پہلا خطبہ :
ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے ، وہ اپنے بندوں کے کم عمل سے راضی ہوا اور ان کی کو تاہی ولغزش سے اس نے در گزر کیا، انہیں نعمتوں سے نوازا اور اپنے اوپر اس نے رحمت کو واجب کیا، میں اس پاک ذات کی حمد بیان کرتا ہوں اور اس کا شکر بجالاتا ہوں اور اس کی ثنا بیان کرتا ہوں اور اس اسے مغفرت طلب کرتا ہوں۔
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں ، جس نے اس کے ہدایت کی پیروی کی وہ نہ گمراہ ہو گا اور نہ بد بخت اور جس نے اس کے ذکر سے اعراض کیا تو اس کی زندگی تنگی میں رہے گی اور وہ قیامت کے دن اندھا اٹھایا جائے گا اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار اور نبی محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔آپ ﷺ کے رب نے آپ کو جہانوں کے لیے رحمت، عمل کرنے والوں کے لیے قدوہ، سالکین کے لیے جادہ حق اور تمام مخلوقات پر حجت بنا کر مبعوث کیا۔
درود و سلام اور برکتیں نازل ہوں آپ ﷺ پر ، آپ ﷺ کی آل و اصحاب پر اور تا قیامت بہت زیادہ سلامتی ہو۔
اما بعد!
اے مومنو! اللہ کا کما حقہ تقوی اختیار کرو اور اسلام کے مضبوط کڑے کو تھام لو اور جان لو کہ دنیا ایک سامان ہے اور آخرت ہی دار قرار ہے اور نیکیوں کے چھوٹنے سے قبل ان کی طرف تیز بڑھو، لغزشوں پر اپنے نفسوں کا محاسبہ کرو اور جس نے اپنے باطن کی اصلاح کی، اللہ اس کے ظاہر کی اصلاح فرمائے گا اور جس نے اپنے اور اللہ کے مابین معاملے کو درست کر لیا، اللہ تعالی اس کے اور لوگوں کے مابین کے معاملہ کے لیے کافی ہو گا۔ اللہ کا فرمان ہے:
يَأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُوا إِن تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانَا وَيُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُم وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ
الانفال – 29
اے ایمان والو! اگر تم اللہ سے ڈرتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو ایک فیصلہ کی چیز دے گا اور تم سے تمہارے گناہ دور کر دے گا اور تم کو بخش دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے۔
امت مسلمہ شریعت اسلامیہ نے ہر اس چیز کی طرف بلایا ہے جو اخوت کے مفہوم کو پورا کرے اور الفت و مودت کو بڑھائے اور اس پر اجر واثواب رکھا ہے اور ہر اس چیز سے منع کیا ہے جو اختلاف و فتنہ کا باعث ہو اور اس کی طرف جانے والے راستوں کو بند کیا ہے، من جملہ جن چیزوں سے شریعت نے منع کیا ہے ان میں بد گمانی بھی ہے اور بد گمانی کہتے ہیں بغیر کسی دلیل اور حجت کے تہمت لگانا۔ اور بر ایمان حق کے معاملے میں کچھ بھی فائدہ نہیں دے سکتا۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
وَمَا يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنَّا إِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِمَا يَفْعَلُونَ عَلِيمٌ بِمَا يَفْعَلُونَ
یونس – 36
اور ان میں سے اکثر لوگ صرف گمان پر چل رہے ہیں۔ یقینا گمان، حق (گی معرفت) میں کچھ بھی کام نہیں دے سکتا یہ جو کچھ کر رہے ہیں یقینا اللہ کو سب خبر ہے۔
اللہ سبحانہ و تعالی نے بہت بدگمانیوں سے منع فرمایا ہے کہ مبادا آدمی گناہ میں پڑے۔ بد گمانی سے محبت کرنے والوں کے پیچ کنی چدائی ہوئی ، باہم شریک لوگوں میں کتنا اختلاف ہوا، کتنی معاشرت خراب ہوئی اور کتنی صحبت ختم ہوئی۔ منو: مسلمان کا اس کے بھائیوں پر یہ حق ہے کہ اس پر بھروسہ کیا جائے اور اسے معتمد سمجھا جائے، اس سے بد گمانی نہ رکھی جائے اور اسے خائن نہ سمجھا جائے جب تک کہ بھلائی اس کے اخلاق پر ظاہر ہو اور اس کی خصلت پر بھروسہ کی نشانیاں روشن ہوں ۔ جس کا معاملہ چھپا ہوا ہو اور نیکی ظاہر ہو اور امانت و کامرانی دیکھی جاتی ہو اس کے سلسلے میں بدعنوانی اور خیانت کا گمان کرنا حرام ہے اور جو ایسے آدمی کے ساتھ بد گمانی کرے وہ گناہ گار ہے اور لوگوں کے ساتھ اچھے گمان کے فائدوں میں سے یہ ہے کہ اس سے دل کی راحت، نفس کا سکون، دل کی سعادت، سینے کی سلامتی اور نبی ﷺ کے حکم کی پیروی ہوتی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ
تم بد گمانی سے بچو ، بد گمانی سے سے جھوٹی بات ہے۔ متفق علیہ
ایمانی بھائیو! مسلمان کی اصل بے عیبی و برائت ہے اور بغیر یقین کے اس اصول سے پھر انہیں جاسکتا۔ عیبوں کے پیچھے پڑنا، خطاؤں اور غلطیوں کو ڈھونڈنا، لغزشوں پر خوش ہونا، الفاظ کی غلط تاویل کرنا اور مسلمانوں سے بد ظن ہونا نیک لوگوں کا شیوہ نہیں۔ جس کی یہ خصلت ہو اس نے اللہ کے غضب و غصہ اور رسوائی و فضیحت کے لیے خود کو پیش کر دیا۔ سنن ابو داؤد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
يَا مَعْشَرَ مَنْ آمَنَ بِلِسَانِهِ، وَلَمْ يُفْضِ الْإِيمَانُ إِلَى قَلْبِهِ، لَا تَذُوا الْمُسْلِمِينَ ولا تعيروهم، وَلَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِهِمْ، فَإِنَّهُ مَن تتبع عورة أخيه المسلم تتبَّعَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ، وَمَنْ تَتَبَّع الله. عَوْرَتَهُ يَفْضَحْه ولو في جوف رحله.
اے وہ لوگو! جو زبان سے ایمان لائے اور ایمان جن کے دل میں نہیں اترا، مسمانوں کی غیبت نہ کرو، نہ ان کے عیبوں کے پیچھے پڑو، اس لیے کہ جو ان کے عیبوں کے پیچھے پڑے گا، اللہ اس کے عیب کے در پے ہو گا اور اللہ جس کے عیب کے درپے ہو اسے اس کے گھر میں رسوا کر دے گا ۔ جو لوگ لوگوں سے جھوٹے گمانوں کے ساتھ برتاؤ کرتے ہیں، ان کے اندر کینے اور عداوتیں پائی جاتی ہیں، جن سے ان کے دل پریشان ہوتے ہیں، زندگی اجیرن اور بےکیف ہو جاتی ہے یوں اس کی گزر بسر تنگ ہو جاتی ہے اور بصیرت اندھی ہو جاتی ہے ، وہ تاویلوں، تخمینوں، تجزیوں اور تفسیروں کی پناہ لیتا ہے اور یہ دعوی کرتا ہے کہ یہ دانش مندی اور ذہانت ہے جب کہ حقیقت میں یہ نیتوں سے کھیلنے کی قسموں میں سے ایک قسم ہے اور آدمی اپنی بدظنی کے آگے سپر ڈالتا رہتا ہے ، وہ لوگوں کی برائیوں اور لغزشوں کا ذکر کر کے ان کی عیب جوئی کرتا رہتا ہے ، ان کی حالتوں کو بگاڑ کر پیش کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ خیال کرتا ہے کہ لوگ بگڑ گئے اور ہلاک ہو گئے جب کہ وہ ان میں سب سے برے حال میں ہوتا ہے، کیوں کہ اس نے جو ان کی عیب جوئی اور غیبت کی اور انہیں کمتر اور حقیر جانا اور خود کو ان پر فوقیت دی، اس سب کا اسے گناہ ملا۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِذَا قَالَ الرَّجُلُ: هَلَكَ النَّاسُ، فَهُوَ أَهْلَكُهُمْ
جب آدمی کہے کہ لوگ ہلاک ہو گئے تو وہ سب سے زیادہ ہلاک ہونے والا ہے۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔
جب آدمی کے لیے یہ سخت مشکل ہوتا ہے کہ وہ اپنے کام میں اپنی نیت کو ٹھیک سے جان سکے تو وہ مخلوق کی نیتوں سے کیسے واقف ہو سکتا ہے، اس لیے جسے نجات چاہیے اسے اپنے بارے میں بدگمانی رکھنی چاہیے ، اپنے دل کی اصلاح، نفس کے ترکیہ اور سینے کی پاکی کی کوشش کرنی چاہیے اور دوسروں کے عیبوں سے الگ اپنے عیبوں کی اصلاح میں مشغول رہنا چاہیے۔ ایک آدمی ابو دجانہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور آپ مرض الموت میں تھے اور آپ کا چہرہ کھل رہا تھا اور آپ کہہ رہے تھے: میرے نزدیک دو چیزوں سے بڑھ کر مضبوط کوئی عمل نہیں: میں اس بارے میں بات نہیں کرتا جس کا مجھ سے کوئی سروکار نہیں اور میر اول پاک رہا۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جو یہ چاہتا ہو کہ اس کا خاتمہ بالخیر ہو اسے لوگوں سے حسن ظن رکھنا چا ہے۔ اور آپ ﷺ اپنے صحابہ کو حسن ظن اور حرمت مومن کی عظمت کی تلقین کیا کرتے تھے۔
سنن ابن ماجہ میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے راویت ہے انہوں نے کہا :
رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ – صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ، وَيَقُولُ: “مَا أَطْيَبَكِ وَأَطْيَبَ رِيحَكِ، مَا أَعْظَمَكِ وَأَعْظَمَ حُرْمَتَكِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، خَرْمَهُ الْمُؤْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ حُرْمَةً مِنْكِ، مَالِهِ، وَدَمِهِ، وَأَنْ نَظُنَّ بِهِ إِلَّا خَيْرًا
میں نے نبی ﷺ کو کعبہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا اور آپ کہہ رہے تھے : تو کتنا اچھا ہے اور تیری خوشبو کتنی اچھی ہے ، تو کتنا عظیم ہے اور تیری حرمت کتنی عظیم ہے۔ قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے اللہ کے نزدیک مومن کی حرمت یعنی اس کے مال و جان کی حرمت تجھ سے بھی عظیم ہے اور یہ کہ ہم اس کے ساتھ حسن ظن ہی رکھیں۔
اور آپ ﷺ انہیں شیطان کے راستوں کو بند کرنے اور سوء ظن کی بتی کو کھینچ پھینکنے کی راہ دکھاتے ۔ صحیحین میں جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا:
نَهَى رَسُولُ اللَّهِ . صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أَنْ يَطْرُقَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ لَيْلًا يَتَخَوَّنُهُمْ، أَوْ يَلْتَمِسُ عَتَرَاتِهِمْ
نبی اکرم ﷺ نے منع فرمایا کہ آدمی رات کو اچانک اپنے گھر والوں کے پاس جا پہنچے اور یہ چاہے کہ انہیں خیانت کا ارتکاب کرتے ہوئے دیکھے اور ان کی لغزشیں تلاش کرے۔ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور وہ شک کا شکار ہو گیا تھا اور بیوی کے سلسلے میں برے گمانوں میں گھرا ہوا تھا، اس لیے کہ اس کی بیوی نے ایک ایسے بچے کو جنم دیا تھا جو نہ اِس کے رنگ پر تھا اور نہ اُس کے رنگ پر۔تو اللہ کے نبی ﷺ نے اس کی اونٹی کے رنگ کے بارے میں پوچھ کر اس کے دل کے شک کو ختم کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
هَلْ لَكَ مِنْ إِبل؟”، قَالَ : نَعَمْ، قَالَ: “مَا أَلْوَانُهَا؟ قَالَ : مُحمرٌ ، قَالَ: “هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ؟” قَالَ الرجل: نَعَمْ، قَالَ: “فَأَنَّ كَانَ ذَلِكَ؟”، قَالَ : أَرَاهُ عِرْقٌ نَزَعَهُ، فَقَالَ صلى الله عليه وسلم-: “فَلَعَلَّ ابْنَكَ هَذَا نَزَعَهُ عِرق
اور نبی اکرم ﷺ اسامہ بن زید پر غصہ ہوئے جب انہوں نے اس شخص کو نیت کی تاویل کرتے ہوئے قتل کر دیا تھا جس نے لا الہ الا اللہ کہا تھا۔ صحیح مسلم میں ہے، آپ ﷺ نے اسامہ رضی اللہ عنہ سے کہا :
کیا اس نے لا الہ الا اللہ کہا تھا اور تم نے اسے قتل کر دیا ؟ اسامہ کہتے ہیں، میں نے کہا اے اللہ کے رسولﷺ! اس نے ہتھیار کے ڈر سے کہا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے اس کا دل پھاڑ کر کیوں نہ دیکھ لیا کہ اس نے کہا یا نہیں ؟ اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ تم زبان جو بولتی ہے اس کے مکلف ہو، جہاں تک دلوں کا تعلق ہے تو ان کے اندر کیا ہے ان کی معرفت کا تمہارے پاس کوئی راستہ نہیں ہے ، احکام کے اندر ظاہر پر عمل ہو گا اور اللہ تبارک و تعالی باطن کا مالک ہے۔ دوسری روایت میں ہے کہ اسامہ رضی اللہ عنہ کو اللہ کے نبی ﷺ نے بلایا اور کہا :
لِمَ قَتَلْتُهُ؟ ” قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوْجَعَ فِي الْمُسْلِمِينَ، وَقَتَلَ فُلَانًا وَفُلَانًا، وَسَمَّى لَهُ نَفَرًا، وَإِنِّي حَمَلْتُ عَلَيْهِ، فَلَمَّا رَأَى السَّيْفَ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: “أَقْتَلْتَهُ؟” قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: “فَكَيْفَ تَصْنَعُ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ إِذَا الْقِيَامَةِ؟”، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَغْفِرْ لِي، قَالَ: “وَكَيْفَ تَصْنَعُ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ إِذَا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟”، قَالَ: فَجَعَلَ لَا يَزِيدُهُ عَلَى أَنْ يَقُولَ: “كَيْفَ تَصْنَعُ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ إِذَا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟
تم نے اسے کیوں قتل کر دیا ؟ اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اے اللہ کے رسول ﷺ! اس نے مسلمانوں کو تکلیف پہنچائی ، فلاں فلاں کو قتل کیا ، حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے چند مسلمانوں کے نام لیے۔ پھر
تو آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم نے اسے قتل کر دیا؟ حضرت اسامہ نے کہا : ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: جب قیامت کے دن کلمہ لا الہ الا اللہ آئے گا تو تم اس کا کیا کروگے ؟ اسامہ نے کہا : اے اللہ کے رسولﷺ! میرے لیے مغفرت کی دعا کر دیجیے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تم کلمہ لا الہ الا اللہ کا کیا کرو گے جب وہ قیامت کے دن تمہارے سامنے آئے گا۔ اسامہ ﷺ کہتے ہیں: آپ ﷺ بس یہی کہتے رہے: تم کلمہ لا الہ الا اللہ کا کیا کرو گے جب وہ قیامت کے دن تمہارے سامنے آئے گا۔ اللہ تبارک و تعالی کا فرمان ہے: میں اس پر جا چڑھا، جب اس نے تلوار دیکھی تو کہا :لا الہ الا اللہ۔
و يَأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُوا اجْتَنِبُوا تحث أحَدُكُمْ أَن الظن إثم ولا تُجسَّسُوا وَلاَ بعضكم بعضا يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ وَأَتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَّحِيمٌ
الحجرات – 12
اے ایمان والو! بہت بد گمانیوں سے بچو یقین مانو کہ بعض بد گمانیاں گناہ ہیں۔ اور بھید نہ ٹٹولا کرو اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا تم میں سے کوئی بھی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے؟ تم کو اس سے گھن آئے گی، اور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ تو بہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔
اللہ مجھے اور آپ کو قرآن وسنت میں برکت سے نوازے، مجھے اور آپ کو ان میں موجود نشانیوں اور حکمت سے فائدہ پہنچائے ، میں اپنی یہ بات کہتا ہوں اور اپنے لیے اور آپ کے لیے ہر گناہ اور خطا سے اللہ کی مغفرت طلب کرتا ہوں، آپ بھی ان سے اس سے مغفرت طلب کیجیے ، بلاشبہ وہ بہت بخشنے والا ہے۔
دوسرا خطبہ :
ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے وہ رازوں اور پوشیدہ چیزوں کو جاننے والا ہے ، اس سے زمین اور آسمانوں میں کوئی چیز ذرہ برابر بھی چھپ نہیں سکتی۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہا ہمارے نبی اور سردار محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔
درود و سلام اور برکتیں نازل ہوں آپ ﷺ پر ، آپ ﷺ کی آل واصحاب پر اور تا قیامت بہت زیادہ سلامتی ہو۔
اما بعد !
مسلمانو! دوسروں کے ساتھ حسن ظن رکھنے پر جو اسباب مددگار ہیں ان میں یہ ہے کہ ان کی باتوں اور کاموں کا سب سے اچھا مفہوم لیا جائے اور ان کے لیے عذر تلاش کیے جائیں۔ حسن ظن اور اس پر ابھارنے کے سلسلے میں سلف کے اقوال بہت ہیں۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا : کسی مسلمان آدمی کے لیے جائز نہیں جو اپنے کسی بھائی سے کوئی بات سنتا ہے کہ وہ اس بات کے سلسلے میں بد گمان ہو جب کہ وہ بھلائی کی کسی چیز میں اس کا راستہ پاتا ہے۔ مسلمان اپنے بھائی سے صادر ہونے والے قول و فعل کو اچھے مفہوم پر محمول کرتا ہے جب تک کہ ظن یقین جازم میں نہ بدل جائے۔ اللہ عزوجل نے ہمیں تحقیق کا حکم دیا ہے۔ اللہ کا فرمان ہے:
يَأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْمَا بِجَهَلَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَدِمِينَ
الحجرات – 6
اے مسلمانو! اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کر وایسانہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو ایذا پہنچا دو پھر اپنے کیے پر پشیمانی اٹھاؤ۔
اصل یہ ہے کہ ہم لوگوں کے ساتھ حسن ظن رکھیں جب تک قرآئن سے اس کے خلاف بات واضح نہ ہو جائے اور یہ بھی ان کے بارے میں جو برائی اور شہر سے پہچانے جاتے ہوں۔ مسند احمد میں ہے، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا :
مَنْ أَظْهَرَ مِنْكُمْ خَيْرًا ظَنَنَّا بِهِ خَيْرًا، وَأَحْبَبْنَاهُ عَلَيْهِ، وَمَنْ أَظْهَرَ مِنْكُمْ لَنَا شَرًّا، ظَنَنَّا بِهِ شَرًّا، وَأَبْغَضْنَاهُ عَلَيْهِ
جس نے تم میں سے ہمارے لیے خیر کو ظاہر کیا ہم اس کے بارے میں خیر کا ہی گمان رکھیں گے اور اس پر اس سے محبت کریں گے اور جس نے تم میں سے ہمارے لیے شر کو ظاہر کیا، ہم اس کے بارے میں شر کا گمان رکھیں گے اور اس پر اس سے نفرت کریں گے۔
ایمانی بھائیو! تو جس طرح مسلمان کو روکا گیا ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کے بارے میں براگمان رکھے ، اسی طرح اسے یہ حکم دیا گیا ہے کہ تہمتوں کی جگہوں سے بچے تاکہ لوگوں کے دلوں کو اس کے تئیں بد گمانی رکھنے اور ان کی زبانوں کو اس کی غیبت کرنے سے بچائے۔ صحیحین میں صفیہ بنت حی رضی اللہ عنھا سے روایت ہے انہوں نے کہا :
كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- مُعْتَكِفًا، فَأَتَيْتُهُ أَزُورُهُ لَيْلًا، فَحَدَّثْتُهُ، ثُمَّ قُمْتُ لِأَنْقَلِبَ، فَقَامَ مَعِيَ لِيَقْلِبَنِي، فَمَرَّ رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَلَمَّا رَأْيَا النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْرَعَاء فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “عَلَى رِسْلِكُمَا؛ إِنَّهَا صَفِيَّةٌ، فَقَالَا: سُبْحَانَ اللهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: “إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الْإِنْسَانِ تجرى الدم، وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَرًا
اللہ کے نبی ﷺ اعتکاف میں تھے ، میں ایک رات آپ ﷺ سے ملنے آئی، میں نے آپ سے باتیں کیں اور پھر میں لوٹنے کے لیے کھڑی ہوئی، آپ مجھے چھوڑنے کے لیے کھڑے ہوئے۔ اسی درمیان انصار کے دو آمی گزرے، انہوں نے جب نبی ﷺ کو دیکھا تو تیزی کی، آپ ﷺ نے فرمایا: ٹھہر وہ یہ صفیہ ہیں۔ ان دونوں نے کہا : سبحان اللہ ، اے اللہ کے رسول!! آپ ﷺ نے فرمایا: شیطان انسان کے اندر اس کے خون کی مانند دوڑتا ہے اور مجھے یہ خدشہ لگا کہ کہیں وہ تمہارے دلوں میں کوئی برائی نہ ڈال دے۔
اسی لیے مسلمان کو حکم دیا گیا ہے کہ جب وہ رمضان میں سفر کرے تو وہ لوگوں کے سامنے اپنے افطار کا مظاہرہ نہ کرے اور جب وہ اپنی فرض نماز ادا کر لے اور ایک ایسی جماعت کے پاس آئے جو نماز ادا کر رہی ہو تو وہ ان کے ساتھ دوسری مرتبہ نماز ادا کرے اور یہ اس کے لیے نفل ہو جائے گی۔
مسند امام احمد بن حنبل میں جابر بن یزید بن اسود عامری اپنے والد سے راویت کرتے ہیں، انہوں نے کہا :
شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ – صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- حَجَّتَهُ، قَالَ: فَصَلَّيْتُ مَعَهُ صَلَاةَ الْفَجْرِ في مَسْجِدِ الْخَيْفِ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ إِذَا هُوَ بِرَجُلَيْنِ فِي آخِرِ الْمَسْجِدِ لَمْ يُصَلِّيَا مَعَهُ، فَقَالَ: “عَلَيَّ وَهِمَا، فَأُتِيَ بِهِمَا تَرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا، قَالَ: “مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَنَا؟، قَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُنَّا قَدْ صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا. قَالَ: “فَلَا تَفْعَلَا، إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمَا، ثُمَّ أَتَيْتُمَا مَسْجِدَ جَمَاعَةٍ، فَصَلِّيَا مَعَهُمْ، فَإِنَّهَا لَكُمَا نَافِلَةٌ.
میں نبی ﷺ کے ساتھ آپ کے حج میں تھا۔ فرمایا: میں نے مسجد خیف میں آپ ﷺ کے ساتھ فجر کی نماز ادا کی، جب آپ ﷺ نے نماز پڑھ لی تو دیکھا کہ مسجد کے اخیر میں دولوگ ہیں جنہوں نے آپ ﷺ کے ساتھ نماز نہیں پڑھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: انہیں میرے پاس لاؤ، وہ دونوں لائے گئے اور وہ کانپ رہے تھے۔ آپ ﷺنے پوچھا: ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟ انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبیﷺ: ہم نے اپنے ڈیرے میں نماز پڑھ لی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ایسا مت کرنا!، جب اپنے ڈیرے میں نماز پڑھ لو اور پھر جماعت والی مسجد میں آؤ، تو ان کے ساتھ بھی نماز پڑھو، یہ تمہارے لیے نفل ہوگی۔
اے اللہ! ہمیں سب سے اچھے اخلاق پر چلا ، سب سے اچھے اخلاق پر تو ہی چلا سکتا ہے اور ہم سے برے اخلاق کو پھیر دے، برے اخلاق کو ہم سے تو ہی پھیر سکتا ہے۔
اے اللہ درود نازل فرما محمدﷺ ، آپﷺ کی بیویوں اور ذریت پر جیسا کہ تو نے آل ابراہیم علیہ السلام پر درود بھیجا اور برکتیں نازل فرما محمدﷺ ، آپ ﷺکی بیویوں اور ذریت پر جیسا کہ تو نے آل ابراہیم پر برکتیں نازل فرمائیں۔
اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا کر۔ اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا کر۔
اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا کر، دین کی حفاظت فرما، اس ملک کو اور مسلمانوں کے بقیہ تمام ملکوں کو پر امن و پرسکون اور خوش حال و فارغ البال بنا۔ یاحی یا قیوم، ہم تیری رحمت سے تیری مدد مانگتے ہیں، ہمارے سارے معاملات درست کر دے اور ہمیں پلک جھپکنے پر ہمارے حوالے نہ کر۔
اے اللہ! ہمارے مصیبت زدہ لوگوں کی مصیبت دور کر ، پریشان حال لوگوں کی پریشانی ختم کر ، قرض داروں کے قرض ادا کر ، ہمارے اور مسلمانوں کے مریضوں کو شفادے، اے اللہ ہر جگہ مسلمانوں کے احوال درست کر اپنی رحمت سے اے ارحم الراحمین۔
اے اللہ! جو ہمارے بارے میں، ہمارے ملک کے بارے میں ، ہمارے امن و امان کے بارے میں اور ہمارے نوجوانوں کے بارے میں برائی کا ارادہ کرے اسے خود ہی میں الجھادے اور اس کے مکر کو اسی کی گردن میں لوٹا دے اپنی قوت و طاقت سے اسے قوی و عزیز۔
بلا شبہ تو قابل حمد وثنا اور صاحب شوکت ہے اور اے اللہ! تو راضی ہو جاہدایت یافتہ ائمہ اور خلفائے راشدین ابو بکر، عمر، عثمان، علی اور بقیہ سارے صحابہ سے اور تا قیامت ان سے جو درست طریقے سے ان کی پیروی کریں۔ اور ہم سے بھی اپنے عفو و کرم اور جو دو سخا سے راضی ہو جا اے ارحم الراحمین۔
اے اللہ! اے جی و قیوم ! خادم حرمین شریفین کو اپنی مرضی اور منشا کے مطابق چلنے کی توفیق دے اور انہیں تقوی کی راہ پر چلا ۔
اے اللہ !خادم حرمین شریفین اور آپ کے امین ولی عہد اور ان کے اعوان و انصار کو اس بات کی توفیق دے جس میں اسلام اور مسلمانوں کی بھلائی ہو۔
اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کی خدمت پر انہیں بھلائیوں کا بدلہ دے۔ اے اللہ! تو تمام مسلم سر بر اہوں کو اس کی توفیق دے جو تو چاہتا ہے اور جس سے تو راضی ہوتا ہے۔
اے اللہ امت کے جوانوں اور دوشیزاؤں کو گمراہ فرقوں اور منحرف راستوں سے بچا، اے اللہ انہیں گروہ بندی اور حزبیت سے بچا اور انہیں اعتدال و میانہ روی کی توفیق دے۔
اے اللہ ان سے ان کے وطن اور قوم کو فائدہ پہنچا، ان کے لیے ایمان کو محبوب کر اور کفر و فسوق اور نافرمانی کو مبغوض کر اور انہیں راشدین میں سے بنا۔
اے اللہ ہمارے گناہوں کو بخش دے ، ہمارے عیبوں پر پردہ ڈال، ہمارے معاملات کو آسان کر اور ہماری ان آرزوؤں کو پورا کر جن سے تیری رضا حاصل ہو۔
اے اللہ ہمیں بخش دے، ہمارے والدین کو بخش دے، ہماری بیویوں کو بخش دے اور ہماری ذریتوں کو بخش دے۔ بلاشبہ تو دعا کو سننے والا ہے۔
اے اللہ تو ہم سے قبول کر تو سننے والا ہے اور ہماری توبہ قبول کر کہ بلاشبہ تو توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔
اے ہمارے پروردگار! ہمیں دنیا میں (بھی) بھلائی عطا فرما اور آخرت میں (بھی) بھلائی سے نواز اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھ۔ پاک ہے آپ کا رب جو بہت بڑی عزت والا ہے ہر اس چیز سے (جو مشرک) بیان کرتے ہیں، پیغمبروں پر سلام ہے اور سب طرح کی تعریف اللہ کے لئے ہے جو سارے جہان کا رب ہے۔
خطبة الجمعة مسجدالحرام: فضیلة الشیخ ڈاکٹر ماھر المعیقلی حفظه اللہ
05 رجب 1444 ھ بمطابق 27 جنوری 2023