جس طرح رمضان کے یہ چند دن (ایامِ معدودات) تیزی سے گزر گئے، اسی طرح ہماری پوری زندگی بھی لمحوں میں ختم ہو جائے گی۔ یہ فقرہ وقت کی اہمیت اور زندگی کی ناپائیداری کو بیان کرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہر دن کو قیمتی جانیں، نیکیوں میں لگیں، اور غفلت سے بچیں، کیونکہ زندگی بھی چند دنوں کی مہمان ہے۔
اسی سے متعلقہ
درگزر کی حد کیا ہے؟
یہودیوں نے نبی کریم ﷺ کو “السام علیکم” کہا —آپ ﷺ نے کیا جواب دیا؟حضرت عائشہؓ نے بھی...
ربِّ کعبہ کی عبادت
اللہ تعالی کا فرمان ہے: فَلْیَعْبُدُوا رَبَّ ھذَا الْبَیْتِ تو ان پر لازم ہے کہ اس گھر کے رب کی...
اسلامی اخلاق و آداب سورۃ الحجرات کے تناظر میں
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کیسے تھے؟سورۃ الحجرات کو کس دوسرے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور...
امت مسلمہ کی کمزوری کی پیش گوئی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:“قریب ہے کہ اقوام تم پر اس طرح ٹوٹ پڑیں گی جیسے بھوکے...
ایمان اور حسن سلوک کی تعلیم
صبح کے اذکار میں شامل دعائیں انسان کو اللہ پر ایمان اور قیامت کے دن کی یاد دلاتی ہیں۔ من کان یؤمن...
عبادات کی روح: تقوی
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں عبادات کا اصل مقصد تقویٰ کو قرار دیا ہے جیسا کہ فرمایا: يَا أَيُّهَا...
