خطبہ اول:
الحمدللہ، تمام تعریف اللہ کے لئے ہے جس نے امانتیں ادا کرنے کا حکم دیا اور دھوکہ دہی اور ہر قسم کی خیانت سے منع فرمایا۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، جن پر اللہ تعالیٰ نے تمام رسالتوں کا سلسلہ ختم کیا اور انہیں تمام مخلوقات کے لئے رحمت بنا کر بھیجا۔ اے اللہ! درود و سلام نازل کر ان پر اور ان کے آل و اصحاب پر جو فضیلت و شرف کے مقام پر فائز ہیں۔
اما بعد!
اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، وہ تمہارے لئے کشادگی پیدا کرے گا اور تنگی کے بعد آسانی عطا فرمائے گا۔ اور جو اللہ سے ڈرے، اللہ اس کے لئے نکلنے کی راہ بنا دے گا اور اسے وہاں سے رزق دے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہوگا۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور جو اللہ سے ڈرے، اللہ اس کے کام میں آسانی پیدا کر دے گا۔
اسلام کے قطعی اصولوں میں سے یہ ہے کہ ہر معاملے میں لازماً مسلمانوں کے ساتھ خیر خواہی کی جائے، ہر برتاؤ میں سچائی اختیار کی جائے، اور انسان دوسرے کے ساتھ اپنے سبھی معاملات میں امانت دار رہے۔ انہی اصولوں کی بناء پر شریعت اسلامیہ نے دھوکے کی تمام صورتوں اور اس کی مختلف شکلوں کو حرام قرار دیا ہے۔ اسی میں سے وہ بدترین اور لوگوں پر نہایت ضرر رساں دھوکہ بھی ہے جو بہت سے لوگوں کے درمیان ان کے کھانے، پینے، لباس اور سواریوں میں عام ہوچکا ہے۔ اس کی صورتیں شمار سے باہر اور اس کے نقصانات اور اس کی تباہ کاریاں ان گنت ہیں۔ یہ ایک بڑی خیانت اور سنگین جرم ہے اور بڑے فساد میں سے ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَخُونُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا أَمَانَاتِكُمْ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ1
اے ایمان والو! تم اللہ اور رسول کے حقوق میں خیانت نہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو، حالانکہ تم ان باتوں کو جانتے ہو۔
اور فرمایا:
وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا ۚ 2
زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد نہ پھیلاؤ۔
زندگی کے تمام شعبوں میں دھوکہ، اپنی تمام قسموں اور مختلف صورتوں کے ساتھ، سب سے بڑے گناہوں اور نہایت سنگین برائیوں میں سے ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر قسم کے دھوکے سے نہایت سختی کے ساتھ منع کرتے ہوئے فرمایا:
مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنِّي3
جس نے ہمیں دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں۔
ایسی ہر چیز کی قیمت وصول کرنا جس میں دھوکہ، فریب اور مکاری شامل ہو، ناحق مال کھانا ہے۔
اللہ فرماتا ہے:
أَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ وَلَا تَبْخَسُو4
پس تم ناپ اور تول پورا پورا کیا کرو، اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم کر کے نہ دو۔
اور فرمایا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ5
اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقے سے نہ کھاؤ۔
تجارتی معاملے میں کوئی بھی دھوکہ مخلوق کے حقوق میں کمی کرنا ہے، اور ایسا ظلم ہے جسے اللہ، اس کے رسول اور اہل ایمان پسند نہیں کرتے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَيْلٌ لِّلْمُطَفِّفِينَ6
تباہی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لئے۔
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کسی بندے کو اللہ نے کسی رعیت کا ذمہ دار بنایا، پھر اس نے خیر خواہی کے ساتھ اس کی حفاظت نہ کی، تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پائے گا۔ اور جس شخص کے زیر اختیار مسلمانوں کا کوئی مفاد ہو، وہ ان لوگوں میں شامل ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کا ذمہ دار بنایا ہے۔
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے صحیح طور پر منقول ہے کہ جب وہ کوئی چیز فروخت کے لئے پیش کرتے تو وہ اس کے عیوب واضح کر دیتے۔ پھر خریدار کو اختیار دیتے اور کہتے: اگر چاہو تو لے لو اور چاہو تو چھوڑ دو۔ ان سے کہا گیا: اللہ آپ پر رحم فرمائے، اگر آپ ایسا کریں گے تو آپ کی تجارت کیسے چلے گی؟ انہوں نے فرمایا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسلمانوں کے ساتھ خیر خواہی کرنے پر بیعت کی ہے۔
آج دھوکے کی بہت سی صورتیں صرف لوگوں کے مال چھیننے تک محدود نہیں، بلکہ یہ لوگوں کی صحت کے لئے مہلک امراض اور جان لیوا بیماریوں کا سبب بھی بن رہی ہیں۔ جن کے نتیجے میں شدید نقصانات اور سنگین خطرات پیدا ہو رہے ہیں۔ اور ایسا دھوکے باز شخص متعدد جرائم اور کئی گناہوں اور قباحتوں کا بوجھ اپنے سر لے لیتا ہے، جن کا وبال اسے دنیا اور آخرت دونوں میں بھگتنا ہوگا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَمِنَ النَّاسِ مَن يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللَّهَ عَلَىٰ مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ ٘ وَإِذَا تَوَلَّىٰ سَعَىٰ فِي الْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ ۗ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ7
بعض لوگ ایسے بھی ہیں کہ جن کی چکنی چپڑی باتیں تمہیں دنیاوی زندگی میں بہت اچھی لگتی ہیں، اور وہ اپنے دل کی باتوں پر اللہ کو گواہ بناتا ہے، حالانکہ دراصل وہ بڑا جھگڑالو ہے۔ اور جب وہ واپس پلٹتا ہے تو زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور کھیتی اور نسل کو تباہ کرتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں کرتا۔
اس آیت کا مفہوم اس قسم کے دھوکے بازوں پر بھی صادق آتا ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ پس اے مسلم! اللہ کا تقویٰ اختیار کر اور ہر قسم کے دھوکے اور فریب سے بچ، کیونکہ تمہارے لئے اس کا انجام دنیا اور آخرت میں بڑا بھیانک ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔ کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو ایسی چیز فروخت کرے جس میں کوئی عیب ہو، مگر یہ کہ وہ اسے اس عیب سے آگاہ کر دے۔ اے اللہ! ہم ہر ناپاک کمائی سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔ اے اللہ! اپنے حلال کے ذریعے اپنے حرام سے اور اپنے فضل کے ذریعے اپنے ماسوا تمام سے ہمیں بے نیاز کر۔
خطبہ ثانی:
الحمدللہ، تمام تعریف اللہ وحدہٗ کے لئے ہے، ایسی تعریف جو کبھی منقطع نہ ہو۔ اور درود و سلام ہو ان پر جو بندوں کے لئے رحمت بنا کر مبعوث کئے گئے۔ اے اللہ! ان پر، ان کے آل و اصحاب پر درود و سلام اور برکت نازل فرما جو توحید بجا لانے والوں میں سب سے افضل ہیں۔
اما بعد!
مسلمان خوش اخلاق، امانت ادا کرنے والا، اور اپنے قول و فعل میں سچا ہوتا ہے۔ اس کے تمام امور مکمل وضاحت اور سبھی معاملے اور جملہ تصرفات پوری صراحت پر قائم ہوتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خرید و فروخت کرنے والے دونوں کو اس وقت تک اختیار حاصل ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں۔ پس اگر دونوں نے سچ بولا اور حقیقت واضح کر دی، تو ان کی خرید و فروخت میں برکت دی جائے گی۔ اور اگر دونوں نے جھوٹ بولا اور حقیقت چھپائی، تو ان کی تجارت کی برکت مٹا دی جائے گی۔
پس جو شخص اللہ کے ساتھ سچا ہو اور اس کی مخلوق کے ساتھ بھی سچائی اختیار کرے، اللہ تعالیٰ اسے برکت عطا کرتا ہے اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔
اے مسلمانوں! تمام جہانوں کے سردار اور مخلوقات میں سب سے افضل ہمارے نبی محمد پر کثرت سے درود و سلام بھیجا کرو۔ اے اللہ! ان پر اور ان کے آل و اصحاب پر ہمیشہ ہمہ وقت درود و سلام نازل فرما۔
اے اللہ! ہمیں ان لوگوں میں سے بنا جو اپنے قول و فعل میں سچے ہیں، امانت ادا کرتے ہیں، اور ہمیں دھوکے اور خیانت سے محفوظ فرما۔ اے اللہ! ہمیں ہر قسم کی برائی سے محفوظ رکھ۔ دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے پناہ عطا فرما۔ اے اللہ! ہمیں اپنی رضا عطا کر اور ہم سب سے راضی ہو جا اور ہمیں کامیاب و کامران لوگوں میں سے بنا۔
اے اللہ! خادم حرمین شریفین اور ان کے ولی عہد کو ان امور کی توفیق عطا فرما جنہیں تو پسند کرتا ہے اور جن سے تو راضی ہوتا ہے۔ اے اللہ! مسلمانوں کو نیکی اور تقویٰ پر متحد فرما، انہیں نفسوں کی برائیوں اور اعمال کی خرابیوں سے بچا۔ اے قوی و عزیز! ان کے دشمنوں کے مقابلے میں ان کی مدد فرما۔ اور تمام تعریف اللہ ہی کے لئے ہے، اسی سے مدد کی طلب ہے اور اسی پر بھروسہ ہے۔
خطبہ جمعہ مسجد النبوی
تاریخ: 29 ربیع الاول 1448 ہجری بمطابق 11 ستمبر 2026 عیسوی
خطیب: فضیلتہ الشیخ حسین آل الشیخ حفظہ اللہ
ترجمہ: ابو دردا ابو عبیدہ
_____________________________________________________________________
