اعلی اخلاقی اقدار کی فضیلت اور اہمیت

پہلا خطبہ :

ڈھیروں، پاکیزہ، اور بابرکت تعریفیں اللہ کے لئے ہیں ، جیسے ہمارے پروردگار کو پسند ہوں اور جن سے وہ راضی ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، دنیا اور آخرت میں اس کا کوئی شریک نہیں وہی اعلی اور بلند و بالا ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اللہ کے بندے اور اس کے چنیدہ رسول ہیں، یا اللہ! اُن پر، اُن کی آل، اور تمام متقی صحابہ کرام پر رحمتیں، سلامتی، اور برکتیں نازل فرما۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

مسلمانو! میں تمام سامعین اور اپنے آپ کو تقوی الہی اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں؛ اللہ تعالی سے ڈرنے والوں کو اللہ تعالی سعادت مند بنا کر انہیں راضی کر دیتا ہے۔

مسلمانو!

اعلی اخلاق انسان کی کامیابی اور کامرانی کا ذریعہ ہے، خیر و بھلائی حاصل کرنے کیلیے حسن اخلاق اور اعلی کردار کا کوئی ثانی نہیں۔ اعلی اخلاقیات اور بہترین کردار اپنانے کی ترغیب میں کتاب و سنت میں بہت زیادہ نصوص ہیں ۔ افضل المخلوقات ﷺ کی جن صفات کو اللہ تعالی نے ذکر فرمایا ہے ان میں اعلی اخلاق سر فہرست ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:

وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ

القلم – 4

 اور بیشک آپ عظیم اخلاق پر فائز ہیں۔

اسی طرح رسول اللہ ﷺ اپنی ساری تبلیغ کوزے میں بند کرتے ہوئے فرمایا: (بیشک مجھے اعلی اخلاقیات کی تکمیل کیلیے بھیجا گیا ہے) احمد، مالک، اور دیگر اہل علم کے ہاں یہ روایت صحیح ہے۔

آپ ﷺ نے تمام لوگوں کو بالکل واضح لفظوں میں حسن اخلاق اپنانے کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا: (جہاں بھی رہو اللہ سے ڈرو، گناہ ہو جائے تو نیکی کرو یہ گناہ کو مٹا دے گی، اور لوگوں کے ساتھ حسن خلق سے پیش آؤ) احمد اور ترمذی نے اسے روایت کیا ، اور ترمذی نے اسے حسن صحیح قرار دیا۔

حسن اخلاق انسان کو پروردگار کے قریب کر دینے والی خصلت ہے، اس سے انسان کے درجات بلند ہوتے ہیں اور نیکیوں میں اضافہ ہوتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:

اِدْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ(34) وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ

فصلت – 34/35

 برائی کو بھلائی سے ختم کرو تو وہی جس کے ساتھ تمہاری دشمنی ہے ایسا ہو جائے گا جیسے کوئی دلی دوست ہو۔[34] اور یہ سلیقہ انہیں کو ملتا ہے جو صبر کرتے ہیں اور یہ بڑے نصیب والے ہی حاصل کر پاتے ہیں۔

آپ ﷺ کا فرمان ہے: (تم میں سے بہترین وہ ہے جس کا اخلاق اچھا ہے) بخاری، مسلم

اسی طرح آپ ﷺ نے حسن خلق پر عظیم اجر اور مقام و مرتبہ ملنے کی بھی خوش خبری دی، چنانچہ آپ ﷺ کا فرمان ہے : (مومنین میں سے کامل ترین ایمان کا حامل وہ شخص ہے جس کا اخلاق اچھا ہے، تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنی عورتوں کیلیے اچھا ہے) امام احمد نے اسے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے، جبکہ ترمذی اسے روایت کر کے حسن صحیح قرار دیا ہے۔

آپ ﷺ حسن خلق کا درجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: (بیشک مومن اپنے حسن اخلاق کی بدولت روزے دار اور قیام کرنے والے کا درجہ پا لیتا ہے) ابو داود نے اسے روایت کیا ہے اور ابن حبان و دیگر محققین نے اسے صحیح کہا ہے۔

اہل ایمان!

اچھے اخلاق کا مالک انسان بلند و بالا درجات کا حقدار ہو گا، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (بیشک قیامت کے دن میرے ہاں محبوب ترین اور میری سب سے زیادہ قربت کا حقدار وہ ہو گا جس کا اخلاق سب سے اچھا ہو گا۔)ترمذی نے اسے روایت کر کے حسن غریب قرار دیا ہے اور منذری نے اسے ترغیب و ترہیب میں ذکر کیا ہے۔

آپ ﷺ سے ایک بار یہ بھی پوچھا گیا کہ کس چیز کی وجہ سے سب سے زیادہ لوگ جنت میں جائیں گے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: (اللہ کا تقوی اور حسن اخلاق) ترمذی نے اسے روایت کر کے صحیح اور غریب قرار دیا ہے، ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔

اچھے اخلاق کا اسلام میں بہت بلند مقام ہے، چنانچہ پروردگار کا فرمان ہے کہ:

وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ

الشعراء – 215

 اور ایمان لانے والوں میں سے جو آپ کی اتباع کریں ان سے تواضع سے پیش آئیے۔

اور آپ ﷺ کا فرمان ہے: (قیامت کے دن مومن کے ترازو میں حسن خلق سے بڑھ کر کوئی چیز وزنی نہیں ہو گی)ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے، اور صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ نبی ﷺ نے نیکی کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: (نیکی حسن اخلاق کا نام ہے)

اسلامی بھائیوں!

جب یہ بات واضح ہو گئی تو حسن اخلاق میں وہ تمام عملی اور قولی قدریں شامل ہیں جو شرعی اور فطری ہر اعتبار سے زندگی کے تمام گوشوں میں پسندیدہ ہیں۔

حسن خلق یہ ہے کہ کتاب و سنت میں ذکر ہونے والے تمام شرعی آداب کا خیال کریں، گفتار، کردار، چال چلن اور تمام طور طریقے انہی آداب کے تابع ہوں۔

ہر ایسا رویہ حسن خلق ہے جس سے انسان کے دوست زیادہ ہوں اور دشمن کم ہوتے جائیں، جس سے مشکل کام آسان ہو جائیں، سنگ دل موم بن جائے، لہذا حسن خلق کا مالک شخص ہر وقت سراپا نرم خو، حسن کارکردگی، اور ہمہ قسم کی اچھی خوبیوں سے مزین ہوتا ہے۔

آپ ﷺ کا فرمان ہے: (تم کسی بھی نیکی کو حقیر مت سمجھو چاہے تم اپنے بھائی سے خندہ پیشانی کے ساتھ ہی کیوں نہ ملو) مسلم

اور بطور مثال اخلاقیات میں یہ شامل ہے کہ: انسان ہشاش بشاش چہرے کے ساتھ ہر کسی سے ملے، دوسروں کے کام آئے، کسی کو تکلیف نہ دے، دوسروں سے ملنے والی تکلیف ، دکھ اور اذیت برداشت کرے۔

اسی طرح اپنا غصہ پی جائے، فضولیات سے بچے، دوسروں کو ڈانٹ ڈپٹ ، لڑائی جھگڑے اور گالم گلوچ سے دور رکھے۔

حسن خلق کا مطلب یہ ہے کہ: انسان دوسروں کا خدمت گزار ہو، سب پر شفقت کرے، جود و سخا کا پیکر ہو، دوسروں کے کام آئے، بخیلی اور لالچی طبیعت کا مالک نہ ہو، صبر شکر سے کام لے، حلم اور رضا سے مزین ہو، منکسر المزاج ہو، عفت، شفقت اور رحمدلی سے بھر پور ہو، طبیعت میں نرمی اور شگفتگی پائی جائے، بات چیت اور معاملات میں دھیمے مزاج کا حامل ہو، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا

لقمان – 18

لوگوں سے منہ پھیر کر بات مت کر اور نہ ہی زمین پر اکڑ کر چل۔[لقمان: 18]

لوگوں سے منہ پھیر کر بات مت کر اور نہ ہی زمین پر اکڑ کر چل۔

اور آپ ﷺ کا فرمان ہے: (کیا میں تمہیں ایسے شخص کے بارے میں نہ بتلاؤں جو آگ پر حرام ہے یا اس پر آگ حرام ہے؟ [یہ وہ شخص ہے] جو نرم مزاج ، ٹھنڈی طبیعت والا ہے اور گھل مل کر رہتا ہے )ترمذی نے اسے نقل کر کے حسن اور غریب قرار دیا ہے۔

حسن اخلاق میں یہ بھی شامل ہے کہ: شائستہ الفاظ کا چناؤ کیا جائے، اعلی سلوک کریں، لوگوں کے ساتھ نرمی برتیں، بیوقوفانہ امور اور ایسی تمام حرکتوں سے انسان باز رہے جو مناسب نہ ہوں، وہ شخص اعلی اخلاق کا مالک ہے جس کے عیب محفلوں میں ذکر نہ ہوں، کسی کو اس کی کسی غلطی کا علم نہ ہو، ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ: “میانہ روی، طبیعت میں ٹھہراؤ، اور با وقار شخصیت نبوت کے پچیس حصوں میں سے ایک ہے”۔

اعلی اخلاق کے مالک شخص کو آپ با وقار، حلیم مزاج، پر سکون اور طبیعت میں ٹھہراؤ والا پاؤ گے۔ اس میں عفت اور پاکدامنی بھری ہو گی، وہ اکھڑ مزاج اور لعن طعن کرنے والا نہیں ہو گا، وہ چیخنے اور چلانے کا کام نہیں کرے گا، وہ جلد باز اور بد گوئی کرنے والا نہیں ہو گا، لوگوں کے ساتھ انتہائی اعلی ظرفی سے پیش آئے گا، اس میں نیکی اور تقوی کوٹ کوٹ کر بھرا ہو گا، وہ صرف ایسے کام کرے گا جس کے نتائج اچھے برآمد ہوں۔

اعلی ترین اخلاقیات میں “حیا” بھی شامل ہے، جیسے کہ ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: “حیا کا اخلاقیات میں سب سے بڑا، اونچا اور اعلی مقام ہے”۔

بہترین اخلاقیات میں یہ امور بھی شامل ہیں: ایثار، پردہ پوشی، دوسروں کے کام آنا، مسکرا کر ملنا، غور سے بات سننا، مجلس میں دوسروں کو جگہ دینا، سلام عام کرنا، مردوں کا آپس میں ملتے ہوئے مصافحہ کرنا، کوئی آپ کے کام آئے تو اس کا بڑھ چڑھ کر بدلہ دینا، کوئی قسم ڈال دے تو اس کی قسم پوری کرنا، لا یعنی امور سے دور رہنا، حلم اور حکمت کے ذریعے جاہلوں سے بچنا۔ مسلمانوں میں سے بڑوں کو اپنے باپ کے مقام پر سمجھنا اور چھوٹوں کو بیٹوں جیسی شفقت دینا اور درمیانی عمر والوں کو بھائی سمجھنا۔ جیسے کہ کسی نے خوب کہا ہے:

يَرَى لِلْمُسْلِمِيْنَ عَلَيْهِ حَقًّا

كَفِعْلِ الْوَالِدِ الرَؤُوْفِ الرَّحِيْمِ

جیسے باپ شفقت اور رحمدلی کے ساتھ برتاؤ کرتا ہے  اسی برتاؤ کو وہ تمام مسلمانوں کا اپنے آپ پر حق سمجھتا ہے۔

ان تمام امور کو ایک اخلاقی اصول اور ضابطہ انتہائی مختصر سے جملے میں اپنے اندر سموئے ہوئے ہے، یہ ضابطہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی زبانی ارشاد فرمایا کہ: (تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا یہاں تک وہ اپنے بھائی کیلیے وہی کچھ پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے)

جو کچھ ہم نے سیکھا ہے اللہ تعالی اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں، اور اپنے سمیت تمام مسلمانوں کے لیے گناہوں کی بخشش اللہ تعالی سے مانگتا ہوں، آپ بھی اسی سے بخشش مانگیں، وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

میں اللہ تعالی کی پاکیزہ اور بابرکت الفاظ میں ڈھیروں حمد بیان کرتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں ، وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اُس کے بندے اور رسول ہیں۔ یا اللہ! ان پر ان کی آل اورصحابہ کرام پر رحمتیں، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔

مسلمانوں!

اے مسلم! اچھے اخلاق کے مالک بنو کہ آپ لوگوں کے ساتھ اور لوگ آپ کے ساتھ گھل مل کر رہیں، مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: (مومن لوگوں سے مانوس ہوتا ہے اور لوگ مومن سے مانوس ہوتے ہیں، اس شخص میں کوئی خیر نہیں جو خود بھی مانوس نہ ہو اور دوسرے اس سے مانوس نہ ہو سکیں)احمد، طبرانی اور بیہقی نے اسے روایت کیا ہے اور البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

اللہ کے بندو!

ہم سب کا یہ فرض بنتا ہے کہ ہم کسی بھی ایسے کام کے ذریعے اللہ کا قرب تلاش نہ کریں جس کے متعلق کتاب و سنت میں دلیل نہیں ہے، لہذا اگر کوئی شخص ماہ رجب میں کسی عبادت کو خاص کرتا ہے، تو اس کی شریعت میں کوئی دلیل نہیں ہے، یہ بات بہت سے محققین جیسے کہ ابن حجر، ابن رجب، نووی اور ابن تیمیہ وغیرہ نے صراحت کے ساتھ لکھی ہے۔

اور اللہ تعالی نے ہمیں نبی کریم ﷺ پر کثرت سے درود و سلام بھیجنے کا حکم دیا ہے، یا اللہ! ہمارے نبی اور حبیب محمد ﷺ پر ڈھیروں رحمتیں، برکتیں اور سلامتی نازل فرما۔ یا اللہ! خلفائے راشدین، اہل بیت ،صحابہ کرام اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں سے راضی ہو جا۔

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! شرک اور مشرکوں کو ذلیل و رسوا فرما۔

یا اللہ! جو بھی مسلمانوں کے بارے میں برے ارادے رکھے تو اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں، یا اللہ! اس کی مکاری اسی کی تباہی کا باعث بنا دے، یا رب العالمین! یا اللہ! جو بھی ہمارے بارے میں یا کسی بھی مسلمان کے بارے میں برے ارادے رکھے تو اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں، یا اللہ! اس کی مکاری اسی کی تباہی کا باعث بنا دے، یا اللہ! تباہی اور بربادی اس کا مقدر بنا دے، یا ذالجلال والا کرام!

یا اللہ! پوری دنیا میں مسلمانوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! پوری دنیا میں مسلمانوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! پوری دنیا میں مسلمانوں کی حفاظت فرما۔ یا اللہ! تمام مسلمانوں کی پریشانیاں ختم فرما دے، یا اللہ! تمام دکھ درد دھو ڈال، یا حیی! یا قیوم!

یا اللہ! تمام مسلمان بیماروں کو شفا یاب فرما، یا اللہ! تمام مسلمان بیماروں کو شفا یاب فرما، یا اللہ! تمام مسلمان بیماروں کو شفا یاب فرما۔

یا اللہ! تمام مسلمان اور مومن مرد و خواتین کی مغفرت فرما، زندہ اور فوت شدگان سب کی مغفرت فرما۔

یا اللہ! یا حیی! یا قیوم! یا اللہ! یا حیی! یا قیوم! یا ذالجلال والا کرام! پوری دنیا میں اپنے دین کو پھیلا دے، یا اللہ! پوری دنیا میں اپنے دین کو پھیلا دے، یا اللہ! پوری دنیا میں اپنے دین کو پھیلا دے۔ یا اللہ! اپنے کلمے کو بلند فرما، یا اللہ! اپنے کلمے کو بلند فرما، یا اللہ! اپنے کلمے کو بلند فرما، چاہے کافروں اور مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار کیوں نہ لگے۔ یا ذالجلال والا کرام! یا عزیز! یا حکیم!

یا اللہ! ہمارے حکمران کو تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! ہمارے حکمران اور ولی عہد کو تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما۔

یا اللہ! تمام اسلامی ممالک کو ہر قسم کی شر انگیزی سے محفوظ فرما، یا اللہ! مملکت حرمین کو ہر قسم کی شر انگیزی سے محفوظ فرما، یا اللہ! مملکت حرمین اور تمام اسلامی ممالک کو ہر قسم کے شر سے محفوظ فرما، یا حیی! یا قیوم! یا ذالجلال والا کرام!

یا اللہ! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی عطا فرما اور ہمیں آخرت میں آگ کے عذاب سے محفوظ فرما۔

یا اللہ! تو ہی غنی اور حمید ہے! یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما۔ یا اللہ! ہم پر بارش نازل فرما، یا اللہ! ہم پر بارش نازل فرما، یا اللہ! ہم پر بارش نازل فرما۔ یا اللہ! تمام مسلم خطوں میں بارشیں نازل فرما، یا اللہ! تمام مسلم خطوں میں بارشیں نازل فرما، یا اللہ! تمام مسلم خطوں میں بارشیں نازل فرما۔

یا اللہ! کمزور مسلمانوں پر رحم فرما، یا اللہ! مصیبت زدہ مسلمانوں کی مصیبت وا فرما، یا اللہ! کمزور مسلمانوں پر رحم فرما، یا اللہ! مصیبت زدہ مسلمانوں کی مصیبت وا فرما، یا اللہ! کمزور مسلمانوں پر رحم فرما، یا اللہ! مصیبت زدہ مسلمانوں کی مصیبت وا فرما، یا حیی! یا قیوم!

اللہ کے بندو!

اللہ کے بندو! اللہ کا ڈھیروں ذکر کرو، اور صبح و شام بھی اسی کی تسبیح بیان کرو ۔

 ترجمہ: شفقت الرحمن مغل

مصنف/ مقرر کے بارے میں

فضیلۃ الشیخ جسٹس حسین بن عبد العزیز آل الشیخ حفظہ اللہ

آپ مسجد نبوی کے امام و خطیب ہیں، شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ کے خاندان سے ہیں، بنو تمیم سے تعلق ہے، آپ نے جامعہ محمد بن سعود الاسلامیہ سے ماجستیر کی ڈگری حاصل کی ، پھر مسجد نبوی میں امام متعین ہوئے اور ساتھ ساتھ مدینہ منورہ میں جج کے فرائض بھی ادا کررہے ہیں۔