حکمِ الٰہی اور بندے کی اطاعت

حکمِ الٰہی اور بندے کی اطاعت

جب اللہ کا کوئی حکم میری خواہش، میری منطق یا زمانے کے رواج کے خلاف آتا ہے، تو میرا پہلا اور حقیقی ردِ عمل کیا ہوتا ہے؟ کیا میں فوراً سر تسلیم خم کرتا ہوں یا دل میں سوالات اٹھاتا ہوں؟میری عبادات کی اصل روح کیا ہے؟ کیا یہ محض رسومات ہیں، یا اللہ کے حکم کے سامنے مکمل سپردگی اور بندگی کا عملی اظہار؟آج کے دور میں جب ہمیں کہا جاتا ہے کہ “لوگ کیا کہیں گے”، تو ہم اللہ کے حکم کو ترجیح دیتے ہیں یا معاشرتی دباؤ کو؟ ہماری زندگی کا محور اللہ کی رضا ہے یا لوگوں کی خوشنودی؟عقل اور وحی کے درمیان کیا تعلق ہونا چاہیے؟ جب کوئی شرعی حکم ہماری محدود عقل یا منطق میں نہ آئے تو ہمارا رویہ کیسا ہونا چاہیے؟

مصنف/ مقرر کے بارے میں

الشیخ عبید الرحمان حفظہ اللہ