[خطبہ اولیٰ]
تمام تعریف اللہ کے لیے ہے، جو اس کا تقرب حاصل کرتا ہے وہ اسے اپنی رحمت سے قریب کر لیتا ہے۔ جو اس کا فرمانبردار اور نیکوکار ہوتا ہے اسے بڑے انعامات سے نوازتا ہے، اور خطاکاروں اور گناہگاروں کی توبہ قبول کرتا ہے۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ ایک ایسے بندے کی طرح جو خلوص، تصدیق اور یقین کے ساتھ گواہی دے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سردار محمد (ﷺ) اللہ کے بندے اور رسول ہیں، جو حسب و نسب کے اعتبار سے سب سے بہترین ہیں۔ اللہ کی رحمت و سلامتی نازل ہو آپ پر، آپ کی آل پر اور آپ کے صحابہ پر۔ ایسی رحمت و سلامتی جس سے دل کا بوجھ ختم ہو جائے۔
اما بعد!
مسلمانو! اللہ سے ڈرو اور ان لوگوں میں سے نہ ہو جاؤ جنہوں نے کوتاہی کی اور گناہ کیا، اور بدبخت اور نامراد لوگوں سے مشابہت بھی اختیار نہ کرو۔
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے، اور تمہیں موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔
دنیا کی حقیقت:
مسلمانو! تم ایسی دنیا میں ہو جو غموں، مصیبتوں اور تکلیفوں سے بھری ہوئی ہے۔ اس کے غم جھلسا دینے والے ہیں، اس کی مصیبتیں چھلک رہی ہیں، اس کے حادثات سخت ہیں اور اس کی مشکلات بھاری ہیں۔ رہائش غیر مامون ہے، اس کے وعدے ٹوٹ جاتے ہیں اور اس کے رشتے کمزور ہیں۔
یہ ایسا گھر ہے جو صرف ایک سراب کی مانند چمکتا ہے، بادل کی طرح گزر جاتا ہے اور چمکتے سراب کی طرح دھوکا دیتا ہے۔ اس کا زوال یقینی ہے، اس کی خوشحالی پائیدار نہیں، اس کی مشقت دور نہیں ہوتی، اس کی آزمائش ختم نہیں ہوتی۔ اس کی رونق مرجھانے والی ہے، اس کے زندہ لوگ فنا ہونے والے ہیں اور اس کے باسی مسافر ہیں۔ کچھ ٹھہرے ہوئے ہیں اور کچھ کوچ کرنے والے ہیں۔
وہ اس میں صرف نشانہ ہیں۔ دنیا انہیں اپنے تیروں سے نشانہ بناتی ہے اور انہیں ہلاک کرتی ہے۔ گویا ان کی حالت پلٹ گئی ہے اور وہ کوچ کرنے کی پکار لگا رہے ہیں۔ قبریں ان کا ٹھکانہ بن گئی ہیں اور ان کے مال و زر وراثت میں تبدیل ہو گئے ہیں۔
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ دنیا شام کو اپنے بچوں کو بہلاتی ہے اور صبح اپنے ساتھیوں کو روتا چھوڑ جاتی ہے؟ دنیا کی لذتیں دھوکا ہیں اور اس کے وعدے جھوٹے ہیں۔ اور دنیاوی زندگی دھوکے کے سوا کچھ نہیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَمَا هَٰذِهِ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَهْوٌ وَلَعِبٌ ۚ وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ ۚ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ1
اور دنیا کی یہ زندگانی تو محض کھیل تماشا ہے ، البتہ آخرت کے گھر کی زندگی حقیقی زندگی ہے کاش! یہ جانتے ہوتے
یہ بے وقعت دنیا محض ایک سایہ ہے جو زوال پذیر ہے اور خواب کی مانند ہے جو آ کے چلا جاتا ہے۔
حدیثِ نبوی:
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ لاَ يَرْفَعَ شَيْئًا مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا وَضَعَهُ2
اللہ پر یہ حق ہے کہ دنیا کی کوئی چیز ترفع و بلندی نہ اختیار کرے مگر یہ کہ وہ اسے پست کر دے۔
یہ ایسا گھر ہے جسے آفتیں بدل دیتی ہیں، مصیبتیں گھیر لیتی ہیں اور مصائب و بلائیں اسے مقدر کر دیتی ہیں۔ موت نے یہاں اپنی تلواریں سونت رکھی ہیں اور لوگوں کے درمیان اپنی ہلاکتیں بکھیر دی ہیں۔ جو ابھی نہیں مرا، وہ بعد میں مرے گا۔
اللہ کا فرمان ہے:
وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّن قَبْلِكَ الْخُلْدَ ۖ أَفَإِن مِّتَّ فَهُمُ الْخَالِدُونَ3
آپ سے پہلے کسی انسان کو بھی ہم نے ہمیشگی نہیں دی، کیا اگر آپ مر گئے تو وہ ہمیشہ کے لئے رہ جائیں گے وہ رہیں گے؟
ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور ہم تمہیں برائی اور بھلائی کے ذریعے آزماتے ہیں اور تم ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے۔“
عبرت کا مقام:
ہم سے پہلے والے کہاں ہیں؟ کہاں ہیں ہم سے پہلے والے لوگ جو زینت اور خوبصورتی تھے؟ ہم نے کتنے ہی زندہ لوگوں کو مردہ دیکھا، اور جلد ہی ہمارے ساتھ بھی وہی ہونے والا ہے جو ہم نے دیکھا۔ ہمارے دوست اور ہم نشین کہاں ہیں؟ ہمارے رفیق اور ہم مجلس کہاں ہیں؟ موت کے تاروں نے انہیں اچک لیا اور موت کے نیزوں نے انہیں گرا دیا۔
اے گناہوں اور غفلتوں میں ڈوبے ہوئے انسان! کیا تم نے اپنے آباؤ اجداد کی قبروں سے عبرت نہیں لی؟ کیا تم نے گزرے ہوئے بھائیوں اور بہنوں سے سبق نہیں سیکھا؟ قبروں کے پاس کھڑے ہو کر دیکھ کہ قبروں میں کتنے مردے پڑے ہوئے ہیں۔ وہ چل بسے اور تم بھی ان کے بعد ہمیشہ نہیں رہو گے۔ اس زندگی میں ہمیشہ رہنا کہاں ہے؟
توبہ کی دعوت:
اللہ کے بندو! موت کے حملہ آور ہونے اور نازل ہونے سے پہلے تیاری کر لو۔ اور موت کے آنے اور قریب ہونے سے پہلے اپنا زادِ راہ لے لو۔ تمہیں فانی دنیا دھوکا نہ دے اور تمہیں باقی رہنے والے گھر یعنی آخرت سے غافل نہ کرے۔ اس کی آرائشیں تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دیں، اس کی لذتیں تمہیں بے خبر نہ کر دیں، اس کے فتنے تمہیں گمراہ نہ کر دیں اور اس کے شیطان اور بہکانے والے تمہیں بہکا نہ دیں۔
اے نافرمان انسان! اپنے حال پر غور کر، اپنے انجام کے بارے میں سوچ اور اس وقت کو یاد کر جب تیرا زمانہ گزر جائے گا، تیری بنیاد اکھڑ جائے گی، تیرا نامہ اعمال کھول دیا جائے گا اور تیری میزان ہلکی پڑ جائے گی۔
کیا تو گناہوں اور نافرمانیوں پر خوش ہوتا ہے اور اس دن کو بھول جاتا ہے جب پیشانیوں سے پکڑ کر لایا جائے گا؟ اور تو جان بوجھ کر گناہ کرتا ہے اور تجھے کوئی پروا نہیں، حالانکہ رب العالمین نے سب کچھ شمار کر رکھا ہے۔ تجھے کس چیز نے بہکایا؟ کس نے تجھے دھوکا دیا؟ کس چیز نے تجھے اپنے مالک کی نافرمانی پر جری کیا؟ کس چیز نے تجھے برباد کیا اور تیرا راستہ بھٹکایا؟ یہاں تک کہ تو نے اس جبار رب کے سامنے وہ کچھ کیا جو اس کے لائق نہیں، حرام کام کیے اور گناہوں کا مرتکب ہوا۔
اے کھیل اور نافرمانی میں مصروف انسان! آخر کب تک تو اپنے مالک کی مخالفت کرے گا اور اعلانیہ گناہ کرے گا؟ کب تک تو نماز ضائع کرے گا اور اکڑ دکھائے گا؟ کب تک تو گناہ کرے گا اور فخر جتائے گا؟ اے جو اپنی خواہشات میں مصروف ہے، اے جو اپنی لذتوں میں مگن ہے، اے جو اپنے اوقات ضائع کر رہا ہے، اے جو اپنے مالک سے اپنی خلوتوں میں نہیں ڈرتا! کب تک تو گناہوں پر پردے ڈالتا رہے گا؟
اے جو خلوت میں گناہ کرتا ہے، اس دن سے ڈر جس میں پیشانیاں بوڑھی ہو جائیں گی۔ اے گناہ چھپانے والے! کیا تجھے شرم نہیں آتی حالانکہ اللہ تجھے خلوت میں دیکھ رہا ہے؟ تیرے رب کی مہلت نے اور تیری برائیوں پر اس کی پردہ پوشی نے تجھے دھوکے میں ڈال دیا۔
اللہ اس شخص پر رحم کرے جس نے دنیا کو ایک اچھی سواری بنایا، جس پر سوار ہو کر وہ جنت کے باغات تک پہنچ جائے اور اس کے ذریعے جہنم اور اس کی کھائیوں سے بچ جائے۔ خوشخبری ہے اس بندے کے لیے جس نے اپنے نفس کا محاسبہ کیا، اپنی موت کے لیے تیاری کی اور اپنی قبر کا سامان تیار کیا، قبل اس کے کہ اس کی مہلت ختم ہو جائے، اس کا عمل منقطع ہو جائے، اور قبل اس کے کہ آنسو بہائے جائیں۔
میں وہی کہتا ہوں جو آپ سن رہے ہیں، اور میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں، آپ بھی اس سے مغفرت طلب کریں، اور مغفرت کے طلبگاروں! کیا ہی کامیابی ہے۔
[خطبہ ثانی]
تمام تعریف اللہ کے لیے ہے، جو اپنے لطف و کرم کی پناہ میں آنے والے کو پناہ دیتا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، جو اپنے فضل سے اس شخص کو شفا دیتا ہے جو اپنی بیماریوں کے علاج سے مایوس ہو چکا تھا۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سردار محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے بندے اور رسول ہیں، جس نے ان کا اتباع کیا وہ ہدایت پر رہا۔
اما بعد:
مسلمانو! اللہ سے ڈرو اور اس کا خوف رکھو، اس کی اطاعت کرو اور نافرمانی مت کرو۔
مسلمانو! اللہ کی طرف پلٹنے میں جلدی کرو اور توبہ کرنے میں عجلت سے کام لو، کیونکہ تمہارا رب بخشنے والا، توبہ قبول کرنے والا ہے۔ وہ اپنے بندوں کے گناہوں کو بار بار بخشتا ہے اور جب بھی بندے بار بار گناہ کرتے ہیں اور توبہ کرتے ہیں وہ انہیں بار بار معاف کرتا ہے۔
اللہ نے فرمایا:
وَاللَّهُ يُرِيدُ أَن يَتُوبَ عَلَيْكُمْ وَيُرِيدُ 4
اور اللہ تمہاری توبہ قبول کرنا چاہتا ہے۔
اللہ کا فرمان ہے:
أَفَلَا يَتُوبُونَ إِلَى اللَّهِ وَيَسْتَغْفِرُونَهُ ۚ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ5
کیا وہ اللہ کے سامنے توبہ نہیں کرتے اور اس سے مغفرت نہیں مانگتے؟ اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
احادیثِ قدسی:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَذَهَبَ اللَّهُ بِكُمْ وَلَجَاءَ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ فَيَسْتَغْفِرُونَ اللَّهَ فَيَغْفِرُ لَهُمْ6
اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم گناہ نہ کرتے تو اللہ تمہیں مٹا دیتا اور ایسی قوم کو لے آتا جو گناہ کرتی، پھر اللہ سے مغفرت مانگتی اور وہ انہیں بخش دیتا۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ سے فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے:
يَا ابْنَ آدَمَ إِنَّكَ مَا دَعَوْتَنِي وَرَجَوْتَنِي غَفَرْتُ لَكَ عَلَى مَا كَانَ فِيكَ وَلَا أُبَالِي يَا ابْنَ آدَمَ لَوْ بَلَغَتْ ذُنُوبُكَ عَنَانَ السَّمَاءِ ثُمَّ اسْتَغْفَرْتَنِي غَفَرْتُ لَكَ وَلَا أُبَالِي يَا ابْنَ آدَمَ إِنَّكَ لَوْ أَتَيْتَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطَايَا ثُمَّ لَقِيتَنِي لَا تُشْرِكُ بِي شَيْئًا لَأَتَيْتُكَ بِقُرَابِهَا مَغْفِرَةً7
اے ابن آدم! جب تک تو مجھے پکارے گا اور مجھ سے امید رکھے گا، میں تجھے معاف کرتا رہوں گا خواہ تیرے گناہ کتنے ہی ہوں، مجھے کوئی پروا نہیں۔ اے ابن آدم! اگر تیرے گناہ آسمان تک پہنچ جائیں، پھر تو مجھ سے مغفرت مانگے تو میں تجھے معاف کر دوں گا۔ اے ابن آدم! اگر تو زمین بھر گناہ لے کر میرے پاس آئے، پھر اس حال میں مجھ سے ملے کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہو، تو میں زمین بھر مغفرت لے کر تیرے پاس آؤں گا۔
یہ ساری باتیں مخلوق پر اللہ کے کرم، اس کی سخاوت اور رحمت کی دلیل ہیں۔ چنانچہ پہلے کی نافرمانیوں کو بعد کی نیکیوں سے مٹاؤ اور وقت نکل جانے سے پہلے توبہ کرنے میں جلدی کرو۔
اللہ مجھے اور آپ سب کو ان لوگوں میں شامل کرے جو سچی توبہ کرتے ہیں۔اور اس طرف رجوع کرتے رہتے ہیں ۔
اور درود و سلام بھیجو ہدایت کرنے والے، تمام انسانیت کے شفیع نبی احمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر ایک بار درود بھیجتا ہے اس کی طرف اللہ دس رحمتیں نازل فرماتا ہے
- اے اللہ! ہمارے نبی اور سردار محمد پر رحمت اور سلامتی نازل فرما۔
- خلفائے راشدین؛ ابوبکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم سے راضی ہو جا۔
- اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا کر۔ شرک اور مشرکین کو ذلیل کر۔ دین کے دشمنوں کو تباہ کر۔
- ہمارے ملک اور تمام مسلم ممالک کی حفاظت فرما۔
- اے اللہ! ہمارے حکمران خادم حرمین شریفین اور ان کے ولی عہد کو ان کاموں کی توفیق دے جو تجھے پسند ہیں اور جن سے تو راضی ہو۔
- اے اللہ! فلسطین میں ظالم حملہ آوروں اور جابر قابضوں کے خلاف ہمارے مظلوم بھائیوں کی مدد فرما۔
- مسجد اقصیٰ کو ناپاک قبضہ کرنے والے یہودیوں کی نجاست سے پاک کر۔
- فلسطین میں ہمارے لوگوں کی حفاظت فرما، ان کو سہارا دے، ان کی جلد مدد فرما۔
- ان کے قیدیوں کو آزاد کر، ان کے بیماروں کو شفا دے اور ان کے شہداء کو قبول فرما۔
اے رب العالمین! ہم پر رحمت والی بارش برسا اور ہمیں نا امید نہ کر۔ اے اللہ! ہماری دعا کو قبول فرما اور ہماری پکار کو بلند فرما۔ اے کریم، اے عظیم، اے رحیم!
خطبہ جمعہ مسجد نبوی
تاریخ: 30 جماد الاول 1447 /21 نومبر 2025
خطیب: فضیلۃ الشیخ صلاح البدیر حفظہ اللہ
____________________________________________________________________________
