خطبہ اول:
الحمدللہ! تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے علم کو جنت کا راستہ بنایا۔ میں اس کی حمد بیان کرتا ہوں اور اس کا شکر ادا کرتا ہوں، سارا فضل و احسان اسی کا ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، ہر خیر اور نعمت اسی کی طرف سے ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار اور نبی، محمدﷺ، اس کے بندے اور رسول ہیں، وہ ہمیں ہدایت اور سنت کی راہ دکھانے والے ہیں۔ اللہ ان پر، ان کی آل و اصحاب پر درود و سلام نازل فرمائے، جو علم کے مینار اور عزت و وقار کے چراغ ہیں۔
اما بعد!
میں آپ کو اور خود کو سب سے عظیم وصیت، اللہ کے تقویٰ کی تلقین کرتا ہوں۔ یہی وہ وصیت ہے جس کا حکم اللہ نے سابقین اور اولین کو دیا ہے۔ اور اس کے بلند مرتبے، اس کی عظیم قدر اور اس کے گہرے اثر کی وجہ سے اسے اپنی روشن کتاب میں ہمیشہ کے لیے محفوظ فرما دیا۔
اللہ نے فرمایا:
الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ وَإِيَّاكُمْ أَنِ اتَّقُوا اللَّهَ ۚ1
اور ہم نے تم سے پہلے جنہیں کتاب دی گئی تھی انہیں بھی اور تمہیں بھی وصیت کی کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔
پس جس نے تقویٰ کو حاصل کر لیا وہ نجات پا گیا، جس نے اسے لازم پکڑا وہ بلند ہو گیا، اور جس نے اس میں کوتاہی کی وہ گمراہ اور ہلاک ہو گیا۔
نئے تعلیمی سال کی روشن صبح کے ساتھ، امت کی امید اور مستقبل کے معمار، طلبہ و طالبات کے استقبال کے لیے علم کے مراکز تیار ہو چکے ہیں۔ تعلیم ہی وہ گہوارہ ہے جہاں تہذیبیں بنتی ہیں، عقل کو غذا ملتی ہے، جہالت کے گرد جھڑتے ہیں۔ وحی میں سب سے پہلے جو نازل ہوا وہ ‘اقراء’ یعنی پڑھو ہے۔ کیونکہ ایمان اور نیک انسان کی تعمیر علم ہی سے شروع ہوتی ہے۔ علم ہی سے طالب علم اپنے رب کو پہچانتا ہے، اپنے دین کو سمجھتا ہے، حق اور باطل، اور نفع بخش اور نقصان دہ میں تمیز کرتا ہے۔ علم سے اس کے ایمان اور خشیت میں اضافہ ہوتا ہے۔
اللہ نے فرمایا:
ۗ إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ ۗ2
اللہ سے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔
ہر وہ نفع بخش علم جس سے لوگوں کی زندگی قائم رہتی ہے، ان کے مصالح محفوظ رہتے ہیں، اور جو انسان وطن اور امت کی خدمت کرتا ہے، وہ خیر کا میدان ہے۔ اور جب اس میں نیت خالص ہو جائے، تو اس کا اجر عظیم ہو جاتا ہے، اس کی کوشش پاکیزہ ہو جاتی ہے، اس کا اثر ایک دائمی اجر بن کے رہ جاتا ہے۔
استاد تعلیم کے قافلے کا دھڑکتا ہوا دل ہے۔ اس کا کام محض معلومات پہنچانا اور نصاب مکمل کرنا نہیں، بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر ایک بلند تر اور دیرپا مشن اور پیغام ہے۔ وہ نفوس کا تزکیہ کرتا ہے، اقدار کو راسخ کرتا ہے، ہمتوں کو بیدار کرتا ہے، طلبہ کا تعلق اپنے خالق و رازق سے مضبوط کرتا ہے۔ اور اس پیغام کا اثر اس وقت اور مضبوط ہو جاتا ہے جب نیت اللہ کے لیے خالص ہو، منصب تعلیم کے شرف اور ذمہ داری کی عظمت کو محسوس کیا جائے۔ کبھی ایک بات ہی سے معلم نے کسی جاہل کو سکھا دیا، کسی نوخیز کے اندر اقدار کو راسخ کیا، کبھی ایک رہنمائی سے کسی بھٹکے ہوئے کو سہارا دیا۔ بے شک اللہ اس شخص کا اجر ضائع نہیں کرتا جو نیک عمل کرتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:
مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ, فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ3
جو شخص کسی خیر کی طرف رہنمائی کرے اسے بھی اس خیر کے کرنے والے کے برابر اجر ملتا ہے۔
دنیا میں معلم کے لیے سعادت اور فخر یہ ہے کہ وہ ایک دن زندگی کے میدانوں میں اپنی محنت کا ثمرہ اور نتیجہ دیکھے۔ اس کے شاگردوں میں سے کوئی ڈاکٹر ہو جو علاج کرے اور اپنے وطن کی خدمت کرے، کوئی انجینئر ہو جو تعمیر و ترقی کا کام کرے، کوئی ملازم ہو جو اپنی ذمہ داری ادا کرے، کوئی عالم ہو جو اپنی قوم کو تعلیم دے اور رہنمائی کرے۔ یہی وہ ثمرات ہیں جو معلم کے لیے دنیا میں یادگار بنتے ہیں، جبکہ آخرت میں اس کا اجر تو مسلسل جاری رہتا ہے۔
معلم بلند مرتبے، پاکیزہ خصائل والا ہوتا ہے۔ وہ اپنے طلبہ کے درمیان انصاف کا خواہاں ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ نرم دل ہوتا ہے، کیونکہ نرمی دلوں کو کھول دیتی ہے، معاملات کو سنوار دیتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ الرِّفْقَ لَا يَكُونُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ وَلَا يُنْزَعُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ4
نرمی جس چیز میں بھی ہو اسے زینت بخشتی ہے اور جس چیز سے نکال لی جائے اسے بدنما کر دیتی ہے۔
اے معلم! تم اپنے اخلاق و کردار میں اپنے طلبہ کے لیے نمونہ ہو، اور تم ان کے لیے اچھے نمونہ ہو، اور ان کی آنکھیں تم پر ٹکی رہتی ہیں۔ کردار کا اثر ان کے نفوس پر گفتار کے اثر سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ معاشرے کے تمام طبقات، اداروں، ذرائع ابلاغ، بااثر شخصیات کو چاہیے کہ وہ علم کی شان بلند کریں۔ معلم جو کہ نسلوں کا مربی اور مستقبل کا معمار ہے، اس کے مقام و مرتبے کی تعظیم کریں۔
اور اے طالب علم! تمہاری باری آتی ہے۔ یہ تمام کوششیں جو کی جاتی ہیں، یہ وسائل جو مہیا کیے جاتے ہیں، یہ مدرسے و جامعات جو تعمیر کیے جاتے ہیں، سب تمہارے لیے ہیں۔ امیدیں تم سے وابستہ ہیں، تمہارے علم اور عمل سے وطن تعمیر ہوتا ہے، اور امت ترقی کرتی ہے۔ پس علم کی قدر محسوس کرو، اس کے ایام کو غنیمت جانو، اسے ایسی بنیاد بناؤ جس سے تم اپنے نفس کو پاک کرو، اپنے اخلاق کو سنوارو۔ اپنے دین پر فخر کرتے ہوئے، اپنی شناخت پر اعتماد رکھتے ہوئے، اپنے اخلاق میں بلند ہو کر، اپنے اصولوں پر ثابت قدم رہ کر، علم و معرفت کے چشمے سے سیراب ہو۔
علم کے خوبصورت ترین ثمرات میں سے ایک یہ ہے کہ اس کا اثر صاحبِ علم پر نمایاں ہوتا ہے۔ حقیقی طالب علم وہ ہے جس نے علم حاصل کیا، اس کا اثر اس کے اخلاق و کردار میں ظاہر ہوا۔ ذہن کو معلومات سے بھر لینے سے علم کا اثر مکمل نہیں ہوتا جب تک کہ وہ اخلاق اور کردار میں ظاہر نہ ہو۔ اور طالب علم کے اچھے اخلاق میں سے یہ بھی ہے کہ وہ اپنے معلم کی قدر کو پہچانے، اس کے مقام و مرتبہ کا لحاظ کرے، اس کے ساتھ ادب سے پیش آئے۔ کیونکہ معلم کی توقیر علم کی توقیر اور حسنِ ادب ہے۔
اور طالب علم کی زندگی کے سفر میں صحبت کا بڑا اثر ہے۔ نیک اور سنجیدہ ساتھی ہمت بلند کرتا ہے، نیکی پر مدد کرتا ہے، غفلت کے وقت یاد دہانی کرتا ہے، محنت اور ثابت قدمی پر حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اس کے برعکس بعض صحبتیں وقت کے ضیاع اور ہمت کو کمزور کرتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ 5
اللہ تم میں سے ایمان لانے والوں کے اور جنہیں علم دیا گیا ہے، ان کے درجات کو بلند کرتا ہے۔
اللہ مجھے اور آپ کو قرآن عظیم میں برکت دے اور اس میں موجود آیات اور ذکرِ حکیم سے نفع پہنچائے۔ میں یہ بات کہتا ہوں اور اللہ عظیم سے اپنے لیے اور آپ سب کے لیے بخشش طلب کرتا ہوں۔ تم بھی بخشش طلب کرو، وہ بہت بخشنے والا، مہربان ہے۔
خطبہ ثانی:
الحمدللہ! تمام تعریف اللہ کے لیے ہے، ایسی تعریف جو کبھی ختم نہ ہو، اور میں اس کا ایسا شکر ادا کرتا ہوں جس کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، وہ ربِ عظیم ہے، اس کا جلال اس کی ساری مخلوق میں نمایاں ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار اور نبی، محمدﷺ، اس کے بندے اور رسول ہیں، ایسے بزرگ نبی جن کی تعریف سارے جہانوں میں پاکیزہ ہے۔ اللہ ان پر، ان کی آل و اصحاب پر درود نازل فرمائے، جب تک سورج چمکتا رہے، جب تک رات تاریک ہوتی رہے، اور جب تک اس کائنات کا سلسلہ جاری رہے۔
آج ٹیکنالوجی ہماری زندگی اور ہماری تعلیم کا حصہ بن چکی ہے۔ اس نے سیکھنے کے وسیع دروازے کھول دیے ہیں، اور یہ طالب علم اور استاد کے سفر میں ایک اہم ساتھی بن گئی ہے۔ عقلمند انسان اسے اچھی طرح بروئے کار لاتا ہے، اس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ فائدے کے مواقع پہچانتا ہے تو انہیں اختیار کرتا ہے، نقصان کے مواقع پہچانتا ہے تو اس سے بچتا ہے۔ وہ علوم و معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے لیکن اپنی شناخت نہیں کھوتا، اپنے اصولوں سے دستبردار نہیں ہوتا۔ جو کچھ پڑھتا اور سنتا ہے اس کی تحقیق کرتا ہے۔ اور نفع پہنچانے والے علم اور گمراہ کرنے والی معلومات میں فرق کرتا ہے۔ وہ اپنے علم اور اپنے اخلاق کے ذریعے ٹیکنالوجی کے میدان میں لوگوں کے لیے اپنے دین، اپنے وطن، اپنی امت کی ایک روشن تصویر پیش کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ۚ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا6
اور جس چیز کا تجھے علم نہ ہو اس کے پیچھے نہ پڑ۔ بیشک کان، آنکھ، دل ان میں سے ہر ایک کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
سنو! اللہ کی بہترین مخلوق محمد بن عبداللہ پر درود و سلام بھیجو۔ اے اللہ! ان پر درود و سلام اور برکت نازل فرما، اس تعداد کے برابر جتنی بار ذکر کرنے والے ان کا ذکر کریں، اور جتنی بار غافل ان کا ذکر چھوڑ دیں۔ اے اللہ! اولین و آخرین میں اور فرشتوں کی محفل میں قیامت کے دن تک ان پر درود بھیجتا رہ۔ اے اللہ! ہمیں ان کی شفاعت نصیب فرما، ان کے اچھے اتباع کی توفیق عطا فرما، اور ہمیں ان کی سنت والوں میں سے بنا جو ان کے طریقے پر چلنے والے ہیں۔ اے اللہ! تو راضی ہو جا خلفائے راشدین اور ہدایت یافتہ اماموں، ابوبکر، عمر، عثمان و علی سے، اور تمام بزرگ آل و اصحاب سے، اور اپنی معافی کے ذریعے ہم سے بھی راضی ہو جا، اے اکرم الاکرمین!
اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، ان کے حالات درست فرما، حق اور ہدایت پر ان کے درمیان اتحاد پیدا کر۔ اے اللہ! مسلمانوں کے وطنوں کی حفاظت فرما۔ فلسطین میں اور ہر جگہ ان کے مددگار، حامی اور پشت پناہ بن جا۔ اے اللہ! جو شخص ہمارے یا مسلمانوں کے ملکوں کے بارے میں برا ارادہ کرے، اسے اس کی اپنی ہی چال میں مشغول کر دے، اس کی سازش کو اس کی اپنی تباہی بنا دے، اس کا مکر اسی کی گردن پر ڈال دے۔
اے اللہ! اس ملک کی حفاظت فرما جو ایمان کی پناہ گاہ اور مسلمانوں کے دلوں کی محبوب منزل ہے۔ اسے ہر برائی سے محفوظ رکھ، اس پر امن و استحکام کی نعمت قائم رکھ، اس کے سپاہیوں کی حفاظت فرما، اس کی سرحدوں کو مضبوط بنا، اور اس ملک سے دشمنوں کی چالیں اور مکاروں کا مکر دور کر دے۔ تمام مسلم ممالک میں خیر، خوشحالی اور سعادت کو عام کر دے، انہیں امن و استحکام کا لباس پہنا۔
اے اللہ! ہمارے دلوں کی اصلاح فرما، ہمارے نفوس کو پاک کر دے، ہمیں سیدھی راہ کی ہدایت عطا فرما۔ اے اللہ! ہماری کوششوں کو اپنی رضا کے لیے کر دے، ہم سے اعمال کو قبول فرما، ہمیں بخش دے، ہم پر رحم فرما۔ اے اللہ! ہمارے سربراہ، خادم حرمین شریفین کو اس کام کی توفیق دے جو تو پسند کرتا ہے اور جس سے تو راضی ہو۔ اے اللہ! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔
بیشک اللہ تعالیٰ عدل اور احسان اور قرابت داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے، بے حیائی اور برائی سے روکتا ہے، وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ پس اللہ عزوجل کو یاد کرو وہ تمہیں یاد رکھے گا، ولذکر اللہ اکبر واللہ یعلم ما تصنعون۔ (اور اللہ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے جانتا ہے)۔
خطبہ جمعہ مسجد النبوی
تاریخ :22ربیع الاول 1448 ہجری بمطابق 04ستمبر 2026 عیسوی
خطیب : فضیلۃ الشیخ عبدالباری بن عواض الثبیتی حفظہ اللہ
ترجمہ : محمد اقبال یاسین
