جس طرح رمضان کے یہ چند دن (ایامِ معدودات) تیزی سے گزر گئے، اسی طرح ہماری پوری زندگی بھی لمحوں میں ختم ہو جائے گی۔ یہ فقرہ وقت کی اہمیت اور زندگی کی ناپائیداری کو بیان کرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہر دن کو قیمتی جانیں، نیکیوں میں لگیں، اور غفلت سے بچیں، کیونکہ زندگی بھی چند دنوں کی مہمان ہے۔
اسی سے متعلقہ
زکوٰۃ ادا کرتے ہوئے یہ غلطی نہ کریں!
زکوٰۃ کے لیے سال گزرنے کی شرط سے کیا مراد ہے؟ سال کا حساب کرتے ہوئے عموماً کون سی غلطی کی جاتی ہے؟...
اسلامی خاندانی نظام کی تباہی بل
قومی اسمبلی میں بجٹ سیشن کے دوران حکومت نے ایک ایسے بل کو منظور کروا لیا ہے جس کی بیشتر شقوں کو...
اللہ کا سب سے بڑا حق: صرف اسی کی عبادت
اللہ تعالیٰ کا بندوں پر سب سے پہلا اور سب سے بڑا حق یہ ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے، اس سے محبت...
ایک دن کشمیر کا باقی دن پاکستان کے
05 فروری یوم یکجہتی کشمیر کو منانے سے آخر کیا فرق آیا ہے؟ کشمیر اور دیگر ممالک کے مسلمانوں کے لیے...
نئے سال کا جشن منانا کیسا ہے؟
نئے سال کی آمد پر خوشی منانے کے پیچھے کیا Logic ہے؟ سالِ نو کا جشن منانا کیوں ناجائز ہے؟ غیر مسلموں...
شادی بیاہ میں اسوہ رسول ﷺ کیا ہے؟
مہندی، شادی، نکاح، رخصتی، ولیمہ سمیت دیگر رسومات میں رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کیا ہیں؟ شیخ محمد افضل...
