خطبہ اول:
ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے، جس نے بطور فضل و کرم اپنی نعمتوں کے بادل برسائے اور نوازشوں کی بارش کی۔ جس نے اپنی پیدا کردہ چیزوں میں سے تمہارے لیے سائے بنائے، اور پہاڑوں میں غار بنائے، اور ایسی پوشاکیں بخشیں جو تمہیں گرمی سے بچاتی ہیں، اور کچھ دوسری پوشاکیں جو جنگ میں تمہاری حفاظت کرتی ہیں، اور اپنی بخشش کی پوشاکوں میں سے بطور فیاضی و مہربانی تمہیں پوشاک عطا کیا۔
میں بطورِ ایمان و توحید کے گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں بطورِ اقرار و اتباع گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سردار محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول، پسندیدہ اور خلیل ہیں۔ درود و سلام نازل ہو آپ پر، آپ کی آل و اصحاب پر اور ان پر جنہوں نے خفیہ طور پر اور علی الاعلان ان کے راستے کی پیروی کی۔
اما بعد!
ایمانی بھائیو! بے شک اللہ کا تقویٰ وہ سب سے اچھی چیز ہے جسے تم نے چھپایا، اور سب سے خوبصورت چیز ہے جسے تم نے ظاہر کیا، اور سب سے قیمتی چیز ہے جس کا تم نے ذخیرہ کیا۔ یہ سب سے بڑی سعادت کا راستہ ہے، اور دنیا و آخرت میں سب سے بہتر توشہ ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:
فَأَمَّا مَنْ أَعْطَىٰ وَاتَّقَىٰ ٘ وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَىٰ٘ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَىٰ1
جس نے دیا (اللہ کی راہ میں) اور ڈرا (اپنے رب سے)، اور نیک بات کی تصدیق کرتا رہے گا، تو ہم بھی اس کو آسان راستے کی سہولت دیں گے۔
امت مسلمہ! ہم ان دنوں موسم گرما کی جس شدت، گرمی کی تمازت، اور دوپہر کی جھلسا دینے والی حدت میں ہیں، یہ عبرت اور نصیحت کا مقام ہے۔ یہ کیفیت ایمان والے کو اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور اس کی قدرت میں غور و فکر کرنے پر ابھارتی ہے، اور اسے کائنات اور مخلوقات میں اللہ کی سنتوں اور قوانین کی یاد دلاتی ہے۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی ربوبیت کے دلائل میں سے ہے، اللہ ہی ہے جو دنوں اور مہینوں کو الٹتا پلٹتا ہے، اور سالوں اور زمانوں کو لپیٹتا ہے۔ وہی اپنی مخلوقات کے لیے تدبیر کرنے والا اور ان کے معاملات میں تصرف کرنے والا ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:
قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِن جَعَلَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ اللَّيْلَ سَرْمَدًا إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَنْ إِلَٰهٌ غَيْرُ اللَّهِ يَأْتِيكُم بِضِيَاءٍ ۖ أَفَلَا تَسْمَعُونَ٘ قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِن جَعَلَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَنْ إِلَٰهٌ غَيْرُ اللَّهِ يَأْتِيكُم بِلَيْلٍ تَسْكُنُونَ فِيهِ ۖ أَفَلَا تُبْصِرُونَ2
کہہ دیجیے کہ دیکھو تو سہی اگر اللہ تعالیٰ تم پر رات ہی رات قیامت تک برابر کر دے تو سوائے اللہ کے کون معبود ہے جو تمہارے پاس دن کی روشنی لائے؟ کیا تم سنتے نہیں ہو؟ پوچھیے کہ یہ بھی تو بتا دو کہ اگر اللہ تعالیٰ تم پر ہمیشہ قیامت تک دن ہی دن رکھے تو بھی سوائے اللہ تعالیٰ کے کون معبود ہے جو تمہارے پاس رات لے آئے جس میں تم آرام حاصل کرو؟ کیا تم دیکھ نہیں رہے ہو؟
اور جس کی مطلق ربوبیت ہو وہی اس بات کا مستحق ہے کہ مطلق عبادت صرف اسی کی کی جائے۔
اسی طرح گرمی کی یہ کیفیت اس دنیا میں اللہ کی سنتوں کی یاد دلاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو ایسا بنایا ہے کہ اس کے حالات بدلتے رہتے ہیں، اطوار تبدیل ہوتے رہتے ہیں، اس کی ایک حالت برقرار نہیں رہتی، اور نہ ایک کیفیت مستقل رہتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کی حالت کی تمثیل اپنے اس قول میں بیان فرمائی ہے،
اس کا فرمان ہے:
اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ ۖ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُونُ حُطَامًا ۖ وَفِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٌ ۚ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ3
خوب جان رکھو کہ دنیا کی زندگی صرف کھیل تماشا، زینت، اور آپس میں فخر و غرور اور مال و اولاد میں ایک کا دوسرے سے اپنے آپ کو زیادہ بتلانا ہے۔ جیسے بارش اور اس کی پیداوار کسانوں کو اچھی معلوم ہوتی ہے، پھر جب وہ خشک ہو جاتی ہے تو زرد رنگ میں اس کو تم دیکھتے ہو، پھر وہ بالکل چورا چورا ہو جاتی ہے، اور آخرت میں سخت عذاب اور اللہ کی مغفرت اور رضامندی ہے۔ اور دنیا کی زندگی بجز دھوکے کے سامان کے اور کچھ بھی تو نہیں۔
نعمت و فراخی، اور تنگی و مصیبت میں دنیا کے احوال کے بدلنے کے سلسلے میں یہ غضب کی تمثیل اور شاندار تصویر کشی ہے، جیسے کھیتی کی حالت رونق و شادابی، اور سوکھنے و مرجھانے میں بدلتی ہے۔ جس طرح سال کے موسم ایک دوسرے کے پیچھے اس طرح آتے ہیں جس طرح روشنی اور تاریکی ایک دوسرے کے پیچھے آتی ہے، اسی طرح عسرت و شدت کے بعد آسانی و خوشحالی آتی ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:
فَلَا أُقْسِمُ بِالشَّفَقِ٘ وَاللَّيْلِ وَمَا وَسَقَ٘ وَالْقَمَرِ إِذَا اتَّسَقَ٘ لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَن طَبَقٍ4
مجھے شفق کی قسم، اور رات کی، اور اس کی جمع کردہ چیزوں کی قسم، اور چاند کی جب کہ وہ کامل ہو جاتا ہے، یقیناً تم ایک حالت سے دوسری حالت پر پہنچو گے۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ کے قول (لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ) کے سلسلے میں فرمایا کہ تم ایک حالت سے دوسری حالت پر پہنچو گے۔
اسی طرح جو عبرتیں اس سے ظاہر ہوتی ہیں ان میں یہ ہے کہ مومن کا نفس جب کسی خیر سے یا دنیوی یا اخروی نفع سے خوشحالی و فراخی کی وجہ سے سست پڑ جائے تو وہ اللہ کے اس قول کو مستحضر رکھے۔
اللہ کا فرمان ہے:
فَرِحَ الْمُخَلَّفُونَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلَافَ رَسُولِ اللَّهِ وَكَرِهُوا أَن يُجَاهِدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقَالُوا لَا تَنفِرُوا فِي الْحَرِّ ۗ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ أَشَدُّ حَرًّا ۚ لَّوْ كَانُوا يَفْقَهُونَ5
پیچھے رہ جانے والے لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے جانے کے بعد اپنے بیٹھے رہنے پر خوش ہیں، انہوں نے اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جانوں سے جہاد کرنا ناپسند رکھا، اور انہوں نے کہہ دیا کہ اس گرمی میں مت نکلو۔ کہہ دیجیے کہ دوزخ کی آگ بہت ہی سخت گرم ہے۔ کاش کہ وہ سمجھتے ہوتے۔
بے شک نفس آسانی و راحت کی طرف بہت مائل ہونے والا ہے، لیکن جب اسے خیر سے کوتاہی برتنے کے برے انجام اور صبر کے اچھے انجام اور خوبصورت نتائج کی یاد آتی ہے، تو اس وقت اس کے اندر بھلائی کرنے کا جذبہ پیدا ہو جاتا ہے ہر چند کہ اس میں کچھ مشقت ہی ہو۔
اللہ مجھے اور تمہیں قرآن عظیم میں برکتوں سے نوازے، اور نبی کریم کی سنت سے ہمیں فائدہ پہنچائے۔ میں وہ کہہ رہا ہوں جو تم نے سنا اور میں اللہ سے اپنے لیے اور تمہارے لیے مغفرت طلب کرتا ہوں، یقیناً وہ بڑا بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔
خطبہ ثانی:
ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے، وہ حمد کے لائق اور اس کا مستحق ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، مخلوقات کی تخلیق میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سردار محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ درود نازل ہو آپ پر، آپ کے اصحاب پر، اور آپ کی صداقت کی گواہی دینے والوں پر، جب تک بادل خوب خوب بارش برسائے۔
اما بعد!
مت مسلمہ! جو چیزیں اللہ کے حمد و شکر کو واجب کرتی ہیں ان میں کولنگ اور اے سی جیسے وہ نئے ذرائع ہیں جن سے اللہ نے اس زمانے میں لوگوں کو نوازا ہے، جو گزرے زمانوں میں نہیں تھے۔ یہ نعمتیں شکر و عبرت کا موجب، اور غور و فکر، اور نصیحت کا محل و مقام ہیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُم مِّن بُيُوتِكُمْ سَكَنًا وَجَعَلَ لَكُم مِّن جُلُودِ الْأَنْعَامِ بُيُوتًا تَسْتَخِفُّونَهَا يَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَيَوْمَ إِقَامَتِكُمْ ۙ وَمِنْ أَصْوَافِهَا وَأَوْبَارِهَا وَأَشْعَارِهَا أَثَاثًا وَمَتَاعًا إِلَىٰ حِينٍ ٘وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُم مِّمَّا خَلَقَ ظِلَالًا وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ الْجِبَالِ أَكْنَانًا وَجَعَلَ لَكُمْ سَرَابِيلَ تَقِيكُمُ الْحَرَّ وَسَرَابِيلَ تَقِيكُم بَأْسَكُمْ ۚ كَذَٰلِكَ يُتِمُّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُونَ6
اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تمہارے گھروں میں سکونت کی جگہ بنا دی ہے، اور اسی نے تمہارے لیے چوپایوں کی کھالوں کے گھر بنا دیے ہیں، جنہیں تم ہلکا پھلکا پاتے ہو اپنے کوچ کے دن، اور اپنے ٹھہرنے کے دن بھی، اور ان کی اون، اور روؤں، اور بالوں سے بھی اس نے بہت سا سامان، اور ایک وقت مقررہ تک کے لیے فائدہ کی چیزیں بنائیں۔ اللہ ہی نے تمہارے لیے اپنی پیدا کردہ چیزوں میں سے سائے بنائے ہیں، اور اسی نے تمہارے لیے پہاڑوں میں غار بنائے ہیں، اور اسی نے تمہارے لیے لباس بنائے ہیں جو تمہیں گرمی سے بچائیں، اور ایسے لباس بھی جو تمہیں لڑائی کے وقت کام آئیں، وہ اسی طرح اپنی پوری پوری نعمتیں دے رہا ہے کہ تم فرمانبردار بن جاؤ۔
خوب اللہ کی حمد کرو اور اس کا شکر بجا لاؤ۔ اس کے ذکر اور دعا میں رطب اللسان رہو۔ اے اللہ ہم تیری ایسی حمد کرتے ہیں جو تیرے تقدس کے شایان شان ہو، ہم تیری ثنا شمار نہیں کر سکتے، تو ویسا ہے جیسا تو نے اپنے بارے میں کہا ہے۔ جمعہ کے دن، اور بقیہ دوسرے دنوں میں بھی مخلوقات میں چنیدہ اور سید الانام پر ہمیشہ خوب درود و سلام بھیجا کرو۔
اے اللہ درود و سلام اور برکتیں نازل فرما، اپنے بندے اور رسول ہمارے نبی محمد، ان کے روشن و مکرم آل و اصحاب، اور درست طریقے سے ان کی پیروی کرنے والوں پر جب تک ماہِ تمام چمکے اور بادل برسے۔
اے اللہ اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ دے۔ اے اللہ اس ملک کو اطمینان و سکون والا اور بابرکت بنا، اے اکرم المکرمین۔ اے اللہ سید المرسلین کی قیام گاہ، مسلمانوں کے دلوں کی چاہت، مقام وحی اور ایمان کے منبع اس طیب و طاہر ملک مملکتِ سعودیہ عربیہ کی سازش کرنے والوں کی سازش، اور مکر کرنے والوں کے مکر سے حفاظت فرما۔ اے اللہ ہمارے سربراہ خادم حرمین شریفین، اور ان کے ولی عہد کی تو اپنی خاص حفاظت سے حفاظت فرما۔ اور انہیں اپنی خاص تائید سے نواز، اور ان دونوں کو اس کی توفیق دے جس میں ملک اور عوام کی بھلائی ہو۔
اے رب العالمین! اے اللہ ہر جگہ مسلمانوں کے احوال درست کر، تو انہیں ان کے اور تو اپنے دشمنوں پر غلبہ عطا کر، اے قوی، اے متین۔ اے اللہ، اے ہمارے رب ہماری طرف سے قبول کر، بلاشبہ تو سننے والا، جاننے والا ہے۔ اور ہماری توبہ قبول کر بلاشبہ تو توبہ قبول کرنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔ اللہ کے بندو! اپنے رب کا شکر ادا کر کے اس کی نعمتوں کی ہمیشگی طلب کرو، اس کے حکم کی پیروی کر کے اس کی نعمتوں کی حفاظت کرو۔ ہمارا رب، رب العزت پاک ہے ان باتوں سے جو وہ بیان کرتے ہیں، مرسلین پر سلام ہے اور ہر طرح کی تعریف اللہ کے لیے ہے۔
خطبہ جمعہ مسجد النبوی
تاریخ :8ربیع الاول 1448 ہجری بمطابق 21 اگست 2026 عیسوی
موضوع :گرمی کی شدت اور درس عبرت
خطیب :فضیلۃ الشیخ احمد بن علی الحذیفی حفظہ اللہ
____________________________________________________________
