پہلا خطبہ:
ہرقسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے، اس نے اپنے فضل سے چلنے والوں کے قدم کو تقویت بخشی اور اپنے احسان سے سر گرداں لوگوں کے دلوں کو ہدایت دی۔اس کے لیے سب سے بیش بہا، معزز، پاکیزہ اور افضل حمد ہے اس کے لیے فضیلت والی مبارک وپاکیزہ حمد ہے۔
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں ، وہ بادشاہ واضح حق ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺاللہ کے بندہ اور اس کے رسول ہیں ۔ آپﷺ متقیوں کے امام اور روشن و تابناک لوگوں کے قائد ہیں ۔ درود و سلام اور برکتیں نازل ہوں آپ پر، کی پاکیزہ آل پر، چنیدہ اصحاب پر ،تابعین پراور تاقیامت دُرست طریقے سے ان کی پیروی کرنے والوں پر۔
اما بعد!
اے لوگو! میں آپ کو تقوی کی تلقین کرتا ہوں، یہ سب سے سے مضبوط سہارا اور سب سے خوب صورت پوشاک ہے۔ اللہ کا فرمان ہے :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ
التوبة – 119
اے ایمان والوں! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو۔
مومنو! بندہ سب سے زیادہ جس چیز کے پانے کا آرزو مند ہوتا ہے اور اسے پانے کے لیے اپنی جد و جہد کرتا ہے وہ ہے بندہ سے اللہ تعالی کی محبت ، اس لیے کہ خالق و بادشاہ عظیم اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے سے محبت ہے، یہ اس کی محبت ہے جس کے ہاتھ میں بندے کو فائدہ و نقصان پہنچانا ،مو ت و حیات دینا اور مالدار و عننی کرنا ہے۔ اور اس بڑے مقام تک پہنچنے کے کئی راستے اور وسائل ہیں۔ ان میں سب سے پہلا اور اہم ترین ، اللہ پاک پر ایمان ہے، چنانچہ بندہ جتنا زیادہ مضبوط ایمان والا ہو گا، اس سے اللہ کی محبت اتنی زیادہ ہو گی۔
اور ایمان دل، زبان اور اعضاء سے پورا ہوگا، دل سے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ دل سے اللہ کی اور اس کے حقوق کی تصدیق، افترار اور تسلیم ہو اور زبان سے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کلمہ توحید زبان سے ادا کیا جائے اور اعضاء سے ہونے کامطلب یہ ہے کہ نیک عمل کیا جائے۔
بندے سے اللہ تعالیٰ کی محبت کے اسباب میں سے محمد ﷺ کی پیروی ، آپﷺ کی شریعت کو قبول کرنا، آپ ﷺکی سنت پر عمل اور اُس کے منافی اُمور کو چھوڑنا ہے۔اللہ تعالی کا فرمان ہے :
قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
آل عمران – 31
“کہہ دیجئے! اگر تم اللہ تعالی سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو، خود اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف فرمادے گا۔”
جس نے رسول اللہﷺکی پیروی کی اس سے اللہ محبت کرے گا، اس کا گناہ بخش دے گا، اس پر رحم کرے گا اور اس کی حرکات و سکنات میں اسے درست رکھے گا۔
اچھے لوگو! بندے سے اللہ کی محبت کے اسباب میں سے مرض وواجب اور مستحب عبادتوں کے ذریعہ اللہ کا تقرب حاصل کرنا ہے ، اللہ تعالی حدیث قدسی میں ارشاد فرماتا ہے :
ما تَقَرَّبَ إلَيَّ عَبْدِي بشَيءٍ أحَبَّ إلَيَّ ممَّا افْتَرَضْتُ عليه، وما يَزالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إلَيَّ بالنَّوافِلِ حتَّى أُحِبَّهُ، فإذا أحْبَبْتُهُ، كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذي يَسْمَعُ به، وبَصَرَهُ الَّذي يُبْصِرُ به، ويَدَهُ الَّتي يَبْطِشُ بها، ورِجْلَهُ الَّتي يَمْشِي بها، وإنْ سَأَلَنِي لَأُعْطِيَنَّهُ، ولَئِنِ اسْتَعاذَنِي لَأُعِيذَنَّهُ
أخرجه البخاري
” اور میرا بندہ جن جن عبادتوں کے ذریعے سے میرا قرب حاصل کرتا ہے ان میں سے کوئی عبادت مجھے اتنی پسند نہیں جس قدر وہ دت پسند ہے میں نے اس پر فرض کی ہے۔ میرا بندہ نوافل کے ذریعے سے مجھ سے اتنا قریب ہو جاتا ہے کہ میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں اسے دیتا ہوں اور اگر میری پناہ چا ہے تو میں اسے پناہ دیتا ہوں۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔
اللہ آپ کی حفاظت فرمائے ، اطاعتوں کی اصل نماز ہے جو معظم مقدم عبادت ، مومنوں کے آنکھوں کی ٹھنڈک، متقیوں کے نفسوں کا اُنس اور عبادت گزاروں کی روحوں کی راحت ہے۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے نبی اکرم ﷺسے پوچھا :
أيُّ العَمَلِ أحَبُّ إلى اللهِ؟ قالَ: الصَّلَاةُ علَى وقْتِهَا
أخرجه البخاري ومسلم
اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل کون سا ہے ؟ آپ ﷺنے فرمایا: “نماز کو وقت پر ادا کرنا ۔ اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا۔
تو بڑی کامیابی اس کی جس نے اسے ادا کیا اور قائم کیا اور وائے ناکامی اس کی جس نے اس میں کو تاہی برتد اور اسے ضائع کیا !!۔
اے اللہ ہم تجھ سے تیری محبت مانگتے ہیں اور ان کی محبت مانگتے ہیں جو تجھ سے محبت کرتے ہیں اور اس عمل کی محبت مانگتے ہیں جو ہمیں تیری محبت کے قریب کرے ، اے اللہ ہمیں قرآن و سنت میں برکتوں سے نواز ، ان میں موجود آیات و حکمت سے ہمیں فائدہ پہنچا۔
جو آپ نے سنا میں وہ کہہ رہا ہوں، اور میں اپنے لیے اور آپ کے لیے اور بقیہ سارے مسلمانوں کے لیے ہر گناہ اور خطا کی اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ، آپ بھی اس سے مغفر طلب کیجیے۔ بلا شبہ وہ توبہ کرنے والوں کو بخشنے والا ہے۔
دوسرا خطبہ:
ہر قسم کی تعریف اس اللہ کے لیے ہے جو اپنی عظمت و کبریائی میں صاحبِ جلال ہے اور اپنے اسماء وصفات میں صاحبِ جمال ہے۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اللہ کے بندہ اور اس کے رسول ہیں۔
درود و سلام اور برکتیں نازل ہوں آپ ﷺپر ، آپ ﷺکی آل اور آپ ﷺکے اصحاب پر اور تاقیامت دُرست طریقے سے ان کی پیروی کرنے والوں پر۔
اما بعد!
اے مسلمانو! جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اس کی مقبولیت کو پھیلا دیتا ہے اور اس کی محبت و مودت کو زمین و آسمان کے باشندوں کے دلوں میں اتار دیتا ہے۔ اللہ کے نبی ﷺکا فرمان ہے :
إذا أحَبَّ الله عبدًا نادى جبريل: إِنَّ اللهَ يُحِبُّ فلانًا فَأُحِبَّه، فيحبُّه جبريلُ، فينادي جبريلُ في أهل السماءِ إِنَّ الله يُحِبُّ فلانا فأحِبُّوه، فيحبُّه أهلُ السماء، ثم يوضع له القبولُ في أهل الأرض
أخرجه البخاري ومسلم
“جب اللہ تعالٰی کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبرئیل علیہ السلام کو آواز دیتا ہے کہ اللہ تعالٰی فلاں بندے سے محبت کرتا ہے لہذا تم بھی اس سے محبت کرو۔چنانچہ جبریل علیہ السلام اس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر جبرئیل علیہ السلام تمام آسمان والوں کو آواز دیتے ہیں کہ اللہ تعالٰی فلاں آدمی سے محبت کرتا ہے تم بھی اس سے محبت کرو۔ پھر تمام اہل آسمان اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، اس کے بعد اس شخص کی مقبولیت زمین والوں کے دلوں میں رکھ دی جاتی ہے۔ اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔
سنو! ہمارے لیے کتنی اچھی بات ہو کہ ہم اپنے لیے اللہ تعالیٰ کی محبت کے اسباب تلاش کریں تا کہ ہم بلند ترین شرف پائیں اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے اولیاء میں سے ہوں۔ اللہ کا فرمان ہے :
أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ﴿٦٢﴾ الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ ﴿٦٣﴾ لَهُمُ الْبُشْرَىٰ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۚ لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللهِ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
یونس – 62/63/64
یا درکھو اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ گین ہوتے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور (برائیوں سے) پرہیز رکھتے ہیں۔ ان کے لیے دنیاوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی خوش خبری ہے اللہ تعالی کی باتوں میں کچھ فرق ہوا نہیں کرتا۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔
یہ باتیں رہیں اور درود و سلام بھیجو ہدیہ کی ہوئی رحمت اور نوازی گئی نعمت یعنی اپنے نبی اکرم محمد رسول اللہﷺ پر۔
اے اللہ! درود و سلام اور برکتیں نازل فرما آپ ﷺ پر، آپ کی طیب وطاہر آل پر، مومنوں کی مائیں آپ کی ازواجِ مطہرات پر۔
اے اللہ! تو راضی ہوجا حنفاء خلفائے راشدین ابو بکر عمر عثمان اور علی سے اور آل واصحاب سے اور تاقیامت درست طریقے سے ان کی پیروی کرنے والوں سے اور انہیں کے ساتھ اپنے احسان و کرم سے ہم سے بھی راضی ہو جا اے اکرم المکرین۔
اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا کر ، دین کے قلعہ کی حفاظت فرما اور اپنے مومن بندوں کی مدد کر۔
اے اللہ! مسلمانوں میں سے غمزدہ لوگوں کے غم دور کر، پریشان حال لوگوں کی پریشانی ختم کر، قرض داروں کے مرض ادا کر دے، ہمارے اور مسلمانوں کے مریضوں کو شفا دے، اپنی رحمت سے اے ارحم الراحمین۔
اے اللہ !ہمیں اپنے وطن میں امن سے نواز، ہمارے سربراہوں اور حکمرانوں کی اصلاح فرما، ہمارے حکمراں اور سربراہ کی حق و توفیق سے تائید کر۔
اے اللہ !انہیں اور ان کے ولی عہد کو اس کی توفیق دے جس میں بندوں اور ملک کی بھلائی ہو ، اے رب العالمین۔
اے اللہ !سرحدوں پر تعینات ہمارے سپاہیوں کو توفیق یاب کر۔
اے اللہ!تو ان کا معین و نصیر اور معاون و مددگار ہو جا۔
اے اللہ !ہمارے نفسوں کو تقوی دے ، ان کا تزکیہ کر کہ تو سب سے اچھا تزکیہ کرنے والا ہے، تو ہی ان کا مالک اور مولی ہے۔
اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں نیکی دے اور آخرت . میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں عذاب سے نجات دے۔
پاک ہے آپ کا رب جو بہت بڑی عزت والا ہے ہر ا ُس چیز سے جو مشرک بیان کرتے ہیں۔
پیغمبروں پر سلام ہے۔ اور سب طرح کی تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جو سارے جہان کا رب ہے۔
خطبة الجمعة مسجدالحرام: فضیلة الشیخ بندر بلیلة حفظه اللہ
13ذوالقعدۃ بتاریخ 02 جون 2023