خطبہ اول:
الحمدللہ، سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے اپنے بندوں کو نمازوں کی پابندی کا حکم دیا اور انہیں بہترین طریقے سے قائم کرنے والوں کے لیے بڑا اجر تیار فرمایا، اور اس عبادت کو عمدہ طور پر بجا لانے والوں کو اپنی رحمتوں کے سائے میں جگہ دی۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبودِ حقیقی نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں۔ ایسی گواہی جس کے ذریعے ہم آخرت میں بلند درجات پر فائز ہوں۔
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ پر، آپ کی آل و اصحاب پر، اور قیامت تک نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والوں پر درود اور بہت زیادہ سلامتی نازل فرمائے۔
اما بعد!
لوگو، ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو۔ فرائض کی پابندی کرو کیونکہ یہ مرادوں تک پہنچنے کا ذریعہ ہیں۔ کھلی اور چھپی ہر قسم کی بےحیائی سے بچو کیونکہ ان کا ارتکاب عذاب اور سخت سزا کا سبب ہے۔ اللہ آپ پر رحم فرمائے، جان لو کہ وہ بنیاد جس پر اسلام قائم ہے اور جس پر اس کی عمارت کھڑی ہے، نماز ہے، جو کہ اسلام کا دوسرا رکن ہے۔ اس کا اسلام نہیں جو نماز چھوڑ دے۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺنے فرمایا:
بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلَاةِ1
بندے اور کفر کے درمیان حدِ فاصل نماز چھوڑنا ہے۔
نماز اعمال کا پیمانہ ہے، اگر نماز درست ہوگی تو باقی اعمال بھی درست ہوں گے، اور اگر یہ خراب ہوئی تو باقی اعمال بدرجہ اولیٰ خراب ہوں گے۔
امیر المومنین عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہارے معاملات میں میرے نزدیک سب سے اہم نماز ہے، جس نے اس کی حفاظت کی اور اس کی پابندی کی اس نے اپنے دین کی حفاظت کی، اور جس نے اسے ضائع کر دیا وہ دوسری چیزوں کو زیادہ ضائع کرنے والا ہوگا۔
نماز خالق اور مخلوق کے درمیان رابطہ ہے۔ مسلمان کا اپنے رب سے براہِ راست تعلق ہے۔ یہ انسان کو دنیا کی دلفریب چیزوں اور لذتوں سے بلند کر کے ان نعمتوں کی طرف لے جاتی ہے جو اللہ نے اپنے متقی بندوں کے لیے دارِ کرامت جنت میں تیار کر رکھی ہیں، جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا، نہ کسی انسان کے دل میں ان کا خیال گزرا۔
اللہ تعالیٰ نے نماز کو اس کے مقررہ اوقات میں بہترین انداز سے ادا کرنے کا حکم دیا ہے اور ہر شخص کو اس کی ادائیگی کا پابند کیا ہے، حتیٰ کہ بیماری اور خوف کی حالت میں بھی۔ مسلمان بندہ ناپاکیوں اور نجاستوں سے پاک ہو کر نماز ادا کرتا ہے، اگر پانی نہ ملے یا اس کے استعمال سے بےبس ہو تو پاک مٹی سے تیمم کرنا اس کے لیے کافی ہے۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:
وَإِن كُنتُم مَّرْضَىٰ أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنكُم مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا2
اگر تم بیمار ہو، یا سفر میں ہو، یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو، یا تم نے عورتوں سے مباشرت کی ہو، پھر پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کر لو۔
نماز کے لیے شرمگاہ کو ایسی چیز سے ڈھانپنا ضروری ہے جو اسے نگاہوں سے چھپائے۔ نمازی جہاں بھی ہو قبلہ رخ ہو اور نماز شروع کرتے وقت اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی نیت خالص کرے۔ نماز کے ارکان، قرات، رکوع، سجدہ، قعدہ، اعتدال اور اطمینان کا خیال رکھے۔ نماز کو کوے کے چونچ مارنے کی طرح نہ ادا کرے، اس کی سنن و آداب میں سے کچھ نہ چھوڑے۔ بےشک نماز بندے کا رب الارباب سے تعلق ہے، اور حساب کے لیے اٹھائے جانے والے دن بندے کے اعمال میں سب سے پہلے نماز ہی کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
اللہ کے بندو، نماز عظیم قرآن میں غور و فکر کرنے، ایمان کی مٹھاس چکھنے، انسان کو زندگی اور اس کے انجام پر غور کرنے، اور آخرت کو یاد رکھنے کے لیے دل کی کنجی ہے، تاکہ عقلمند شخص نجات و سعادت بخش کاموں کی تیاری کرے۔ نماز آزمائشوں، مشکل حالات، سخت مصیبتوں، تھکا دینے والے کاموں میں مسلمانوں کی قوت ہے۔ نماز صبر و تحمل پر آمادہ کرتی ہے، عزم کو مضبوط کرتی ہے، دل کو تسلی دیتی ہے۔ یہ پیاس کے وقت میٹھا چشمہ، بھوک کے وقت توشہ اور کمزوری کے وقت قوت ہے۔ چنانچہ جب مصیبت سخت ہو، انسانی کوشش بےبس ہو جائے، تو مسلمان اللہ عزوجل کی طرف رجوع کرے اور نماز کے ذریعے اس کا قرب حاصل کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی سخت معاملہ پیش آتا تو آپ نماز کی طرف جلدی فرماتے تھے۔ نماز قوت و عزیمت ہے، کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ سے مناجات اور روح و دل کا سکون ہے۔ نماز نفس کو روکنے کا ذریعہ بھی ہے، یہ بند دل کو کھولتی اور غافل دل کو بیدار کرتی ہے تاکہ انسان انجام پر غور کرے اور نتائج کو سمجھے۔ نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:
اتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ وَأَقِمِ الصَّلَاةَ ۖ إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ3
اس کتاب کی تلاوت کرو جو تمہاری طرف وحی کی گئی ہے، اور نماز قائم کرو، بےشک نماز بےحیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نماز میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے باز رکھنے اور روکنے کا بھرپور سامان موجود ہے۔ وہ نماز جو بےحیائی اور برائی سے روکتی ہے وہ ہے جو خالصتاً اللہ کے لیے ہو، ریاکاری اور خودپسندی سے پاک ہو، اس میں دل حاضر ہو، نمازی جو پڑھے سمجھ کر پڑھے، اور نماز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر ہو۔ تو نمازی اللہ کے قریب ہو جاتا ہے، اور قریب بندے کو اللہ پاکیزہ کرتا ہے، اس کے دل سے پردہ ہٹاتا ہے اور اسے اپنی عنایت و لطف سے نوازتا ہے، پھر اسے بےحیائی اور برائی میں پڑنے سے محفوظ رکھتا ہے۔
چونکہ اسلام میں نماز کی وہی حیثیت ہے جو جسم میں سر کی ہے، اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا بلند مرتبہ اور مسلمانوں کے کردار پر اس کا اثر ہے، اس لیے نماز کو ایسی خصوصیات حاصل ہیں جو دوسری عبادات کو حاصل نہیں۔ وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے بندے اور رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر معراج کی رات سات آسمانوں کے اوپر فرض فرمایا۔ ابتداء میں پچاس نمازیں فرض کی گئی تھیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب سے تخفیف کی درخواست کی۔ چنانچہ پانچ نمازیں مقرر ہوئیں جو ثواب میں پچاس نمازوں کے برابر ہیں۔
نماز کا ایک مقررہ وقت ہے جس میں اسے ادا کرنا لازم ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: بےشک نماز مومنوں پر مقررہ اوقات میں فرض کی گئی ہے۔ لہذا ہر نمازی پر اپنی حالت اور نماز ادا کرنے کی قدرت کے مطابق اسے وقت پر ادا کرنا واجب ہے۔ حتیٰ کہ جنگ کے محاذ پر اور دونوں لشکروں کے آمنے سامنے ہونے کی حالت میں بھی اسے اس کے وقت سے مؤخر کرنا جائز نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جب تم ان میں ہو اور ان کے لیے نماز کھڑی کرو، تو چاہیے کہ ان کی ایک جماعت تمہارے ساتھ اپنے ہتھیار کے ساتھ رہے۔
نماز کی شرائط اور اعمال میں سے جو کچھ کر سکتا ہو بجا لائے اور جس سے بےبس ہو اس سے وہ ساقط ہے۔ جو شخص نماز کے وقت سویا رہ جائے یا بھول جائے، وہ یاد آتے ہی نماز ادا کر لے۔
ب انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَنْ نَسِيَ صَلاَةً فَلْيُصَلِّ إِذَا ذَكَرَهَا، لاَ كَفَّارَةَ لَهَا إِلَّا ذَلِكَ {وَأَقِمِ الصَّلاَةَ لِذِكْرِي4
جب تم میں سے کوئی نماز کے وقت سویا رہ جائے یا اسے بھول جائے، تو یاد آنے پر نماز پڑھ لے۔ کیونکہ اللہ عزوجل فرماتا ہے: میری یاد کے لیے نماز قائم کرو۔
تجارتی کاروبار، پیشہ ورانہ کام، کھیل کود، سماجی سرگرمیاں اور تقریبات نماز کو اس کے وقت کے نکل جانے تک مؤخر کرنے کا جواز نہیں بنتیں۔ دنیاوی کام کی وجہ سے نماز مؤخر کرنے پر کسی مسلمان کو معذور نہیں سمجھا جا سکتا۔ ہر شخص اپنی نماز کا جوابدہ ہے، ہر تقریب یا اجتماع کا منتظم بھی جوابدہ ہے، لیکن اگر وہ نماز کے لیے موقع فراہم کرے، لوگوں کو متنبہ کرے، تو اللہ کے ہاں وہ بری الذمہ ہے۔
اللہ تم پر رحم فرمائے، اپنی نمازیں سنوارو، اللہ تمہارے حالات سنوارے گا۔ رکوع اور سجدے میں، رکوع کے بعد سیدھا کھڑے ہونے میں، دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنے میں اطمینان اختیار کرو۔ اطمینان اور خشوع میں خلل یقیناً نماز کو باطل کر دیتا ہے کیونکہ یہ نماز کی روح ہے۔
مسلمانو، اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، نماز کی طرف پوری توجہ دو، اپنی اولاد کو نماز کا حکم دو، اپنی عورتوں کو اس کی لازمی تاکید کرو۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرو، ممنوع کاموں سے بچو، قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے اور حشر کے لیے کافی زادِ راہ تیار کرو۔ فرمانِ الٰہی ہے: جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں، یہی لوگ وارث ہیں، وہ الفردوس کے وارث ہوں گے، اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور فرمایا: جو اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں، یہی لوگ جنتوں میں معزز ہوں گے۔
اللہ مجھے اور آپ سب کو بہترین راستے پر چلنے کی توفیق دے۔ ہم سب کو قرآن کریم اور حدیث شریف میں غور و فکر کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ مجھے اور آپ کو اور تمام مسلمانوں کو بخش دے۔
خطبہ ثانی:
سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو واحد و قہار، عزیز و غفار ہے، وہ معاملات کو اپنی مرضی و منشاء کے مطابق چلانے والا ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، وہ پوشیدہ اور ظاہر ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے اور ہر چیز اس کے ہاں ایک مقررہ انداز کے مطابق ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں جن کی بعثت کے ذریعے اللہ عزوجل نے ہم سے طوق اور بوجھ اتار دیے۔ اے اللہ، اپنے بندے اور رسول محمد پر، ان کی آل و اصحاب پر درود و سلام نازل فرما جب تک شب و روز کا تسلسل رہے۔
اما بعد!
اسلامی بھائیو !دہشت گرد حوثی جماعت کا ناحق خون بہانے کی جسارت کرنا، ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنانا، بےگناہ مسافروں، عمرہ کے لیے آنے والوں، اور عام شہریوں پر حملہ کرنا، ایک گھناؤنا جرم اور جانوں کے تقدس کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ہر لحاظ سے ایک برا اور قابلِ مذمت فعل، قبیح رویہ، بزدلانہ اور دہشت گردانہ عمل ہے، جسے نہ کوئی دین جائز قرار دیتا ہے نہ کوئی قانون۔ یہ زمین میں فساد پھیلانے کا عمل ہے، اور اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
اللہ آپ پر رحم فرمائے، یقین رکھو کہ نماز مصیبتوں کو دور کرنے اور اہل ایمان کے دلوں میں امن و اطمینان کا احساس پیدا کرنے کے مفید ترین معنوی اسباب میں سے ہے۔ نماز ہی ان کی پناہ گاہ اور جائے امان ہے۔ یہی وہ رسی ہے جو بندے کو تمام جہانوں کے پروردگار سے جوڑتی ہے۔ خالق کائنات سبحانہ و تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ پریشانیوں کو دور کرنے کے لیے نماز کے ذریعے مدد لیں اور مصائب و آلام کے نازل ہونے کے وقت اسی کی طرف رجوع کریں۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ5
اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعے مدد طلب کرو، بےشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
اللہ کے بندو، اللہ سے ڈرو، نماز کی طرف سبقت کرو، اپنی مناجات خالص اللہ کے لیے رکھو۔ امید ہے کہ اللہ اپنے فضل و رحمت سے مصیبت دور فرمائے گا، تنگی و پریشانی کو آسودگی میں بدل دے گا، بےشک وہ سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔
اللہ کے بندو، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا6
بےشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود بھیجو اور خوب سلام بھیجا کرو۔
اے اللہ اپنے بندے اور رسول ہمارے نبی محمد پر درود و سلام اور برکتیں نازل فرما جو مقام محمود اور حوض کوثر والے ہیں۔ اے اللہ چاروں خلفائے راشدین ابوبکر، عمر، عثمان و علی سے راضی ہو جا، تمام صحابہ سے، تابعین سے، قیامت کے دن تک نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والوں سے راضی ہو جا۔ اے ارحم الراحمین، اپنے فضل و احسان سے ہم سے بھی راضی ہو جا۔
اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما۔ مسلمانوں کو حق پر متحد کر دے، دین کے دشمنوں کو نیست و نابود فرما دے۔ اے اللہ سرکشی کرنے والے حوثیوں اور ان کے ظالم مددگاروں کی گرفت فرما۔ ان کی تدبیروں کو ان کی تباہی کا سبب بنا، ان کے درمیان پھوٹ ڈال دے، ان کی جمعیت کو منتشر کر دے، ان کے بچے کچے دستوں کو شکست دے، ان کے دلوں میں رعب ڈال دے، ان کا پرچم بلند نہ ہونے دے، انہیں ان کے بعد آنے والوں کے لیے عبرت و نشانی بنا دے۔
اے اللہ! ہمارے وطن مملکتِ سعودی عرب کو سازش کرنے والوں کی چالوں، حسد کرنے والوں کے حسد، اور ظالموں کے ظلم سے محفوظ فرما۔ اے اللہ، جو ہمارے ساتھ برائی کا ارادہ کرے، اس کے راز فاش کر، اس کا پردہ چاک کر، اس کی سازش ناکام بنا، ہمیں اس کے شر سے بچا، اور اے رب العالمین، اسے تمام جہانوں کے لیے عبرت بنا دے۔
اے اللہ ہمیں غفلت میں نہ رہنے دے، اچانک ہماری گرفت نہ فرما، ہمیں غافلوں میں شامل نہ کر۔ ہمارے حکمرانوں کا حامی، مددگار، معاون اور پشت پناہ بن جا۔ اے اللہ سرحدوں پر متعین ہمارے مقدسات کا دفاع کرنے والے فوجیوں کو تقویت دے، ان کے عزم کو مضبوط کر، ان کے نشانے کو درست کر، ان کے دشمنوں کو ذلیل و خوار کر، انہیں سرکش لوگوں پر فتح عطا فرما۔ اے رب العالمین، ان میں سے جو شہید ہوں انہیں شہداء میں قبول فرما، ان کے بیماروں کو شفا عطا فرما، اے دعاؤں کو سننے والے اور قبول کرنے والے!
اے اللہ ہمیں ہمارے وطنوں میں امن و امان عطا فرما۔ ہمارے امام خادم الحرمین الشریفین اور ان کے ولی عہد کی مدد اور حفاظت فرما۔ ان کے قدم درست رکھ، ان کے عزم کو مضبوط کر، ان کی کوششوں کو توفیق اور کامیابی سے ہمکنار کر۔ اپنی ایسی قوت سے ان کی مدد فرما جسے کوئی مغلوب نہیں کر سکتا، انہیں نیک اور خیرخواہ مشیر عطا فرما جو انہیں بھلائی کی رہنمائی کریں اور اس کے قریب کر دیں۔
اے اللہ مسلمان مردوں اور عورتوں، زندہ اور فوت شدگان کو بخش دے۔ غمزادہ لوگوں کے غم کو دور فرما دے، مصیبت زدہ لوگوں کی مصیبت اور تکلیف کم کر دے، جو لوگ قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، اللہ ان کے قرض کو ادا فرما، اور ہمارے بیماروں اور تمام مسلمانوں کے بیماروں کو شفا عطا فرما۔
اے اللہ ہم تجھ سے بارش کا سوال کرتے ہیں، ہمیں ناامید نہ کر۔ ہم تجھ سے بخشش چاہتے ہیں، بےشک تو بہت بخشنے والا ہے، پس ہم پر موسلادھار بارش نازل فرما۔ اے اللہ ہم تیری مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہیں، ہمارے گناہوں کے سبب ہم سے اپنا کرم نہ روک۔ اے اللہ، اپنے بندوں، اپنی سرزمینوں، اپنے چوپایوں پر رحم فرما، اپنی رحمت پھیلا دے، اپنی مردہ زمینوں کو زندہ کر دے، بےشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔
اللہ کے بندو! اللہ عدل و احسان اور رشتہ داروں کو عطا کرنے کا حکم دیتا ہے۔ بےحیائی، برائی اور سرکشی سے منع کرتا ہے، وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ پس اللہ عظیم کو یاد کرو، وہ تمہیں یاد کرے گا، اس کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو، وہ تمہیں مزید عطا فرمائے گا، اور اللہ کا ذکر بہت بڑا ہے، اور اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔
خطبہ جمعہ مسجد الحرام
تاریخ: 5 جمادی الاول 1448 ہجری بمطابق 16 اکتوبر 2026 عیسوی
موضوع: نماز کی اہمیت و فضیلت
خطیب: فضیلۃ الشیخ عبداللہ الجہنی حفظہ اللہ
___________________________________________________________________________
