اللہ کی معرفت انسان کی زندگی کا سب سے بنیادی اور اہم مقصد ہے۔ ایک موقع پر صحابہ کرامؓ نے ایک پریشان ماں کو دیکھا جو اپنے کھوئے ہوئے بچے کو تلاش کررہی تھی۔ جیسے ہی اسے بچہ ملا، اس نے محبت و ترحم کے ساتھ اسے گود میں لے کر دودھ پلانا شروع کردیا۔
نبی کریم ﷺ نے یہ منظر صحابہ کو دکھایا اور فرمایا:
“کیا تم گمان کرتے ہو کہ یہ ماں اپنے بچے کو جہنم میں ڈال سکتی ہے؟”
صحابہؓ نے عرض کیا: “اللہ کے رسول! یہ کیسے ممکن ہے؟”
اس پر نبی کریم ﷺ نے اللہ کی معرفت کرواتے ہوئے فرمایا:
“لَلَّهُ أَرْحَمُ بِعِبَادِهِ مِنْ هَذِهِ بِوَلَدِهَا”
یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس ماں سے بھی زیادہ رحم کرتا ہے۔
یہ واقعہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ اللہ کی معرفت انسان کے دل میں امید، محبت اور اس کے ساتھ مضبوط تعلق پیدا کرتی ہے۔
