خطبہ اول:
یقیناً تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، وہ اکیلا اور بے نیاز ہے، اس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا ہے، اور نہ ہی کوئی اس کا ہمسر ہے۔ اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں، وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ پیدا کرنا اور حکم دینا اسی کا کام ہے، نفع و نقصان اسی کے ہاتھ میں ہے، اس کے ہم مثل کوئی چیز نہیں اور وہ سننے والا، دیکھنے والا ہے۔
اور کامل و مکمل ترین درود و سلام ہو ہمارے نبی اور سردار محمد پر جو بشارت دینے والے، ڈرانے والے اور روشن چراغ ہیں۔
اما بعد!
اللہ کے بندو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اس سے ڈرو، اس کا خوف رکھو، اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَخْشَ اللَّهَ وَيَتَّقْهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ1
اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا، اور اللہ سے ڈرے گا، اور اس کا خوف رکھے گا، تو ایسے ہی لوگ کامیاب ہیں۔
مسلمانو! بے شک انسان کو اس طرح پیدا کیا گیا ہے کہ وہ اچھی زندگی کا خواہشمند، سکون کا طلبگار اور خوشی کا متلاشی رہتا ہے۔ اور یہ اسے اس وقت حاصل ہوتا ہے جب وہ اپنے رب کا ایسا بندہ بن جائے جس کی عبادت میں اللہ کی کامل محبت، اس کے سامنے عاجزی اور اس کے حکم کی فرمانبرداری اکٹھا ہو، تاکہ جن و انس کی تخلیق کے پیچھے اللہ کا مقصد پورا ہو جائے،
جیسا کہ اس کا فرمان ہے:
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ2
اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اسی لیے پیدا کیا کہ وہ میری عبادت کریں۔
پھر بندہ اس وقت تک عبادت گزار نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے رب کو نہ پہچان لے۔ چنانچہ جو شخص اپنے رب کو جتنا زیادہ پہچانتا ہے، وہ اس کا اتنا ہی زیادہ عبادت گزار بن جاتا ہے۔ اسی لیے اللہ نے رسول بھیجے اور ان پر کتابیں نازل فرمائیں، تاکہ مخلوق کو ان کے رب اور مالک کی پہچان کرائی جا سکے، وہ پہچان جو تمام پہچان سے افضل، بلند ترین، سب سے زیادہ معزز اور اعلیٰ ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی معرفت اسلام کی بنیاد اور ایمان کا ستون ہے۔ اور اس معرفت کا سب سے بڑا دروازہ اللہ کے اسماء و صفات اور افعال کی پہچان ہے۔ یہ ایسا دروازہ ہے جو داخل ہونے والے بندے کو اپنے مالک کی محبت، اس کی تعظیم اور اس کے سامنے عاجزی تک لے جاتا ہے۔ اور بندہ اپنے رب کی معرفت میں جتنا آگے بڑھتا ہے، اپنے رب کے لیے اس کی محبت بھی اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے۔ اللہ سے سب سے زیادہ محبت رکھنے والے بندے وہ ہیں جو اس کے اسمائے حسنیٰ اور اعلیٰ صفات کو سب سے زیادہ جانتے ہیں، اسی لیے اللہ کے رسولوں کو سب سے زیادہ اللہ کی محبت حاصل تھی، اور ان میں سے دو خلیل علیہما السلام سب سے زیادہ اللہ سے محبت کرنے والے تھے۔
اللہ کے بندو! اللہ کی معرفت سے نفوس کامل اور پاکیزہ ہوتے ہیں، روحیں لطف اندوز اور بہرہ ور ہوتی ہیں اور بلند ہوتی ہیں، اور اس کی معرفت سے بندہ احسان کے مقام تک پہنچ جاتا ہے، چنانچہ وہ اپنے مالک کی عبادت اس طرح کرتا ہے گویا وہ اسے دیکھ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اپنی معرفت ان چیزوں کے ذریعے کرائی ہے جو کچھ اس نے اپنی محکم کتاب میں اپنی مقدس ذات کے بارے میں بتایا، جو کچھ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے اسماء و صفات اور افعال کے بارے میں بتایا، جو کچھ اس نے آسمانوں اور زمین میں پیدا کیا اور جو کچھ اس نے ان دونوں میں عظیم اور حیرت انگیز قدرتی نشانیاں رکھی ہیں، اسی طرح اپنے ظاہری و باطنی مکمل انعامات کے ذریعے بھی اللہ نے اپنے بندوں کو اپنی معرفت کرائی ہے۔
یہ سب اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کے لیے سب سے اچھے اور پیارے نام ہیں، اس کے لیے کامل اور اعلیٰ صفات ہیں، اور ایسے افعال ہیں جو رحمت، مصلحت، حکمت اور عدل میں انتہا کو پہنچے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے وہ اس بات کا مستحق ہے کہ آخرت اور دنیا میں اس کی حمد کی جائے، زمین اور بلند آسمانوں میں اس کی تعریف کی جائے، ایسی حمد و ثناء جو اس کی کامل محبت کو واجب کرتی ہو، کیونکہ وہ ذکر کا سب سے زیادہ مستحق ہے، حمد کا سب سے زیادہ حقدار ہے، اور عبادت کے لیے سب سے زیادہ لائق ہے۔
وہ جو اپنی مقدس ذات کے بارے میں فرماتا ہے:
وَلَهُ الْكِبْرِيَاءُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ3
اور اسی کے لیے آسمانوں اور زمین میں سب بڑائی ہے اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
یعنی وہ اپنی ذات اور اپنے اسماء و صفات میں عظیم ترین کمال پر ہے۔ اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو اپنی بلند ذات کی معرفت کراتے ہوئے اور توحیدِ ربوبیت کی طرف راہنمائی کرتے ہوئے فرمایا:
اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ وَلَهُ الْكِبْرِيَاءُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ4
اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اسی کے لیے سب سے اچھے نام ہیں۔
یعنی ایسے نام جو اچھائی میں انتہا کو پہنچے ہوئے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے اسماء تمام ناموں میں سب سے بہتر ہیں، ان کا دلوں اور کانوں پر بہت اچھا اور عظیم اثر ہے۔ کیونکہ یہ حمد، تعظیم اور تعریف کی صفات پر دلالت کرتے ہیں۔ ان میں سے ہر نام ایسی صفاتِ کمال پر دلالت کرتا ہے جس میں کوئی کمی نہیں۔ اسی وجہ سے انہیں ”حسنیٰ“ کہا جاتا ہے۔
اللہ نے ان ناموں سے خود کو موسوم کیا ہے اور انہیں اپنے بندوں پر ظاہر کیا ہے تاکہ وہ انہیں پہچانیں، ان کے معانی پر غور کریں، اور ان کے ذریعے اللہ کا ذکر کریں اور اس کی عبادت کریں۔
اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو اپنے ناموں اور صفات کی معرفت حاصل کرنے کی دعوت دیتے ہوئے اور انہیں توحیدِ الوہیت کی طرف راہنمائی کرتے ہوئے فرمایا:
وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ فَادْعُوهُ بِهَا5
اور سب سے اچھے نام اللہ ہی کے ہیں، سو اسے ان کے ساتھ پکارو۔
یعنی تعریف و ثناء اور عبادت والی دعا میں اسے ان ناموں سے پگارو، ان پر اس کی حمد بیان کرو، ان کے ذریعے اس کا ذکر کرو، اور اس کی ثناء کرو۔ اور طلب والی دعا میں ان ناموں کا ذکر کرکے اپنی حاجتوں کی تکمیل کرو، اور ان کے ذریعے اللہ سے اس کے فضل کا سوال کرو۔
مسلمانو! اللہ کے اسمائے حسنیٰ بہت زیادہ ہیں، اللہ کے سوا کوئی ان کی تعداد کو نہیں جانتا
، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے ثابت ہے:
اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ، سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ6
میں تجھ سے تیرے ہر اس نام کے وسیلے سے سوال کرتا ہوں جس سے تو نے خود کو موسوم کیا ہے، یا جسے تو نے اپنی کتاب میں نازل کیا ہے، یا جو تو نے اپنے علمِ غیب میں اپنے پاس محفوظ رکھا ہے۔
اور حق تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اپنے بعض ناموں کی معرفت عطا کی ہے اور جو ان ناموں کے ذریعے ان کی عبادت کرے اس کے لیے جنت کو اس کی جزا قرار دی ہے،
جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
لِلَّهِ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ اسْمًا، مِائَةٌ إِلَّا وَاحِدًا، لاَ يَحْفَظُهَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَ الجَنَّةَ7
اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں، ایک کم سو، جو شخص بھی انہیں یاد کرلے گا جنت میں جائے گا۔
یہ ننانوے نام اللہ جل جلالہ کے مشہور ترین نام ہیں اور ان کے معانی سب سے زیادہ واضح اور ظاہر ہیں۔ ان کا شمار کرنا یہ ہے کہ ان کے الفاظ کا احاطہ کیا جائے، ان کے معانی کو سمجھا جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق اللہ کی عبادت کی جائے، یعنی اللہ کی تعظیم و تقدیس کی جائے، اس کے حکم پر عمل کیا جائے، اور ان ناموں کے ذریعے اس سے دعا کی جائے۔
ان اسمائے حسنیٰ میں سے پانچ بنیادی نام ایسے ہیں جو سورہ فاتحہ میں مذکور ہیں، اللہ تعالیٰ کے تمام نام انہی کی طرف لوٹتے ہیں۔
پہلا نام لفظِ جلالہ ”اللہ“ ہے، اور یہ اللہ کا سب سے بڑا نام ہے جو تمام اسمائے حسنیٰ اور اعلیٰ صفات کے معانی کا جامع ہے۔ اس کا معنی ہے: وہ معبود و الہ جو اپنی تمام مخلوقات پر الوہیت اور عبودیت کا حق رکھتا ہے، جس کی تمام مخلوق محبت، تعظیم اور عاجزی کے ساتھ عبادت کرتی ہے۔ اللہ نے اپنی تمام مخلوق کو اس بات سے منع کر دیا ہے کہ وہ اس نام سے خود کو موسوم کریں یا اس کے سوا کسی اور کو اس نام سے پکارا جائے۔
اللہ نے اسے ایمان کی پہلی کڑی، اسلام کا ستون، حق اور اخلاص کا کلمہ قرار دیا ہے۔ اسی نام سے فرائض کا آغاز ہوتا ہے، قسمیں ثابت ہوتی ہیں، شیطان سے پناہ مانگی جاتی ہے، اور اسی نام سے چیزوں کا آغاز اور اختتام کیا جاتا ہے۔ اس کا نام بابرکت ہے، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔
دوسرا نام ”الرب“ یعنی جس کے لیے ربوبیت کے وہ تمام مفاہیم و معانی ہیں جن کی بنا پر وہ الوہیت کا مستحق اور تمام صفاتِ کمال اور تمام تعریفیں ہیں، اللہ کی تمام مخلوق اس کی ربوبیت کے تحت اس کے قابو میں اور اس کے جلال و عظمت کے آگے سرنگوں ہے، وہ مالک ہے، کامل تدبیر کرنے والا ہے، اپنے بندوں کی طرح طرح کی نعمتوں اور احسانات میں پرورش کرنے والا ہے، اور اپنے اولیاء اور برگزیدہ بندوں کو ان کے دلوں، روحوں اور اخلاق کی اصلاح کے ذریعے تربیت کرنے والا ہے۔
تیسرا اور چوتھا نام ہے ”الرحمٰن الرحیم“ جس کی رحمت عام ہے، جو رحمت تمام مخلوقات کی روزی، زندگی کے اسباب اور مفاد کو شامل ہے، اسی رحمت سے وہ ان کے معاملات کی تدبیر کرتا ہے، انہیں نفع بخش علم دیتا ہے، اس نے اپنی اسی رحمت سے ان کی طرف رسول بھیجے اور اسی رحمت سے ان کے لیے شریعتیں مقرر کیں،
جیسا کہ ارشاد ہے:
الرَّحْمَٰنُ ٘ عَلَّمَ الْقُرْآنَ٘ خَلَقَ الْإِنسَانَ٘ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ8
رحمٰن نے قرآن سکھایا، انسان کو پیدا کیا، اسے بولنا سکھایا۔
اللہ نے اس نام کو اپنے سب سے بڑے نام کے برابر رکھا ہے،
جیسا کہ اس کا فرمان ہے:
قُلِ ادْعُوا اللَّهَ أَوِ ادْعُوا الرَّحْمَٰنَ ۖ أَيًّا مَّا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ ۚ9
کہہ دے اللہ کو پکارو، یا رحمان کو پکارو، تم جس کو بھی پکارو گے سو یہ بہترین نام اسی کے ہیں۔
اللہ نے اس نام کو اپنی ذات کے ساتھ مختص کیا ہے اور اپنے بندوں پر اس نام کو رکھنے کو حرام قرار دیا ہے۔ اور وہ ”رحیم“ ہے جو دنیا اور آخرت میں مومنین اور اپنے متقی اولیاء کے ساتھ خاص رحمت والا ہے،
جیسا کہ وہ فرماتا ہے:
وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا10
اور وہ مومنین پر بہت مہربان ہے۔
اسی رحمت سے اس نے انہیں اپنی عبادت کی ہدایت دی اور اپنی اطاعت کے لیے خاص کیا۔ اور اسی رحمت سے انہیں اس جنت میں داخل کرے گا جو کہ اس کی رحمت ہی ہے،
جیسا کہ اس کا فرمان ہے:
وَأَمَّا الَّذِينَ ابْيَضَّتْ وُجُوهُهُمْ فَفِي رَحْمَةِ اللَّهِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ11
اور سفید چہرے والے اللہ تعالیٰ کی رحمت میں داخل ہوں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
اور حدیث قدسی میں فرمایا:
الِهَذِهِ أَنْتِ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ12
بے شک تو جنت میری رحمت ہے، اس کے ذریعے میں جس پر چاہوں گا رحم کروں گا۔
پانچواں نام ہے ”مالک“ یعنی وہ جو روزِ جزا کا مالک ہے، جو طاقتور بادشاہ ہے، جس کے لیے آسمانوں، زمین اور ان کی تمام چیزوں کی بادشاہت ہے، تدبیر، امر و نہی اور جزا کے اعتبار سے اسے دنیا اور آخرت میں مطلق بادشاہی حاصل ہے۔ دنیا میں موجود تمام لوگ اس کے بندے اور غلام ہیں۔ اس کے لیے بادشاہی کے وہ تمام معانی و مفاہیم ہیں جن کی بنا پر وہ ان اسمائے حسنیٰ کا مستحق ہے، جیسے: المھیمن، العزیز، الجبار، المتکبر، العظیم، الجلیل، الکبیر، الخافض، الرافع، المعز، المذل، الحکم، العدل، المتعال۔
مومن اور مسلم بھائیو! اللہ جل شانہ کو اپنے اسماء و صفات محبوب ہیں اور وہ اس شخص سے محبت کرتا ہے جو ان سے محبت کرے، ان کے ذکر سے اپنی زبان کو تر رکھے، اور ان کے ذریعے اللہ کی حمد و ثناء بیان کرے،
جیسا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے:
أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا عَلَى سَرِيَّةٍ وَكَانَ يَقْرَأُ لِأَصْحَابِهِ فِي صَلَاتِهِمْ فَيَخْتِمُ بِقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَلَمَّا رَجَعُوا ذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ سَلُوهُ لِأَيِّ شَيْءٍ يَصْنَعُ ذَلِكَ فَسَأَلُوهُ فَقَالَ لِأَنَّهَا صِفَةُ الرَّحْمَنِ وَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَقْرَأَ بِهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبِرُوهُ أَنَّ اللَّهَ يُحِبُّهُ13
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو ایک سریہ یعنی جنگ میں بھیجا، وہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتا تھا تو اپنی نماز کو {قل ھو اللہ احد} پڑھ کر ختم کرتا، جب وہ لوگ واپس آئے تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے پوچھو کہ وہ ایسا کیوں کرتا ہے؟“ لوگوں نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا: ”کیونکہ یہ سورہ رحمٰن کی صفت ہے اور میں اسے پڑھنا پسند کرتا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے بتا دو کہ اللہ اس سے محبت کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو اپنی روشن کتاب کے طریقے اور اپنے امانت دار نبی کی سنت سے نفع پہنچائے، میں اپنی یہ بات کہتا ہوں اور اپنے لیے اور آپ سب کے لیے اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں۔
خطبہ ثانی:
ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے جو اس نے اپنی کتاب میں اپنے لیے کی، اور درود و سلام نازل ہو ہمارے نبی محمد اور ان کے آل و اصحاب پر۔
اما بعد!
اے اللہ کے بندو! جو اللہ کے اچھے ناموں اور عظیم و بلند صفات کی معرفت پر لگا، اسے جلد خوشی حاصل ہوئی، اس کے دل کے لیے نعمت پوری ہوئی، اللہ کی طرف چلنے والوں میں اس کا مرتبہ بلند ہوا، اس کے نزدیک اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ذات سے بڑھ کر کوئی چیز محبوب نہیں ہوگی اور اللہ کے سوا کسی چیز میں اس کی کوئی رغبت نہیں ہوگی سوائے اس چیز کے جو اسے اللہ سے قریب کرے۔ اور بندہ اس معرفت کو اس کتابِ حکیم کی آیتوں میں پانے والا ہے کہ جس پر کوئی تدبر و تامل سے کام لے، اس کے معانی پر غور کرے، تو وہ ایسا رب پائے گا جس میں کمال کی صفتیں اور جلال کی نعمتیں مجتمع ہیں۔ پھر بندہ اللہ سے محبت، اس کی تعظیم، اس کی ہیبت اور اس کی عظمت کے سامنے جھکنے میں اس معرفت کے پھل کا مزہ چکھے گا، کہ اس کی رحمت، احسان، مہربانی، نوازش کی صفتیں دلوں میں امید کی قوت مہمیز کرتی ہیں، یوں بندہ عمل میں محنت کرتا ہے، حسنِ ظن سے کام لیتا ہے اور امید مضبوط کرتا ہے۔
عدل، انتقام، ناراضی، غضب اور سزا کی صفتیں اللہ سے خوف کی قوت کو مہمیز کرتی ہیں اور اللہ کی تدبیر سے دلوں سے امن کو نکالتی ہیں اور نفسِ امارہ کو دباتی ہیں، اس طرح شہوت و غضب کی قوت، لہو و لعب اور محرمات انجام دینے کی حرص کم پڑتی ہے۔ امر و نہی، رسولوں کا بھیجنا اور کتابوں کا نازل کرنا، یہ صفتیں حکم کی بجا آوری، نہی سے اجتناب، حق کی باہم وصیت اور اخبار کی تصدیق کی قوت کو مہمیز کرتی ہیں۔ اور علم، سننے، دیکھنے، نگرانی کرنے، احاطہ کرنے اور شہادت کی صفتیں اللہ کے لیے اخلاص، اللہ سے ڈر و خوف کی قوت کو مہمیز کرتی ہیں۔ اور رزق، کفایت، کافی ہونا، حفظ، نصرت اور ولایت کی صفتیں اللہ کے لیے محبت، اس پر اعتماد، اس پر توکل اور اس سے حسنِ ظن کا باعث ہوتی ہیں۔ اور غلبہ و کبریا کی صفتیں اللہ کے سامنے جھکنے، اس کی عظمت کے سامنے پست ہونے، اس کی عزت کے آگے منکسر ہونے، اس کی بڑائی کے آگے جھکنے، اور دل و جوارح کا اس کے لیے خشوع اختیار کرنے کا باعث ہوتی ہیں۔
اے اللہ! ہم تجھ سے تیرے اچھے اچھے ناموں اور صفات کے واسطے سے تیری معرفت کی نعمت مانگتے ہیں، تجھ سے وابستہ ہونے پر آنکھوں کی ٹھنڈک مانگتے ہیں، تیرے فضل و رحمت سے تیرے وجہِ کریم کو دیکھنے کی لذت اور تجھ سے ملنے کا شوق طلب کرتے ہیں۔
مسلمانو! سب سے افضل چیز جس سے تم اس مبارک دن اپنے رب کا تقرب حاصل کرو، وہ یہ ہے کہ ہمارے نبی امام المتقین و سید الاولین والآخرین محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر خوب درود و سلام بھیجو۔
اے اللہ! درود و سلام نازل فرما آپ پر، آپ کے پاکیزہ مکرم اہلِ خانہ پر، اور اے اللہ! تو راضی ہو جا خلفاء اربعہ ابوبکر، عمر، عثمان اور علی سے، اور بقیہ تمام نیکوکار صحابہ کرام سے۔ اور ہم سے درگزر فرما، ہمیں اور ہمارے والدین کو بخش دے، اور تو اپنی رحمت سے ہمیں صالحین سے ملا۔
اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا کر، شرک اور مشرکین کو ذلیل کر، تو اپنے دشمنوں، دین کے دشمنوں کو تباہ کر۔
اے اللہ! فلسطین میں ہمارے کمزور بھائیوں کی مدد کر۔ اے اللہ! تو ان کی اپنے دشمنوں اور ان کے دشمنوں پر مدد کر، اے سب سے بہتر مدد کرنے والے۔
اے اللہ! ہمارے ملک کو اور مسلمانوں کے ملکوں کو سازش کرنے والوں کی سازش اور سرکشوں کی سرکشی سے محفوظ رکھ۔
اے اللہ! ہمیں اپنے وطنوں اور ملکوں میں امن سے نواز، ہمارے لشکروں کی مدد کر، ہمارے دشمنوں کو رسوا کر۔
اے اللہ! اس ملک کو پرامن، پرسکون اور خوشحال و فارغ البال بنا۔ اور اے اللہ! جو ہمارے ملک کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے، اس پر برائی لوٹا۔ اے اللہ! ان کے مکر کو ان کی ہی گردن میں لوٹا، ان کے شر سے ہمیں محفوظ رکھ، ان کی سازش کو ان کی تباہی بنا دے، اے معبودِ حقیقی، اے قوی و عزیز۔
اے اللہ! ہمارے سربراہ خادم حرمین شریفین اور ان کے ولی عہد کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! انہیں تو اس بات کی توفیق دے جس سے تو راضی ہو اور جو تیری منشاء کے مطابق ہو۔ اور اے ذوالجلال والاکرام! ان دونوں کی اس پر مدد فرما جس میں ملک اور لوگوں کی بھلائی ہو اور جس میں اسلام کا غلبہ ہو اور مسلمانوں کی مدد ہو۔
اے اللہ کے بندو! اللہ نے جو تمہیں ہدایت دی ہے اس پر اسے یاد کرو، اس نے جو نعمتیں دی ہیں اس پر اس کا شکر بجا لاؤ۔ اللہ کا ذکر سب سے بڑا ہے، اور اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔
خطبہ جمعہ: مسجد النبوی
خطیب:فضلیۃ الشیخ خالد بن سلیمان المہنا حفظہ اللہ
تاریخ: 22 شوال 1447ھ / 10 اپریل 2026ء
___________________________________________________________________________
