جب اللہ کا کوئی حکم میری خواہش، میری منطق یا زمانے کے رواج کے خلاف آتا ہے، تو میرا پہلا اور حقیقی ردِ عمل کیا ہوتا ہے؟ کیا میں فوراً سر تسلیم خم کرتا ہوں یا دل میں سوالات اٹھاتا ہوں؟میری عبادات کی اصل روح کیا ہے؟ کیا یہ محض رسومات ہیں، یا اللہ کے حکم کے سامنے مکمل سپردگی اور بندگی کا عملی اظہار؟آج کے دور میں جب ہمیں کہا جاتا ہے کہ “لوگ کیا کہیں گے”، تو ہم اللہ کے حکم کو ترجیح دیتے ہیں یا معاشرتی دباؤ کو؟ ہماری زندگی کا محور اللہ کی رضا ہے یا لوگوں کی خوشنودی؟عقل اور وحی کے درمیان کیا تعلق ہونا چاہیے؟ جب کوئی شرعی حکم ہماری محدود عقل یا منطق میں نہ آئے تو ہمارا رویہ کیسا ہونا چاہیے؟
اسی سے متعلقہ
حاکم اور عوام کے لئے نصیحتیں
فضیلۃ الشیخ حسین بن عبدالعزیز آلِ شیخ حفظہ اللہ نےجمعہ کا خطبہ اس عنوان پر دیا: ’’ حاکم اور عوام کے...
آیت الکرسی کی فضیلت و اہمیت
خطبہ اول: ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے، جس نے اس کی پناہ لی اس نے اس کی ہر اذیت سے حفاظت کی، اس...
بری مجلس میں شرکت
پہلا خطبہ: اللہ تعالی کی نعمتوں اور عنایتوں کے برابر تعریفیں اسی کے لیے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ...
حسنِ اخلاق ،اہمیت و فضیلت
خطبہ اول: تمام تعریف اللہ کے لیے ہے، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں، اس سے مدد مانگتے ہیں اور اس سے...
سیرت امہات المومنین رضی اللہ عنہن قسط-3
سیرت امہات المومنین رضی اللہ عنہن قسط-3
صراطِ مستقیم کا تعارف
پہلا خطبہ: ہر قسم کی تعریف اللہ تعالیٰ کےلئے ہے جو کریم و رحیم ہے۔میں اُس کے بھرپور فضل اور بہت...
