مستجاب الدعوات کیسے بنیں؟

دعا اللہ تعالیٰ کی ایسی عظیم الشان عبادت ہے کہ جس سے انسان کبھی بھی مستغنی نہیں ہو سکتا۔ مولانا میاں محمد جمیل رحمہ اللہ کے الفاظ میں اگر کہا جائے تو “دعا عبادات کا خلاصہ، انسانی حاجات اور جذبات کا مرقّع، بندے اور اس کے رب کے درمیان لطیف مگر مضبوط واسطہ، اللہ تعالیٰ کے مزید انعامات کا حصول اور نقصانات سے بچنے کا ذریعہ ہے۔”1

اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ اسی سے دعا مانگی جائے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْیَۃً

 (سورۃ  الاعراف : 55)

” اپنے رب کو عاجزی اور خوف کے ساتھ پکارو۔

مزید فرمایا:

وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ۖ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ

(سورۃ بقرۃ : 186)

اور جب میرے بندے تجھ سے میرے بارے میں سوال کریں تو بے شک میں قریب ہوں۔ میں پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے تو لازم ہے کہ وہ میری بات مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ ہدایت پائیں۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ خوشخبری دی ہے کہ وہ دعاؤں کو قبول فرماتا ہے۔ یہی خوشخبری ایک اور آیت میں بھی بیان ہوئی ہے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔

وَآتَاكُم مِّن كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ ۚ

 (سورۃ ابراہیم : 34)

اور جو کچھ بھی تم نے اللہ سے مانگا وہ اس نے تمہیں دیا۔

مندرجہ ذیل آیات سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف دعا مانگنے کا حکم دیا ہے بلکہ اس کی قبولیت کا بھی وعدہ فرمایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا تھا:

إِنَّ رَبِّي لَسَمِيعُ الدُّعَاءِ

(سورۃ ابراہیم: 39)

بے شک میرا رب تو بہت دعا سننے (قبول کرنے) والا ہے۔

مستجاب الدعوات سے کیا مراد ہے؟

ایسا شخص کہ جس کی دعاؤں کو اس کے غیر معمولی اعمال ، خلوص اور تقوی کی وجہ سے اس کے اپنے اور دوسروں کے حق میں عموما شرفِ قبولیت بخشا جاتا ہے “مستجاب الدعوات” کہلاتا ہے۔

قبولیتِ دعا کی مختلف صورتیں:

یہ بات واضح رہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں ہر انسان کی دعائیں قبول ہوتی ہیں (بشرطیکہ ہم دعا کرتے ہوئے ان تقاضوں کو پورا کریں کہ جس کا ہمیں حکم دیا گیا ہے) البتہ قبولیت کی صورتیں مختلف ہیں۔

چنانچہ نبی ﷺ کا ارشاد ہے:

“جب کوئی مسلمان دعا کرتا ہے جس میں گناہ یا قطع رحمی کی بات نہ ہو تو اللہ تعالیٰ تین باتوں میں سے ایک اسے ضرور عطا فرماتا ہے۔

(1)دعا کے مطابق اس کی خواہش پوری کر دی جاتی ہے۔

(2)یا اس کی دعا کو آخرت کے لیے ذخیره بنا دیتا ہے۔

(3)یا دعا کے برابر اس سے کوئی مصیبت ٹال دیتا ہے۔‘‘

 صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے (یہ سن کر) عرض کیا ’’ تب تو ہم کثرت سے دعا کریں گے۔‘‘ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ کے خزانے بہت زیادہ ہیں۔‘‘2

وہ اوصاف کہ جو انسان کو مستجاب الدعوات بناتے ہیں:

یہ بات یاد رکھیں کہ اگر ہماری دعائیں قبول نہیں ہو رہیں تو اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہم دعاؤں کے تقاضوں کو پورا نہیں کر رہے، کمی اور کوتاہی ہماری دعاؤں میں ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تو سچا ہے۔

امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“دعائیں، اور تعوّذات [ایسی دعائیں جن میں اللہ کی پناہ حاصل کی جائے] کی حیثیت اسلحہ کی طرح ہے اور اسلحے کی کارکردگی اسلحہ چلانے والے پر منحصر ہوتی ہے۔ صرف اسلحے کی تیزی کارگر ثابت نہیں ہوتی چنانچہ اسلحہ مکمل اور ہر قسم کے عیب سے پاک ہو اور اسلحہ چلانے والے بازو میں قوت ہو اور درمیان میں کوئی رکاوٹ بھی نہ ہو تو دشمن پر ضرب کاری لگتی ہے اور ان تینوں اشیاء میں سے کوئی ایک ناپید ہو تو نشانہ متأثر ہوتا ہے”3

لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم ان اسباب کو تلاش کریں کہ جو قبولیتِ دعا کے لیے معاون ہیں اور ان اسباب سے بچیں کہ جو قبولیت کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ لہذا اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی دعائیں عند اللہ مقبول ہوں تو مندرجہ ذیل اسباب کو اختیار فرمائیں۔ آپ کی دعائیں قبول ہوں گی۔ ان شاء اللہ

1- یقین کے ساتھ دعا کیجیے:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

”اللہ عزوجل فرماتا ہے: میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں

(یعنی جیسا میرا بندہ میرے بارے میں گمان کرتا ہے، میں اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتا ہوں) اور ميں اس کے ساتھ ہوں جہاں بھی وہ مجھے یاد کرے۔  

لہذا دعا کامل یقین کے ساتھ کیجیے کہ ضرور بالضرور قبول ہوگی۔

2- اخلاص کے ساتھ دعا کیجیے:

عبادات کی ادائیگی میں اخلاص شرط ہے۔ دعا بھی ایک عظیم عبادت ہے لہذا مکمل اخلاص کے ساتھ صرف اللہ تعالیٰ ہی سے مانگی جائے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ

(سورۃ الاعراف : 29)

اور دین کو اس کے لیے خالص کر کے اسے پکارو۔

لہذا صرف اللہ تعالی ہی کو پکاریں اس یقین کے ساتھ کہ وہی اکیلا تمام ضروریات کو پورا فرمانے والا ہے!

3- رزقِ حلال کا اہتمام کریں:

رزقِ حرام قبولیتِ دعا میں رکاٹ کا اہم سبب ہے۔ آپ ﷺ نے ایک شخص کا ذکر فرمایا کہ جو طویل سفر کرتا ہے، جس کے بال بکھرے ہوئے اور بدن غبار آلود ہے (یعنی اس میں قبولیت دعا کے تمام آثار موجود ہیں) اور وہ اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر یارب! یارب! کہتا ہے حالانکہ اس کا کھانا حرام، اس کا پینا حرام، اس کا لباس حرام اور حرام سے اس کی پرورش ہوئی ہے تو کیوںکر اسکی دعا قبول ہوسکتی ہے۔؟4

4- خوشحالی میں بھی اللہ تعالیٰ کو یاد رکھیں۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جسے اچھا لگے ( اور پسند آئے) کہ مصائب و مشکلات (اور تکلیف دہ حالات) میں اللہ اس کی دعائیں قبول کرے تو اسے کشادگی و فراخی کی حالت میں کثرت سے دعائیں مانگتے رہنا چاہیے۔

5- والدین کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آئیں:

حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ کو مستجاب الدعوات ہونے کا شرف بزبانِ نبوی ﷺ حاصل ہوا تھا کہ جس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ وہ والدہ کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آتے حتی کہ والدہ کی خدمت کے باعث وہ شرفِ صحابیت کو پانے سے بھی محروم رہے۔ آپ ﷺ نے ان سے دعا کرانے کا حکم دیا چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں تلاش کیا اور ان سے اپنے حق میں دعا کا مطالبہ فرمایا۔ مکمل واقعہ صحیح مسلم میں دیکھا جا سکتا ہے۔5

اسی طرح غار میں پھنسنے والے تین افراد کا واقعہ بھی والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی وجہ سے دعا کی قبولیت پر دلالت کرتا ہے کہ ان میں سے ایک شخص نے اپنے عظیم عمل والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کو وسیلہ بنا کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اس کی دعا قبول فرمائی۔

نیز اسی روایت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دعا میں اپنے نیک اعمال کو وسیلہ بنانا یہ دعا کی قبولیت کا اہم سبب ہے۔6

6- ضرورت مندوں کی مدد کیجیے:

کمزوروں اور محتاجوں کی مدد کرنا بھی دعا کی قبولیت کے اسباب میں سے ایک سبب ہے۔

نبی ﷺ کا فرمان ہے:

جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت کو پورا کرنے میں لگا رہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی حاجت کو پورا کرتا رہتا ہے۔7

قرآنِ مجید میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ایک دعا ذکر ہوئی ہے اور اس دعا سے قبل ان کا ایک عمل بیان ہوا ہے کہ انہوں نے دو خواتین کی مدد فرمائی اور ان کی پریشانی کو دور کیا۔

چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

فَسَقَىٰ لَهُمَا ثُمَّ تَوَلَّىٰ إِلَى الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ

(سورۃ القصص : 24)

“پس (موسی علیہ السلام نے) خود ان جانوروں کو پانی پلا دیا پھر سائے کی طرف ہٹ آئے اور کہنے لگے اے پروردگار! تو جو کچھ بھلائی میری طرف اتارے میں اس کا محتاج ہوں.

قابلِ غور بات یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پہلے ضرورت مندوں کی مدد فرمائی پھر اللہ تعالیٰ سے اپنی ضرورت بیان فرمائی۔

7- نیکی کے کاموں میں آگے بڑھیں، خوف اور امید کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو پکاریں اور عاجزی اختیار کریں۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے تین انبیاء (حضرت ایوب، یونس اور زکریا علیھم السلام) کی قبولیتِ دعا کا ذکر فرما کر ان کی چند خوبیوں کا تذکرہ فرمایا ہے۔

چنانچہ ارشاد فرمایا:

إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا ۖ وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ

(سورۃ الانبیاء : 90)

بے شک وہ نیکیوں میں جلدی کرتے تھے اور ہمیں رغبت اور خوف سے پکارتے تھے اور وہ ہمارے ہی لیے عاجزی کرنے والے تھے۔

8- دعا میں جلد بازی نہ کریں:

نبی ﷺ کا فرمان ہے:

تم میں سے ہر ایک کی دعا قبول ہوتی ہے جب تک جلد بازی کا مظاہرہ نہ کرے یعنی یوں کہے کہ میں نے دعا کی مگر قبول نہیں ہوتی۔ “8

بیان کردہ اسباب کے علاوہ قرآن و سنت میں آدابِ دعا کے تعلق سے جو دیگر آداب ذکر ہوئے ہیں ان آداب کا خیال رکھنا بھی قبولیتِ دعا کے اسباب میں سے ہے۔ مثلا: دعا مانگنے سے قبل اللہ تعالی کی تعریف اور نبی ﷺ پر درود بھیجنے کا اہتمام کرنا، اللہ تعالی کو اس کے پیارے پیارے ناموں سے پکارنا، ان خاص مواقع یا اوقات میں دعاؤں کا خوب اہتمام کرنا کہ جن میں دعائیں قبول کی جاتی ہیں۔ یہ سارے قبولیتِ دعا کے اسباب ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان اسباب کو اختیار کریں۔

اللہ تعالی عمل کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین

  1.  (تفسیر فہم القرآن، سورۃ بقرة : 186)
  2. (صحيح الترغيب: 1633) حسن
  3. “الداء و الدواء ” از ابن قیم، صفحہ: 35
  4. (مسلم ص : 393، : 2346)
  5. (صحیح مسلم : 6492)
  6. (صحیح بخاری : 5974 , صحیح مسلم : 2743)
  7. (صحیح مسلم: 2699)
  8. (صحيح البخاري 6340)

مصنف/ مقرر کے بارے میں

ظہیر شریف

اصل نام "خلیق الرحمن بن شریف طاہر" ہے۔
المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر کے زیر انتظام چلنے والا معرف تعلیمی ادارہ جامعہ البیان کراچی سے متخرج اور کراچی یونیورسٹی میں ایم فل کے طالب علم ہیں۔