خطبہ اول:
تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جو بہت بخشنے والا، بہت محبت فرمانے والا، فضل و کرم، احسان اور سخاوت والا ہے۔ میں اس کی ان پاکیزہ اور خوشگوار نعمتوں پر اس کی حمد بیان کرتا ہوں، اور اس کے صاف و شفاف احسانات پر اس کی تعریف کرتا ہوں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ ایسی گواہی جو ناشکری اور انکار کرنے والے کی ناک خاک میں ملا دے۔
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور ہمارے سردار محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، جن کی رسالت کا نور ہر نشیب و فراز علاقوں میں چمک اٹھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہالت کے اندھیروں اور اس کی سیاہ راتوں کو ختم کر دیا۔ اللہ تعالیٰ آپ پر، آپ کی آل و اصحاب پر اس وقت تک رحمتیں اور سلامتی نازل فرماتا رہے جب تک قمری پرندہ نغمہ سرا رہے، اور درخت کی شاخیں سرسبز و شاداب رہیں۔
اما بعد!
مسلمانوں، اللہ سے اس طرح ڈرو جیسے وہ شخص ڈرتا ہے جو اطاعتوں سے اپنا مداوا کرتا ہے، اور حرام کاموں سے اپنے آپ کو محفوظ رکھتا ہے۔
اللہ کا فرمان ہے:
وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ1
اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور جان لو کہ بیشک اللہ متقیوں کے ساتھ ہے۔
مسلمانو! اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا فرمایا، اور اسے اپنے اولیاء کے لیے گھر اور اپنے برگزیدہ بندوں کے لیے ٹھکانہ بنایا۔ اور اسے اپنی رحمت، کرم اور رضا سے بھر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کی رغبت دلائی اور اس کی طرف دعوت دی، اور اسے “دارالسلام” کا نام دیا۔ یہ ایسا گھر ہے جس کی نعمتیں نہ ختم ہوں گی اور نہ فنا ہوں گی۔ ایسا گھر ہے جس میں ہر خیر کی فراوانی ہے۔ جنت اپنے طلب گاروں کی مشتاق ہے، اور اپنے خواہش مندوں کے لیے آراستہ کی گئی ہے۔
کتاب و سنت کے دلائل نے اس میں موجود نعمتوں کے اوصاف بیان کیے ہیں۔ پس کیا ہی خوش نصیب ہیں اس کے رہنے والے، اور کیا ہی کامیاب ہیں اس کے وارث لوگ۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
قَالَ اللَّهُ «أَعْدَدْتُ لِعِبَادِي الصَّالِحِينَ مَا لاَ عَيْنٌ رَأَتْ، وَلاَ أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلاَ خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَر2
میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی نعمتیں تیار کر رکھی ہیں جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے، نہ کسی کان نے سنا ہے، اور نہ ہی کسی انسان کے دل میں ان کا خیال گزرا ہے۔
یہ ایسا گھر ہے جس کی رونق چمکتی ہے، جس کا صحن پاکیزہ اور خوشگوار ہے، اور جس کی عمارت عظیم ہے۔ اس کی عمارت کی اینٹ سونے اور چاندی کی ہے۔ اس کا گارا خالص خوشبودار مشک ہے۔ اس کے کنکر موتی اور جواہر ہیں، اور اس کی مٹی زعفران ہے۔
جو شخص اس میں داخل ہوگا وہ عیش و آرام میں رہے گا اور کبھی بدحال نہ ہوگا۔ ہمیشہ زندہ رہے گا اور کبھی نہیں مرے گا۔ اس کے کپڑے پرانے نہیں ہوں گے، اور اس کی جوانی ختم نہیں ہوگی۔
اور سب سے پہلے جنت کا دروازہ کھٹکھٹانے والے ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں گے۔
آتِي بَابَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَسْتفْتِحُ، فَيَقُولُ الْخَازِنُ: مَنْ أَنْتَ؟ فَأَقُولُ: مُحَمَّدٌ، فَيَقُولُ: بِكَ أُمِرْتُ لَا أَفْتَحُ لِأَحَدٍ قَبْلَكَ3
جنت کا داروغہ آپ سے پوچھے گا: “آپ کون ہیں؟” آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے: “محمد”۔ وہ کہے گا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ آپ سے پہلے کسی کے لیے دروازہ نہ کھولوں۔
جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔ جنت کے دروازوں کے دونوں پٹوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا مکہ اور ہجر کے درمیان ہے، یا مکہ اور بصریٰ کے درمیان ہے۔
سب سے پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہوگا، وہ چودھویں رات کے چاند کی صورت میں ہوگا، اور ان کے بعد آنے والے آسمان کے سب سے زیادہ روشن چمکنے والے ستارے کی مانند۔ وہ قضائے حاجت کی ضرورتوں سے پاک ہوں گے، وہ نہ ناک سے رطوبت خارج کریں گے اور نہ تھوکیں گے۔ ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی، ان کا پسینہ مشک ہوگا، اور ان کی انگیٹھیاں عود سے جلائی جائیں گی۔ ان کے درمیان نہ کوئی اختلاف ہوگا اور نہ باہمی بغض و کینہ۔ ان سب کے دل ایک شخص کے دل کی مانند ہوں گے۔ وہ اپنے باپ آدم علیہ السلام کی صورت پر ہوں گے، لمبائی میں ان کا قد ساٹھ ہاتھ ہوگا اور چوڑائی میں سات ہاتھ۔ وہ صبح و شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کریں گے۔
اہلِ جنت، جنت میں اس حال میں داخل ہوں گے کہ ان کے جسموں پر بال نہیں ہوں گے۔ وہ کم عمر اور بے ریش ہوں گے۔ سفید رنگت والے، گھنگھریالے بالوں والے اور سرمگیں آنکھوں والے ہوں گے، اور ان کی عمریں تینتیس سال ہوں گی۔ ان کے چہروں پر روشنی، نور، خوبصورتی اور رونق جلوہ گر ہوگی۔ تم ان کے چہروں میں نعمتوں کی تازگی پہچان لو گے۔
آپ ﷺ نے فومایا:انہیں پکار کر کہا جائے گا:
يُنَادِي مُنَادٍ إِنَّ لَكُمْ أَنْ تَحْيَوْا فَلَا تَمُوتُوا أَبَدًا وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَصِحُّوا فَلَا تَسْقَمُوا أَبَدًا وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَشِبُّوا فَلَا تَهْرَمُوا أَبَدًا وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَنْعَمُوا فَلَا تَبْأَسُوا أَبَدًا فَذَلِكَ4
تم ہمیشہ زندہ رہو گے اور کبھی نہیں مرو گے، تم ہمیشہ صحت مند رہو گے اور کبھی بیمار نہیں ہو گے، تم ہمیشہ جوان رہو گے اور کبھی بوڑھے نہیں ہو گے، اور ہمیشہ نعمتوں میں رہو گے اور کبھی بدحال نہیں ہو گے۔
اور وہاں ان کے لیے ہر قسم کے پھل ہوں گے۔
اور اگر اہلِ جنت میں سے کوئی شخص دنیا میں جھانکے اور اس کا کڑا ظاہر ہو جائے، تو وہ سورج کی روشنی کو اس طرح مٹا دے گا جس طرح سورج ستاروں کی روشنی کو مٹا دیتا ہے۔
اور جب تم اللہ تعالیٰ سے سوال کرو، تو اس سے جنت الفردوس کا سوال کرو۔ کیونکہ وہ جنت کے وسط میں اور جنت کا سب سے بلند مقام ہے، اور اس کے اوپر رحمان کا عرش ہے، اور اسی سے جنت کی نہریں جاری ہوتی ہیں۔
اور سب سے عظیم، سب سے میٹھی اور سب سے عمدہ نہر “کوثر” ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بطورِ اعزاز عطا فرمایا ہے۔ اس کے دونوں کناروں پر موتیوں کے گنبد ہیں۔ اس کی مٹی خوشبودار مشک ہے۔ اس کے کنکر موتی ہیں۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔ اس کے برتن آسمان کے ستاروں کی تعداد کے برابر ہیں۔ اور اس پر ایسے پرندے آتے ہیں جن کی گردنیں اونٹوں کی گردنوں جیسی ہیں۔
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حوض میدانِ محشر میں ہوگا۔ اس کی چوڑائی اس کی لمبائی کے برابر ہوگی، اور اس کے دونوں کناروں کے درمیان کا فاصلہ ایک ماہ کی مسافت کے برابر ہوگا، یا جتنا فاصلہ صنعاء اور مدینہ کے درمیان ہے۔ جنت کے دو پرنالوں سے اس میں پانی بہتا ہوگا۔ اہلِ ایمان اس پر وارد ہوں گے، جو شخص اس میں سے پانی پی لے گا اس کے بعد اسے کبھی پیاس نہیں لگے گی۔ اور یقیناً کچھ لوگوں کو اس حوضِ کوثر سے دور کر دیا جائے گا، اور یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے دین میں تبدیلی کی، اس میں تغیر پیدا کیا اور نئی باتیں ایجاد کیں۔
آپﷺ کا فرمان ہے:
مَا أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً، قَالَ: هُوَ رَجُلٌ يَجِيءُ بَعْدَ مَا أُدْخِلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، فَيُقَالُ لَهُ: ادْخُلِ الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، كَيْفَ وَقَدْ نَزَلَ النَّاسُ مَنَازِلَهُمْ، وَأَخَذُوا أَخَذَاتِهِمْ، فَيُقَالُ لَهُ: أَتَرْضَى أَنْ يَكُونَ لَكَ مِثْلُ مُلْكِ مَلِكٍ مِنْ مُلُوكِ الدُّنْيَا؟ فَيَقُولُ: رَضِيتُ رَبِّ، فَيَقُولُ: لَكَ ذَلِكَ، وَمِثْلُهُ وَمِثْلُهُ وَمِثْلُهُ وَمِثْلُهُ، فَقَالَ فِي الْخَامِسَةِ: رَضِيتُ رَبِّ، فَيَقُولُ: هَذَا لَكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ، وَلَكَ مَا اشْتَهَتْ نَفْسُكَ، وَلَذَّتْ عَيْنُكَ، فَيَقُولُ: رَضِيتُ رَبِّ، قَالَ: رَبِّ، فَأَعْلَاهُمْ مَنْزِلَةً؟ قَالَ: أُولَئِكَ الَّذِينَ أَرَدْتُ غَرَسْتُ كَرَامَتَهُمْ بِيَدِي، وَخَتَمْتُ عَلَيْهَا، فَلَمْ تَرَ عَيْنٌ، وَلَمْ تَسْمَعْ أُذُنٌ، وَلَمْ يَخْطُرْ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ5
ہل جنت کو جنت میں بھیج دیے جانے کے بعد آئے گا تو اس سے کہا جائے گا: جنت میں داخل ہو جا، وہ کہے گا: میرے رب ! کیسے ؟ لوگ اپنی اپنی منزلوں میں قیام پذیر ہو چکے ہیں اور جولینا تھا سب کچھ لے چکے ہین ۔ تو اس سے کہا جائے گا: کیا تم اس پر راضی ہو جاؤ گے کہ تمہیں دنیا کے بادشاہوں میں سے کسی بادشاہ کے ملک کے برابر مل جائے؟ وہ کہے گا: میرے رب! میں راضی ہوں ، اللہ فرمائے گا: وہ (ملک)تمہاراہوا ، پھر اتنا اور ، پھر اتنا اور ، پھر اتنا اور ، پھر اتنا اور ، پھر اتنا اور ،پھر بار وہ آدمی ( بے اختیار ) کہے گا:میرے رب ! میں راضی ہوگیا۔ اللہ عز وجل فرمائے گا: یہ (سب بھی ) تیرا اور اس سے دس گنا مزید بھی تیرا، اور وہ سب کچھ بھی تیرا جو تیرا دل چاہے اور جو تیری آنکھوں کو بھائے ۔ وہ کہے گا :اے میرے رب ! میں راضی ہوں ، پھر (موسیٰ نے )کہا: پروردگار !تو وہ سب سے اونچے درجے کا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:یہی لوگ ہیں جو میری مراد ہیں ، ان کی عزت و کرامت کو میں نے اپنے ہاتھوں سے کاشت کیا اور اس پر مہر لگا دی ( جس کے لیے چاہا محفوظ کر لیا ۔) (عزت کا) وہ (مقام) نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال تک گزرا۔
اور بیشک جنت میں ایک ایسا درخت ہے کہ سوار اس کے سائے میں سو سال تک چلتا رہے گا پھر بھی اسے طے نہیں کر سکے گا۔
اور بیشک جنت میں مومن کے لیے ایک خیمہ ہوگا، جو ایک ہی موتی کا بنا ہوا ہوگا۔ اس کی اونچائی ساٹھ میل ہوگی۔ اس خیمے میں مومن کے لیے اہل خانہ ہوں گے۔ مومن ان کے پاس چکر لگاتا رہے گا لیکن وہ ایک دوسرے کو نہیں دیکھ سکیں گے۔
اور اگر جنت کی کسی عورت کو اہلِ زمین کی طرف جھانکنے کی اجازت دی جائے، تو وہ جنت اور زمین کے درمیان کی پوری جگہ کو روشن کر دے، اور اسے خوشبو سے بھر دے۔ اور اس کا دوپٹہ دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے بہتر ہوگا۔ اور جنت میں جو کچھ ہے وہ عمدہ ترین اور پاکیزہ ہے۔
اور بیشک اللہ عزوجل اہلِ جنت سے فرمائے گا:
إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ فَيَقُولُونَ لَبَّيْكَ رَبَّنَا وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ فَيَقُولُ هَلْ رَضِيتُمْ فَيَقُولُونَ وَمَا لَنَا لَا نَرْضَى يَا رَبِّ وَقَدْ أَعْطَيْتَنَا 6
“اے جنت والو!” وہ کہیں گے: “ہم حاضر ہیں اے ہمارے رب، ہم تیرے حکم کی تعمیل کے لیے حاضر ہیں اور ہر بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔” اللہ تعالیٰ فرمائے گا: “کیا تم راضی ہو؟” وہ کہیں گے: “اے ہمارے رب، ہم کیوں راضی نہ ہوں جبکہ تو نے ہمیں وہ کچھ عطا فرمایا ہے جو اپنی مخلوق میں سے کسی اور کو عطا نہیں کیا۔
آپﷺ نے فرمایا:” اللہ تعالیٰ فرمائے گا:
فَيَقُولُ أَلَا أُعْطِيكُمْ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ فَيَقُولُونَ يَا رَبِّ وَأَيُّ شَيْءٍ أَفْضَلُ مِنْ ذَلِكَ فَيَقُولُ أُحِلُّ عَلَيْكُمْ رِضْوَانِي فَلَا أَسْخَطُ عَلَيْكُمْ بَعْدَهُ أَبَدًا7
کیا میں تمہیں اس سے بھی افضل چیز عطا نہ کروں؟” وہ کہیں گے: “اس سے افضل چیز اور کیا ہو سکتی ہے؟” اللہ تعالیٰ فرمائے گا: “میں تم پر اپنی رضا نازل کرتا ہوں، پس اس کے بعد میں کبھی تم سے ناراض نہیں ہوں گا۔
لوگو! یہ نعمت کتنی عظیم ہے اور یہ عزت و تکریم کتنی بلند و بالا ہے۔
اور سب سے بڑا عطیہ اور سب سے عظیم نعمت جس کے سامنے ہر دوسری نعمت ہیچ ہو جاتی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے معزز چہرے کا دیدار ہے۔
جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں:
قَالَ إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا الْقَمَرَ لَا تُضَامُونَ فِي رُؤْيَتِهِ فَإِنْ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا تُغْلَبُوا عَلَى صَلَاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَصَلَاةٍ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ فَافْعَلُوا8
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چودھویں رات کے چاند کی طرف دیکھا اور فرمایا: ‘تم عنقریب اپنے رب کو کھلم کھلا اسی طرح دیکھو گے جیسے تم اس چاند کو دیکھ رہے ہو، اور اس کے دیدار میں تمہیں کوئی دشواری پیش نہیں آئے گی۔
اور جنت عدن میں لوگوں کے درمیان اور انہیں اپنے رب کے دیدار کے درمیان صرف اللہ تعالیٰ کے چہرے پر کبریائی کی چادر حائل ہوگی۔
إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارِ، نَادَى مُنَادٍ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ إِنَّ لَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ مَوْعِدًا يُرِيدُ أَنْ يُنْجِزَكُمُوهُ، فَيَقُولُونَ: وَمَا هُوَ؟ أَلَمْ يُثَقِّلِ اللَّهُ مَوَازِينَنَا، وَيُبَيِّضْ وُجُوهَنَا، وَيُدْخِلْنَا الْجَنَّةَ، وَيُنْجِنَا مِنَ النَّارِ؟ قَالَ: فَيَكْشِفُ الْحِجَابَ، فَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ، فَوَاللَّهِ مَا أَعَطَاهُمُ اللَّهُ شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ النَّظَرِ – يَعْنِي إِلَيْهِ – وَلَا أَقَرَّ لِأَعْيُنِهِمْ9
اور ایک منادی پکارے گا: “اے اہلِ جنت، بیشک اللہ کے ہاں تمہارے لیے ایک وعدہ ہے جسے وہ تمہارے لیے پورا کرنا چاہتا ہے۔” وہ کہیں گے: “وہ کیا ہے؟ کیا اس نے ہمارے میزانوں کو بھاری نہیں کر دیا؟ کیا اس نے ہمارے چہروں کو روشن نہیں کر دیا؟ کیا اس نے ہمیں جنت میں داخل نہیں کر دیا اور کیا اس نے ہمیں جہنم سے نجات نہیں دے دی؟” پھر پردہ اٹھایا جائے گا تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف دیکھیں گے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا یہ دیدار انہیں ملی ہر نعمت سے زیادہ محبوب ہوگا۔ اللہ اکبر! اس نے انہیں نعمتیں عطا فرمائیں، انہیں فائدہ پہنچایا، ان کی آرزوئیں پوری کیں، اور اس پر مزید عطا کیا۔
اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو ان سعادت مند لوگوں میں شامل فرمائے، اور ہمیں جنت اور اپنا دیدار عطا فرمائے۔ میں وہی بات کہتا ہوں جو آپ سن رہے ہیں، اور اپنے لیے، آپ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے ہر گناہ اور خطا سے اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں۔ آپ بھی اس سے مغفرت طلب کریں، بیشک وہ توبہ کرنے والوں کو معاف کرنے والا ہے۔
خطبہ ثانی:
تمام تعریف اللہ کے لیے ہے، ایسی تعریف جو اس کی نعمتوں کے شایانِ شان ہو۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور اس کے سوا کوئی برحق معبود نہیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سردار محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول، اس کے برگزیدہ اور منتخب کردہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ پر، آپ کی آل اور آپ کے صحابہ پر ہمیشہ رحمت و سلامتی نازل فرمائے، ایسی رحمت و سلامتی جو قیامت تک جاری رہے۔
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کے ساتھ رہو۔ اے مسلمانو! یہ جنت اور اس کی نعمتوں کے بعض اوصاف کا ذکر ہے۔ تو پھر کوئی کوتاہ شخص ایک ایسی حقیر دنیا کے لیے اس نعمت کو کیسے ضائع کر سکتا ہے جس دنیا سے کوچ کا اعلان ہو چکا ہے، اور جس سے جدا ہونے کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔
لہٰذا خوب ہوشیار رہو اور ہوش کے ناخن لو۔ موت تمہاری پیشانیوں کے ساتھ بندھی ہوئی ہے، اور دنیا تمہارے پیچھے سے لپیٹی جا رہی ہے۔ بسا اوقات ایک زخم جان لے لیتا ہے، اور بسا اوقات ایک ٹھوکر ہلاکت کا سبب بن جاتی ہے۔ جو شخص خطرے سے ڈرتا ہے وہ تڑکے ہی نکل پڑتا ہے، اور جو تڑکے ہی نکل پڑتا ہے وہ منزل تک پہنچ جاتا ہے۔ خبردار! اللہ کا سودا بہت قیمتی ہے۔ خبردار! اللہ کا سودا بہت قیمتی ہے۔ خبردار! اللہ کا سودا بہت قیمتی ہے۔ سن لو! اللہ کا سودا جنت ہے۔
مسلمانو! ہم اللہ تعالیٰ کے فضل، اس کی بے پایاں عطا اور اس کے احسان پر شکر ادا کرتے ہوئے، ان نعمتوں کو یاد کرتے ہیں جو اس نے اس بابرکت سرزمین کو عطا فرمائی ہیں۔ یعنی امن و ایمان کی نعمت، صفوں کی وحدت اور اتحاد کی نعمت۔ یہ وہ سرزمین ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حرمین شریفین کی خدمت کا شرف عطا فرمایا ہے اور مسلمانوں کے دلوں میں اسے عظیم مقام سے نوازا ہے۔ اسی سرزمین میں مسجد حرام، مسجد نبوی اور مشاعرِ مقدسہ ہیں۔ اسی سرزمین میں نزولِ وحی کا مقام ہے اور ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کی جگہ بھی اسی سرزمین میں ہے۔ اسی سرزمین سے اسلام کا پیغام دنیا میں پھیلا۔ چنانچہ یہ سرزمین ہمیشہ عقیدے کا مرکز، نورِ علم کا مینار اور مسلمانوں اور حرمین شریفین کے زائرین کی خدمت کی جگہ رہی ہے۔
اور تمام مخلوق کی شفاعت کرنے والے نبی احمد پر کثرت سے درود و سلام بھیجو۔ کیونکہ جو شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔
اے اللہ! ہمارے نبی اور سردار محمد پر درود و سلام نازل فرما، جو رحمت اور ثواب کی خوشخبری دینے والے، اللہ کی پکڑ اور عذاب سے ڈرانے والے، اور روزِ حساب مقبول شفاعت کرنے والے ہیں۔ اے اللہ! خلفائے راشدین اور ہدایت یافتہ سربراہان ابوبکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم سے راضی ہو جا، جو نمایاں شرف اور بلند مرتبے والے ہیں، اور تمام آل و اصحاب سے بھی راضی ہو جا۔ اور اے کریم، اے بہت زیادہ عطا فرمانے والے! ہمیں بھی ان کے ساتھ اپنی رضا عطا فرما۔
اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت و غلبہ عطا فرما، شرک اور مشرکین کو ذلیل و خوار کر، دین کے دشمنوں کو تباہ کر۔ اور ہمارے ملک مملکتِ سعودی عرب اور تمام مسلم ممالک کو سازش کرنے والوں کی سازش، مکر کرنے والوں کے مکر، دلوں میں کینہ رکھنے والوں کے بغض اور حسد کرنے والوں کے حسد سے محفوظ رکھ، اے تمام جہانوں کے رب۔
اے اللہ! ہمارے پیشوا اور حاکم خادمِ حرمین شریفین کو ان کاموں کی توفیق عطا فرما جنہیں تو پسند کرتا ہے اور جن سے تو راضی ہو۔ اور انہیں نیکی اور تقویٰ کی راہ پر گامزن رکھ۔ اے اللہ! انہیں اور ان کے ولی عہد کو ان امور کی توفیق عطا فرما جن میں اسلام کا غلبہ اور مسلمانوں کی بھلائی ہو، اے تمام جہانوں کے رب۔
اے اللہ! ہماری سرحدوں اور چوکیوں پر موجود ہمارے فوجیوں کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ان کے بیماروں کو شفا عطا فرما، ان کے زخمیوں کا علاج فرما، ان کے فوت شدگان کو شہداء میں قبول فرما، اور اپنے اور ان کے دشمن کے مقابلے میں ان کی مدد فرما، اے دعاؤں کو سننے والے۔
اے اللہ! ہمارے بیماروں کو شفا عطا فرما، آزمائش میں مبتلا لوگوں کو عافیت دے اور ہمارے فوت شدگان پر رحم فرما، اے تمام جہانوں کے رب۔
اے اللہ! مسجد اقصیٰ کو ظالموں کی ناپاکی سے پاک کر۔ اے اللہ! ہماری فریاد رسی کر۔ اے اللہ! ہم پر بارش نازل فرما اور ہمیں ناامید ہونے والوں میں شامل نہ کر۔
اے اللہ! ہماری دعا کو شرفِ قبولیت عطا فرما اور ہماری پکار کو سن لے، اے کریم، اے عظیم، اے رحیم۔
خطبہ جمعہ مسجد النبوی
تاریخ : 14 ربیع الثانی 1448 ہجری بمطابق 25 ستمبر 2026 عیسوی
خطیب : فضیلۃ الشیخ صلاح بن محمد البدیر حفظہ اللہ
___________________________________________________________________________
