خطبہ اول:
یقیناً ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے۔ ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں، اس سے مدد مانگتے ہیں، مغفرت طلب کرتے ہیں۔ ہم اس پاک ذات کی حمد بیان کرتے ہیں، اسی کے فضل سے برکتیں نازل ہوتی ہیں، اسی کی نعمت سے اچھے کام پورے ہوتے ہیں۔
ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے، میں اس کا کوئی بدل نہیں چاہتا، ایسی تعریف جو اس کی خوشنودی کے حصول کی امید تک پہنچائے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس نے ایمان و عمل کی بنیاد پر انجام کار متقیوں کے لیے اور فتح و غلبہ مومنوں کے لیے مقرر کیا۔
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سردار محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سب سے اچھے ہیں جنہوں نے گفتار و کردار سے اللہ تعالیٰ کی تعظیم کی۔ درود نازل ہو آپ پر، آپ کے آل و اصحاب پر جو اسلام کا دفاع کرنے والے بہادر غازی اور عظیم سپاہی ہیں۔ اور تابعین پر اور ان کی درست طریقے سے پیروی کرنے والوں پر جب تک شب و روز کا سلسلہ چلتا رہے اور بابرکت مسلسل سلامتی ہو۔
اما بعد!
اللہ کے بندو!اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔ تقویٰ سب سے قوی مددگار، سب سے وفادار معاون، سب سے بہتر سامان اور دنیا و آخرت کے لیے سب سے معزز توشہ ہے۔
اللہ کا فرمان ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًا وَيُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۗ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ1
اے ایمان والو اگر تم اللہ سے ڈرتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو ایک فیصلے کی چیز دے گا اور تم سے تمہارے گناہ دور کر دے گا اور تم کو بخشش دے گا، اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے۔
میں نے شرف و عزت کو تقویٰ میں پایا اور اسی سے آخرت میں سربلندی ہے۔ قیامت کے دن اللہ کا تقویٰ کیا ہی بہتر توشہ ہے اور کیا ہی بہتر ذخیرہ ہے۔
مومنو! فصلوں اور موسموں کے آنے جانے میں نصیحت اور مسلسل روز و شب کے یکے بعد دیگرے آنے میں عبرت ہے۔
ہماری امت اسلامیہ اس نئے سال کے سایہ سے لطف اندوز ہو رہی ہے۔ سال کے مہینوں کا آغاز محرم الحرام کا مہینہ ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أَفْضَلُ الصِّيَامِ، بَعْدَ رَمَضَانَ، شَهْرُ اللهِ الْمُحَرَّمُ، 2
رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں۔
اور سنت یہ ہے کہ عاشورہ کے دن کا روزہ رکھا جائے اور اس کے ایک دن پہلے یا ایک دن کے بعد کا بھی روزہ رکھا جائے۔
مسلمانوں، محرم الحرام کا مہینہ ہمیں مبارک ہجرت کے واقعہ کی یاد دہانی کراتا ہے جب کہ اللہ نے اپنے بندے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد فرمائی۔
اللہ نے فرمایا:
إِلَّا تَنصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللَّهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا3
اگر تم ان کی مدد نہ کرو تو اللہ ہی نے ان کی مدد کی اس وقت جب انہیں کافروں نے نکال دیا تھا، دو میں سے دوسرا جب کہ وہ دونوں غار میں تھے۔ جب یہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے کہ غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے۔
ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول، اللہ کی قسم ان میں سے کوئی اگر اپنے قدم کی طرف نگاہ کرے تو ہمیں دیکھ لے گا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی طرح جواب دیا جسے اپنے رب کی نصرت پر بھروسہ ہو، فرمایا: “تمہارا ان دونوں کے بارے میں کیا خیال ہے جس کا تیسرا اللہ ہے؟ غم نہ کرو، یقیناً اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ اللہ اکبر! یہی رب العالمین کی مدد پر یقین ہے۔
اسی لیے اس عظیم واقعے کی اہمیت میں سے یہ ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں مسلمانوں نے متفقہ طور پر اس کو اسلامی تاریخ بنا لیا۔ اس کی دینی و تاریخی شناخت پر ناز کرتے ہوئے۔ ہم ایسی امت ہیں کہ زمانوں میں ہماری ایک تاریخ، ثقافت اور ایک پیغام رہا ہے۔
چنانچہ مومنو اس شفاف چشمے سے سیرابی حاصل کرو، غیرت و ہمت کے اسباق لو، بلندی پر پہنچنے میں مقابلہ آرائی کرو تاکہ پوری دنیا مسلمانوں کے اس روشن عزم کو جان لے کہ وقت آنے پر اسے کس طرح عملی جامہ پہنایا جاتا ہے۔ ایمانی بھائیو، یہ درست دین ہی عظیم نعمت اور بڑا احسان ہے۔ اور اسی سے مومن دوسرے ادیان والوں سے ممتاز ہوتے ہیں، حالانکہ ان کے اور مومن کے درمیان وجود، عقل، رزق وغیرہ کی نعمت مشترکہ ہوتی ہے، مگر مسلمان اسلام کے کلمہ یعنی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ سے ممتاز ہوتا ہے اور ان سے الگ ہوتا ہے۔ جب اسلام کسی جماعت کے آنگن میں اترتا ہے تو ان کی سختی ہمیشہ کے لیے آسانی میں بدل جاتی ہے۔ یہ امن و ایمان اور نعمت ہیں جس سے نسلیں اپنے تمام معاملات میں شادکام ہوتی ہیں۔ جو اس دنیا میں اس دین کے مطابق نہ جیے تو اصلاً وہ مردار ہے۔ اللہ نے فرمایا: “ایسا شخص جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کر دیا اور ہم نے اس کو ایک ایسا نور دے دیا کہ وہ اس کو لیے ہوئے آدمیوں میں چلتا پھرتا ہے، کیا ایسا شخص اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو تاریکیوں سے نکل ہی نہیں سکتا؟”
امت مسلمہ! ہماری اسلامی امت آج جس حالت میں جی رہی ہے، ہمیں یقین ہے کہ کھرے کھوٹے کو الگ کرنے کا الہی قانون ضرور نئے ہجری سال کی طرف ہماری راہ روشن کرے گا۔ ہمیں اس بات کا یقین ہے کہ ہمارا دین حق ہی ہمیں فتنوں سے نکالے گا۔ اللہ کے بندو، اپنے دین کو مضبوطی سے تھام لو، اپنے نبی کے طریقے اور ان کی سنت کو پکڑ لو۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقدار اور ہدایات پر اپنی اولاد، خاندان اور تمام لوگوں کی تربیت کرو۔ انہیں عقیدے، فکر، سلوک کی گمراہیوں سے بچاؤ۔ نسلوں کی عقلوں کا صحیح استعمال، شرعی و فکری آگہی کی تعمیر ہی مضبوط قلعہ ہے۔ یہی معاشروں کی ترقی اور وطنوں اور تہذیبوں کی تعمیر کی پہلی اینٹ ہے۔ تاکہ ہمیں غلبہ، عزت نصیب ہو۔
اللہ کا فرمان ہے:
وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا4
تم میں سے ان لوگوں سے جو ایمان لائے ہیں اور نیک اعمال کئے ہیں اللہ تعالیٰ وعدہ فرما چکا ہے کہ انھیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسے کہ ان لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا جو ان سے پہلے تھے اور یقیناً ان کے لئے ان کے اس دین کو مضبوطی کے ساتھ محکم کرکے جما دے گا جسے ان کو وہ امن امان سے بدل دے گا۔
اے اللہ! ہمارے اس سال کو پچھلے سال سے بہتر بنا، ہمارے مستقبل کو ہمارے حال سے بہتر بنا۔ اس میں اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ و شوکت عطا کر۔ اے رب العالمین! اے اللہ رب العزت والجلال انہیں متحد و متفق کر دے، انہیں تو اپنے اور ان کے دشمنوں پر غلبہ عطا کر اے رب العزت والجلال اے رب العالمین۔ اے اللہ انہیں متحد و متفق کر دے، انہیں اپنے اور ان کے دشمنوں پر غلبہ عطا کر، اے قوی و عزیز۔
اللہ مجھے اور آپ کو قرآن و سنت میں برکتوں سے نوازے، ان میں موجود آیات و حکمت سے مجھے فائدہ پہنچائے۔ میں اپنی بات کہہ رہا ہوں، اللہ عزوجل سے اپنے لیے، آپ کے لیے مغفرت طلب کرتا ہوں۔ آپ بھی اس سے مغفرت طلب کریں اور اس کی بارگاہ میں توبہ کریں۔ بلاشبہ وہ توبہ قبول کرنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔
خطبہ ثانی:
تمام تعریفیں اللہ کے لیے، ایسی تعریفیں جو ہمیشہ خوشبو بکھیرنے والی ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، ایسی گواہی جس کا نور روشن اور نمایاں ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں جنہوں نے دعوت و اصلاح میں اللہ کے لیے اخلاص برتا۔
اما بعد!
اللہ کے بندو، اللہ کا کماحقہ تقویٰ اختیار کرو، تمہارے حالات سنور جائیں گے اور تم قبولیت کے درجات میں بلند ہو جاؤ گے۔ اور جان لو کہ سب سے سچی بات اللہ کی کتاب ہے، سب سے بہترین راستہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ ہے، بدترین امور وہ ہیں جو دین میں نئے پیدا کیے جائیں اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ اس لیے جماعت کو لازم پکڑو کیونکہ اللہ کی نصرت و تائید جماعت کے ساتھ ہے۔
اے امت اسلامیہ! ان دنوں ہمیں جھلستی گرمی کی تپش محسوس ہو رہی ہے، اس کی گرم ہوائیں ہم پر چل رہی ہیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنْ الصَّلَاةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ5
جب گرمی زیادہ ہو جائے تو نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے ہے۔
امیدیں موسم گرما سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی طرف لگی ہوئی ہیں اور نگاہیں اسے سمیٹنے کے شوق میں منتظر ہیں۔ گرمی کے ساتھ زمین کی چمک لوٹ آئی اس دوشیزہ کی مانند جس کی زیبائش مکمل ہو گئی، تازگی اور شادابی کے ایسے مناظر نمایاں ہوئے کہ جس نے بھی انہیں دیکھا مشتاق ہو گیا۔ پس اللہ کے بندو، اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، اور اپنے نفسوں کی حفاظت کرو، اللہ تمہاری حفاظت فرمائے۔ اپنے آپ کو، اپنے زیر کفالت افراد کو اس زمانے کے فتنوں سے محفوظ رکھو، یہ فتنے کتنے ہی زیادہ ہیں۔ اور اللہ کا شکر ہے کہ ہمارا ملک عقیدہ و توحید کا مرکز، ایمان و سنت کا گہوارہ، اعتدال و میانہ روی کا سرچشمہ، امن و سلامتی اور پائیدار خیر کا علمبردار ہے۔ اور اللہ رب العزت والجلال ہمارے نوجوانوں اور ہمارے وطن کو ہر برائی اور مصیبت سے محفوظ رکھے۔
اس کے بعد اللہ تم پر رحم فرمائے چنیدہ ہادی و امین نبی پر درود و سلام بھیجو جو اہل ایمان کے بہترین نمونہ ہیں جنہیں واضح شریعت کے ساتھ مبعوث کیا گیا۔ جیسا کہ رب العالمین نے اپنی واضح کتاب میں تمہیں اس کا حکم دیا،
اللہ نے فرمایا:
ِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا6
بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔
اے اللہ ہمارے نبی محمد پر، آپ کے پاکیزہ اور پاکباز اہل بیت پر، آپ کے جلیل القدر صحابہ پر، آپ کے خلفائے راشدین ابوبکر، عمر، عثمان و علی رضی اللہ عنہم پر رحمت، سلامتی اور برکت نازل فرما۔ تمام صحابہ کرام، تابعین، قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر بھی اور اپنے احسان، فضل اور کرم سے ہمیں بھی ان کے ساتھ شامل فرما۔ اے اکرم الاکرمین!
اے اللہ اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، دین کے قلعہ کی حفاظت فرما۔ اس ملک کو امن و اطمینان، کشادگی، خوشحالی کا گہوارہ بنا اور تمام مسلمان ممالک کو بھی۔ اے اللہ ہمارے وطنوں میں ہمیں امن عطا فرما، ہمارے سربراہان اور حکمرانوں کو توفیق دے۔ ہمارے امام اور ولی امر کو حق و توفیق اور درستگی کے ساتھ ان کی مدد فرما۔
اے اللہ خادم حرمین شریفین کو توفیق عطا فرما، انہیں صحت و عافیت کا لباس پہنائے رکھ، انہیں ان کے ولی عہد کو ان کاموں کی توفیق دے جن میں اسلام کی عزت اور اسلام کا غلبہ، مسلمانوں کی بھلائی، بندوں اور ملکوں کا خیر و فلاح اور رشد و ہدایت ہو۔ اے اللہ ان کی حکومت کو مضبوط فرما، ان کے اقتدار کو استحکام عطا فرما، انہیں اسلام اور مسلمانوں کے لیے مدد و نصرت کا ذریعہ بنا۔ اے ہمارے رب تمام مسلمان حکمرانوں کو خیر و ہدایت کی توفیق عطا فرما۔ اے اللہ ہمارے سیکورٹی اہلکاروں، ہماری سرحدوں اور مورچوں کی حفاظت کرنے والوں کو توفیق عطا فرما۔
اے اللہ مسلمان مردوں اور عورتوں کی مغفرت فرما، ان کے دلوں میں باہمی محبت پیدا فرما، انہیں سلامتی کے راستوں کی ہدایت عطا فرما۔ اے اللہ پریشان حال لوگوں کی پریشانی دور فرما، مصیبت زدہ لوگوں کی تکلیف ختم کر، قرض داروں کے قرض ادا فرما۔ ہمارے اور مسلمانوں کے بیماروں کو شفا عطا فرما۔ اے اللہ جو کوئی ہمارے، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف برائی کا ارادہ کرے اسے اس کے نفس میں الجھا دے، اس کی چال کو اسی پر لوٹا دے۔ اے اللہ امت کے کلمے کو کتاب و سنت پر جمع فرما، اے عطا، فضل اور احسان والے رب۔
اے اللہ مسجد اقصیٰ کی حفاظت فرما، اسے ہر اس شخص سے دور رکھ جو تیرے دین سے منحرف ہو گیا اور سرکشی میں حد سے بڑھ گیا۔ اسے قیامت تک باعزت اور سربلند رکھ۔ اے رب العالمین فلسطین اور دنیا کے ہر مقام پر موجود ستائے ہوئے، کمزور مسلمانوں کی مدد فرما۔ اے اللہ فلسطین میں کمزور مسلمانوں کی مدد فرما۔
ربنا آتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الآخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار۔
ان اللہ یامر بالعدل والاحسان وایتاء ذی القربی وینہی عن الفحشاء والمنکر والبغی یعظکم لعلکم تذکرون۔
فاذکروا اللہ العظیم الجلیل یذکرکم واشکروہ علی نعمہ یزدکم ولذکر اللہ اکبر واللہ یعلم ما تصنعون۔
سبحان ربک رب العزت عما یصفون وسلام علی المرسلین والحمدللہ رب العالمین۔
خطبہ جمعہ مسجد الحرام
تاریخ: 11 محرم 1448 ہجری بمطابق 26 جون 2026 عیسوی
موضوع: محرم الحرام کی عبرت و نصیحت
خطیب: فضیلۃ الشیخ عبدالرحمٰن السدیس
_____________________________________________________________________
