خطبہ اول:
ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے، جو بہت بخشنے والا، بہت محبت کرنے والا، فضل و احسان اور کرم و سخاوت والا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، ایسی گواہی جو کفر و انکار کو مغلوب کرتی ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سردار محمد، اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ آپ ﷺ کی رسالت کا نور نشیب و فراز ہر جگہ روشن ہوا، اور اس نے جہالت کی تاریکی اور اس کی اندھیری راتوں کو چھانٹ دیا۔ درود و سلام نازل ہو آپ پر اور آپ کی آل و اصحاب پر، جب تک فاختہ نغمہ سرا رہے اور عود پر برگ و بار آئے۔
اما بعد!
مسلمانو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اس شخص کی طرح جس نے احکام پر استقامت کی اور منع کردہ چیزوں اور بری باتوں سے رک گیا۔
اللہ کا فرمان ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ1
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو، جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تم ہرگز نہ مرو، مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔
مسلمانو! عرفہ میں وقوف کرنے والوں کو مبارک ہو، مزدلفہ پہنچنے والوں اور وہاں رات گزارنے والوں کو مبارک ہو، منیٰ پہنچنے والوں اور جمرات کی رمی کرنے والوں کو مبارک ہو۔ ان مشاعر پر ٹھہرنے والوں اور ان شعائر کو ادا کرنے والوں کو مبارک ہو۔ اللہ حاجیوں سے ان کا حج اور ان کی کوششیں قبول فرمائے، ان کے حج کو مقبول بنائے، ان کی کوششوں کو قبول کرے، اور ان کے گناہوں کو بخش دے۔
مسلمانو! جو اس سال عرفہ میں وقوف نہ کر سکا اسے چاہیے کہ اللہ کے اس حق کو ادا کرے جس کی وہ معرفت رکھتا ہے۔ جو مزدلفہ میں کسی رکاوٹ کی وجہ سے رات نہ گزار سکا، اسے چاہیے کہ اپنے اس مولیٰ کی سدا اطاعت کرے جو اپنی طرف آنے والوں کو قریب کرتا اور نزدیک رکھتا ہے۔ اور جو ان لوگوں کے ساتھ نہ تھا جو منیٰ میں رات گزار رہے تھے، اسے چاہیے کہ ہمیشہ اپنے رب کی اطاعت کرے، تو ایسا آدمی اپنے مقصد کو پا لے گا۔
اے وہ لوگو! جنہوں نے بیت عتیق کا حج کیا، تم دور دراز جگہوں سے آئے ہو، تم نے بہت دور سے لبیک کہا ہے، اللہ کے فضل سے تمہارا حج پورا ہوا اور تمہارا میل کچیل دور ہو گیا۔ یہ دیکھو تم اپنے گھروں اور ملکوں کو لوٹنے کی تیاری کر رہے ہو، تم برائیوں میں پھر سے ملوث ہونے، گناہوں اور گالی گلوچ کو اپنا شیوہ بنانے سے بچو۔
اللہ کا فرمان ہے:
وَلَا تَكُونُوا كَالَّتِي نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِن بَعْدِ قُوَّةٍ أَنكَاثًا2
تمہاری حالت اس عورت کی سی نہ ہو جائے جس نے آپ ہی محنت سے سوت کاتا اور پھر آپ ہی اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔
ایک کم عقل، بے تدبیر اور ذہنی انتشار میں مبتلا عورت جو صبح و شام بڑی محنت سے اپنا اون کاتتی، اسے سنوارتی اور مسلسل کوشش کرتی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ مضبوط اور عمدہ دھاگہ بن جاتا ہے، تو پھر اس مضبوط دھاگے کو دوبارہ کھول ڈالتی ہے، اور جو مستحکم بنایا تھا اسے بکھیر دیتی ہے، اور اسے مضبوط کرنے کے بعد کمزور کر دیتی ہے، اور ٹھیک کرنے کے بعد بگاڑ دیتی ہے۔ اس کے اس عمل کا نتیجہ سوائے تھکن، مشقت اور محرومی کے کچھ نہیں۔ پس تم اس عورت کی طرح نہ بن جانا کہ جو کچھ تعمیر کیا ہے اسے خود ہی ڈھا دو، جو کچھ جمع کیا ہے اسے برباد کر دو، اور جس کام کو مضبوطی سے انجام دیا ہے اسے اپنے ہی ہاتھوں سے خراب کر بیٹھو۔
بیت اللہ کے حاجیوں! تم نے ایک صاف ستھری نئی زندگی کا آغاز کیا ہے، اپنے حج کے بعد تم نے پاک و پاکیزہ کپڑے پہنے ہیں، لہٰذا تمہیں ہوشیار رہنا چاہیے کہ تم ذلت خیز افعال، ہلاکت انگیز راستے اور برے اعمال کی طرف لوٹو۔ وہ نیکی کیا ہی اچھی نیکی ہے جس کے بعد پھر نیکی ہو، اور وہ برائی کتنی قبیح ہے جو نیکی کے بعد کی جائے۔ تمہارا حج تمہارے لیے ہلاکت کی جگہوں سے رکاوٹ ہو، برباد کرنے والے گناہوں سے روکنے والا ہو، تمہیں مزید نیکیوں اور بھلائیوں کی طرف بلانے والا ہو۔ حسن بصری سے پوچھا گیا: حج مبرور کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ کہ تم دنیا سے بے رغبت ہو جاؤ اور آخرت کی تمہیں رغبت رہے۔
مسلمانو! کیا ہی اچھی بات ہے کہ حاجی اپنے حج کے بعد اپنے اہل خانہ اور ملک کو کامل ترین اخلاق، پختہ ترین عقل، مضبوط ترین وقار، محفوظ ترین آبرو، قابل تعریف خصائل اور کریمانہ اوصاف کے ساتھ لوٹے۔ کیا ہی خوبصورت بات ہے کہ حاجی اپنے حج کے بعد اپنے اہل خانہ کے لیے اچھے برتاؤ والا اور اپنی اولاد کے لیے کریمانہ بود و باش والا بن کر لوٹے۔ اس کا باطن اس کے ظاہر سے اچھا ہو، اس کا پوشیدہ اس کے ظاہر سے زیادہ خوبصورت ہو۔ جو حج کے بعد ان خوبصورت اوصاف کے ساتھ لوٹے، دراصل وہی ہے جس نے حج کی عظیم درسگاہ سے استفادہ کیا۔
مسلمانو! حج کے مناسک اور اس کے اعمال ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ عبادت صرف اللہ کا حق ہے، یہ کسی اور کی طرف نہیں پھیری جا سکتی۔ اس لیے کہ اللہ ہی ہمارا خالق ہے، اسی نے ہمیں وجود بخشا ہے، اور وہی ذات ہے کہ جانیں جس کے سپرد کی جاتی ہیں، چہرے اسی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، ضرورتوں کی طلب، ناپسندیدہ چیزوں سے پناہ لینے اور مصیبتوں کے وقت مدد مانگنے میں مخلوقات اسی کا سہارا لیتی ہیں۔ پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ حاجی اس کے بعد اللہ کے حقوق میں سے کسی ایک بھی حق، جیسے دعا، استغاثہ، قربانی اور نذر وغیرہ کسی اور کی طرف پھیرے؟ اس شخص کا کیا حج ہوگا، جو حج کے بعد مردوں سے مدد طلب کرے، قبروں اور مردوں کے پاس طواف کرے، جن یا شیطان کے لیے قربانی کرے، یا قبر میں پڑے لوگوں کو اپنے اور رب کے درمیان واسطہ بنائے؟ ایسے شخص کا کیا حج جو حج کے بعد شعبدہ بازوں اور جادوگروں کے پاس جائے، نجومیوں، برج شناسی کے دعویداروں اور فال نکالنے والوں کی تصدیق کرے، تعویذ لٹکائے اور گھناؤنی بدعات انجام دے؟ اس شخص پر حج کا اثر کہاں ہے، جو حج کے بعد نمازیں ضائع کر رہا ہے، زکوٰۃ نہیں دے رہا ہے، رشوت اور سود کھا رہا ہے، منشیات کا استعمال کر رہا ہے، رشتے توڑ رہا ہے، ہلاکت خیز برائیوں اور گناہوں میں پڑ رہا ہے؟
پرانے گھر کے حاجیوں! اے وہ لوگو جو اللہ کی حرمت والے گھر کے حج کے دوران احرام کی ممنوعات سے بچے رہے، بہت سی ممنوعات ہمیشہ کے لیے ہیں، سال بھر اور زمانے بھر کے لیے ہیں، ان کے قریب ہونے اور انہیں کرنے سے بچو۔
مسلمانو! جس نے حج میں اللہ کی پکار پر لبیک کہا، اب اسے کسی دعوت، اصول، مسلک اور ایسی آواز پر لبیک ہرگز نہیں کہنا چاہیے جو اللہ کے اس دین کے خلاف ہو، جس کے سوا اللہ کسی سے کوئی اور دین قبول نہیں کرے گا۔ جس نے اللہ کے لیے حج میں لبیک کہا، اسے ہر جگہ اور ہر زمانے میں اللہ کے حکم پر لبیک کہنا چاہیے، چاہے اس کی سواری جس طرف جائے، اور چاہے جدھر کا سفر کرے۔ وہ اس میں کسی تردد کا شکار نہ ہو، اور نہ کسی دوسرے اختیار کو دیکھے، عمل سے نہ رکے اور نہ اکتائے۔ اللہ مجھے اور آپ کو قرآن و سنت کی برکتوں سے نوازے، ان میں موجود آیات و حکمت سے مجھے اور آپ کو فائدہ پہنچائے۔ میں وہ کہہ رہا ہوں جو آپ سن رہے ہیں، اور اللہ سے اپنے لیے، آپ کے لیے اور بقیہ تمام مسلمانوں کے لیے ہر گناہ اور خطا کی مغفرت طلب کرتا ہوں، آپ بھی اس سے مغفرت طلب کریں، بلاشبہ وہ توبہ کرنے والوں کو بہت بخشنے والا ہے۔
خطبہ ثانی:
تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے اپنے فضل و کرم کی طرف پناہ لینے والوں کو پناہ دی۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، وہ اپنی نعمتوں سے اس شخص کو شفا دیتا ہے جو بیماریوں کی دوا سے مایوس ہو چکا تھا۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سردار محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، جس نے ان کی اتباع کی وہ ہدایت پر ہے، اور جس نے ان کی نافرمانی کی وہ گمراہی اور تباہی میں ہے۔ اللہ ان پر، ان کی آل و اصحاب پر بہت زیادہ درود و سلام نازل فرمائے۔
اما بعد!
مسلمانو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، اس سے خوف کھاؤ، اس کی اطاعت کرو اور نافرمانی نہ کرو۔ اللہ کا فرمان ہے: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ۔
اے مدینہ طیبہ کی زیارت کرنے والو! اے اس معزز اور پاکیزہ شہر میں آنے والو! بیشک تم ہجرت کے گھر، سنت کے مرکز، ایمان کی پناہ گاہ، اور بھلائیوں اور برکتوں والی سرزمین میں ہو۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دعا فرمائی:
اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَبْدُكَ وَخَلِيلُكَ وَنَبِيُّكَ، وَإِنِّي عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ، وَإِنَّهُ دَعَاكَ لِمَكَّةَ، وَإِنِّي أَدْعُوكَ لِلْمَدِينَةِ بِمِثْلِ مَا دَعَاكَ لِمَكَّةَ، وَمِثْلِهِ مَعَهُ “. قَالَ : ثُمَّ يَدْعُو أَصْغَرَ وَلِيدٍ لَهُ ؛ فَيُعْطِيهِ ذَلِكَ الثَّمَرَ.3
اے اللہ! بیشک ابراہیم تیرے بندے، تیرے خلیل اور تیرے نبی ہیں، اور میں تیرا بندہ اور تیرا نبی ہوں۔ انہوں نے مکہ کے لیے تجھ سے دعا کی، اور میں مدینہ کے لیے تجھ سے ویسی ہی دعا مانگتا ہوں جیسی انہوں نے مکہ کے لیے مانگی تھی، اور اس کے ساتھ اتنی ہی اور بھی دعا مانگتا ہوں۔
اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے: اے اللہ! اس برکت کے ساتھ دوگنی برکت عطا فرما۔
لوگو! اس شہر کے حق کو پہچانو، اس کی قدر کرو، اس کی حرمت اور تقدس کا لحاظ رکھو، اور یہاں بہترین آداب کے ساتھ پیش آؤ۔
أَبِي هُرَيْرَةَرضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ4
میری اس مسجد میں ایک نماز، مسجد حرام کے علاوہ دوسری مساجد میں ہزار نمازوں سے بہتر ہے۔
یہ فضل، کرم اور احسان کا بیان ہے، اور علماء کے دو اقوال میں سے صحیح ترین قول کے مطابق اس میں فرض اور نفل دونوں شامل ہیں۔
اے اللہ کے بندے! اے وہ شخص جسے علی الاطلاق دنیا کے بہترین دن ملے، اور وہ خواہشات کی بیڑیوں میں جکڑا رہا! اے وہ شخص جس نے نیکیوں اور رحمتوں کے موسموں کو پایا، اور کھیل تماشے اور برائیوں میں لگا رہا! کیا تو نے حج و عمرہ کرنے والوں اور عبادت گزاروں کے قافلے نہیں دیکھے؟ کیا تو نے احرام باندھنے والوں کی انکساری، دعا کرنے والوں کے ہاتھ، اور توبہ کرنے والوں کے آنسو نہیں دیکھے؟ کیا تو نے تلبیہ پکارنے والوں اور تکبیر و تہلیل کرنے والوں کی آواز نہیں سنی؟ تیرے رب کی قسم، مجھے بتا تجھے کس چیز نے مشغول اور غافل کر رکھا ہے؟ اور کس چیز نے تجھے اپنے رب کی اطاعت سے روک رکھا ہے؟
اے گناہوں میں رات و دن گزارنے والے شخص! تو کہتا ہے کہ میں آج یا کل توبہ کروں گا، اس رات کو یاد کر جب تو قبر میں اکیلا رہ جائے گا۔ جب تک مہلت کا وقت ہے جلدی سے توبہ کر لے، گناہوں اور برائیوں سے باز آ جا۔
اللہ کا فرمان ہے:
قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ5
کہہ دو کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بیشک اللہ سارے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے، یقیناً وہ بخشنے والا مہربان ہے۔
اور درود و سلام بھیجو نبی احمد پر جو ہدایت کرنے والے اور تمام مخلوق کی شفاعت کرنے والے ہیں۔ جو کوئی ان پر ایک بار درود بھیجے گا اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ اے اللہ! ہمارے نبی اور سردار محمد پر رحمت و سلامتی نازل فرما۔
اے اللہ! خلفائے راشدین، ہدایت یافتہ ائمہ، عظیم شرف اور بلند مقام والے ابوبکر، عمر، عثمان اور علی سے اور تمام آل و اصحاب سے راضی ہو جا، اور ہمیں بھی ان کے ساتھ شامل فرما۔ اے کرم فرمانے والے، اے عطا کرنے والے۔
اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، شرک اور مشرکین کو ذلیل کر، دین کے دشمنوں کو تباہ و برباد کر۔ ہمارے ملک اور تمام مسلم ممالک کو سازش کرنے والوں کی سازش سے، مکر کرنے والوں کے مکر سے، کینہ پروروں کے کینہ سے اور حسد کرنے والوں کے حسد سے محفوظ رکھ، اے رب العالمین۔ اے میرے رب! اس ملک کو امن والا بنا۔
اے اللہ! ہمارے سربراہ اور حکمران، خادم حرمین شریفین کو ان کاموں کی توفیق دے جو تجھے پسند ہوں اور جن سے تو راضی ہو۔ ان کو نیکی اور تقویٰ کی راہ پر گامزن رکھ۔ اے اللہ ان کو اور ان کے ولی عہد کو اور تمام مسلم حکمرانوں کو ان کاموں کی توفیق دے جن میں اسلام کا غلبہ اور مسلمانوں کی بھلائی ہو۔ اے رب العالمین۔
اے اللہ! ہمارے مریضوں کو شفا دے، مصیبت زدوں کو عافیت دے، اور ہمارے فوت شدگان پر رحم فرما۔ اے رب العالمین۔ اے اللہ! فلسطین میں ہمارے بھائیوں کی مدد فرما، ان کے شکستہ کو جوڑ دے، ان کی مدد میں جلدی کر، اے رب العالمین۔
اے اللہ! ہماری دعا کو سن لے، ہماری پکار کو اپنے حضور پہنچا دے۔ اے کریم، اے عظیم، اے رحیم۔
خطبہ جمعہ مسجد النبوی
تاریخ 19 ذوالحجہ 1447 ہجری بمطابق 05جون 2026 عیسوی۔
خطیب: فضیلۃ الشیخ صلاح بن محمد البدیر حفظہ اللہ
_____________________________________________________________________
