شریعت میں بچوں کے درمیان برابری (عدل) کا کیا تصور ہے؟کیا والدین کا کسی ایک بچے سے دلی طور پر زیادہ محبت کرنا گناہ ہے؟کیا دلی محبت کی بنیاد پر کسی بچے کو ظاہری تحائف یا جائیداد میں فوقیت دی جا سکتی ہے؟بچوں کے درمیان تحائف (گفٹ/ہبہ) کی تقسیم کا شرعی اصول کیا ہے؟کیا اولاد کی ضروریات (تعلیم، صحت، علاج) میں بھی سب کو برابر حصہ دینا ضروری ہے یا ضرورت کے مطابق خرچ کیا جائے گا؟کیا بیٹی کی شادی پر ہونے والے اخراجات یا جہیز کی بنیاد پر اسے وراثت سے محروم کیا جا سکتا ہے؟
اسی سے متعلقہ
اتباعِ سنت اور نفس کی پیروی
اتباعِ سنت اور نفس کی پیروی
موسم کی تبدیلی میں نصیحت
موسم سرما حقیقتاً مومن کے لیے ایک عظیم روحانی موقع ہوتا ہے، جو اس کے اعمال صالحہ اور عبادت میں...
روزِ برحق
پہلا خطبہ: تمام تعریفیں اُس اللہ رب العالمین کے لئے ہیں جو قیاُمت کے دن سب کو جمع کرنے والا ہےاور...
غزوہ خندق اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی استقامت اور حکمت عملی
اس غزوے کے دوران مسلمانوں کو کن کٹھن حالات کا سامنا کرنا پڑا؟ یہودی قبیلے “بنو قریظہ”...
انسان کی قدر و منزلت
پہلا خطبہ: ہر قسم کی تریف اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے لئے ہے جس نے اپنی قدرت سے زمین و آسمان کو...
اسلام: مکمل ضابطہ حیات
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو قرآن و سنت کی روشنی میں ہمیں زندگی کے ہر پہلو کی رہنمائی فراہم...
مصنف/ مقرر کے بارے میں
الشیخ عبداللہ شمیم حفظہ اللہ
آپ نے کراچی کے معروف دینی ادارہ المعہد السلفی سے علوم اسلامی کی تعلیم حاصل کی اورالشھادۃ العالیہ کی سند حاصل کی، بعد ازاں اسی ادارہ میں بحیثیت مدرس خدمات دین میں مصروف ہیں، آپ نے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں گریجویشن کیا، اب دعوت کی نشر و اشاعت کے حوالےسے سرگرم عمل ہیں اور المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر کراچی میں سینئر ریسرچ اسکالر اور الھجرہ آن لائن انسٹیٹیوٹ میں بحیثیت مدرس کام کررہے ہیں۔
