اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسانی زندگی کی قدر و قیمت اور اس کے تحفظ پر زور دیتا ہے۔ تفریح اور کھیل کود کے لیے شریعت نے حدود و قیود مقرر کی ہیں تاکہ انسانی جان، مال اور عزت محفوظ رہے۔ لیکن افسوس کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے معاشرے میں کچھ ایسی رسومات اور تہواروں نے جگہ بنا لی ہیں جن کا نہ تو اسلام سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی عقل سلیم سے۔ انہی میں سے ایک “بسنت اور پتنگ بازی” ہے، جسے محض ایک موسمی میلہ قرار دے کر پیش کیا جاتا ہے، حالانک اس کے پیچھے ہلاکتوں، اسراف اور بے راہ روی کی ایک طویل داستان چھپی ہے۔ اس حوالے سے شرعی اور اخلاقی پہلوؤں کا جائزہ لینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
1- بسنت ایک غیر اسلامی تہوار ہے جس کی سرپرستی کرنا قطعاً ناجائز اور حوصلہ شکنی کرنا ایمان کا تقاضہ ہے۔
2- پتنگ بازی اور بسنت کا تہوار مال و جان کے ضیاع، اخلاقی بگاڑ اور معاشرتی خرابیوں کا سبب ہونے کی وجہ سے قطعاً حرام ہے۔
3- پتنگ بازی میں استعمال ہونے والی کیمیائی ڈور محض ایک دھاگہ نہیں بلکہ انسانی گردنوں کے لیے تلوار ہے۔ جو کھیل معصوم راہگیروں اور پھول جیسے بچوں کے گلے کاٹ دے، وہ تفریح نہیں بلکہ خالص وحشت ہے۔
4- یہ تہوار معاشرے میں خوف اور دہشت بٹھاتا ہے، جبکہ کسی مسلمان کو خوف زدہ کرنا قطعاً حرام ہے، نیز چھتوں سے گرنے اور گردن کٹنے کے واقعات بھی انسانی جان کی حرمت کے صریح خلاف ہیں۔
5- میلے کی آڑ میں موسیقی، مخلوط اجتماعات اور ہلڑ بازی جیسے شرعی مفاسد جنم لیتے ہیں، جو معاشرے کی تباہی کا سبب ہیں۔
بیان کیے گئے حقائق سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ بسنت اور پتنگ بازی نہ تو اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے اور نہ ہی عقلِ سلیم اسے قبول کرتی ہے۔ کسی کی جان کو خطرے میں ڈال کر خوشی منانا کسی بھی طور پر دانشمندی نہیں ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم بحیثیت قوم جاگیں اور اس “خونی کھیل” کے خلاف کھڑے ہوں۔ والدین اپنے بچوں کو اس جان لیوا مشغلے سے روکیں اور حکومت اس پر سختی سے پابندی عائد کرے، نہ کہ سرپرستی کرے!
آئیے! اس خونی کھیل اور غیر شرعی رسم کا مکمل بائیکاٹ کر کے اپنی آخرت سنواریں اور انسانی جانوں کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کریں!
