پریشانیوں سے محفوظ گھر! مگر کیسے؟
اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہمیں بہت سی ذمہ داریوں کا پابند بنایا ہے، ان میں ایک نہایت اہم ذمہ داری یہ ہے کہ ہم شیطان کو اپنا کھلا دشمن سمجھیں اور اس کی چالوں سے ہمیشہ ہوشیار رہیں۔ شیطان انسان کا وہ ازلی دشمن ہے جو اسے ہر طرف سے بہکانے، نیکی سے دور کرنے اور گناہ کی طرف لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کا مقصد صرف انسان کے عقیدے اور عبادت کو متاثر کرنا نہیں، بلکہ وہ اس کی گھریلو زندگی، باہمی تعلقات اور قلبی سکون کو بھی نشانہ بناتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس خطرناک دشمن سے واضح طور پر خبردار کرتے ہوئے فرمایا ہے:
إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا1
ترجمہ : بے شک شیطان تمہارا دشمن ہے، لہٰذا تم بھی اسے اپنا دشمن ہی سمجھو۔
لیکن افسوس! بہت سے لوگوں نے اس کھلے دشمن کی حقیقت کو فراموش کرکے اسے اپنا رفیق و ہم نشین بنا لیا ہے۔ اپنی محفلوں میں اسے جگہ دی، اپنی راہوں میں اس کی پیروی اختیار کی اور اپنی زندگی کے معمولات کو اس کی خواہشات کے مطابق ڈھال لیا ہے۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ انہوں نے اپنے گھروں کے دروازے ہی نہیں، بلکہ اپنی خلوت گاہوں اور خواب گاہوں کے دروازے بھی اس کے لیے کھول دیے ہیں۔
اس سے بڑھ کر افسوس ناک صورت یہ ہے کہ بعض لوگ شیطان کے بہکاوے میں اس قدر آگے بڑھ گئے ہیں کہ انہوں نے اپنے دلوں کو شیطان کے حوالے کر دیا ہے۔ وہ اس کے اشاروں پر چلتے، اس کے حکم کی پیروی کرتے ہیں اور جن کاموں سے شیطان روکے، ان سے رک جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ اس کی اطاعت و پیروی میں اس مقام تک جا پہنچتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اسی کی عبادت کرنے لگتے ہیں۔اسی خطرناک حقیقت سے متنبہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يَا بَنِي آدَمَ أَنْ لَا تَعْبُدُوا الشَّيْطَانَ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ2
’’اے اولادِ آدم! کیا میں نے تمہیں تاکید نہیں کی تھی کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا؟ بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔‘‘
آج بے شمار گھرانے مختلف قسم کی گھریلو پریشانیوں میں مبتلا ہیں۔ کہیں میاں بیوی کے درمیان معمولی باتیں بڑے اختلافات کا سبب بن جاتی ہیں، کہیں اولاد باہمی جھگڑوں میں الجھی رہتی ہے، اور کہیں گھر میں رہنے کے باوجود دل ایک دوسرے سے دور ہوچکے ہیں۔ گفتگو میں تلخی، رویوں میں سختی اور معمولی باتوں پر ناراضی نے بہت سے گھروں کے سکون کو متاثر کر دیا ہے۔ نہ ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش ہے، نہ برداشت کا جذبہ اور نہ وہ محبت و الفت جو ایک گھر کو حقیقی معنوں میں گھر بناتی ہے۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ ان گھریلو پریشانیوں کا حل کیا ہے؟ اپنے گھر کو شیطان کے شر، اس کے وسوسوں اور اس کی سازشوں سے کیسے محفوظ رکھا جائے؟ گھر میں محبت، سکون اور برکت کا ماحول کیسے قائم کیا جائے؟
یقیناً اس کا حل موجود ہے۔ قرآن و سنت نے ہمیں ایسے واضح، آسان اور قابلِ عمل اصول عطا کیے ہیں جنہیں اختیار کرکے انسان نہ صرف خود شیطان کے شر سے بچ سکتا ہے، بلکہ اپنے گھر، اہل و عیال اور بچوں کو بھی اس کے فتنوں سے بچانے میں کامیاب ہوسکتا ہے۔
اسی مقصد کے پیش نظر ذیل میں دس آسان حفاظتی تدابیر ذکر کیے جارہے ہیں۔ اگر اللہ کے فضل و کرم سے ان پر پابندی اور اہتمام کے ساتھ عمل کیا جائے تو یہ اقدامات گھر کو شیطانی وسوسوں اور فتنوں سے بچانے، باہمی محبت و الفت بڑھانے اور گھر کے ماحول کو سکون و برکت سے معمور کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
پہلی حفاظتی تدبیر: گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ کا ذکر کریں۔
گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کے بے شمار فوائد ہیں، اور شریعت نے ہمیں اس کی ترغیب دی ہے۔ چنانچہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص اپنے گھر میں داخل ہو تو یہ دعا پڑھے:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ الْمَوْلَجِ وَخَيْرَ الْمَخْرَجِ بِاسْمِ اللَّهِ وَلَجْنَا وَبِاسْمِ اللَّهِ خَرَجْنَا وَعَلَى اللَّهِ رَبِّنَا تَوَكَّلْنَا ، ثم يسلم على أهله 3
اے اللہ میں تجھ سے جائے داخلہ کی بھلائی کا اور جائے خروج کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں ، اللہ کے نام کے ساتھ ہم داخل ہوئے اور اللہ ہی کے نام کے ساتھ ہم نکلے اور ہم نے اللہ پر ہی بھروسہ کیا جو ہمارا رب ہے۔ پھر وہ اپنے گھر والوں کو سلام کرے۔
گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ کے ذکر کی فضیلت
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺکو فرماتے ہوئے سنا:
إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ، فَذَكَرَ اللهَ عِنْدَ دُخُولِهِ وَعِنْدَ طَعَامِهِ، قَالَ الشَّيْطَانُ: لَا مَبِيتَ لَكُمْ، وَلَا عَشَاءَ، وَإِذَا دَخَلَ، فَلَمْ يَذْكُرِ اللهَ عِنْدَ دُخُولِهِ، قَالَ الشَّيْطَانُ: أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ، وَإِذَا لَمْ يَذْكُرِ اللهَ عِنْدَ طَعَامِهِ، قَالَ: أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ وَالْعَشَاءَ.4
ترجمہ : جب آدمی گھر میں داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت اللہ کا ذکر کرتا (یعنی بسم اللہ کہتا) ہے، تو شیطان اپنے لشکر سے کہتا ہے کہ آج یہاں نہ سونے کی جگہ تم کو مل سکتی ہے اور نہ تمہیں کھانا مل سکتا ہے، اور جب آدمی گھر میں بغیر بسم اللہ کہے داخل ہوتا ہے، تو شیطان (اپنے لشکر سے) کہتا ہے کہ تمہیں سونے کی جگہ مل گئی، اگر آدمی کھانے کے وقت بھی اللہ کا نام نہیں لیتا ہے، تو شیطان کہتا ہے کہ تمہیں کھانے اور سونے دونوں کی جگہ مل گئی ہیں“۔
دوسری حفاظتی تدبیر: گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کریں۔
گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنا محض ایک رسمی عمل نہیں، بلکہ یہ اہلِ خانہ سے محبت، خیر خواہی اور حسنِ تعلق کا خوب صورت اسلامی اظہار ہے۔ اسلام نے گھر میں داخل ہونے کے آداب بھی سکھائے ہیں، جن میں سلام کرنا نہایت اہم ہے۔ سلام محبت بڑھاتا، دلوں کو جوڑتا اور گھر کے ماحول میں خیر و برکت پیدا کرتا ہے۔ لہٰذا جب بھی اپنے گھر میں داخل ہوں، اہلِ خانہ کو سلام کریں اور اپنے گھر کے دروازے کو سلامتی، محبت اور برکت کے کلمات سے کھولیں۔
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
” يُستحبّ أن يقول إذا دخلَ بيتَه: باسم الله، وأن يكثرَ من ذكر الله تعالى، وأن يسلّمَ سواء كان في البيت آدميّ أم لا، لقول الله تعالى: فَإِذَا دَخَلْتُمْ بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ تَحِيَّةً مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مُبَارَكَةً طَيِّبَةً 5
ترجمہ : گھر میں داخل ہوتے وقت بسم اللہ کہنا، کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا اور سلام کرنا مستحب ہے، خواہ گھر میں کوئی موجود ہو یا نہ ہو۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:
فَإِذَا دَخَلْتُمْ بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ تَحِيَّةً مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مُبَارَكَةً طَيِّبَةً6
ترجمہ : جب تم گھروں میں داخل ہو تو اپنے لوگوں کو سلام کیا کرو۔ یہ اللہ کی طرف سے مقرر کی ہوئی بابرکت اور پاکیزہ دعا ہے۔‘‘
اگر گھر میں کوئی بھی نہ ہو
اگر گھر میں کوئی بھی نہ ہو تو پھر بھی سلام کہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے حسن سند کے ساتھ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول نقل فرمایا ہے : جب تو کسی گھر میں جائے، جس میں کوئی نہ ہو تو یوں کہہ
اَلسَّلَامُ عَلَيْنَا وَ عَلَى عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِيْنَ۔7
سلام کہنا باعثِ برکت ہے:
گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنا صرف ایک اسلامی ادب نہیں، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت و برکت حاصل کرنے اور اہلِ خانہ کے درمیان محبت و الفت بڑھانے کا ذریعہ بھی ہے۔ سلام کے ذریعے مسلمان اپنے گھر میں خیر، محبت اور باہمی تعلق کی خوب صورت فضا قائم کرتا ہے، اس لیے اسے اپنی روزمرہ زندگی کا مستقل معمول بنانا چاہیے۔سیدنا انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا:
يَا بُنَيَّ إِذَا دَخَلْتَ عَلَى أَهْلِكَ فَسَلِّمْ يَكُونُ بَرَكَةً عَلَيْكَ وَعَلَى أَهْلِ بَيْتِكَ 8
ترجمہ : بیٹے! جب تم اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ تو انہیں سلام کیا کرو، یہ سلام تمہارے لیے اور تمہارے گھر والوں کے لیے خیر و برکت کا باعث ہو گا“
سلام کہنا باعثِ حفاظت ہے
گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنا صرف ایک اسلامی آداب ہی نہیں، بلکہ یہ اہلِ خانہ کے درمیان محبت و الفت بڑھانے اور اللہ تعالیٰ کی حفاظت و نگرانی حاصل کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ اس لیے گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کو اپنا معمول بنائیں اور اس کی برکتوں سے اپنے گھر کو محفوظ رکھیں۔حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
ثلاثةٌ كلُّهم ضامنٌ علَى اللهِ عزَّ وجلَّ رجلٌ خرج غازيًا في سبيلِ اللهِ فهو ضامنٌ علَى اللهِ حتَّى يتوفَّاه فيدخِلَه الجنَّةَ أو يردَّه بما نال من أجرٍ وغنيمةٍ ورجلٌ راحَ إلى المسجدِ فهو ضامنٌ علَى اللهِ حتَّى يتوفَّاه فيدخلَهُ الجنَّةَ أو يردَّه بما نال من أجرٍ وغنيمةٍ ورجلٌ دخل بيتَه بسلامٍ فهو ضامنٌ علَى اللَّهِ عزَّ وجلَّ 9
ترجمہ : تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمے لے رکھی ہے: ایک وہ شخص جو اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلے، وہ اللہ کی ضمانت میں ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے وفات دے کر جنت میں داخل فرمائے یا اسے اجر اور غنیمت کے ساتھ واپس لوٹائے۔ دوسرا وہ شخص جو مسجد کی طرف جائے، وہ بھی اللہ کی ضمانت میں ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے وفات دے کر جنت میں داخل فرمائے یا اسے اجر کے ساتھ واپس لوٹائے۔ اور تیسرا وہ شخص جو سلام کے ساتھ اپنے گھر میں داخل ہو، وہ بھی اللہ عزوجل کی ضمانت میں ہے۔‘‘
معلوم ہوا کہ سلام گھر میں خیر و برکت کی کثرت کا سب سے بہترین نسخہ ہے، بہت افسوس ہے ایسے لوگوں پر جو سلام جیسی چیز کو چھوڑ کر خود بھی اور اپنے گھر والوں کو بھی خیر و برکت اور سلامتی سے محروم رکھتے ہیں، ہو سکتا ہے ایسے لوگ اپنے بیوی بچوں کو سلام کرنے میں اپنی سبکی محسوس کرتے ہوں، اس لیے گھر میں آتے جاتے سلام ضرور کرنا چاہیئے تاکہ سلام کی خیر و برکت سے محروم نہ رہیں۔
تیسری حفاظتی تدبیر: گھر میں کثرت سے قرآن مجید کی تلاوت
گھر میں زیادہ سے زیادہ قرآن مجید کی تلاوت کی جائے، کیونکہ قرآن مجید کی تلاوت گھر کو نور، برکت اور پاکیزگی عطا کرتی ہے اور شیطانوں کو وہاں سے دور بھگاتی ہے۔حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
– مَثَلُ المُؤمِنِ الذي يَقرَأُ القُرآنَ مَثَلُ الأُترُجَّةِ، ريحُها طَيِّبٌ وطَعمُها طَيِّبٌ، ومَثَلُ المُؤمِنِ الذي لا يَقرَأُ القُرآنَ مَثَلُ التَّمرةِ، لا ريحَ لها وطَعمُها حُلوٌ، ومَثَلُ المُنافِقِ الذي يَقرَأُ القُرآنَ مَثَلُ الرَّيحانةِ، ريحُها طَيِّبٌ وطَعمُها مُرٌّ، ومَثَلُ المُنافِقِ الذي لا يَقرَأُ القُرآنَ كمَثَلِ الحَنظَلةِ، ليس لها ريحٌ وطَعمُها مُرٌّ.10
ترجمہ: اس مومن کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے سنگترے کی سی ہے جس کی خوشبو بھی اچھی ہے اور ذائقہ بھی اچھا ہے، اور اس مومن کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا اس کھجور کی سی ہے جس میں کوئی خوشبو نہیں ہے اور اس ذائقہ میٹھا ہے۔ اور اس منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے خوشبودار پودے کی ہے جس کی بو تو اچھی ہے لیکن ذائقہ کڑوا ہے۔ اور اس منافق کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا ہے اندرائن (ایک کڑوا پھل) کی طرح ہے جس میں کوئی خوشبو نہیں اور ذائقہ بھی کڑوا ہے۔‘‘
فرشتوں کی آمد
اسی طرح گھر میں خشوع و خضوع کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کرنے سے فرشتے بھی اس گھر کے قریب آتے ہیں۔حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:
کان يقرأُ من الليلِ سورةَ البقرةِ ، إذ جالتِ الفرسُ ، فسكتَ ، فسكنتْ ، فقرأَ فجالتْ ، فسكتَ فسكنتْ ، ثم قرأ ، فجالتِ الفَرَسُ ، فانصرفَ ، قال : فرفعتُ رأسي إلى السماءِ فإذا مثلُ الظُلَّةِ فيها أمثالُ المصابيحِ عَرَجَتْ حتى ما أراها ، فلمَّا أصبحَ حدَّثَ النبيَّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ ، قال : تلكَ الملائكةُ دَنَتْ لصوتِكَ ، ولو قرأتَ لأصبحتْ ينظرُ الناسُ إليها لا تَتَوَارَى منهم11
ترجمہ : ایک رات وہ سورۂ بقرہ کی تلاوت کر رہے تھے کہ اچانک ان کا گھوڑا بدکنے لگا۔ انہوں نے تلاوت روک دی تو گھوڑا بھی پرسکون ہوگیا۔ انہوں نے دوبارہ تلاوت شروع کی تو گھوڑا پھر بدکنے لگا۔ انہوں نے دوبارہ تلاوت روک دی تو گھوڑا پھر پرسکون ہوگیا۔ پھر انہوں نے تلاوت شروع کی تو گھوڑا ایک مرتبہ پھر بدکنے لگا، چنانچہ وہ وہاں سے ہٹ گئے۔ حضرت اسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا تو وہاں ایک سائبان جیسا منظر دکھائی دیا، جس میں چراغوں کی مانند روشن چیزیں تھیں۔ وہ آہستہ آہستہ اوپر اٹھتا چلا گیا، یہاں تک کہ میری نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ صبح ہوئی تو میں نے نبی کریم ﷺ سے اس واقعے کا ذکر کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ فرشتے تھے جو تمہاری تلاوت کی آواز سن کر تمہارے قریب آگئے تھے۔ اگر تم تلاوت جاری رکھتے تو صبح کے وقت لوگ بھی انہیں دیکھ رہے ہوتے اور وہ ان سے پوشیدہ نہ رہتے۔‘‘
لہٰذا مسلمان کے لیے مناسب ہے کہ وہ اپنے رب کی کتاب سے مضبوط تعلق قائم کرے اور خود بھی کثرت سے قرآن مجید کی تلاوت کرے، نیز اپنے بچوں اور اہلِ خانہ کو بھی قرآن پڑھنے اور اس کا کچھ حصہ حفظ کرنے کا عادی بنائے۔ جس گھر میں قرآن کی تلاوت کا معمول ہو، وہاں ایمان کی روشنی، دلوں کا سکون اور اللہ کی رحمت کے آثار نمایاں ہوتے ہیں۔
اپنے گهروں کا جائزہ لیجئے
علامة ابن باز رحمه الله فرماتے ہیں:
فكلما كان أهل البيت أكثر قراءة للقرآن، وأكثر مذاكرة للأحاديث، وأكثر ذكرا لله وتسبيحا وتهليلا، كان أسلم من الشياطين وأبعد منها. 12
ترجمہ : جس گھر میں جتنی زیادہ تلاوتِ قرآن، احادیثِ نبویہ کا مذاکرہ اور اللہ تعالیٰ کا ذکر و تسبیح ہوگی، وہ گھر اتنا ہی شیطانوں سے دور اور ان کے شر سے محفوظ رہے گا۔
چوتھی حفاظتی تدبیر: گھر میں سورۃ البقرہ کی تلاوت
اپنےگھر میں سورۃ البقرہ کی تلاوت کا اہتمام کریں۔ اگر کبھی محسوس ہو کہ گھر میں پریشانیاں بڑھ گئی ہیں، بات بات پر آوازیں بلند ہونے لگی ہیں اور ضد و ہٹ دھرمی نے جگہ بنا لی ہے، تو سمجھ لینا چاہیے کہ شیطان نے وہاں اپنا اثر قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایسے وقت میں اس کے شر کو دور کرنے اور اسے گھر سے بھگانے کے لیے بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔لیکن یہ کیسے ممکن ہے؟حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ لِكلِّ شيءٍ سَنامًا، و سَنامُ القرآنِ سُورَةُ البَقَرَةِ، و إِنَّ الشيطانَ إذا سمعَ سورةَ البَقَرَةِ تُقْرَأُ خرجَ مِنَ البيتِ الذي يُقْرَأُ فيهِ سُورَةُ البَقَرَةِ 13
ترجمہ : یقیناً ہر چیز کی ایک چوٹی ہوتی ہے، اور قرآن کی چوٹی سورۃ البقرہ ہے۔ جب شیطان سورۃ البقرہ کی تلاوت کی آواز سنتا ہے تو اس گھر سے نکل جاتا ہے جہاں سورۃ البقرہ کی تلاوت کی جا رہی ہو۔‘‘
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ، وَإِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي تُقْرَأُ فِيهِ الْبَقَرَةُ لَا يَدْخُلُهُ الشَّيْطَانُ 14
ترجمه : اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ۔ وہ گھر جس میں سورۃ البقرہ پڑھی جاتی ہے اس میں شیطان داخل نہیں ہوتا“۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ، إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْفِرُ مِنَ الْبَيْتِ الَّذِي تُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ. 15
ترجمه :اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ، بے شک شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے جس میں سورۃ البقرہ کی تلاوت کی جاتی ہے۔‘‘
علامہ عبد الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اي: لا تجعلوا بيوتكم «خاليةً عن الذِّكر والطَّاعة فتكون كالمقابر، وتكونون كالموتى فيها» 16
ترجمہ : یعنی اپنے گھروں کو ذکرِ الٰہی اور عبادت سے خالی نہ رکھو کہ وہ قبرستانوں کی مانند ہوجائیں، اور تم خود ان میں مردوں کی طرح بن جاؤ۔
خصوصاً سورۃ البقرہ کی اہمیت اس لیے بھی نمایاں ہے کہ اس میں آیت الکرسی موجود ہے، جو قرآن مجید کی سب سے عظیم آیت ہے، جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے اس کی فضیلت بیان فرمائی ہے۔
پانچویں حفاظتی تدبیر: گھر کو شیطان کی آواز وں سے پاک رکھیں
گھر کا ماحول انسان کی سوچ، کردار اور روحانی کیفیت پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ جس گھر میں ذکرِ الٰہی، تلاوتِ قرآن اور پاکیزہ گفتگو کا ماحول ہو، وہاں دلوں کو سکون اور زندگی کو برکت نصیب ہوتی ہے۔ اس کے برعکس گانے، موسیقی اور لہو و لعب کی آوازیں گھر کے ماحول کو غفلت اور بے راہ روی کی طرف لے جاسکتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے گھروں کو ایسی آوازوں سے پاک رکھیں جو اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل کریں اور شیطان کے لیے گھر میں اثر و رسوخ کا ذریعہ بنیں ، سو رۃ لقما ن میں اللہ تعا لیٰ کا ارشا دہے :
وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللہِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا ۚ أُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ 17
ترجمہ: اور لوگوں میں سے ایسا بھی ہے جو بے ہودہ کلام خرید کر لاتا ہے تاکہ لوگوں کو اللہ کے راستہ سے روکے اور جہالت کے ساتھ گمراہ کرے اور اس دعوت حق کو مذاق بنائے۔ ایسے لوگوں کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔
لھو الحدیث سے کیا مراد ہے؟
حضرت عبداللہ بن عبا س ر ضی اللہ عنہ ’’لھو الحدیث‘‘ کی تعریف فرماتے ہیں:
هو الغناء وأشباهه. 18
ترجمہ: آیت میں لھو الحدیث سے مراد گا نا اور اس سے ملتی جلتی چیزیں ہیں ‘‘۔
جناب حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
نزلت ھذہ الآیة (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِی لَھُوَ الْحَدِيثِ) فی الغناء والمزامیر۔ 19
یہ آیت گانے اور راگ باجوں کے متعلق اتری ہے۔
سورۃ بنی اسرائیل میں اللہ تعا لیٰ کا ارشاد ہے :
وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ20
ترجمہ : اور ان میں سے جسے اپنی آواز کے ذریعے بہکا سکتے ہو، بہکاتے رہو۔
امام ابنِ کثیر رحمہ اللہ تعالی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
قیل ھو الغناء21
اس آیت میں شیطانی آواز سے مراد گانا بجاناہے ۔
مفسر قرآن مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
صوت الشيطان الغناء
آیت میں شیطان کی آواز سے مراد گانا بجانا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں-
کل داع دعا الی معصیة اللہ عزہ وجل ( روح المعانی ۔ تفسیر قوله تعالیٰ : وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ ..)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے قول میں ’’بصو تک‘‘ سے مراد ہر وہ چیز ہے جو گنا ہ اور نا فر مانی کی طرف بلائے‘‘
امام مجاہد رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں ۔
باللھو والغناء ای استخفھم بذلك
ترجمہ : اس کا مطلب یہ ہے،اے ابلیس!تو انہیں کھیل تماشوں اور گانے بجانے میں مشغول کرکے حق سے بہکا دو ۔
حافظ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
و من المعلوم ان الغناء من اعظم الدواعی الی المعصیة ولھذا فسر صوت الشیطان به 22
ترجمہ : اور سب کو معلوم ہے کہ گناه کی طرف دعوت دینے والوں میں گانا بجانا سب سے بڑھ کر ہے اسی وجہ سے شیطان کی آواز کی تفسیر اسی کے ساتھ کی گئی۔
جناب فضیل بن عیاض رحمہ اللہ کا قول ہے:
اَلْغَنَاء رُقْیَة الزِّنَا23
ترجمہ: گانا زنا کا منتر (دعوت) ہے۔
مشہور عالم یزید بن ولید رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اِیَّاکُمْ وَالْغَنَاء فَاِنَّه یَنْقُصُ الْحَیَاء، وَیَزِیْدُ فِي الشَّهوَة، وَإنَّه لَیَنُوْبُ عَنِ الْخَمْرِ، وَیَفْعَلُ مَا یَفْعَلُ السُّکْرُ، وَجَنِّبُوْه النِّسَاء؛ فَاِنَّ الْغَنَاء دَاعِیَة الزِّنَا. 24
ترجمہ: تم گانے بجانے سے بچو، اس سے حیا کم اور شہوت زیادہ ہوتی ہے، وہ شراب کی طرح ہے، اور نشہ آور چیزوں کا کام کرتا ہے، عورتوں کو اس سے الگ رکھو؛ اس لیے کہ گانا زنا کا قوی سبب ہوتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لَيَكُونَنَّ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ يَسْتَحِلُّونَ الْحِرَ، وَالْحَرِيرَ، وَالْخَمْرَ، وَالْمَعَازِفَ 25
ترجمہ: میری امت میں کچھ ایسے لوگ ضرور پیدا ہوں گے جو زنا، ریشم، شراب اور باجے گاجے کو حلال سمجھ لیں گے۔
ایک اور مقام پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
في هذِهِ الأمَّةِ خَسفٌ ومَسخٌ وقَذفٌ ، فقالَ رجلٌ منَ المسلِمينَ : يا رسولَ اللَّهِ ، ومتَى ذاكَ ؟ قالَ : إذا ظَهَرتِ القِيانُ والمعازِفُ وشُرِبَتِ الخمورُ 26
ترجمہ : اس امت میں زمین میں دھنسائے جانے، شکلیں مسخ کیے جانے اور پتھر برسائے جانے کے واقعات پیش آئیں گے۔ ایک مسلمان نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایسا کب ہو گا؟ آپ ﷺنے فرمایا: جب ناچنے والیاں اور باجے عام ہو جائیں گے اور خوب شراب نوشی کی جائے گی۔‘‘
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
الغناءُ ينبتُ النفاقَ في القلبِ 27
ترجمہ : گانا دل میں منافقت پیدا کرتا ہے ۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک اور جگہ فرماتے ہیں:
الغناءُ ينبتُ النفاقَ في القلبِ كما ينبتُ الماءُ البقلَ 28
ترجمہ :گانا دل میں نفاق کو اس طرح اُگاتا ہے، جیسے پانی سبزہ اُگاتا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
إن الغناء لهو مكروه يشبه الباطل، ومن استكثر منه فهو سفيه ترد شهادته. 29
ترجمہ:یقیناً گانا ایک ناپسندیدہ مشغلہ ہے جو باطل سے مشابہ ہے، اور جو شخص کثرت سے گانے کا مشغلہ اختیار کرے وہ نادان اور سفیہ ہے، اس لیے اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔
امام مالک رحمہ اللہ کا موقف
جناب اسحاق بن عیسیٰ طباع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
سألت مالك بن أنس عما يترخص فيه أهل المدينة من الغناء؟ فقال: إنما يفعله عندنا الفساق!30
ترجمہ:میں نے امام مالک بن انس رحمہ اللہ سے مدینہ کے لوگوں کی طرف سے گانے کے بارے میں اختیار کی جانے والی رخصت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ہمارے ہاں یہ کام صرف فاسق لوگ ہی کرتے ہیں!
مذاہب ائمہ اربعہ کا مجموعی موقف
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
فمذهب الأئمة الأربعة أن آلات اللهو كلها حرام. 31
ترجمہ: پس ائمہ اربعہ کا مذہب یہ ہے کہ تمام آلاتِ لہو حرام ہیں۔
ان اقوال اور نصوص سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ گانا بجانا ایک مسلمان کے لیے جائز نہیں، اور یہ شیطان کی آوازوں میں سے ہے۔ جب کسی گھر میں شیطان کی آواز گونجتی ہے تو اس کے کارندے ہر طرف سے وہاں جمع ہوجاتے ہیں، پھر وہ اس گھر میں فساد برپا کرتے اور باہمی اختلاف، دوری اور نفرت کو ہوا دیتے ہیں۔
علامة ابن باز رحمه الله فرماتے ہیں:
وكلما كان البيت مملوءا بالغفلة، وأسبابها من الأغاني والملاهي والقيل والقال، كان أقرب إلى وجود الشياطين المشجعة على الباطل. 32
ترجمہ : اور جس گھر میں اللہ تعالیٰ سے غفلت کا ماحول ہو، گانے بجانے، لہو و لعب اور فضول باتوں کی کثرت ہو، وہاں شیاطین کی آمد و رفت زیادہ ہوتی ہے، جو لوگوں کو باطل کاموں پر اُکساتے ہیں۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس گھر میں گانے بجانے اور لہو و لعب کا ماحول عام ہوجائے، وہاں غفلت بڑھتی اور شیطانی وسوسوں کے لیے راستے کھلتے ہیں۔ ایسا ماحول گھر کے سکون کو متاثر کرنے اور باہمی اختلافات و دوریوں کا سبب بن سکتا ہے۔ لہٰذا اپنے گھروں کو ایسی چیزوں سے پاک رکھیں اور انہیں قرآنِ کریم کی تلاوت، ذکرِ الٰہی اور پاکیزہ گفتگو سے آباد کریں، تاکہ گھر کا ماحول ایمان افروز، پُرسکون اور رحمت و برکت کا ذریعہ بنے۔
چھٹی حفاظتی تدبیر: گھر کو تصاویر ، مجسموں اور کتوں سے پاک رکھیں
اپنے گھر کو تصاویر اور مجسموں سے پاک رکھیں۔ ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ اپنے گھر میں ایسے مجسمے نہ رکھے اور جہاں تک ممکن ہو ایسی تصاویر سے بھی اپنے گھر کو پاک رکھے، البتہ ناگزیر اور ضرورت کی صورتیں اس سے مستثنیٰ ہیں۔اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ احادیث میں وارد ہوا ہے کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصاویر یا مجسمے موجود ہوں۔اور جب فرشتے کسی گھر سے دور ہوجاتے ہیں تو شیطانی اثرات کے لیے راستہ ہموار ہوجاتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لا تدخلُ الملائكةُ بيتًا فيه تماثيلُ أو تصاويرُ 33
ترجمہ : رحمت کے فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں مجسمے ہوں یا (جاندارکی)تصاویر ہوں۔
تصویر سے مراد
تصویر سے مراد جان دار چیز کی تصویر ہے خواہ وہ کسی انسان کی تصویر ہو یا حیوان پرندے اور مچھلی وغیرہ کی۔
تصاویر باعثِ عذاب
گھروں میں جاندار اشیاء کی تصاویر رکھناباعثِ عذاب ہیں ،سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ :
أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْباب فَلَمْ يَدْخُلْ، فَقُلْتُ: أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ مِمَّا أَذْنَبْتُ؟ قَالَ:” مَا هَذِهِ النُّمْرُقَةُ؟” قُلْتُ: لِتَجْلِسَ عَلَيْهَا وَتَوَسَّدَهَا، قَالَ:” إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ، وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ الصُّورَةُ”.34
انہوں نے ایک گدا خریدا جس پر تصویریں تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (اسے دیکھ کر) دروازے پر کھڑے ہو گئے اور اندر تشریف نہیں لائے۔ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! میں نے جو غلطی کی ہے اس سے میں اللہ سے معافی مانگتی ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ گدا کس لیے ہے؟ میں نے عرض کیا کہ آپ کے بیٹھنے اور اس پر ٹیک لگانے کے لیے ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان جاندار تصاویر بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جو تم نے پیدا کیا ہے اسے زندہ بھی کر کے دکھاؤ اور فرشتے اس گھر میں نہیں داخل ہوتے جس میں کسی جاندار کی تصویر ہو۔
معلوم ہوا کہ جان دار چیز کی تصویر، خواہ مجسم ہو خواہ غیر مجسم ،اگرچہ اس کی عبادت نہ کی جاتی ہو تب بھی اسے گھر میں رکھنا گناہ ہے۔لہٰذا مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے گھر کے ماحول کا جائزہ لے، ایسی تصاویر اور مجسموں سے اجتناب کرے اور اپنے گھر کو قرآن کی تلاوت، ذکرِ الٰہی اور نیک اعمال سے آباد رکھے، تاکہ وہ اہلِ خانہ کے لیے سکون، برکت اور رحمت کا گہوارہ بن سکے۔
اپنے گھر کو کتوں سے بھی پاک رکھیں
مسلمان کا گھر ذکرِ الٰہی، پاکیزگی اور رحمت و برکت کا مرکز ہونا چاہیے، اس لیے بلا ضرورت گھر میں کتے پالنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ احادیثِ نبویہ میں ایسے گھر کے بارے میں تنبیہ آئی ہے جس میں کتا رکھا ہو، لہٰذا اپنے گھروں کو ان چیزوں سے پاک رکھیں جو رحمت کے فرشتوں کی آمد میں رکاوٹ بنیں۔ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ، وَلَا صُورَةُ تَمَاثِيلَ. 35
ترجمہ : فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو، اور نہ اس گھر میں داخل ہوتے ہیں جس میں مجسموں کی تصویر ہو ۔
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسولﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ:
مَنْ اقْتَنَى كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ مَاشِيَةٍ أَوْ ضَارِيَةٍ، نَقَصَ كُلَّ يَوْمٍ مِنْ عَمَلِهِ قِيرَاطَانِ 36
ترجمہ : جس نے ایسا کتا پالا جو نہ مویشی کی حفاظت کے لیے ہے اور نہ شکار کرنے کے لیے تو روزانہ اس کی نیکیوں میں سے دو قیراط کی کمی ہو جاتی ہے۔
رکھوالی یا شکاری کتا
البتہ تین قسم کے کتے پالنا اور رکھنا جائزہے: شکار کے لئے، جانوروں کی حفاظت کے لئے اور کھیتی (زمین) کی حفاظت کے لئے۔37
ساتویں حفاظتی تدبیر: گھر کو صلیب کی علامتوں سے پاک رکھیں
آج کل ایک ایسی چیز خاموشی سے ہمارے گھروں میں جگہ بناتی جا رہی ہے جس پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے، اور وہ ہے صلیب (Red Cross) کی علامت۔ صلیب عیسائی مذہب کا نمایاں شعار ہے، جبکہ اسلام نےہمیں یہود ونصاری کی مشابہت اختیار کرنے منع کیاہے۔لیکن افسوس کی بات ہے کہ آج کل روزمرہ استعمال کی بہت سی اشیاء، مثلاً چٹائیاں، چادریں، بستر، جائے نمازیں، تولیے، پتلونیں، ٹی شرٹس، برتن، چمچے اور دیگر اشیاء پر صلیب جیسی علامتیں اس طرح بنائی جاتی ہیں کہ بسا اوقات پہلی نظر میں ان کی شناخت بھی نہیں ہو پاتی اور ہم لاعلمی میں انہیں خرید کر اپنے گھروں میں لے آتے ہیں۔
لہٰذا ضروری ہے کہ کوئی بھی چیز خریدتے وقت اس کے نقش و نگار پر بھی توجہ دی جائے اور اطمینان کرلیا جائے کہ اس پر صلیب یا کوئی دوسری مذہبی علامت تو موجود نہیں۔ اسی طرح گھروں میں پہلے سے موجود اشیاء کا بھی جائزہ لیا جائے اور اگر ان پر واضح صلیبی علامت پائی جائے تو اسے دور کردیا جائے۔ نبی کریم ﷺ کے بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ:
أنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ” لَمْ يَكُنْ يَتْرُكُ فِي بَيْتِهِ شَيْئًا فِيهِ تَصَالِيبُ إِلَّا نَقَضَهُ.38
ترجمہ : آپ ﷺ اپنے گھر میں صلیب کی علامت والی کوئی چیز باقی نہ رہنے دیتے تھے، بلکہ اسے مٹا دیتے یا توڑ دیتے تھے۔
آٹھویں حفاظتی تدبیر: گھر میں نوافل کا اہتمام کریں
گھر صرف آرام اور رہائش کی جگہ نہیں، بلکہ اسے اللہ تعالیٰ کی عبادت اور ذکر کا مرکز بھی ہونا چاہیے۔ جس گھر میں نماز، تلاوت اور ذکرِ الٰہی کا اہتمام ہو، وہاں ایمان کی فضا قائم رہتی ہے اور اہلِ خانہ کے دل بھی نیکی کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ فرض نمازوں کے ساتھ گھر میں نوافل کا بھی باقاعدہ اہتمام کیا جائے، تاکہ ہمارے گھر عبادت سے آباد اور غفلت سے محفوظ رہیں۔چنانچہ نبی کریم ﷺ نے گھروں کو نماز سے آباد رکھنے کی ترغیب دی ہے اور انہیں قبرستان بنانے سے منع فرمایا ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
اجْعَلُوا مِنْ صَلَاتِكُمْ فِي بُيُوتِكُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا (أخرجه البخاري: 432،1187 ومسلم: 777)
تم اپنی نمازوں کا کچھ حصہ گھروں میں بھی ادا کیا کرو اور انہیں قبرستان نہ بناؤ۔
گھر میں نوافل ادا کرنے کے کئی فوائد ہیں۔ اس سے عبادت میں اخلاص پیدا ہوتا ہے اور ریاکاری سے حفاظت رہتی ہے۔ مزید یہ کہ نماز اور ذکر سے گھر میں برکت اور رحمت کا نزول ہوتا ہے، فرشتے اس گھر کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور شیطان وہاں سے دور رہتا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
صلوا أيها الناسُ في بيوتِكمْ فإنَّ أفضلَ صلاةِ المرءِ في بيتِهِ إلا الصلاةَ المكتوبةَ 39
ترجمہ : اے لوگو! اپنے گھروں میں نماز ادا کیا کرو، کیونکہ فرض نماز کے علاوہ آدمی کی سب سے افضل نماز وہ ہے جو وہ اپنے گھر میں ادا کرتا ہے۔
لہٰذا اپنے گھروں میں نوافل کا معمول بنائیں، اہلِ خانہ کو بھی اس کی ترغیب دیں اور اپنے گھروں کو نماز، ذکر اور عبادت سے آباد رکھیں۔ ایسا گھر محض رہنے کی جگہ نہیں رہتا بلکہ سکون، رحمت اور برکت کا گہوارہ بن جاتا ہے۔
دسویں حفاظتی تدبیر: خوش گفتاری اور مسکراہٹ
گھر کا سکون صرف عبادت اور ظاہری نظم و ضبط سے قائم نہیں رہتا، بلکہ اچھے اخلاق، نرم گفتگو اور خوش گوار رویے بھی اس کے بنیادی ستون ہیں۔ شیطان کی ایک بڑی کوشش یہ ہے کہ میاں بیوی کے درمیان محبت کو نفرت، الفت کو دوری اور معمولی اختلاف کو بڑے جھگڑے میں تبدیل کردے۔ وہ مسلمانوں کے گھروں اور خاندانوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے کے لیے مسلسل کوشش کرتا رہتا ہے۔چنانچہ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إنَّ إبليسَ يَضَعُ عَرشَه على الماءِ، ثُمَّ يَبعَثُ سَراياه، فأدناهم منه مَنزِلةً أعظَمُهم فِتنةً، يَجيءُ أحَدُهم فيَقولُ: فعَلتُ كَذا وكَذا، فيَقولُ: ما صَنَعتَ شيئًا، قال: ثُمَّ يَجيءُ أحَدُهم فيَقولُ: ما تَرَكتُه حتَّى فرَّقتُ بينَه وبينَ امرَأتِه، قال: فيُدنيه منه ويقولُ: نِعمَ أنتَ40
ترجمہ : ابلیس اپنا تخت پانی پر قائم کرتا ہے، پھر اپنے لشکروں کو روانہ کرتا ہے۔ اس کے سب سے زیادہ قریب وہ ہوتا ہے جو سب سے بڑا فتنہ برپا کرے۔ ان میں سے ایک آکر کہتا ہے: میں نے فلاں فلاں کام کیے۔ ابلیس کہتا ہے: تم نے کچھ نہیں کیا۔ پھر ایک اور آکر کہتا ہے: میں نے اس شخص کو (جس کے ساتھ میں تھا) اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی نہیں کرا دی۔ ابلیس اسے اپنے قریب کرلیتا ہے اور کہتا ہے: تم سب سے بہتر ہو“! (یعنی تم نے بہترین کام کیا ہے)۔‘‘
اسی لیے شوہر کو چاہیے کہ وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آئے، گفتگو میں اچھے اور نرم الفاظ کا انتخاب کرے اور غصے، تلخی اور طعن و تشنیع سے حتی الامکان بچے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَقُلْ لِعِبَادِي يَقُولُوا الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْزَغُ بَيْنَهُمْ 41
ترجمہ : اور میرے بندوں سے کہہ دو کہ وہی بات کہا کریں جو سب سے بہتر ہو، بے شک شیطان ان کے درمیان فساد ڈالتا ہے۔‘‘
ایک اور موقع پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
خيرُكُم خيرُكم لِأهْلِهِ ، وَأَنَا خيرُكم لِأَهْلِي 42
ترجمہ : تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہلِ خانہ کے لیے سب سے بہتر ہو، اور میں اپنے اہلِ خانہ کے لیے تم سب سے بہتر ہوں۔‘‘
اسی طرح بیوی کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ محبت اور خوش اخلاقی سے پیش آئے، گفتگو میں خوب صورت اور دل نشین الفاظ اختیار کرے اور اپنی ذات کو شوہر کے لیے خوشی اور اطمینان کا ذریعہ بنائے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
سیدنا ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھاگیا:
أَيُّ النِّسَاءِ خَيْرٌ؟ قَالَ:” الَّتِي تَسُرُّهُ إِذَا نَظَرَ، وَتُطِيعُهُ إِذَا أَمَرَ، وَلَا تُخَالِفُهُ فِي نَفْسِهَا، وَمَالِهَا، بِمَا يَكْرَهُ. 43
ترجمہ : عورتوں میں سب سے بہتر کون سی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ عورت کہ جب شوہر اسے دیکھے تو اسے خوش کر دے، جب وہ اسے کوئی حکم دے تو اس کی اطاعت کرے، اور اپنی ذات اور اپنے مال کے بارے میں ایسا کوئی کام نہ کرے جو اسے ناپسند ہو۔‘‘
لہٰذا گھر میں میٹھی گفتگو، مسکراہٹ، باہمی احترام اور حسنِ سلوک کو معمول بنائیں۔ ایک نرم جملہ بہت سے اختلافات کو ختم کرسکتا ہے اور ایک مسکراہٹ دلوں کی دوری کو محبت میں بدل سکتی ہے۔ یہی وہ رویے ہیں جو شیطان کے لیے میاں بیوی کے درمیان نفرت اور جدائی پیدا کرنے کے راستے بند کرتے ہیں۔
دسویں حفاظتی تدبیر: اولاد کی حفاظت ۔
بچوں کی حفاظت صرف انہیں ظاہری خطرات اور جسمانی نقصان سے بچانے کا نام نہیں، بلکہ ان کے ایمان، اخلاق اور کردار کی حفاظت بھی والدین کی اہم ذمہ داری ہے۔ جس طرح ہم اپنی اولاد کو بیماری اور دیگر آفات سے محفوظ رکھنے کی فکر کرتے ہیں، اسی طرح انہیں شیطان کے وسوسوں، بری نظر، حسد اور موذی جانوروں کے شر سے محفوظ رکھنے کا بھی اہتمام کرنا چاہیے۔ اسلام نے اس مقصد کے لیے مسنون دعائیں اور حفاظتی اذکار سکھائے ہیں، جنہیں والدین اپنی اولاد کے لیے معمول بنا سکتے ہیں۔لہٰذا صبح و شام اپنی اولاد کو اپنے پاس جمع کریں اور انہیں شیطان، موذی جانوروں، بری نظر اور حسد سے محفوظ رکھنے کے لیے یہ مسنون دعا پڑھ کر ان پر دم کریں:
أُعِيذُكُمْ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ
ترجمہ : میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے کامل کلمات کے ذریعے ہر شیطان، ہر موذی جان دار اور ہر لگنے والی بری نظر سے اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں۔‘‘
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کو اس دعا کے ذریعے اللہ کی پناہ میں دیتے تھے:
أُعيذُكما بكلماتِ اللهِ التَّامَّةِ مِن كلِّ شيطانٍ وهامَّةٍ ومِن كلِّ عينٍ لامَّةٍ ) ثمَّ يقولُ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم: كان إبراهيمُ صلواتُ اللهِ عليه يُعوِّذُ به ابنَيْهِ إسماعيلَ وإسحاقَ 44
اور پھر آپ ﷺ فرماتے تھے:تمہارے جدِ امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی اپنے بیٹے حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق علیہما السلام کے لیے اسی کے ذریعے پناہ طلب کیا کرتے تھے:
خلاصہ کلام
یہ چند اہم حفاظتی تدابیراور عملی ہدایات ہیں جن پر عمل کرکے مسلمان اپنے رب کے قریب ہوسکتا ہے اور اپنے گھر کو سکون و اطمینان کا گہوارہ بنا سکتا ہے۔ ان ہدایات کو اپنانے سے گھروں میں برائیوں اور منکرات کا خاتمہ، میاں بیوی کے درمیان بہتر سمجھ بوجھ اور اولاد کے درمیان محبت و ہم آہنگی پیدا ہوسکتی ہے۔
لہٰذا اپنے گھروں کو محض رہائش کی جگہ نہ سمجھیں، بلکہ انہیں ایمان، عبادت، محبت، اخلاق اور ذکرِ الٰہی سے آباد کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے گھروں کو ہر برائی، شیطانی وسوسوں اور فتنوں سے محفوظ فرمائے اور انہیں محبت، سکون، رحمت اور برکت کا گہوارہ بنائے۔ آمین۔
_____________________________________________________________________
- (فاطر: 6)
- (یٰس: 60)
- (أخرجه أبو داود٥٠٩٦، وحسّن إسناده العلامة ابن باز في تحفة الأخيار، ص٢٨، و في فتاويه (26/35)وابن مفلح في “الآداب الشرعية” (1/426)
- ( صحیح مسلم : 2018)
- (سورۃ النور 61 ” (“الأذكار، ص: 23).
- (سورۃ النور 61)
- (الأدب المفرد، حدیث: 1055)
- (صحيح الترغيب: 1608)
- (صحيح أبي داود : 2494 ، والأدب المفرد: 1094، وابن حبان:499)
- (أخرجه البخاري (5427)، ومسلم (797)
- (أخرجه البخاري (4730)
- (الفوائد العلمية من الدروس البازية: (١ /١٤٢)
- (السلسلة الصحيحة: 588 )
- (صحیح مسلم (280)
- (صحيح مسلم: 780)
- (تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذي (8 /146)
- (سورۃ لقمان :۶)
- (روح المعانی ، سورۃ لقمان: تحت قوله تعالیٰ :ومن الناس من یشتری … 67/21 )
- (تفسیر ابن کثیر: /457 3 )
- (الإسراء: 64)
- (تفسیر ابن کثیر: 3/50)
- (اغاثة اللھفان ص: 255/1)
- (إغاثة اللهفان لابن القیم :1/245)
- (إغاثة اللهفان لابن القیم:245/1)
- (صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5590)
- (حسنه الألباني في صحيح الترمذي: 2212) وصحيح الترغيب: 2379)
- (تعظيم قدر الصلاة للمروزي ص: 680)
- (مسألة السماع لابن القیم ص: 160، وسنده صحیح )
- (الأم، ج 6، ص: 209 )
- (تلبيس إبليس، لابن القیم، ص: 282 )
- (مجموع الفتاوى، ج 11، ص 576)
- (الفوائد العلمية من الدروس البازية: (١ /١٤٢)
- (أخرجه مسلم (2112)
- (صحيح البخاري: 5957)
- (صحيح البخاري :3225)
- (أخرجه البخاري (5481)، ومسلم (1574)
- (صحيح البخاري، حديث: 5480 ، 2322، صحيح مسلم: 1576)
- (صحيح البخاري: 5952)
- (أخرجه البخاري (7290)
- (صحيح مسلم: 2813)
- (الإسراء: 53)
- (صحيح الترمذي : 3895)
- (صحيح النسائي : 3231)
- (صحيح البخاري : 3371)
