بے شمار ہیں، جن میں سے اہم درج ذیل ہیں:
1۔ فطری خواہشات کی جائز تکمیل
نکاح کے اہم فوائد میں سے ایک فطری خواہشات کی جائز تکمیل اور عفت و پاک دامنی کا تحفظ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مرد و عورت میں ایک دوسرے کی رغبت رکھی ہے، اور نکاح اس فطری تقاضے کو شرعی حدود میں پورا کرنے کا پاکیزہ ذریعہ ہے۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
إِنَّ الْمَرْأَةَ تُقْبِلُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ، وَتُدْبِرُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ، فَإِذَا أَبْصَرَ أَحَدُكُمُ امْرَأَةً فَلْيَأْتِ أَهْلَهُ، فَإِنَّ ذَلِكَ يَرُدُّ مَا فِي نَفْسِهِ 1
ترجمه: عورت شیطان کی صورت میں آتی ہے اور شیطان کی صورت میں جاتی ہے، پس جب تم میں سے کوئی عورت کو دیکھے تو اپنی بیوی کے پاس جائے، کیونکہ یہ اس کی خواہش کو ٹھنڈا کرتا ہے۔”
اسی لیے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جب ان کے بیٹے بالغ ہو گئے تو انہیں جمع کیا اور فرمایا:
إِنَّكُمْ قَدْ بَلَغْتُمْ ما يَبْلُغُ الرِّجَالُ مِنْ شَأْنِ النِّسَاءِ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ أُزَوِّجَهُ زَوَّجْتُهُ؛ فَإِنَّهُ لَمْ يَزْنِ رَجُلٌ قَطُّ إِلَّا نُزِعَ مِنْهُ نُورُ الْإِسْلَامِ، يَرُدُّهُ اللہُ إِنْ شَاءَ أَنْ يَرُدَّهُ، أَوْ يَمْنَعُهُ إِيَّاهُ إِنْ شَاءَ أَنْ يَمْنَعَهُ 2
ترجمه: تم اس عمر کو پہنچ چکے ہو جس عمر میں مرد عورتوں کے معاملے میں رغبت محسوس کرتے ہیں۔ تم میں سے جو شخص چاہے کہ میں اس کا نکاح کر دوں، تو میں اس کا نکاح کر دوں گا؛ کیونکہ جو شخص بھی زنا کرتا ہے، اس سے اسلام کا نور چھین لیا جاتا ہے۔ پھر اگر اللہ چاہے تو اسے وہ نور واپس عطا فرما دے، اور اگر چاہے تو اسے اس سے محروم رکھے۔
2۔ سکونِ قلب کا ذریعہ
نکاح اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے، جو میاں بیوی کے درمیان محبت و الفت اور قلبی سکون کا ذریعہ بنتا ہے۔ اسی حقیقت کو اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں یوں بیان فرمایا ہے:
هُوَ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا 3
ترجمہ : وہی اللہ ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اس سے اس کی بیوی بنائی تاکہ وہ اس سے سکون حاصل کرے ۔
3۔ انسانی نسل کی بقا
نکاح کے ذریعے نسلِ انسانی آگے بڑھتی ہے اور انسان کو اولاد کی نعمت حاصل ہوتی ہے، جو آنکھوں کی ٹھنڈک اور زندگی کی خوشی کا باعث بن سکتی ہے۔ارشاد باری تعالی ہے :
وَاللہُ جَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا وَجَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ بَنِينَ وَحَفَدَةً 4
ترجمہ: اور اللہ نے تمہارے لیے تم ہی میں سے بیویاں بنائیں، اور تمہاری بیویوں سے تمہیں بیٹے اور پوتے نواسے عطا کیے۔
4۔ قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ کے لیے فخر کا باعث ۔
نکاح کے ذریعے امتِ مسلمہ کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے، جو رسول اللہ ﷺ کی پسندیدہ خواہشات میں سے ہے۔ آپ ﷺ نے اپنی امت کو کثرتِ نسل کی ترغیب دی ہے تاکہ قیامت کے دن دیگر امتوں کے مقابلے میں اپنی امت کی کثرت پر فخر فرمائیں۔آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
تَزَوَّجُوا الوَدُودَ الوَلودَ ، فإني مُكَاثِرٌ بكم الأنبياءَ يومَ القيامةِ . 5
ترجمہ : خوب محبت کرنے والی اور خوب بچےجننے والی عورت سے شادی کرو، کیونکہ بروز قیامت میں تمہاری کثرت کی وجہ سے دوسرے انبیاء پر فخر کروں گا ۔
5 ۔ نام اور خاندانی روایات کا تحفظ
نکاح نسلِ انسانی کے تسلسل، صالح اولاد کے حصول اور خاندانی شناخت کی بقا کا اہم ذریعہ ہے۔ اولاد کے ذریعے خاندانی روایات آگے منتقل ہوتی ہیں اور والدین کا نام و تذکرہ نسلوں تک باقی رہتا ہے۔ اسی لیے اسلام نے نکاح اور حصولِ اولاد کی ترغیب دی ہے۔چنانچہ ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
لَا يَدَعْ أَحَدُكُمْ طَلَبَ الْوَلَدِ، فَإِنَّ الرَّجُلَ إِذَا مَاتَ وَلَيْسَ لَهُ وَلَدٌ، انْقَطَعَ اسْمُهُ6
ترجمہ : تم میں سے کوئی بھی اولاد طلب کرنا نہ چھوڑے کیونکہ جب آدمی مر جاتا ہے اور اس کی کوئی اولاد نہیں ہوتی تو اس کا نام ختم ہو جاتا ہے۔
6۔نیک اولاد کی دعاؤں کا فائدہ
نکاح کا ایک فائدہ یہ ہے کہ جب انسان دنیا سے رخصت ہوجائے تو اسے اپنی نیک اولاد کی دعاؤں کا فائدہ حاصل ہوتاہے ۔جیسا کہ نبی ﷺ نےارشاد فرمایا:
إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ: إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ 7
ترجمہ : جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو اس کا عمل ختم ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے: صدقہ جاریہ، علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے، یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔”
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہاکی نصیحت
جناب عمرو بن دینار رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ شادی نہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے، تو ان کی بہن سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا:
“أَيْ أَخِي، لَا تَفْعَلْ، تَزَوَّجْ؛ فَإِنْ وُلِدَ لَكَ وَلَدٌ فَمَاتُوا كَانُوا لَكَ أَجْرًا، وَإِنْ عَاشُوا دَعَوُا اللہَ عَزَّ وَجَلَّ لَكَ 8
ترجمه: اے میرے بھائی، ایسا نہ کرو، شادی کر لو؛ اگر تمہارے ہاں اولاد ہوئی اور وہ وفات پا گئے، تو وہ تمہارے لیے باعث اجر بن جائیں گے، اور اگر وہ زندہ رہے تو وہ اللہ عز و جل سے تمہارے لیے دعا کریں گے۔
اگر والدین اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرتے ہیں تو وہ اپنی موت کے بعد بھی اپنے لئے نیک اعمال کا تسلسل جاری رکھتے ہیں۔
اولادکے چند فوائد
اولادکے متعدد دینی اور دنیاوی فوائد ہیں، جو مسلمان کو اولاد کی افزائش کی ترغیب دیتے اور اس کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں۔ ان میں سے چند اہم فوائد درج ذیل ہیں:
(الف) ۔ جنت میں نبی کریم ﷺ کی رفاقت
اگر والدین اپنی بیٹیوں کی اچھی تربیت کریں تو وہ جنت میں نبی ﷺ کے ساتھ ہوں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ عَالَ جَارِيَتَيْنِ حَتَّى تَبْلُغَا، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَا وَهُوَ، وَضَمَّ أَصَابِعَهُ 9
ترجمه: جو دو لڑکیوں کی پرورش کرے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائیں، قیامت کے دن میں اور وہ اس طرح ایک ساتھ آئیں گے، یہ کہہ کر آپ نے اپنی انگلیوں کو ملا لیا ۔
(ب) ۔ گناہوں کی مغفرت کا ذریعہ
نکاح کے نتیجے میں حاصل ہونے والی اولاد والدین کے لیے اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔ اگر ان کے نابالغ بچے دنیا سے رخصت ہو جائیں اور وہ صبر و رضا کا دامن تھامے رکھیں تو یہ صبر ان کے لیے اجرِ عظیم اور اللہ تعالیٰ کی مغفرت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
ما من مسلمَينِ يموتُ بينَهما ثلاثةُ أولادٍ لم يبلُغوا الحِنثَ إلَّا غفرَ اللہُ لَهما بفضلِ رحمتِهِ إيَّاهم 10
ترجمہ : جس مسلمان میاں بیوی کے تین نابالغ بچے دنیا سے رخصت ہو جائیں، اللہ تعالیٰ ان بچوں پر اپنی رحمت کے طفیل ان دونوں والدین کی مغفرت فرما دیتا ہے۔
(ج ) ۔جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ
اگر کسی مسلمان کی نا بالغ اولاد فوت ہوجائے تو قیامت کے دن یہ اولاد جہنم سے بچاؤ کا سبب بن جائے گی ۔سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا:
مَنْ مَاتَ لَهُ ثَلاَثَةٌ مِنَ الوَلَدِ، لَمْ يَبْلُغُوا الحِنْثَ، كَانَ لَهُ حِجَابًا مِنَ النَّارِ أَوْ دَخَلَ الجَنَّةَ 11
کہ جس کے تین نابالغ بچے مر جائیں تو یہ بچے اس کے لیے دوزخ سے روک (رکاوٹ) بن جائیں گے یا یہ کہا کہ وہ جنت میں داخل ہو ں گے۔
سیدنا انس بن مالك رضی الله عنه بیان كرتے هیں كه رسول الله ﷺ نے فرمایا:
اسی طرح حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللہِ إِنَّهُ يَشْتَكِي، وَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْهِ قَدْ دَفَنْتُ ثَلَاثَةً، قَالَ: لَقَدِ احْتَظَرْتِ بِحِظَارٍ شَدِيدٍ مِنَ النَّارِ 12
ترجمہ : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت اپنے بیٹے کو لے کر آئی تو اس نے کہا: اللہ کے رسول! یہ بیمار ہے اور میں اس کے بارے میں (سخت) خوف کا شکار ہوں، میں اپنےتین بچے دفن کر چکی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے دوزخ سے بچنے کے لیے مضبوط باڑ بنا لی ہے۔
(د)۔ دو بچے بھی جہنم سےنجات کا ذریعہ
اولاد والدین کے لیے دنیا میں خوشی اور آخرت میں اجر و سعادت کا ذریعہ ہے۔ اگر کسی مسلمان کے دو بچے نابالغی میں دنیا سے رخصت ہو جائیں اور وہ ان کی جدائی پر صبر کرے تو اس کے لیے جہنم سے نجات کی بشارت دی گئی ہے۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
أَنَّ النِّسَاءَ قُلْنَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم: اجْعَلْ لَنَا يَوْمًا فَوَعَظَهُنَّ، وَقَالَ: أَيُّمَا امْرَأَةٍ مَاتَ لَهَا ثَلاَثَةٌ مِنَ الوَلَدِ، كَانُوا حِجَابًا مِنَ النَّارِ، قَالَتِ امْرَأَةٌ: وَاثْنَانِ؟ قَالَ: وَاثْنَانِ13
ترجمہ : عورتوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ہمیں بھی نصیحت کرنے کے لیے آپ ایک دن خاص فرما دیجئیے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (انہیں ایک دن مختص کرکے) ان کو وعظ فرمایا اور بتلایا کہ جس عورت کے تین بچے فوت ہوجائیں تو وہ اس کے لیے جہنم کی آگ سے رکاوٹ بن جائیں گے، اس پر ایک عورت نے پوچھا: اے اللہ کے رسول: اگر کسی عورت کے دو بچے فوت ہوئے ہوں تو ؟ آپ ﷺ نے فرمایا:دو بچےبھی جہنم کی آگ کے لیے رکاوٹ بنیں گے۔
(ھ)۔ جنت میں داخلے کا ذریعہ
فوت ہونے والے نابالغ بچے قیامت کے دن اپنے والدین کے لیے جنت میں داخلے کا ذریعہ بنیں گے اور انہیں جنت تک پہنچانے کے لیے ان کا دامن تھامے رکھیں گے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ بَيْنَهُمَا ثَلَاثَةُ أَوْلَادٍ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا أَدْخَلَهُمَا اللہُ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمُ الْجَنَّةَ , قَالَ: يُقَالُ لَهُمُ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ , فَيَقُولُونَ: حَتَّى يَدْخُلَ آبَاؤُنَا , فَيُقَالُ: ادْخُلُوا الْجَنَّةَ أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ”.14
ترجمہ : جس مسلمان والدین کے تین بچے فوت ہو جائیں جو ابھی بلوغت کو نہ پہنچے ہوں تو اللہ ان بچوں پر اپنی رحمت کے فضل سے ان دونوں والدین کو جنت میں داخل فرما دیتا ہے۔چنانچہ ان بچوں سے کہا جائے گا: جنت میں داخل ہو جاؤ، وہ کہیں گے: جب تک ہمارے والدین داخل نہ ہو جائیں (ہم نہیں جائیں گے)، تو کہا جائے گا: تم اور تمہارے والدین سب جنت میں داخل ہو جاؤ۔
(و) ۔جنت کے آٹھوں دروازوں پر استقبال
جن خوش نصیب والدین کے تین نابالغ بچے دنیا سے رخصت ہو جائیں، وہ قیامت کے دن ان کے لیے جنت کے آٹھوں دروازوں سے داخلے کا ذریعہ بنیں گے۔رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
ما مِن مُسلِمٍ يموتُ لَه ثلاثةٌ مِنَ الولَدِ لم يبلُغوا الحِنثَ إلَّا تلقَّوهُ مِن أبوابِ الجنَّةِ الثَّمانيةِ مِن أيِّها شاءَ دخلَ 15
ترجمہ : جس مسلمان کے تین بچے فوت ہو جائیں جو ابھی بلوغت کو نہ پہنچے ہوں تو وہ جنت کے آٹھوں دروازوں پر اس کا استقبال کریں گے، وہ جس دروازے سے چاہے داخل ہو جائے۔“
(ز) ۔ اللہ تعالی کا خصوصی انعام
اولاد کی جدائی والدین کے لیے ایک کٹھن آزمائش ہے، لیکن اس صدمے پر صبر کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے عظیم اجر اور خصوصی انعام کی بشارت دی ہے ۔ حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا:
إِذَا مَاتَ وَلَدُ العَبْدِ قَالَ اللہُ لِمَلَائِكَتِهِ: قَبَضْتُمْ وَلَدَ عَبْدِي، فَيَقُولُونَ: نَعَمْ، فَيَقُولُ: قَبَضْتُمْ ثَمَرَةَ فُؤَادِهِ، فَيَقُولُونَ: نَعَمْ، فَيَقُولُ: مَاذَا قَالَ عَبْدِي؟ فَيَقُولُونَ: حَمِدَكَ وَاسْتَرْجَعَ، فَيَقُولُ اللہُ ابْنُوا لِعَبْدِي بَيْتًا فِي الجَنَّةِ، وَسَمُّوهُ بَيْتَ الحَمْدِ16
ترجمہ : جب بندے کا بچہ فوت ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے پوچھتا ہے: تم نے میرے بندے کے بیٹے کی روح قبض کر لی؟ تو فرشتے کہتے ہیں: ہاں، پھر اللہ فرماتا ہے: تم نے اس کے دل کا پھل لے لیا؟ فرشتے کہتے ہیں: ہاں۔ تو اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے: میرے بندے نے کیا کہا؟ فرشتے کہتے ہیں: اس نے تیری حمد بیان کی اور «إنا لله وإنا إليه راجعون» پڑھا تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دو اور اس کا نام بیت الحمد رکھو۔
درج بالا احادیث سے معلوم ہوا کہ نیک اولاد دنیا میں انسان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک ہوتی ہے اور موت کے بعد اس کے لیے باعثِ عزت و وقار ہوتی ہے، اور پھر قیامت کے دن والدین کے درجات کی بلندی اور جہنم سے بچنے کا ذریعہ بنتی ہے ۔
7۔ تقرب الہی کا ذریعہ
نکاح بیوی اور اولاد کی کفالت اور ان پر خرچ کرنے کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ ہے ۔حضرت ثوبان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أَفْضَلُ الدِّينَارِ دِينَارٌ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى عِيَالِهِ 17
ترجمه: سب سے بہتر دینار وہ دینار ہے، جسے آدمی اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے۔
قَالَ أَبُو قِلَابَةَ: وَبَدَأَ بِالْعِيَالِ، ثُمَّ قَالَ أَبُو قِلَابَةَ: وَأَيُّ رَجُلٍ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنْ رَجُلٍ يُنْفِقُ عَلَى عِيَالٍ صِغَارٍ، يُعِفُّهُمْ أَوْ يَنْفَعُهُمُ اللهُ بِهِ وَيُغْنِيهِمْ 18
ترجمه: امام ابو قلابہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خرچ کرنے کے معاملے میں اہل و عیال سے ابتدا فرمائی۔ پھر امام ابو قلابہ رحمہ اللہ نے کہا: اس شخص سے بڑھ کر اجر کا مستحق کون ہوگا جو اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں پر خرچ کرتا ہے، انہیں دوسروں کے سامنے دستِ سوال دراز کرنے سے بچاتا ہے، یا اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے انہیں فائدہ پہنچاتا اور دوسروں سے بے نیاز کر دیتا ہے۔
8۔ خاندانی تعلقات کا فروغ
نکاح کے ذریعے دونوں خاندانوں کے افراد کے درمیان محبت، باہمی تعاون اور مضبوط تعلقات کو فروغ ملتا ہے۔ یہ نہ صرف نئے رشتوں کے قیام کا ذریعہ ہے بلکہ سماجی روابط کو مستحکم کرکے معاشرے میں اتحاد، ہم آہنگی اور استحکام پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ارشاد باری تعالی ہے :
وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرًا فَجَعَلَهُ نَسَبًا وَصِهْرًا 19
ترجمہ : اور وہی ہے جس نے پانی سے انسان کو پیدا کیا، پھر اسے نسبی اور سسرالی رشتوں میں جوڑ دیا” ۔
رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا:
تعلَّموا مِن أنسابِكم ما تصِلونَ بهِ أرحامَكم ، فإنَّ صلةَ الرَّحمِ محبَّةٌ في الأهلِ مَثراةٌ في المالِ مَنسَأةٌ في الأثَرِ20
ترجمہ : اپنے ن اپنے خاندانی رشتوں کی اس حد تک پہچان رکھو کہ اس کے ذریعے اپنے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کر سکو، کیونکہ صلہ رحمی اہل و عیال میں محبت کا باعث ہے، مال میں اضافہ کا سبب ہے اور عمر میں برکت کا ذریعہ ہے۔”
ایک اور موقع پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
اعرِفوا أنسابَكم، تصِلوا أرحامَكم؛ فإنه لا قُربَ بالرَّحِمِ إذا قُطِعَتْ و إن كانت قريبةً ، و لا بُعدَ بها إذا وُصِلَتْ و إن كانت بعيدةً. 21
ترجمہ : اپنے خاندانی رشتوں کی پہچان رکھو تاکہ تم ان کے ذریعے صلہ رحمی کر سکو، کیونکہ رشتے داری اگر کاٹ دی جائے تو قریبی رشتہ دار ہونے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا خواہ وہ کتنی ہی قریبی کیوں نہ ہو، اور اگر رشتے داری جوڑی جائے تو اس کی دوری کوئی معنی نہیں رکھتی خواہ وہ کتنی ہی دور کی کیوں نہ ہو۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
تَعَلَّمُوا أَنْسَابَكُمْ، ثُمَّ صِلُوا أَرْحَامَكُمْ، وَاللَّهِ إِنَّهُ لَيَكُونُ بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ أَخِيهِ الشَّيْءُ، وَلَوْ يَعْلَمُ الَّذِي بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ مِنْ دَاخِلَةِ الرَّحِمِ، لَأَوْزَعَهُ ذَلِكَ عَنِ انْتِهَاكِه 22
ترجمہ : اپنے خاندانی رشتوں کو پہچانواور پھر اپنے رشتہ داروں سے تعلقات جوڑو،اللہ کی قسم! بسا اوقات دو آدمیوں کے درمیان کوئی جھگڑا یا رنجش ہوجاتی ہے،لیکن اگر اسے علم ہو کہ ان دونوں کے درمیان کتنا گہرا خونی رشتہ ہے، تو وہ کبھی اس رشتہ کو توڑنے کی جرأت نہ کرے گا۔”
9۔ نیکیوں اور صدقات کا ذریعہ
اسلام میں نکاح ایک عظیم عبادت اور سنت ہے، جو صرف ایک سماجی معاہدہ ہی نہیں بلکہ روحانی اور اخلاقی فوائد کا ذریعہ بھی ہے۔ نکاح کے ذریعے نہ صرف انسان پاکیزگی اور عفت کی راہ اختیار کرتا ہے، بلکہ یہ نیکیوں اور صدقات کے دروازے کھولنے کا بھی سبب بنتا ہے۔حضرت ابو زر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
وفي بُضْعِ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ، قالوا: يا رَسولَ اللهِ، أَيَأتي أَحَدُنَا شَهْوَتَهُ وَيَكونُ له فِيهَا أَجْرٌ؟ قالَ: أَرَأَيْتُمْ لو وَضَعَهَا في حَرَامٍ، أَكانَ عليه فِيهَا وِزْرٌ؟ فَكَذلكَ إذَا وَضَعَهَا في الحَلَالِ كانَ له أَجْرٌ.23
ترجمہ: اور بیوی سے مباشرت بھی صدقہ ہے۔صحابہ کرام صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہم میں سے کوئی اپنی خواہش پوری کرتا ہے تو کیا اس میں بھی اجر ملتا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “بتاؤ اگر وہ یہ (خواہش) حرام جگہ پوری کرتا تو کیا اسے اس کا گناہ نہ ملتا؟اسی طرح جب وہ اسے حلال جگہ پوری کرتا ہے تو اس کے لئے اجر ہے۔”
10 ۔باعثِ صدقہ ذمہ داری
نکاح کا ایک اہم فائدہ یہ ہے کہ انسان بیوی بچوں کی کفالت، ان کی ضروریات کی تکمیل اور حسنِ سلوک کے ذریعے اجر و ثواب کا مستحق بنتا ہے۔ اسلام نے اہل و عیال پر خرچ کرنے کو بھی صدقہ قرار دیا ہے۔ چنانچہ سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا:
مَا أَطْعَمْتَ نَفْسَكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ، وَمَا أَطْعَمْتَ وَلَدَكَ وَزَوْجَتَكَ وَخَادِمَكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ 24
ترجمہ ؛ جو تم خود کھاؤ وہ تمہارے لیے صدقہ ہے، اور جو تم اپنے بیوی بچوں اور خدمت گزاروں کو کھلاؤ وہ بھی صدقہ ہے۔
گویا اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل اور اس کی رضا کے حصول کی نیت سے خود کھاتا ہے تو اسے بھی اجر ملتا ہے، اور اسی نیت سے اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے تو اس کا یہ خرچ بھی صدقہ شمار ہوتا ہے۔ اس طرح نکاح انسان کو ذمہ داریوں کا احساس دلاتا ہے اور خاندانی زندگی کی ضروریات پوری کرنے کو اللہ تعالیٰ کی رضا اور حصولِ اجر و ثواب کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔چنانچہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
إنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بهَا وجْهَ اللہِ إلَّا أُجِرْتَ عَلَيْهَا، حتَّى ما تَجْعَلُ في فَمِ امْرَأَتِكَ ۔25
ترجمہ : تمہیں اس خرچ پر ضرور اجر دیا جائے گا جس سے تمہارا مقصد اللہ کی رضا کا حصول ہو حتی کہ اس لقمے پر بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالو۔”
11۔ اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت کے حصول کا ذریعہ
نکاح جہاں عفت و پاک دامنی کے تحفظ اور پاکیزہ خاندانی زندگی کے قیام کا ذریعہ ہے، وہیں اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت کے حصول کا بھی ایک اہم سبب ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے نکاح کرے اور اس کے ذریعے اپنی عصمت و پاک دامنی کی حفاظت کا ارادہ رکھے، اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی خصوصی مدد و اعانت کی بشارت ہے۔ چنانچہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
ثَلَاثَةٌ حَقٌّ عَلَى اللہِ عَوْنُهُمْ: المُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللهِ وَالمُكَاتَبُ الَّذِي يُرِيدُ الأَدَاءَ، وَالنَّاكِحُ الَّذِي يُرِيدُ العَفَافَ 26
ترجمہ: تین قسم کے لوگوں کی مدد کرنا اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمے واجب فرما لیا ہے: پہلا وہ شخص جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے ، دوسرا وہ غلام جو اپنی آزادی کے لیے مقررہ رقم ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، اورتیسرا وہ شخص جو پاک دامنی اختیار کرنے کی نیت سے نکاح کرتا ہے۔‘‘
12۔ اللہ کا پسندیدہ نظام
نکاح اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ نظام اور انسانی فطرت سے ہم آہنگ ایک پاکیزہ بندھن ہے، جس کے ذریعے عفت و پاک دامنی کا تحفظ اور خاندانی زندگی کا قیام عمل میں آتا ہے۔ اسلام نے زمانۂ جاہلیت میں رائج تمام فاسد نکاحوں کو ختم کر دیا اور نکاح کی اس جائز صورت کو برقرار رکھا جو آج لوگوں میں رائج ہے۔چنانچہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
لَمَّا بُعِثَ مُحَمَّدٌ ﷺ بِالْحَقِّ، هَدَمَ نِكَاحَ الْجَاهِلِيَّةِ كُلَّهُ، إِلَّا نِكَاحَ النَّاسِ الْيَوْمَ 27
ترجمہ: جب رسول اللہ ﷺ کو دینِ حق دے کر مبعوث فرمایا گیا تو آپ ﷺ نے دورِ جاہلیت کے تمام باطل طریقۂ نکاح منسوخ کر دیے، البتہ نکاح کی وہ جائز صورت برقرار رکھی جو آج بھی لوگوں میں رائج ہے۔
شیخ سید سابق رحمہ اللہ اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:
هذا النظام هو الذي ارتضاه الله، وأبقى عليه الإسلام، وهدم كل ما عداه 28
ترجمہ: نکاح وہ نظام ہے جسے اللہ تعالیٰ نے پسند فرمایا، اسلام نے اسے برقرار رکھا اور اس کے سوا دیگر تمام طریقوں کو ختم کر دیا۔
13۔ دولت اور خوشحالی کا حصول
نکاح نہ صرف عفت و پاک دامنی اور سکونِ قلب کا ذریعہ ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے رزق میں وسعت اور خوش حالی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ اسی لیے اسلام نے تنگ دستی کے اندیشے سے نکاح سے گریز کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کے وعدۂ فضل پر بھروسا رکھنے کی ترغیب دی ہے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَأَنْكِحُوا الْأَيَامَى مِنْكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ إِنْ يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللہُ مِنْ فَضْلِهِ وَاللہُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ29
ترجمه: اور تم میں جو مرد بغیر بیوی کے اور جو عورتیں بغیر شوہر کے ہوں ان کی شادی کردو، اور اپنے نیک ایماندار غلاموں اور لونڈیوں کی بھی شادی کردو، اگر وہ فقیر ہوں گے تو اللہ اپنے فضل سے انہیں مالدار بنا دے گا، اور اللہ بڑی کشادگی والا، خوب جاننے والا ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
تَزَوَّجُوا النِّسَاءَ، فَإِنَّهُنَّ يَأْتِينَكُمْ بِالْمَالِ 30
ترجمہ : عورتوں سے نکاح کرو، کیونکہ یہ تمہارے پاس مال لائیں گی ۔
حضرت ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
أطيعوا الله فيما أمركم به من النكاح، ينجز لكم ما وعدكم من الغنى ۔ قال:﴿ إِنْ يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللہُ مِنْ فَضْلِهِ 31
ترجمہ : تم نکاح کر کے اللہ کی اطاعت کر لو ، اللہ تعالٰی اپنی تونگری کا وعدہ پورا فرمادے گا، اس کے بعد آپ نے آیت “إن يكونوا فقراء يغنهم الله من فضله” تلاوت فرمائی۔
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
التمسوا الغنى في الباءة 32
ترجمه: مالداری کو نکاح میں تلاش کرو۔
سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
“التمسوا الغنى في النكاح”33
ترجمہ : مالداری کو نکاح میں تلاش کرو۔”
سیدناابن عباس رضي الله عنهما فرماتے ہیں :
رغبهم الله في التزويج ، وأمر به الأحرار والعبيد ، ووعدهم عليه الغنى .34
ترجمہ : اللہ نے لوگوں کو نکاح کی ترغیب دی ہے، اور آزاد اور غلام دونوں کو اس کا حکم دیا ہے، اور نکاح پر انہیں غنا (مالداری) کا وعدہ دیا ہے۔
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
عَجَبِي مِمَّنْ لَا يَطْلُبُ الْغِنَى فِي النِّكَاحِ، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى:” إِنْ يَكُونُوا فُقَراءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ .35
ترجمہ : مجھے تعجب ہے اُن لوگوں پر جو نکاح میں اپنی مالداری و خوش حالی تلاش نہیں کرتے جب کہ اللہ کا فرمان ہے “اگر وہ فقیر ہیں تو اللہ تعالیٰ نکاح کی برکت سے انہیں خوش حال کر دے گا”
امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
المعهود من كرم الله تعالى ولطفه أن يرزقه ما فيه كفاية لها وله 36
ترجمہ : اللہ تعالیٰ کا کرم اور لطف یہ ہے کہ وہ شوہر اور بیوی کو اتنا رزق عطا کرتا ہے جو ان دونوں کے لیے کافی ہو۔
مشہور تابعی جناب ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
تزوج فإن الذي كان يرزقها في بيتها، هو يرزقها ويرزقك في بيتك 37
ترجمہ : شادی کر لو! جو رب پہلےتمہاری زوجہ کو اپنےکے گھر میں رزق دیتا تھا، وہی رب تمہارے گھر میں بھی اسے رزق دے گا اور تمہیں بھی محروم نہیں رکھے گا۔
امام البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
الزواج هو سبب للثروة وليس سبباً للفقر. 38
ترجمہ : شادی فقر وتنگ دستی کا سبب نہیں، بلکہ رزق میں کشادگی اور خوش حالی کا ذریعہ ہے۔
خوش حالی اور وسعتِ رزق کا ذریعہ ہونے کا مطلب
نکاح کو وسعتِ رزق کا سبب قرار دینے کا یہ مطلب نہیں کہ نکاح ہوتے ہی مال و دولت کی فراوانی شروع ہوجائے گی یا مالی مشکلات فوراً ختم ہوجائیں گی۔ بظاہر اس تعبیر سے یہی مفہوم اخذ ہوتا ہے، حالانکہ اصل مراد یہ ہے کہ نکاح کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے رزق کے نئے دروازے کھولتا اور معاشی کشادگی کے اسباب پیدا فرماتا ہے۔
ابن عاشور رحمہ اللہ اس نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
وإغناء الله إياهم توفيق ما يتعاطونه من أسباب الرزق التي اعتادوها مما يرتبط به سعيهم الخاص من مقارنة الأسباب العامة أو الخاصة التي تفيد سعيهم نجاحاً وتجارتهم رباحاً . والمعنى : أن الله تكفل لهم أن يكفيهم مؤنة ما يزيده التزوج من نفقاتهم .39
ترجمہ : اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں خوش حال بنانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ رزق کمانے کے جن ذرائع کو اختیار کرتے ہیں، ان میں کامیابی عطا فرماتا ہے، اور ایسے حالات و اسباب پیدا کردیتا ہے جو ان کی کوششوں کو بارآور اور تجارت کو نفع بخش بنادیتے ہیں۔ گویا اللہ تعالیٰ نے ذمہ لیا ہے کہ نکاح کے نتیجے میں اخراجات میں جو اضافہ ہوگا، اسے پورا کرنے کے لیے وہ ان کی کفالت فرمائے گا۔
علامہ آلوسی رحمہ اللہ کاقول :
علامہ آلوسی رحمہ اللہ نےنکاح کے نتیجے میں رزق میں فراخی اور کشادگی کو عقلی اور عرفی دلائل کی روشنی میں یوں واضح کیا ہے۔
ولغنى الفقير إذا تزوج سبب عادي وهو مزيد اهتمامه في الكسب والجد التام في السعي حيث ابتلي بمن تلزمه نفقتها شرعا وعرفا وينضم إلى ذلك مساعدة المرأة له وإعانتها إياه على أمر دنياه، وهذا كثير في العرب وأهل القرى فقد وجدنا فيهم من تكفيه امرأته أمر معاشه ومعاشها بشغلها، وقد ينضم إلى ذلك حصول أولاد له فيقوى أمر التساعد والتعاضد، وربما يكون للمرأة أقارب يحصل له منهم الإعانة بحسب مصاهرته إياهم ولا يوجد ذلك في العزب 40
ترجمہ : غریب شخص کے نکاح کرنے سے اس کے خوش حال ہونے کا ایک عام سبب یہ ہے کہ جب اس پر شرعی اور عرفی طور پر بیوی کے اخراجات کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے تو وہ روزی کمانے میں زیادہ دلچسپی لینے لگتا ہے اور پوری محنت و جانفشانی سے معاشی جدوجہد کرتا ہے۔ اس کے ساتھ بیوی بھی دنیاوی معاملات میں اس کا ہاتھ بٹاتی اور اس کی مدد کرتی ہے۔ عربوں اور دیہات میں اس کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں، جہاں بعض عورتیں اپنی محنت سے شوہر اور اپنے اخراجات پورے کرتی ہیں۔ مزید برآں، اولاد ہونے سے باہمی تعاون اور ایک دوسرے کا سہارا بننے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ کبھی بیوی کے رشتہ دار بھی دامادی کے تعلق کی بنا پر شوہر کی مدد کرتے ہیں، جب کہ غیر شادی شدہ شخص کو عموماً یہ فوائد حاصل نہیں ہوتے۔
خلاصہ کلام
خلاصہ یہ ہے کہ نکاحِ شرعی عفت و پاک دامنی کے تحفظ، نسلِ انسانی کی بقا، صالح خاندان کی تشکیل اور معاشرتی استحکام کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس کے ذریعے میاں بیوی کے مابین محبت و مودت، باہمی تعاون اور ذمہ داری کا احساس فروغ پاتا ہے، جبکہ خاندانوں کے درمیان تعلقات مضبوط ہوتے ہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ نکاح کو اسلامی تعلیمات کے مطابق آسان بنایا جائے اور ازدواجی زندگی کو حقوق و فرائض کی ادائیگی اور حسنِ معاشرت کے اصولوں پر استوار کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نکاح کے فوائد کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
____________________________________________________________________
- مسلم، كتاب النكاح، باب: ندب من رأى امرأة فوقعت في نفسه إلى أن يأتي امرأته، رقم: (1403).
- إسنادہ حسن، أخرجه سعيد بن منصور فى سننه، برقم : 496، وعبد الرزاق فى مصنفه برقم: 13687، وابن أبى شيبة فى مصنفه برقم: 17935، 30966، 30989)
- سورۃ الأعراف ، آیت: 189
- سورۃ النحل، آیت: 72۔
- إسناده حسن ، أخرجه أحمد (13594)، والطبراني في (المعجم الأوسط)(5099) واللفظ لهما، وابن حبان (4028)
- أخرجه الطبراني في المعجم الكبير : 369، وقال الهيثمي: رواه الطبراني وإسناده حسن، مجمع الزوائد 4/258.
- أخرجه مسلم : (1631).
- أخرجه الشافعي في مسنده، 1/ 273، والبيهقي في السنن الكبرى، 7/ 79، رقم: (13239).
- أخرجه مسلم، كتاب البر، باب فضل الإحسان إلى البنات ، رقم: (2631).
- صححه الألباني في صحيح النسائي: 1873۔
- أخرجه مسلم كتاب البر باب فضل من يموت له ولد فيحتسبه ، رقم: 2632.
- صحیح مسلم : 2636)
- رواہ البخاري: 1249، ومسلم: 2633.
- صححه الألباني في صحيح النسائي: 1875 ، وصحيح الترغيب: 2003)
- حسّنه الألباني في صحيح ابن ماجه: 1313 ، وصحيح الترغيب: 1993)
- أخرجه: الترمذي: 1023، وأحمد في مسنده : 19725. وحسّنه الألباني في صحيح الترمذي : 1021 )
- صحیح مسلم : (994).
- صحيح مسلم : (2310)
- (سورۃ الفرقان: 54).
- صحيح الترمذي: 1979
- صحيح الجامع: 1051
- أخرجه البخاري في الأدب المفرد (72) وحسّنه الألباني في صحيح الأدب المفرد : 53 ۔
- صحيح مسلم: (1006)
- حدیث صحیح:أخرجه أحمد:17191۔ وابن ماجة:2138۔ الصحیحة:452 ۔
- حديث صحيح. رواه البخاري في صحيحه ، عن سعد بن أبي وقاص:56،
- أخرجه الترمذي (1655) والنسائي (3218)، وابن ماجه (2518)، وحسّنه الألباني في صحیح الترمذي : 1655
- (رواہ البخاری 5127)
- فقه السنة ، للسيد سابق، 2/ 132.
- سورۃ النور: 32
- حدیث صحیح ، رواہ الحاكم في المستدرك ، رقم: (2679)، وقال: هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه ۔
- تفسير ابن كثير، 3/ 295. و تفسیر قرطبی :12/241، (سورۃ النور:32 ).
- تفسير الألوسي، 18/ 149، وأحكام القرآن للجصاص، 3/ 395.
- تفسير ابن كثير، 3/ 295.
- رواه ابن جرير الطبري (17/275) من طريق علي بن أبي طلحة، وهي طريق صحيحة معتمدة عن ابن عباس .
- عزاه السخاوي في “المقاصد الحسنة” (ص:149) لعبد الرزاق ، عن معمر ، عن قتادة۔
- تفسير ابن كثير، 3/ 295.
- (تاریخ ابن محرز : 105)
- (سلسلة الهدی والنور:536 )
- التحرير والتنوير لابن عاشور : 18 / 217، (تفسیر سورۃ النور:32 ).
- روح المعاني للآلوسي :343 -344 /9
