جب لوگ کسی ظالم کو ظلم کرتے ہوئے دیکھیں اور اسے نہ روکیں تو اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟”وَاتَّقُوا فِتْنَۃً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا مِنْکُمْ خَاصَّۃً” کی آیت کی روشنی میں کیا سمجھایا ہے؟ کیا اللہ کا عذاب صرف ظلم کرنے والوں پر ہی آتا ہے؟معاشرے میں ظلم پر خاموش رہنے والے لوگوں کی ذہنیت کیا ہوتی ہے، اور اس کا انجام کیا ہوتا ہے؟کیا ہم صرف دوسروں کو ظالم سمجھتے ہیں؟قیامت کے دن اعضاء کی گواہی کا تصور کیا ہے؟انفرادی اصلاح کا معاشرتی انصاف میں کیا کردار ہے؟اجتماعی عذاب کی وجہ کیا ہے؟
اسی سے متعلقہ
جنت کی صفات قرآن و سنت کی روشنی میں
جنت کی صفات قرآن و سنت کی روشنی میں
وحی کا آغاز اور رسالت کا مرحلہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا آغاز سچے خوابوں کی صورت میں ہوا۔ آپ ﷺ جو خواب دیکھتے وہ روشن...
تقویٰ: ہر حال و کیفیت میں
تقویٰ: ہر حال و کیفیت میں
نماز مومن کا قیمتی خزانہ
نماز اسلام کا ستون اور مومن کا روحانی سہارا ہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “تمہارا سب سے بہترین عمل...
ویلنٹائن ڈے! بے حیائی کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داری
Valentine’s Day! World Obscenity Day and our responsibility۔ محبت کے نام پر منایا جانے والا...
زبان کی حفاظت
زبان کی حفاظت
مصنف/ مقرر کے بارے میں
الشیخ عبداللہ شمیم حفظہ اللہ
آپ نے کراچی کے معروف دینی ادارہ المعہد السلفی سے علوم اسلامی کی تعلیم حاصل کی اورالشھادۃ العالیہ کی سند حاصل کی، بعد ازاں اسی ادارہ میں بحیثیت مدرس خدمات دین میں مصروف ہیں، آپ نے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں گریجویشن کیا، اب دعوت کی نشر و اشاعت کے حوالےسے سرگرم عمل ہیں اور المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر کراچی میں سینئر ریسرچ اسکالر اور الھجرہ آن لائن انسٹیٹیوٹ میں بحیثیت مدرس کام کررہے ہیں۔
