[خطبہ اول]
ہر قسم کی حمد و ثنا اللہ ہی کے لیے ہے، ہم اس کی تعریف کرتے ہیں اور اس سے مدد مانگتے ہیں اور اس سے بخشش طلب کرتے ہیں۔ اپنے نفسوں کی برائیوں اور اپنے برے اعمال سے اللہ کی پناہ لیتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبودِ حقیقی نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ ان پر اور ان کے آل و اصحاب پر درود اور بہت زیادہ سلامتی بھیجے۔
اما بعد:
لوگو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، خلوت و تنہائی میں اس کا ڈر رکھو۔ اے ایمان والو! اللہ کا کما حقہ تقویٰ اختیار کرو اور ہرگز نہ مرو مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔
اللہ کے بندو! ہم اس زندگی میں آزمائے جا رہے ہیں۔ یہ دنیا بدلہ ملنے اور پوری طرح جزا پانے کی جگہ نہیں بلکہ امتحان اور آزمائش کی جگہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَنَبْلُوكُم بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً1
اور ہم اچھے اور برے حالات میں ڈال کر تم سب کی آزمائش کر رہے ہیں۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت کی تفسیر میں کہا: ہم تمہیں سختی اور آسانی، صحت اور بیماری، مالداری اور فقر، حلال اور حرام، اطاعت اور نافرمانی، ہدایت اور گمراہی، ہر چیز کے ذریعے آزماتے ہیں۔
اور عبدالرحمن بن زید رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’ہم انہیں اس چیز سے آزماتے ہیں جسے وہ پسند کرتے ہیں اور اس چیز سے بھی جسے وہ ناپسند کرتے ہیں۔ ہم انہیں آزماتے ہیں تاکہ دیکھیں کہ وہ اپنی پسندیدہ چیزوں پر شکر کیسے کرتے ہیں اور ناپسندیدہ چیزوں پر صبر کیسے کرتے ہیں‘‘۔
اللہ کے بندو! آزمائش اللہ کی طرف سے مقدر اور ایک لازمی اور حتمی امر ہے۔ اس کے ذریعے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کون اپنے ایمان کے دعویٰ میں سچا ہے اور کون جھوٹا۔
اللہ نے فرمایا: أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَٗ وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۖ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ2
کیا لوگوں نے گمان کیا ہے کہ وہ اسی پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ کہہ دیں ہم ایمان لائے اور ان کی آزمائش نہ کی جائے گی۔ کیا لوگوں نے گمان کیا ہے کہ وہ اسی پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ کہہ دیں ہم ایمان لائے اور ان کی آزمائش نہ کی جائے گی۔
انسان پر آزمائش اس کے دین میں قوت و ضعف کے اعتبار سے ہوتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا:
يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلَاءً؟ قَالَ: «الْأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ، يُبْتَلَى الْعَبْدُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ، فَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ صُلْبًا، اشْتَدَّ بَلَاؤُهُ، وَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ رِقَّةٌ، ابْتُلِيَ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ، فَمَا يَبْرَحُ الْبَلَاءُ بِالْعَبْدِ، حَتَّى يَتْرُكَهُ يَمْشِي عَلَى الْأَرْضِ، وَمَا عَلَيْهِ مِنْ خَطِيئَةٍ» »3
“لوگوں میں سب سے زیادہ سخت آزمائش کس کی ہوتی ہے؟” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “انبیاء، پھر نیک لوگ، پھر ان کے بعد افضل لوگ، پھر ان کے بعد والے لوگ۔ آدمی کو اس کے دین کے بقدر آزمایا جاتا ہے، اگر اس کے دین میں مضبوطی ہو تو اس کی آزمائش میں اضافہ کر دیا جاتا ہے اور اگر اس کے دین میں کمزوری ہو تو اس سے آزمائش ہلکی کر دی جاتی ہے۔”
ابن القیم رحمہ اللہ نے کہا: “اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا ہے کہ وہ لوگوں کو ضرور آزمائے اور ان کا امتحان لے تاکہ امتحان کے ذریعے اچھے اور برے لوگ ظاہر ہو جائیں۔ یہ واضح ہو جائے کہ کون اس کی دوستی اور اکرام کے لائق ہے اور کون لائق نہیں، اور تاکہ اس کے لیے موزوں افراد کو خوب جانچ کر خالص کر دے۔”
اللہ کے بندو! اللہ کی سنت رہی ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کو آزماتا ہے۔ خوشحالی اور بدحالی، آسانی اور تنگی، پسندیدگی اور ناپسندیدگی، امیری اور غریبی میں، کبھی کبھار دشمنوں کو ان پر غالب کرکے اور قول و عمل کے ذریعے دشمنوں سے جہاد میں، سب حالات میں انہیں آزماتا ہے۔ ان ساری چیزوں سے ان کے ایمان کی مضبوطی، رحمن سے ان کی محبت اور اپنے عظیم المرتبت رب کے فیصلے پر کامل رضا و تسلیم کا پتہ چلتا ہے۔
اللہ عزوجل نے فرمایا:
وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ4
اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے، دشمن کے ڈر سے، بھوک پیاس سے، مال و جان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے بندے کو مختلف سختیوں کے ذریعے آزماتا اور جانچتا ہے تاکہ دیکھے کہ کیا وہ صبر کرتا ہے، اللہ کے فیصلے پر راضی رہتا ہے یا ناراضی اور بے صبری کا اظہار کرتا ہے۔
اللہ عزوجل نے فرمایا:
لَتُبْلَوُنَّ فِي أَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا ۚ وَإِن تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ ذَٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ5
یقیناً تم اپنے مالوں اور اپنی جانوں میں ضرور آزمائے جاؤ گے اور یقیناً تم ان لوگوں سے جنھیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور ان لوگوں سے جنھوں نے شرک کیا، ضرور بہت سی ایذا سنو گے اور اگر تم صبر کرو اور متقی بنو تو بلاشبہ یہ ہمت کے کاموں سے ہے۔
یہ آزمائش کی ایک سخت قسم ہے لیکن اس پر صبر کا انجام مدد، ہدایت اور بہترین اجر کی صورت میں نہایت ہی اچھا ہوتا ہے۔ اللہ کی سنت یہی رہی ہے کہ جب تکلیف اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہے تو اس کے بعد اللہ بہت بڑی کشادگی اور راحت عطا فرماتا ہے۔
مسلمانو! جب ہم آزمائش کی مختلف اقسام کی مثالوں کو یاد کرتے ہیں اور اس کی مختلف صورتوں کے شواہد پر غور کرتے ہیں تو یہ بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ اللہ کے برگزیدہ بندوں انبیائے علیہم السلام کو مختلف طرح کی آزمائشوں میں ڈالا گیا۔
کبھی ان کی قوموں نے انہیں جھٹلایا، جیسے ابراہیم، لوط اور نوح علیہ السلام کے واقعات میں ہوا۔
کبھی نعمت کے ذریعے آزمائش ہوئی، جیسا کہ داؤد اور سلیمان علیہم السلام کے ساتھ پیش آیا۔
کبھی فتنہ اور شہوت کے ذریعے، جیسے کہ یوسف علیہ السلام کے ساتھ پیش آیا۔
کبھی جسمانی بیماری اور تکلیف کے ذریعے، جیسے ایوب علیہ السلام کے جسم کو لگنے والی بیماری میں ہوا۔
کبھی طرح طرح کی اذیتوں کے ذریعے ہوا، جیسے موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ پیش آیا۔
اور ہمارے نبی محمد ﷺکے بارے میں کیا کہنا! اللہ کی راہ میں انہیں کتنی اذیتیں دی گئیں، کتنی قسم کی آزمائشوں اور مصیبتوں سے آپ کا سامنا ہوا۔ اور ایک بات جان لینی چاہیے کہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام، باوجود اس کے کہ وہ مخلوقات میں سب سے افضل اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ مکرم ہیں، پھر بھی سب سے زیادہ وہ آزمائش میں ڈالے گئے۔ کیونکہ اس سے ان کی نیکیوں کا کئی گنا زیادہ اجر بڑھا، ان کے درجات بلند ہوئے، انہیں ذکرِ خیر کی رفعت نصیب ہوئی۔ اس کے ساتھ وہ کامل صبر اور طلبِ اجر میں اخلاص سے ممتاز کیے گئے۔
اور ان کے بعد اس معاملے میں سچے مومن، اولیاء اور صالحین آتے ہیں جو انبیاء کے نقش قدم پر چلے اور ان کے طریقے کی پیروی کی۔ انہوں نے دین پر ثابت قدمی کی خاطر پہنچنے والی ہر اذیت اور تکلیف کو خوش دلی سے برداشت کیا۔ ان آزمائشوں کی چند مثالیں آپ کے سامنے ہیں
جیسے مومنین کو آزمائش میں اس طرح ڈالا گیا کہ “اصحاب الاخدود” جیسے بدکار لوگوں نے انہیں آگ میں جلا کر مار ڈالا۔
“اصحاب کہف” کا اپنی قوم سے کنارہ کش ہو جانا، آرام دہ زندگی چھوڑ کر ایک ویران غار میں صرف اللہ کی عبادت کے لیے پناہ لینا۔
ملعون فرعون کی طرف سے جادوگروں کو قتل کرنے اور صلیب پر چڑھانے کی دھمکی جب وہ ایمان لے آئے اور واضح حق کو ترجیح دی۔
مریم بنت عمران پر بہتان اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر ابتہام اور ان کی پاکیزگی پر حملہ کرنا۔
عمر، عثمان، علی اور حسین رضی اللہ عنہم کا قتل۔
بلال و عمار جیسے کمزور صحابہ پر سخت ترین ظلم و ستم۔
امام احمد بن حنبل الشیبانی، امام ابو عبداللہ البخاری، امام ابن تیمیہ الحرانی رحمہم اللہ کی آزمائشیں اور تکلیفیں۔
اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مقام کتنا عظیم ہے! انہوں نے اسلام کی نصرت کی راہ میں نادر مثالیں قائم کیں، باوجود اس کے کہ انہوں نے سخت ترین مصائب اور بڑے بڑے ہولناک حالات کا سامنا کیا۔ یہ سب ان کے مضبوط ایمان کی گواہی دیتے ہیں اور ان کے مضبوط ارادے اور ثابت قدمی کو واضح کرتے ہیں۔
وہ تین سال تک شعبِ ابی طالب میں محصور رہے، جہاں بھوک اور تکلیف نے انہیں شدید طور پر متاثر کیا لیکن انہوں نے صبر کیا، اپنے رب پر بھروسہ رکھا۔ ان مصائب نے ان کی ہمت نہ توڑی نہ انہیں اپنے اصولوں سے ہٹایا۔ وہ اپنے ان نبی ﷺکی پیروی میں ثابت قدم رہے جن کی نہ عزیمت میں کمی آئی نہ ہمت میں، بلکہ آپ ﷺاپنی دعوت اور پیغام کی تبلیغ پر قائم رہے۔
مومن جن معاملات میں خوفزدہ تھے، اللہ تعالیٰ ان میں ان کے لیے کافی ہوا اور دشمنوں کے تمام مکر و فریب کو انہی پر لوٹا دیا۔ اسی طرح سختیوں اور مشکلات کے وقت صحابہ کی ثابت قدمی، خصوصاً اس دن جب جماعتیں چاروں طرف سے ان پر چڑھ دوڑیں۔
اللہ فرماتا ہے:
وَلَمَّا رَأَى الْمُؤْمِنُونَ الْأَحْزَابَ قَالُوا هَٰذَا مَا وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَصَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ6
جب مومنوں نے گروہوں کو دیکھا تو کہنے لگے یہ وہی ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا، اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا۔
ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: یعنی یہ وہی آزمائش، امتحان اور ابتلا ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہمیں وعدہ دیا تھا، جس کے بعد عنقریب ہی اللہ کی مدد اور نصرت حاصل ہوتی ہے۔
اللہ کے بندو! ایمان کے امتحان کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ مومن کو اس کی قوم کے ایسے رسم و رواج اور عادات سے آزمایا جائے جو اللہ کی معزز شریعت کے خلاف ہوں۔ اگر وہ خواہشات کے پیچھے چلنے والی اکثریت کی پیروی کرے تو یہ اسے ہدایت کے راستے سے بھٹکا دیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ7
اور اگر تو ان لوگوں میں سے اکثر کا کہنا مانے جو زمین میں ہیں تو وہ تجھے اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں گے۔
فضیل بن عیاض رحمہ اللہ نے کہا: ہدایت کے راستے پر قائم رہو چاہے وہاں چلنے والوں کی تعداد کم ہو اور گمراہی کے راستے سے بچو، ہلاک ہونے والوں کی اکثریت سے تم دھوکہ نہ کھاؤ۔
ابن القیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’لوگوں کی مخالفت اور اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺکی طرف میلان کو مشکل نہ سمجھو، چاہے تم اکیلے ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ اللہ تمہارے ساتھ ہے، تم اس کی نگرانی، حفاظت اور نگہبانی میں ہو۔ وہ تمہارے یقین اور صبر کا امتحان لیتا ہے۔ جو شخص عادات اور معمولات کو غیر اللہ کے لیے ترک کرتا ہے اسے مشکل پیش آتی ہے، لیکن جو شخص سچے اور خالص دل سے اللہ کی رضا کے لیے انہیں ترک کرتا ہے اسے صرف ابتداء میں تھوڑی سی مشقت محسوس ہوتی ہے۔ یہ اس لیے ہے تاکہ اللہ اس کا امتحان لے کہ واقعی انہیں ترک کرنے میں سچا ہے یا جھوٹا؟ اور اگر وہ تھوڑی دیر کے لیے اس مشقت پر صبر کر لے تو وہ مشقت اس کے لیے لذت بن جائے گی۔‘‘
ایمانی بھائیو! بندے کے ایمان کی حقیقت ظاہر کرنے والی درپیش ہونے والی وہ چیزیں ہیں جنہیں شریعت نے ناپسندیدہ اور حرام قرار دیا ہے۔ چنانچہ جب وہ ناپسندیدہ کاموں اور برائیوں کا سامنا مخالفت سے کرے گا تو اس کا ایمان و اطمینان بڑھے گا اور جب وہ ان کے تابع ہو جائے گا اور ان سے راضی ہو جائے گا تو وہ گمراہ ہو جائے گا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ8
تم سب سے بہتر امت ہو جو لوگوں کے لیے نکالی گئی، تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔
یہاں اللہ نے ایمان کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے بعد ذکر کیا۔
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ.9
جب تم میں سے کوئی برائی دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے بدل دے، اور اگر وہ قادر نہ ہو تو اپنی زبان سے، اور اگر وہ (یہ بھی) نہ کر سکے تو اپنے دل سے اسے ناپسند سمجھے اور یہ سب سے کمزور ایمان ہے۔
پس مومن کے لیے کوئی عذر نہیں کہ وہ دل سے ہر برائی کو ناپسند نہ کرے کیونکہ دل سے اسے بدلنا سب سے کمزور درجہ ہے اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ وہ برائی کے ذریعے اپنی ناپسندیدگی ظاہر کرے، یعنی برائی کرنے والوں کے ساتھ نہ بیٹھے بلکہ ان سے رخ پھیرے تاکہ انہیں باز رکھے اور جس (گناہ) میں وہ مبتلا ہیں اس سے بغض ظاہر کرے۔
اللہ کے بندو! ایمان کو بعض اوقات محبتوں کے معاملے میں سخت آزمائش میں ڈالا جاتا ہے۔ جب بندہ دین اور عقیدے کی بنیاد پر بھائی چارے کو نسب اور خاندانی رشتوں پر مقدم رکھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
مَنْ أَحَبَّ لِلَّهِ، وَأَبْغَضَ لِلَّهِ، وَأَعْطَى لِلَّهِ, وَمَنَعَ لِلَّهِ، فَقَدِ اسْتَكْمَلَ الْإِيمَانَ10
جس نے اﷲ کی خاطر محبت کی ، اﷲ کی خاطر غصہ کیا ، اﷲ کے لیے دیا ، اور اﷲ کی رضا مندی کے پیش نظر نہ دیا تو اس نے ایمان کو مکمل کر لیا۔
میں نے وہ بات کہی جو آپ نے سنی اور میں اللہ سے اپنے لیے اور آپ کے لیے بخشش طلب کرتا ہوں۔
[خطبہ ثانی]
ہر قسم کی حمد و ثنا اللہ کے لیے ہے جس نے دنیا کو آزمائش اور امتحان کا گھر اور آخرت کو جزا اور احسان کا گھر بنایا۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (ﷺ) اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ ان پر اور ان کے تمام آل و اصحاب پر درود و سلام بھیجے۔
اما بعد:
اللہ کے بندو! ہم میں سے کوئی بھی نہیں جس کی اس دنیا میں آزمائش نہ ہو۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا:
إِنَّمَا بَعَثْتُكَ ؛ لِأَبْتَلِيَكَ وَأَبْتَلِيَ بِكَ11
میں نے تمہیں صرف اس لیے بھیجا ہے کہ تمہیں آزماؤں اور تمہارے ذریعے دوسروں کو آزماؤں۔
یعنی تاکہ تمہیں پیغام پہنچانے میں صبر، دعوت میں ثابت قدمی، اپنی قوم کی اذیت کو برداشت کرنے میں آزماؤں۔ اور ان لوگوں کو بھی آزماؤں جن کی طرف تم بھیجے گئے ہو۔ ان میں سے کچھ تمہاری راہ پر چلیں گے، اپنا ایمان ظاہر کریں گے، اپنی اطاعت میں مخلص ہوں گے اور کچھ تم سے دور ہو جائیں گے، تمہارا انکار کریں گے، منافقت اختیار کریں گے۔
اللہ تعالیٰ نے کفار قریش کو بھی آزمائش میں ڈالا۔ انہیں وافر نعمتیں اور وسیع رزق عطا فرمایا، وہ سکون و سلامتی کے ساتھ خوشحال زندگی گزار رہے تھے۔ جب اللہ نے ان کے لیے نعمت کو مکمل کر دیا اور نبیِ رحمت کو بھیجا تاکہ ان کے حالات کو درست کرے اور انہیں نجات کا راستہ دکھائے، تو انہوں نے انکار کیا، تردید سے کام لیا۔ لہذا انہیں مشقت، قحط اور محرومی کے عذاب سے دوچار کیا گیا۔
اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے مثال بیان فرمائی:
إِنَّا بَلَوْنَاهُمْ كَمَا بَلَوْنَا أَصْحَابَ الْجَنَّةِ إِذْ أَقْسَمُوا لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِينَ12
یقیناً ہم نے انھیں آزمایا ہے، جیسے ہم نے باغ والوں کو آزمایا، جب انھوں نے قسم کھائی کہ صبح ہوتے ہوتے اس کا پھل ضرور ہی توڑ لیں گے۔
باغ والوں پر اللہ نے جو انعام کیا تھا ان کا اس میں امتحان لیا گیا۔ چنانچہ انہوں نے بخل کیا، حق ادا کرنے سے انکار کیا۔ لہذا ان کے درخت اور پھل تباہ کر دیے گئے اور انہیں ان سے کوئی فائدہ نہ پہنچا اور ان کی امیدیں چور چور ہو گئیں۔
اللہ کے بندو! ایمان کے مفہوم کو اچھی بری تقدیر سے راسخ کرنا، اللہ کی تقدیر پر مکمل رضا و تسلیم کا پیکر بننا ایک مضبوط بنیاد اور محفوظ قلعہ ہے۔ ایک ایسا زینہ ہے جو مومن کو ایمان اور یقین کے اعلیٰ منازل تک لے جاتا ہے۔ اور جب بندہ اپنے ایمان میں آزمائش کا سامنا کرتا ہے اور اس کی ایمانی بنیاد مضبوط ہوتی ہے تو وہ نہ کمزور پڑتا ہے نہ ڈگمگاتا ہے۔ لیکن اگر ایسا نہ ہو تو وہ کتنی جلد بدل جاتا ہے، اپنی حالت پر قائم نہیں رہتا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَمِنَ النَّاسِ مَن يَعْبُدُ اللَّهَ عَلَىٰ حَرْفٍ ۖ فَإِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ اطْمَأَنَّ بِهِ ۖ وَإِنْ أَصَابَتْهُ فِتْنَةٌ انقَلَبَ عَلَىٰ وَجْهِهِ خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ13
اور لوگوں میں سے کوئی وہ ہے جو اللہ کی عبادت ایک کنارے پر کرتا ہے، پھر اگر اسے کوئی بھلائی پہنچ جائے تو اس کے ساتھ مطمئن ہوجاتا ہے اور اگر اسے کوئی آزمائش آپہنچے تو اپنے منہ پر الٹا پھر جاتا ہے۔ اس نے دنیا اور آخرت کا نقصان اٹھایا، یہی تو صریح خسارہ ہے۔
اور آزمائش کے مسائل میں یہ بھی ذکر کرنا اچھا ہے کہ بندے کو بعض آزمائشیں ایسی بھی دی جاتی ہیں جو فوری سزا کے طور پر ہوتی ہیں۔ یہ نافرمانی میں حد سے بڑھ جانے کی وجہ سے ہوتی ہیں اور رب العالمین کی بارگاہ میں اسے توبہ کی توفیق بھی نہیں ملتی۔ جیسا کہ اللہ نے سرکش “اصحاب سبت” کے بارے میں فرمایا کہ: “اسی طرح ہم نے ان کی آزمائش کی کیونکہ وہ گناہ گار (نافرمان) تھے۔”
اور اس آزمائش کی وجہ سے گناہ گار شخص اپنے درست رویے کی طرف لوٹ سکتا ہے، اپنے رب سے رجوع ہو سکتا ہے، اسی طرح اس کے گناہ کا اثر مٹ سکتا ہے، اس کے دل سے زنگ ختم ہو جاتا ہے۔
یقیناً ایمان کی سب سے سخت آزمائشوں میں سے یہ ہے کہ آزمائشیں اور بلائیں بندے پر لگاتار آئیں۔ پس وہ غم و فکر اور دکھ میں مبتلا ہو جائے اور جو کچھ اس کے ساتھ ہو رہا ہے اس سے وہ مایوس ہو جائے۔ جب حالات اس کی توقع اور خواہش کے خلاف ہوں پھر وہ گھبرا جائے، اللہ کی قضا اور تقدیر پر ناراض اور اس سے پریشان ہو جائے۔
اللہ کے بندو! ہم پر واجب ہے کہ اللہ نے جو کچھ ہمیں عطا کیا اور نوازا، جو کچھ ہم سے روکا اور نہیں دیا، اس پر ہم اس کا شکر ادا کریں۔ ہم دعا کریں ہمیں صحت و عافیت عطا فرمائے، ہمیں آزمائش میں نہ ڈالے، ہمیں نیک کاموں میں لگائے، ہماری جگہ دوسروں کو نہ لائے۔ ہم اپنے مولیٰ کی نعمت پر اس کا شکر ادا کریں، ہم اس کی عطا کردہ نعمتوں اور نوازشوں میں اس کا حق ادا کریں۔ اللہ ہم پر کرم فرمائے کہ ہم نعمتوں پر اس کے شاکر ہوں، مشکلات میں صابر، ہمیں استقامت اور ثابت قدمی عطا فرمائے۔ ہمیں فتنوں اور گمراہ کرنے والے شر سے محفوظ رکھے۔
یہ جان لیجیے (اللہ آپ پر رحم کرے) کہ آپ جمعہ کے دن میں ہیں جو آپ کے بہترین دنوں میں سے ہے، لہذا کثرت سے اپنے نبی پر درود و سلام بھیجتے رہیں۔
اے اللہ! خاتم الانبیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام نازل فرما، ان کے بھائیوں تمام انبیاء پر، ان کے آل، اقربا، انصار اور تمام صحابہ پر۔
اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، کفر اور کافروں کو ذلیل کر۔
اے اللہ! اپنے راستے میں جہاد کرنے والوں، سرحدوں پر پہرہ دینے والوں، ملک کی حفاظت کرنے والوں کی مدد فرما۔
اے اللہ! ہمارے وطنوں اور ہمارے گھروں میں ہمیں امن عطا فرما۔
اے اللہ! ہمارے سربراہ خادم حرمین شریفین کو ان اقوال و افعال کی توفیق عطا فرما جو تجھے پسند ہوں۔ اے اللہ! انہیں اور ان کے ولی عہد کو اپنی ہدایت اور تقویٰ کی توفیق عطا فرما۔
اے اللہ! ہم تجھ سے تیرے مومن بندوں، تیرے اولیاء کے لیے نصرت، عزت اور غلبہ کا سوال کرتے ہیں۔
اے اللہ! تو مظلوموں کا رب ہے، ہمارا بھی رب، تو فلسطین میں اور ہر جگہ ہمارے بھائیوں کا حامی و ناصر بن جا یا رب العالمین۔
اے اللہ! ان کے غم کو دور فرما، ان کی پریشانیاں ختم کر دے، ان کے مریضوں کو شفا دے، مبتلا لوگوں کو عافیت عطا فرما، ان کی بھوک کو مٹا دے، ان کے خوف کو امن سے بدل دے اور جو ان پر ظلم و زیادتی کرے ان سے انتقام لے لے۔ مصیبت کو انہی پر ڈال دے اور ہمیں اپنے دشمنوں میں اپنی قدرت کے عجائبات دکھا۔
اے اللہ! ہمارے نزدیک ایمان کو محبوب کر دے، ہمارے دلوں میں مزین کر دے اور کفر، فسق اور نافرمانی سے ہمیں متنفر کر دے۔
اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے تمام آل و اصحاب پر درود و سلام نازل فرما۔ آمین۔
خطیب: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیصل غزاوی حفظہ اللہ
تاریخ:30جمادی الاول 1447ھ/21:نومبر:2025
_______________________________________________________________________________
