خطبہ اول:
ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے۔ اس نے اپنے بندے پر کتاب نازل کی، ایمان والوں کو ہدایت اور درستی کی راہ پر چلایا، اور اپنے بندوں کے لیے صراطِ مستقیم قائم کیا، جس نے اسے مضبوطی سے پکڑا اسے ہدایت ملی اور جس نے اس سے اعراض برتا وہ گمراہ ہوا۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی نے پیدا کیا اور اسی کا فیصلہ چلتا ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار اور نبی محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ آپ ﷺ کو اللہ نے ساری دنیا کے لیے رحمت اور تمام لوگوں کے لیے ہدایت بنا کر مبعوث کیا۔ درود و سلام اور برکتیں نازل ہوں آپ پر، آپ کی آل و اصحاب پر، اور ان پر جو تا قیامت درست طریقے سے ان کی پیروی کریں۔
اما بعد!
اے ایمان والو! میں تمہیں اور اپنے آپ کو اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔ جس نے تقویٰ اختیار کیا وہ نجات پا گیا اور جس نے اپنی خواہشات کی پیروی کی وہ گمراہ ہوا۔
اللہ کا فرمان ہے:
وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ ۖ ثُمَّ تُوَفَّىٰ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ1
اور اس دن سے ڈرو جس میں تم سب اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹائے جاؤ گے، اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
امتِ مسلمہ! یقیناً اللہ جل جلالہ نے اپنے مکرم نبی ﷺ کو صراطِ مستقیم کی طرف بلانے والا، اس کے راستے کی طرف ہدایت دینے والا، رہنمائی کرنے والا، اس کے نشانات واضح کرنے والا، اور ان راستوں سے ڈرانے والا بنا کر مبعوث کیا جو اس صراطِ مستقیم سے پھیر سکتے ہیں۔ اور اس صراطِ مستقیم پر استقامت برتنے کی عظمتِ شان کے پیشِ نظر اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ہر نماز میں، بلکہ ہر رکعت میں اللہ سے اس صراطِ مستقیم کی ہدایت طلب کریں۔
چنانچہ ہم کہتے ہیں “اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْم” یعنی اے اللہ! ہماری رہنمائی کر، ہمیں اس پر چلنے کی توفیق دے اور ہمیں اپنے صراطِ مستقیم پر ثابت قدم رکھ۔ لہٰذا جو راستے سے بھٹک گیا ہو وہ اللہ سے راستے پر واپس لوٹنے کی دعا کرے گا، اور جو راستے پر چل رہا ہو وہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے ثابت قدمی کی دعا کرے گا۔
صراطِ مستقیم دینِ اسلام ہے۔ اس کا رہنما قرآن ہے۔ اس کی وضاحت کرنے والے نبی کریم ﷺ ہیں۔ چنانچہ جو اللہ کے نبی ﷺ کے راستے پر چلے، آپ کی سنت کو لازم پکڑے، آپ کے طریقے کی پیروی کرے اور آپ کی راہ پر گامزن رہے، وہ صراطِ مستقیم پر ہے۔ اور یہی انبیاء و مرسلین، صدیقین و شہداء اور صالحین کا راستہ ہے۔
ایمانی بھائیو! اس صراطِ مستقیم پر بندہ اللہ کی توفیق سے ہی ثابت قدم رہ سکتا ہے۔ پھر اس نفع بخش علم سے جو اس کی رہنمائی کرے اور اس نیک عمل سے جو اس کا تزکیہ کرے۔ اور یہ صراطِ مستقیم دو عظیم قاعدے پر قائم ہے:
نمبر ایک: اللہ کی توحید اور صرف اسی ایک کی عبادت کرنا۔
اللہ کا فرمان ہے:
وَأَنِ اعْبُدُونِي ۚ هَٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ2
اور میری ہی عبادت کرو، یہی صراطِ مستقیم ہے۔
2: اللہ کے نبی ﷺ کی پیروی کرنا۔
اللہ کا فرمان ہے:
ۚ وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ3
بیشک آپ صراطِ مستقیم کی رہنمائی کر رہے ہیں۔
لوگو! جس نے عبادتوں میں سے کچھ بھی غیر اللہ کی طرف پھیرا، یا رسول اللہ ﷺ کے طریقے سے ہٹ کر اللہ کی عبادت کی، وہ اللہ کے راستے سے منحرف اور گمراہ ہو گیا۔
مسند احمد کی روایت ہے، ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں:
خَطَّ لَنَا رَسُولُ اللهِ ﷺ خَطًّا، ثُمَّ قَالَ: «هَذَا سَبِيلُ اللهِ»، ثُمَّ خَطَّ خُطُوطًا عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ، ثُمَّ قَالَ: «هَذِهِ سُبُلٌ، عَلَى كُلِّ سَبِيلٍ مِنْهَا شَيْطَانٌ يَدْعُو إِلَيْهِ»، ثُمَّ قَرَأَ: ﴿وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ4
اللہ کے نبی ﷺ نے ہمارے لیے ایک لکیر کھینچی اور فرمایا “یہ اللہ کا راستہ ہے۔ پھر آپ ﷺ نے اس کے دائیں بائیں بہت سی لکیریں کھینچیں اور فرمایا یہ راستے ہیں اور ہر راستے پر ایک شیطان ہے جو اس کی طرف بلا رہا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے یہ آیتِ کریمہ تلاوت فرمائی: اور یہی میرا سیدھا راستہ ہے، لہٰذا تم اسی راہ پر چلو اور دوسری راہوں پر مت چلو کہ وہ راہیں تمہیں اللہ کی راہ سے جدا کر دیں گی، اسی کا تم کو اللہ نے حکم دیا ہے تاکہ تم پرہیزگاری اختیار کرو۔
ایمانی بھائیو! جیسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے اس دنیا میں صراطِ مستقیم مقرر کیا ہے جس میں کوئی کجی نہیں ہے، ویسے ہی وہ قیامت کے دن جہنم کی پیٹھ پر ایک پل صراط نصب کرے گا جس پر سے لوگ گزریں گے۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
«وَتُرْسَلُ الْأَمَانَةُ وَالرَّحِمُ، فَتَقُومَانِ جَنْبَتَيِ الصِّرَاطِ يَمِينًا وَشِمَالًا، فَيَمُرُّ أَوَّلُكُمْ كَالْبَرْقِ قُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، أَيُّ شَيْءٍ كَمَرِّ الْبَرْقِ؟ قَالَ: أَلَمْ تَرَوْا إِلَى الْبَرْقِ كَيْفَ يَمُرُّ وَيَرْجِعُ فِي طَرْفَةِ عَيْنٍ؟ قَالَ: ” أَلَمْ تَرَوْا إِلَى الْبَرْقِ كَيْفَ يَمُرُّ وَيَرْجِعُ فِي طَرْفَةِ عَيْنٍ؟ ثُمَّ كَمَرِّ الرِّيحِ، ثُمَّ كَمَرِّ الطَّيْرِ، وَشَدِّ الرِّجَالِ، تَجْرِي بِهِمْ أَعْمَالُهُمْ وَنَبِيُّكُمْ قَائِمٌ عَلَى الصِّرَاطِ يَقُولُ: رَبِّ سَلِّمْ سَلِّمْ، حَتَّى تَعْجِزَ أَعْمَالُ الْعِبَادِ، حَتَّى يَجِيءَ الرَّجُلُ فَلَا يَسْتَطِيعُ السَّيْرَ إِلَّا زَحْفًا “، قَالَ: «وَفِي حَافَتَيِ الصِّرَاطِ كَلَالِيبُ مُعَلَّقَةٌ مَأْمُورَةٌ بِأَخْذِ مَنِ اُمِرَتْ بِهِ، فَمَخْدُوشٌ نَاجٍ، وَمَكْدُوسٌ فِي النَّارِ» وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ إِنَّ قَعْرَ جَهَنَّمَ لَسَبْعُونَ خَرِيفًا5
“امانت اور قرابت داری کو بھیجا جائے گا، وہ پل صراط کی دونوں جانب دائیں اور بائیں کھڑی ہو جائیں گی۔ تم میں سے اولین شخص بجلی کی طرح گزر جائے گا۔” میں نے پوچھا: “میرے ماں باپ آپ پر قربان، بجلی کی طرح گزرنا کیا ہے؟”تم نے کبھی بجلی کی طرف نہیں دیکھا کس طرح پلک جھپکنے میں گزرتی اور لوٹتی ہے؟” پھر ہوا کے گزرنے کی طرح تیزی سے، پھر پرندہ گزرنے اور آدمی کے دوڑنے کی طرح۔ ان کے اعمال ان کو لے کر دوڑیں گے اور تمہارا نبی پل صراط پر کھڑا ہوا کہہ رہا ہو گا “اے میرے رب! بچا بچا، میری امت کے ہر گزرنے والے کو سلامتی سے گزار دے۔” حتیٰ کہ بندوں کے اعمال ان کو لے کر گزر نہ سکیں گے، یہاں تک کہ ایک ایسا آدمی آئے گا جس میں گھسٹ گھسٹ کر چلنے سے زیادہ کی استطاعت نہ ہو گی۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
وَفِي حَافَتَيِ الصِّرَاطِ كَلَالِيبُ مُعَلَّقَةٌ مَأْمُورَةٌ بِأَخْذِ مَنِ اُمِرَتْ بِهِ، فَمَخْدُوشٌ نَاجٍ، وَمَكْدُوسٌ فِي النَّارِ6
(پل)صراط کے دونوں کناروں پر لوہے کے آنکڑے معلق ہو ں گے ، وہ اس بات پر مامور ہوں گےکہ جن لوگوں کے بارے میں حکم ہو ان کو پکڑ لیں ، اس طرح بعض زخمی ہو کر نجات پا جائیں گے اور بعض آگ میں دھکیل دیے جائیں گے۔
اللہ کا فرمان ہے:
وَإِن مِّنكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا ۚ كَانَ عَلَىٰ رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا٘ ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوا وَّنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا7
تم میں سے ہر ایک وہاں ضرور وارد ہونے والا ہے، یہ تیرے پروردگار کے ذمے قطعی فیصل شدہ امر ہے۔ پھر ہم پرہیزگاروں کو تو بچا لیں گے اور نافرمانوں کو اسی میں گھٹنوں کے بل گرا ہوا چھوڑ دیں گے۔
ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لوگوں کا پل صراط پر تیز یا سست چلنا، دنیا میں اللہ کے صراطِ مستقیم پر تیز یا سست چلنے کے بقدر ہوگا۔ چنانچہ جو یہاں سب سے تیز چلنے والا ہو گا، وہ وہاں بھی سب سے تیز چلنے والا ہوگا۔ اور جو یہاں سب سے سست چلنے والا ہو گا، وہ وہاں بھی سب سے سست چلنے والا ہوگا۔ اور جو یہاں سب سے زیادہ ثابت قدم ہو گا، وہ وہاں بھی سب سے زیادہ ثابت قدم رہے گا۔ اور جسے گمراہ کن خواہشات، شبہات اور بدعات کے خاردار پنجوں نے دنیا میں اچک لیا، اسے وہاں بھی پل صراط پر نصب پنجے اچک لیں گے جو سعدان پودے کے کانٹوں کی طرح ہوں گے۔ اور آدمی پر ان خاردار پنجوں کی تاثیر اسی بقدر ہوگی جس قدر وہ دنیا میں خواہشات، شبہات اور بدعات میں پڑا ہو گا۔
ایمانی بھائیو! بیشک وہ چیزیں جو ہدایت پانے اور اس پر ثابت قدمی برتنے کی توفیق ملنے میں بندے کی اعانت کرتی ہیں، ان میں نبی ﷺ کی سنت پر عمل اور اس کی پابندی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا: “پس آپ جمے رہیے جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا۔” اللہ تعالیٰ کے اس فرمان “جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا” اس پر غور کیجیے کہ جب یہ اللہ کے نبی ﷺ سے کہا گیا ہے تو اس سے پتا چلا کہ استقامت آدمی کی خواہش اور اس کی رغبت کے حساب سے نہیں بلکہ اس کا معیار کتاب و سنت کی پابندی ہے۔ جس نے ان دونوں کو مضبوط پکڑا، نیکیاں کرنے اور برائیاں چھوڑنے کا حریص رہا، اللہ اسے ہدایت کی توفیق دے گا اور اسے گمراہی و ہلاکت کے راستوں سے بچائے گا۔
اللہ کا فرمان ہے:
وَكَذَٰلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِّنْ أَمْرِنَا ۚ مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ وَلَٰكِن جَعَلْنَاهُ نُورًا نَّهْدِي بِهِ مَن نَّشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا ۚ وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ٘ صِرَاطِ اللَّهِ الَّذِي لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ أَلَا إِلَى اللَّهِ تَصِيرُ الْأُمُورُ8
اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف اپنے حکم سے روح کو اتارا، آپ اس سے پہلے یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ کتاب اور ایمان کیا چیز ہے، لیکن ہم نے اسے نور بنایا، اس کے ذریعے سے اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں ہدایت دیتے ہیں۔ اور بیشک آپ صراطِ مستقیم کی رہنمائی کر رہے ہیں۔ اس اللہ کی راہ کی، جس کی ملکیت میں آسمانوں اور زمین کی ہر چیز ہے۔ آگاہ رہو! سب کام اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹتے ہیں۔
اللہ مجھے اور آپ کو قرآن و سنت میں برکتوں سے نوازے، ان میں موجود آیات و حکمت سے مجھے اور آپ کو فائدہ پہنچائے۔ میں اپنی یہ بات کہتا ہوں اور میں اپنے لیے اور آپ سب کے لیے اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں، آپ بھی اس سے مغفرت طلب کریں، یقیناً وہ بڑا بخشنے والا ہے۔
خطبہ ثانی:
ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے، ایسی تعریف جو اس کے چہرے کے جلال اور عظیم سلطنت کے شایانِ شان ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار اور نبی محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اللہ کا درود و سلام نازل ہو آپ پر، آپ کی آل و اصحاب پر، اور ان تمام پر جو تا قیامت ان کے راستے پر چلیں۔
اما بعد!
اے ایمان والو! صراطِ مستقیم کی ہدایت بندے کو صرف اللہ کریم و رحیم کی توفیق سے ہی مل سکتی ہے۔ وہی ہے جو اپنی ہدایت سے جسے چاہتا ہے نوازتا ہے، اور اپنی توحید اور عبادت کے نور سے اس پر انعام کرتا ہے۔ اللہ کا فرمان ہے: “اور اللہ تعالیٰ سلامتی کے گھر کی طرف تم کو بلاتا ہے، اور جس کو چاہتا ہے صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق دیتا ہے
اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَإِنَّ اللَّهَ لَهَادِ الَّذِينَ آمَنُوا إِلَىٰ صِرَاطٍ9
یقیناً اللہ تعالیٰ ہی ایمان والوں کو صراطِ مستقیم کی طرف رہبر کرنے والا ہے۔
پتا چلا کہ اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے،
جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
ن يَشَإِ اللَّهُ يُضْلِلْهُ وَمَن يَشَأْ يَجْعَلْهُ عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ10
اللہ جسے چاہے بے راہ کر دے اور جسے چاہے سیدھی راہ پر لگا دے۔
مسلمانو! اسی لیے ہدایت پانے اور اسے پوری طرح حاصل کرنے کے عظیم ترین ذرائع میں سے ہدایت کے مالک اللہ کی طرف رجوع ہونا اور اسے مضبوط تھامنا ہے۔
اللہ کا فرمان ہے:
وَمَن يَعْتَصِم بِاللَّهِ فَقَدْ هُدِيَ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ11
جو شخص اللہ کو مضبوطی سے پکڑلے تو یقیناً اسے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دی گئی۔
اللہ تعالیٰ سے صراطِ مستقیم پر چلانے کی دعا کرنا، سب سے جامع، نفع بخش، عظیم اور مہتم بالشان دعا ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ فَنِصْفُهَا لِي وَنِصْفُهَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي 12
میں نے نماز اپنے اور اپنے بندے کے درمیان آدھی آدھی تقسیم کی ہے، آدھی میرے لیے اور آدھی میرے بندے کے لیے ہے، اور میرے بندے نے جو مانگا اسے ملے گا۔
مَا سَأَلَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَءُوا يَقُولُ الْعَبْدُ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَمِدَنِي عَبْدِي يَقُولُ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي يَقُولُ الْعَبْدُ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَجَّدَنِي عَبْدِي يَقُولُ الْعَبْدُ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ يَقُولُ اللَّهُ هَذِهِ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ يَقُولُ الْعَبْدُ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ يَقُولُ اللَّهُ فَهَؤُلَاءِ لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ13
جب بندہ ‘الحمد للہ رب العالمین’ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “میرے بندے نے میری تعریف کی”۔ اور جب وہ کہتا ہے ‘الرحمن الرحیم’ تو اللہ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری ثنا بیان کی۔ پھر جب وہ کہتا ہے ‘مالک یوم الدین’ تو اللہ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی۔ پھر جب وہ کہتا ہے ‘ایاک نعبد و ایاک نستعین’ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یہ حصہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے، اور میرے بندے نے جو مانگا اسے ملے گا۔ اور جب وہ کہتا ہے ‘اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْم، صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ، غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّآلِّیْن’ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کو ملے گا جو اس نے مانگا ہے۔
مومنو! جو شخص اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ‘اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْم’ “ہمیں صراطِ مستقیم کی ہدایت دے” اس پر غور کرے، تو یہ بات جان لے گا کہ صراطِ مستقیم کی ہدایت کوئی ایسی منزل نہیں کہ بندہ اسے حاصل کر لینے کے بعد اس سے بے نیاز ہو جائے، بلکہ بندے کو ہمیشہ اس بات کی ضرورت ہے کہ جو کچھ اس نے جانا ہے اس پر عمل کرے، اور جس چیز کی اسے ہدایت دی گئی اس پر ثابت قدم رہے۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ سے ہدایت کی دعا کثرت سے مانگا کرتے تھے، حالانکہ آپ ﷺ تمام مخلوق میں سب سے زیادہ ہدایت یافتہ اور لوگوں میں سب سے کامل تھے۔
اللہ کے نبی جب قیام اللیل کرتے تو اپنی نماز کس دعا سے شروع فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا:
قَامَ مِنْ اللَّيْلِ قَالَتْ كَانَ إِذَا قَامَ مِنْ اللَّيْلِ افْتَتَحَ صَلَاتَهُ اللَّهُمَّ رَبَّ جَبْرَائِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنْ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ14
جب آپ ﷺ رات کو نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنی نماز اس دعا سے شروع فرماتے تھے (دعا کے الفاظ پڑھے گئے جس کا ترجمہ ہے): “اے اللہ… تو جسے چاہتا ہے صراطِ مستقیم کی ہدایت دیتا ہے”۔
مومنو! اللہ تعالیٰ کے فرمان ‘اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْم’ اے اللہ ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت دے، پر غور کرو، اس میں ایک لطیف و باریک نکتہ یہ بھی ہے کہ یہ دعا جمع کے صیغے میں آئی ہے۔ اس میں جماعت اور اجتماعیت کے مفہوم پر تربیت ہے کہ ایک مومن اپنے لیے اور اپنے ساتھ ہی اپنے بھائیوں کے لیے بھی ہدایت کی دعا کرتا ہے۔ اللہ کا دین اپنے ماننے والوں کو متحد کرتا ہے، اور خواہشاتِ نفس اور بدعات کے ذریعے تفرقہ پیدا کرنے سے روکتا ہے۔ لہٰذا صراطِ مستقیم کو لازم پکڑنے کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کی جماعت کو لازم پکڑا جائے، اور تفرقہ و فتنہ کے اسباب سے دور رہا جائے۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے راستے کی پیروی کا حکم دینے کے بعد فرمایا:
وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ ۚ15
اور مختلف راستوں کی پیروی نہ کرنا ورنہ وہ تمہیں اس کے راستے سے جدا کر دیں گے۔
پس فرقہ بندی اور تفرقہ انہی منحرف راستوں کے اثرات میں سے ہے۔ جبکہ قرآن و سنت پر متحد ہونا صراطِ مستقیم کے اثرات میں سے ہے۔
اسی لیے اہل سنت و جماعت کا منہج اس بات پر قائم ہے کہ کتاب و سنت کو مضبوطی سے تھاما جائے، اتحاد و اتفاق کو قائم رکھا جائے، مسلمانوں کے ولی الامر کی اطاعت کی جائے اور دین میں غلو کے راستوں سے دور رہا جائے۔ اور مملکتِ سعودی عرب بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے کتاب و سنت اور اتحاد و اتفاق پر قائم ہے۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی ایسی نعمتیں ہیں جو اس بات کو واجب کرتی ہیں کہ ان پر اللہ کا شکر ادا کیا جائے، اور ان کے تسلسل و بقا کے لیے دعا کی جائے، کیونکہ بیشک اجتماعیت رحمت ہے اور تفرقہ عذاب ہے۔
بھائیو! اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر رحمتوں میں سے یہ بھی ہے کہ صراطِ مستقیم پر استقامت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان خطا اور لغزش سے بالکل محفوظ ہو جائے، کیونکہ ہر ابنِ آدم خطا کار ہے، اور ان خطا کاروں میں سب سے بہتر وہ ہیں جو بہت زیادہ توبہ کرنے والے ہیں۔ لہٰذا جو شخص کسی کوتاہی میں مبتلا ہو، اسے چاہیے کہ فوراً اپنی اصلاح کرے۔ اور جس نے کسی پر ظلم کیا ہو اسے چاہیے کہ مظلوم کا حق اسے واپس لوٹا دے۔ اور جس شخص کو اس کے نفس نے کسی گناہ میں ڈال دیا ہو، اسے چاہیے کہ اس گناہ سے توبہ کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
پس اسی کی طرف سیدھے رہو اور اسی سے بخشش مانگو۔
کامیاب اور توفیق یافتہ بندہ وہ ہے جو غور و فکر کرے، عبرت حاصل کرے اور روزِ محشر کے لیے تیاری کرے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَاللَّهُ يَدْعُو إِلَىٰ دَارِ السَّلَامِ وَيَهْدِي مَن يَشَاءُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ16
اور اللہ سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے اور وہ جسے چاہے صراطِ مستقیم کی ہدایت دیتا ہے۔
اے دلوں کو پھیرنے والے، ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ۔
اے اللہ محمد پر، آپ کی ازواج مطہرات اور آپ کی اولاد پر درود نازل فرما، جس طرح تو نے ابراہیم ؑ کی آل پر درود نازل فرمائی، بیشک تو قابلِ حمد اور بڑی شان والا ہے۔ اور محمد پر، آپ کی ازواج مطہرات اور آپ کی اولاد پر برکت نازل فرما، جس طرح تو نے آلِ ابراہیم پر برکت نازل فرمائی، بیشک تو قابلِ حمد اور بڑی شان والا ہے۔
اے اللہ! خلفائے راشدین ابوبکر، عمر، عثمان اور علی سے راضی ہو جا، اور تمام صحابہ کرام، تابعین اور ان لوگوں سے بھی راضی ہو جا جو قیامت تک اخلاص کے ساتھ ان کی پیروی کریں۔ اور ہمیں بھی اپنے عفو و کرم اور سخاوت سے ان کے ساتھ شامل فرما، اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، اس ملک کو امن، اطمینان، خوشحالی اور کشادگی والا بنا، اور تمام مسلم ممالک کو بھی امن و سلامتی عطا فرما۔
اے اللہ! ہمارے وطنوں میں ہمیں امن عطا فرما، ہمارے سربراہان اور ہمارے حکمرانوں کو توفیق یاب کر اور ہمارے پیشوا اور حکمران کی حق کے ساتھ تائید فرما۔
اے اللہ! ہمارے پیشوا خادم حرمین شریفین کو ان تمام امور کی توفیق عطا فرما جنہیں تو پسند کرتا ہے اور جن سے تو راضی ہو۔ اے اللہ! انہیں اور ان کے امانت دار ولی عہد کو ان تمام کاموں کی توفیق عطا فرما جن میں اسلام کی سربلندی، مسلمانوں کی بھلائی اور ملک و قوم کے لیے خیر ہو۔
اے اللہ! حرمین شریفین اور ان کے زائرین کی خدمت میں جو کچھ وہ پیش کر رہے ہیں اس پر انہیں بہترین بدلہ عطا فرما اور اسلام اور مسلمانوں کی طرف سے انہیں جزائے خیر دے۔
اے اللہ! ہمارے دین، ہماری قیادت اور ہمارے امن و سلامتی کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہمارے امن کے محافظ اور ہماری سرحدوں اور مورچوں پر پہرہ دینے والوں کو توفیق یاب کر۔ اے اللہ اپنے اور ان کے دشمنوں کے مقابلے میں ان کی مدد فرما، اے طاقتور اور زبردست رب۔
اے اللہ! فلسطین میں ہمارے بھائیوں کی پریشانی دور فرما۔ اے اللہ ان کا حامی و ناصر اور معین و مددگار بن جا۔
اے اللہ! مسجدِ اقصیٰ کو ظالموں کے ظلم اور قبضہ گیروں کی جارحیت سے محفوظ رکھ اور اسے قیامت تک بلند و بالا اور معزز رکھ۔
اے اللہ! ہم تجھ سے ہدایت، تقویٰ، پاکدامنی اور بے نیازی کی دعا کرتے ہیں۔
اے اللہ! تمام مسلمان اور مومن مردوں اور عورتوں کو بخش دے، ان میں سے جو زندہ ہیں اور جو وفات پا چکے ہیں سبھی کو بخش دے۔
رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔
خطبہ جمعہ مسجد الحرام
تاریخ: 29 ربیع الاول 1448 ہجری بمطابق 11 ستمبر 2026 عیسوی
خطیب: فضیلتہ الشیخ ماہر المعقیلی حفظہ اللہ
___________________________________________________________________________
