نیکوں کا تحفظ اور میڈیا کے لئے ہدایات

پہلا خطبہ :

تمام  تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اسی کے نام اچھے اور صفات اعلی ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں  وہ یکتا ہے ، اس کا دنیا و آخرت میں کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد  اللہ کے چنیدہ بندے  اور برگزیدہ رسول  ہیں، یا اللہ! ان پر، ان کی آل، اور تمام نیکو کار اور پرہیز گار صحابہ کرام پر رحمتیں، سلامتی، اور برکتیں نازل فرما۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

مسلمانوں! تم تنہا ہو یا بزم میں تقوی اختیار کرو گے تو دنیا و آخرت میں کامیاب ہو جاؤ گے۔

بہترین مقصد اور علی ترین ہدف یہ ہے کہ انسان نیکیوں کیلیے جد و جہد میں تاخیر مت کرے، نیکیوں کی بہاروں میں ڈھیروں نیکیاں کمائے:

وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ (10) أُولَئِكَ الْمُقَرَّبُونَ

الواقعة – 10/11

 سبقت لے جانے والے ہی آگے بڑھنے والے ہیں [10] یہی لوگ مقرب بھی ہیں۔

ماہِ رمضان میں نیکیاں سمیٹنے  اور ہمہ قسم کی عبادت کے ذریعے قربِ الہی کی جستجو کا موقع ہوتا ہے، رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث میں ہے کہ: (جو شخص ایمان کی حالت میں ثواب کی امید رکھتے ہوئے روزہ رکھے تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں) اور اسی طرح یہ بھی حدیث ہے کہ: (جو شخص ایمان کی حالت میں ثواب کی امید رکھتے ہوئے قیام کرے تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں) ان دونوں حدیثوں  کے صحیح ہونے پر سب کا اتفاق ہے۔

مسلم اقوام!

اس زندگی میں وہی شخص کامیاب ہے جو خود ممنوعہ امور دور رہے اور اپنی زندگی گناہوں سے میلی نہ کرے۔

دوسری جانب یہ انتہائی خسارے اور گھاٹے کی بات ہے کہ مسلمان پہلے نیکیوں کے حصول میں خوب تگ و دو کرے  لیکن جلد ہی اپنی محنت پر پانی بھی پھیر دے  اور کیا کرایا غارت کر دے!!

حقیقی مفلسی بھی یہی ہے کہ انسان اپنی نیکیاں حقوق العباد کی ادائیگی میں کوتاہی کے عوض دوسروں کو دے دے، اُس کی نیکیاں کسی بھی نوعیت کے ظلم کے عوض میں مظلوم کو دے دی جائیں، یا کسی بھی اذیت کے بدلے میں  اور زیادتی کے عوض  دوسروں میں بانٹ دی جائیں، حالانکہ رب العالمین نے ان تمام گناہوں کو حرام قرار دیا اور ہمارے نبی ﷺ نے ان سے خبردار فرمایا ہے۔

ایک بار آپ ﷺ نے صحابہ کرام سے بات چیت کرتے ہوئے پوچھا: (کیا جانتے ہو مفلس کون ہے؟) صحابہ نے عرض کیا: ہمارے ہاں وہ شخص مفلس ہے جس کے پاس دولت اور ضروریات زندگی نہ ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: (میری امت میں  وہ شخص مفلس ہے جو قیامت کے دن نمازیں، روزے اور زکاۃ لے کر آئے گا، اور [ساتھ میں]اس نے کسی کو گالی دی ہو گی، کسی پر تہمت لگائی ہو گی، کسی کا مال ہڑپ کیا ہو گا، کسی کا خون بہایا ہو گا، کسی کو مارا ہو گا، تو ان میں سے ہر ایک کو اس کی نیکیاں دی دے جائیں گی، پھر جب اس کی نیکیاں بھی ختم ہو جائیں گی اور ابھی حساب باقی ہو گا  تو دوسروں کے گناہ اس پر ڈال دئیے جائیں گے اور پھر اِسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا) مسلم

امام نووی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں: ” حقیقی مفلس وہی ہے جو مکمل طور پر تباہ و برباد ہو گا جس کی تباہی یقینی ہو گی، چنانچہ اس کی نیکیاں لے کر مدعیوں میں تقسیم کر دی جائیں گی اور جب اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں تو مدعیوں کے گناہوں کو لیکر اس پر ڈال دیا جائے گا اور پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا، اس طرح حقیقی مفلس کی تباہی، بربادی، اور ہلاکت ہو گی۔”

اس لیے مسلمان! اللہ سے ڈر، اپنے آپ کو تمام گناہوں سے بچاؤ، تباہی اور بربادی کے ذرائع سے اپنے آپ کو محفوظ کر لو۔

اسلامی بھائیوں!

اسی میں نجات ہے کہ اپنے آپ کو برائی سے محفوظ رکھیں، در حقیقت اطاعت گزاری ہی سعادت مندی ہے، اسی میں کامیابی ہے کہ اپنی نیکیوں کے مثبت نتائج  کو ضائع نہ ہونے دے؛ آپ ﷺ کا فرمان ہے: (جس شخص نے کسی کی دولت یا عزت پر ظلم کیا ہو تو وہ مظلوم شخص سے آج ہی معافی مانگ لے، اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جب درہم و دینار کچھ نہیں ہوں گے، [اور اس کے ظلم کے مطابق ]اس کی نیکیاں لے لی جائیں گی ، اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوئیں تو مظلوم کی برائیاں اس پر ڈال دی  جائیں گی) بخاری، جبکہ دیگر روایات میں یہ بھی الفاظ شامل ہیں کہ: (پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا)

ابن ہبیرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: “قصاص ساری نیکیوں کو ہڑپ کر سکتا ہے، اس سے کوئی نیکی باقی نہیں بچ سکتی”۔

اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے ہمیں شیطانی مکاری کے نتائج میں ملنے والی تباہی اور بربادی سے متنبہ فرما دیا تھا؛ لہذا اللہ کے بندے! اس فانی دنیا میں حقوق العباد کی تلافی سے ہر ممکن طور پر بچو، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (قیامت کے دن حقداروں کو ان کے حقوق ضرور دئیے جائیں گے، یہاں تک کہ بے سینگ بکری کو بھی سینگ والی بکری سے قصاص لیکر دیا جائے گا) مسلم

مطلب یہ ہے کہ: اللہ تعالی مظلوم کا حق ظالم سے ضرور لیکر دے گا، اور اس کی وضاحت سابقہ احادیث میں گزر چکی ہے۔

مسلمانوں!

روزے دار جب ایک ایسی بہار میں ہو جس میں مومنین بڑھ چڑھ کر نیکیاں کرتے ہیں، تو ہر روزے دار کی ذمہ داری ہے کہ روزوں کی حقیقت یعنی خلوت و جلوت ہر حالت میں تقوی اپنانے کی تربیت حاصل کرے، فرمانِ باری تعالی ہے:

يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ

البقرة – 183

 اے ایمان والو! تم پر روزے اسی طرح فرض کر دئیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تا کہ تم متقی بن جاؤ۔

نبی ﷺ کی ابدی اور دائمی تعلیمات  ہمارے لیے بہترین واعظ  ہیں آپ کی تعلیمات مسلمان کو کسی بھی ایسی برائی سے روکنے کیلیے کافی ہیں جن کا نتیجہ تباہی اور نقصان ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو کوئی بھی بیہودگی نہ کرے، نہ چیخے چلائے اور نہ ہی گالم گلوچ کرے، اگر اسے کوئی برا بھلا کہے یا گالی دے تو کہہ دے: میں روزے کی حالت میں  ہوں) بخاری

اس لیے مسلمان! اپنی نیکیوں کا تحفظ یقینی بنائیں، اپنی عبادات  کے ارد گرد حفاظتی باڑ کی دیکھ بھال کرتے رہیں، اس کیلیے سر توڑ کوشش کریں؛ وگرنہ آپ کی نیکیاں کسی اور کو دے دی جائیں گی اور یہ بہت بڑا گھاٹے کا سودا ہے ۔

آپ ﷺ کا فرمان ہے: (جو شخص خلاف شریعت بات یا اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے ، تو اللہ تعالی کو اس کے بھوکے اور پیاسے رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے) بخاری

اس لیے مسلمانوں!  نبی ﷺ کی جانب سے ملنے والی اعلی ترین تعلیمات پر مضبوطی سے کار بند ہو جاؤ، تو تم ہی کامیاب، کامران، اور خوش و خرم ہو جاؤ گے۔

اللہ تعالی میرے اور آپ سب کیلیے قرآن حکیم کو بابرکت بنائے، اور احادیث نبوی  میں موجود  اس کی تفسیر سے ہمیں مستفید ہونے کی توفیق دے، میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ اور اپنے ، آپ سب اور تمام مسلمانوں کیلیے اللہ تعالی سے گناہوں کی بخشش مانگتا ہوں آپ  بھی اسی سے بخشش مانگو بیشک وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

ڈھیروں ، پاکیزہ اور برکتوں والی تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں ، میں گواہی دیتا ہوں  کہ اللہ سوا  کوئی معبودِ بر حق نہیں ، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اُس کے بندے اور رسول ہیں، یا اللہ! اپنے رسول محمد -ﷺ-پر رحمتیں ، برکتیں اور سلامتی نازل فرما۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

منبرِ رسول اللہ ﷺ  سے ہم تمام میڈیا ہاؤسز اور ذرائع ابلاغ کے لکھاریوں کو یہ پیغام پہنچانا چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کے بارے میں اللہ تعالی سے ڈریں، دین اسلام کے متعلق اللہ تعالی سے ڈریں، مسلمانوں کی آنے والی نسلوں کے متعلق اللہ کا خوف کھائیں کہ وہ اس فانی دینا کیلیے کسی بھی ایسی چیز کے نشر کرنے سے گریز کریں جو دین سے متصادم  یا دین کے روشن چہرے کو مسخ کرنے کا سبب بننے ، کوئی ایسی بات نشر مت کریں جو مسلمہ شرعی اقدار میں شک کا باعث بنے، یا رذیل اور گھٹیا حرکتوں میں ملوث ہونے کا ذریعہ بنے؛ کیونکہ یہ سنگین اور انتہائی قبیح حرکت ہو گی۔

شرعی مسلمہ اصولوں میں یہ بھی شامل ہے  کہ جو شخص لوگوں کے برائی میں ملوث ہونے کا باعث بنے گا تو اس پر گناہ میں ملوث ہونے والوں کے برابر گناہ ہو گا، جیسے کہ فرمانِ باری تعالی ہے:

وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالًا مَعَ أَثْقَالِهِمْ

العنكبوت – 13

 اور وہ لازمی طور پر اپنا بوجھ بھی اٹھائیں گے اور اپنے بوجھ کے ساتھ مزید بوجھ بھی اٹھائیں گے۔

اسی طرح رسول اللہ ﷺ کا فرمان بھی ہے کہ: (جو شخص اسلام میں کوئی برا طریقہ اپنائے تو اس پر اس برے طریقے کا بوجھ بھی ہو گا اور اس پر عمل کرنے والوں کا بوجھ بھی ہو گا، نیز ان میں سے کسی کا بوجھ کم بھی نہیں کیا جائے گا)۔

اللہ تعالی امام شاطبی پر رحمتیں برسائے کہ انہوں نے بڑی بہترین گفتگو کرتے ہوئے لکھا ہے کہ : “خوش نصیب ہے وہ شخص جس کے مرنے کے ساتھ ہی اس کے گناہ بھی مر جاتے ہیں، جبکہ اس شخص کیلیے تباہی اور بربادی ہے جو خود تو مر جائے لیکن اس کے گناہ سینکڑوں برس زندہ رہیں، ان گناہوں کی وجہ سے اسے قبر میں عذاب ملتا رہے گا اور ان کے ختم ہونے تک پوچھ گچھ جاری رہے گی!!”۔

تو ایسی باتیں میڈیا پر نشر کرنے کا کیا فائدہ !؟ کہ کچھ مسلمان میڈیا پر اللہ  تعالی، قرآن کریم اور سنت رسول  سے متصادم چیزوں کو پھیلانے میں مگن ہیں، اور لوگوں کو برائیوں کی دلدل میں پھنسا رہے ہیں،  اللہ تعالی ہم سب کو اپنی پناہ میں رکھے۔ [آمین]

اللہ تعالی نے ہمیں جلیل القدر عمل یعنی نبی کریم ﷺ پر درود و سلام کا حکم دیا ہے ، یا اللہ! ہمارے حبیب اور ہمارے نبی محمد -ﷺ- پر رحمتیں، برکتیں، اور سلامتی نازل فرما۔

یا اللہ! خلفائے راشدین ابو بکر، عمر، عثمان اور علی  سمیت تمام  آل اور صحابہ کرام سے راضی ہو جا، یا اللہ! تابعین کرام اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں سے بھی راضی ہو جا۔

مسلمانو! ہمیں اس گھڑی میں اللہ تعالی سے انتہائی عاجزی، انکساری اور انہماک کے ساتھ دعا کرنی چاہیے ، دعا کرتے ہوئے ہماری زبانیں صحیح انداز میں ہماری دلی آہ و زاری کی ترجمانی کریں۔

یا اللہ! ہم تجھ سے دعا کرتے ہیں یا اللہ! تو یکتا ہے، تو بے نیاز ہے،  تو تنہا ہے،  یا اللہ! یا حیی! یا قیوم! ہم تجھ سے دعا کرتے ہیں کہ مسلمانوں کی مشکل کشائی فرما دے، یا اللہ! مسلمانوں کی مشکل کشائی فرما دے، یا اللہ! مسلمانوں سے مصیبتیں ٹال دے۔

یا اللہ! شامی مسلمانوں کی حالتِ زار پر اپنا رحم و کرم فرما، یا اللہ! ان کے تنگ حالات ختم فرما دے، یا حیی! یا قیوم!

یا اللہ! انہیں امن و امان عطا فرما، یا اللہ! انہیں متحد فرما، یا اللہ! انہیں صحیح سلامت اپنے اپنے علاقوں میں واپس پہنچا، یا اللہ! یمن ، لیبیا، اراکان، فلسطین اور پوری دنیا میں مسلمانوں پر اپنا کرم فرما۔یا الٰہ الاولین و الآخرین!

یا اللہ! مسلمانوں کی پریشانیوں کا خاتمہ فرما، یا اللہ! ان پر اپنی رحمت نازل فرما کر سب لوگوں سے انہیں بے نیاز کر دے۔

یا اللہ! یا حیی! یا قیوم! ہم تجھ سے تمام مسلمانوں کیلیے امن مانگتے ہیں، یا اللہ! تمام مسلمانوں کو دہشت سے امن عطا فرما۔

یا اللہ! جو بھی ہمارے خلاف مکاری کرے یا اللہ! اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں، یا اللہ! تباہی اس کا مقدر بنا دے، یا اللہ! اس پر اپنی ناراضی اور عذاب نازل فرما، یا اللہ! اس پر اپنی ناراضی اور عذاب نازل فرما، یا الٰہ الاولین و الآخرین! یا قوی! یا متین! یا عزیز! یا قوی!

یا اللہ! جو بھی مسلمانوں پر مسلط ہو چکا ہے یا اللہ! اس پر اپنا ایسا لشکر مسلط فرما دے جسے ظالموں سے کوئی نہ روک سکے۔ یا اللہ! ان کے راز فاش فرما، یا اللہ! ان کے راز فاش فرما، یا اللہ! ان کے راز فاش فرما۔ یا اللہ! ان کے قدموں تلے سے زمین کھسکا دے، یا اللہ! ان پر اپنا قہر نازل فرما، یا رب الارض و السماوات!

یا اللہ! مسلمانوں کی حکمرانی اچھے لوگوں کو عطا فرما، یا اللہ! مسلمانوں کی حکمرانی اچھے لوگوں کو عطا فرما، یا اللہ! مسلمانوں کی حکمرانی اچھے لوگوں کو عطا فرما۔

یا اللہ! اپنے بندے خادم حرمین کو تیرے پسندیدہ اور رضا کے کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ!  انہیں  تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! ان کے ذریعے مسلمانوں کو نیکی اور تقوی پر متحد فرما دے، یا اللہ! ان کے ذریعے مسلمانوں کو نیکی اور تقوی پر متحد فرما دے، یا اللہ! اور ان کے نائبوں کو بھی تیرے پسندیدہ اور رضا کے کام کرنے کی توفیق عطا فرما ، یا اللہ! تمام مسلم حکمرانوں کو اسلام اور مسلمانوں کی خدمت  کیلیے اقدامات کرنے کی توفیق عطا فرما ، یا حیی! یا قیوم!

یا اللہ! مومن مرد و زن کی بخشش فرما، یا اللہ! مسلمان مرد و زن کی بخشش فرما ، یا اللہ! زندہ یا فوت شدگان تمام کی بخشش فرما۔

یا اللہ! ہمارے ملکوں کو امن و امان کا گہوارہ بنا، یا اللہ! ہمارے ملکوں کو امن و امان کا گہوارہ بنا، یا اللہ! ہر جگہ پر ہمارے فوجیوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! ہر جگہ پر ہمارے فوجیوں کی حفاظت فرما، یا حیی! یا قیوم!

یا اللہ! یا ذوالجلال والاکرام! یا غنی! یا حمید! یا غنی! یا حمید! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمارے دلوں پر ایمانی بارش فرما، اور ہماری دھرتی پر پانی کی بارش فرما، یا حیی! یا قیوم! یا ذوالجلال والاکرام! اللہ کے بندوں! اللہ کا ڈھیروں ذکر کرو، اور صبح و شام بھی اسی کی تسبیح بیان کرو ۔

مصنف/ مقرر کے بارے میں

فضیلۃ الشیخ جسٹس حسین بن عبد العزیز آل الشیخ حفظہ اللہ

آپ مسجد نبوی کے امام و خطیب ہیں، شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ کے خاندان سے ہیں، بنو تمیم سے تعلق ہے، آپ نے جامعہ محمد بن سعود الاسلامیہ سے ماجستیر کی ڈگری حاصل کی ، پھر مسجد نبوی میں امام متعین ہوئے اور ساتھ ساتھ مدینہ منورہ میں جج کے فرائض بھی ادا کررہے ہیں۔