سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی وفات پر نبی کریمﷺ نے فرمایا: “عرشِ رحمان ان کی موت پر ہل گیا۔” یہ ان کی عظمت اور اللہ کے ہاں بلند مقام کی علامت تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ کے جنازے کو فرشتوں نے اٹھایا، جس کی وجہ سے وہ بہت ہلکا محسوس ہوا۔
اسی سے متعلقہ
ہجرت مدینہ اور ہجرت پاکستان کے مشترکہ مقاصد
ہجرت مدینہ اور ہجرت پاکستان کے مشترکہ مقاصد
بیت المقدس کی کہانی ، تاریخ کی زبانی
عربوں کی مستقل باشندگی سے لیکر یہودیوں کی آبادکاری تکبیت المقدس (یروشلم) شہر کی تاریخ پانچ ہزار سال...
علامہ بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ، اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی!
شاہ صاحب ـ رحمه الله ـ میں بیک وقت کون کون سی خوبیاں پائی جاتی تھیں؟ شیخ ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ...
نبی کریم ﷺ رمضان کیسے گزارتے تھے؟
نبی کریم ﷺ کی سحری کیسی ہوتی تھی؟ سحری اور افطاری میں آپ ﷺ کا کیا معمول تھا؟ سحری کے بعد کیا کرتے؟...
وحی کا آغاز اور رسالت کا مرحلہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا آغاز سچے خوابوں کی صورت میں ہوا۔ آپ ﷺ جو خواب دیکھتے وہ روشن...
جو مقام سیدنا ابوبکر صدیق کو ملا وہ کسی کو نہیں ملا!
تمام صحابہ کرام میں سب سے افضل صحابیِ رسول ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی کیوں؟ نبی ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری...
مصنف/ مقرر کے بارے میں
الشیخ عثمان صفدر حفظہ اللہ
آپ کراچی کے معروف دینی ادارہ المعہد السلفی سے علوم اسلامی کی تعلیم حاصل کی اورالشھادۃ العالیہ کی سند حاصل کی، جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں گریجویشن کیا، نیز اسلامک بینکنگ اور فنانس میں جامعہ کراچی سے پی ایچ ڈی جاری ہے۔ اب دعوت کی نشر و اشاعت کے حوالےسے سرگرم عمل ہیں اور المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر کراچی کے مدیر ، الھجرہ آن لائن انسٹیٹیوٹ کے مدیر ہیں ، البروج انسٹیٹیوٹ کراچی میں مدرس کی حیثیت سے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔
