خطبہ اول:
تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جو بلند و برتر ہے، جس نے پیدا کیا اور درست ساخت عطا فرمائی، اور جس نے تقدیر بنائی اور راہ دکھائی، اسی نے دل کی استقامت کو رشد و ہدایت اور تقویٰ کی بنیاد بنایا۔ میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی حمد بیان کرتا ہوں ان بھرپور اور پے در پے نعمتوں اور احسانات پر۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اس اللہ وحدہ لا شریک لہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، جو کچھ آسمانوں، زمین، ان دونوں کے درمیان اور زمین کے نیچے ہے سب اسی کا ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار اور نبی محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اور اس کی مخلوق میں اس کے برگزیدہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو روشن دلائل اور ہدایت کے ساتھ مبعوث فرمایا۔
اے اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد پر اور آپ کے نیک، پرہیزگار اور برگزیدہ آل و اصحاب پر درود و سلام نازل فرما۔ اور ان لوگوں پر بھی جو ان کے طریقے پر چلے اور ان کے نقش قدم کی پیروی کی۔
اما بعد!
اے اللہ کے بندو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، اس سے خوف کھاؤ، اس کی نگرانی کا احساس رکھو، اس کی اطاعت کرو اور اس کی نافرمانی نہ کرو، اور اس کی جناب میں توبہ کرو۔ یاد رکھو کہ تم سب اس کے سامنے حاضر کیے جاؤ گے، اور اس کے حضور جوابدہ ہوگے۔ لہٰذا ہمیشہ اخلاص اختیار کرکے، بہترین عبادت بجا لاکر، سچے دل سے اسی کی طرف رجوع کرکے، اپنے آپ کو اسی کے سپرد کرکے، دل کو سلامت رکھ کر، اور اس کے احکام و نواہی کی پوری تعظیم کرکے اس کی طرف تیز دوڑو، بھاگو۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّهَ فَأَنسَاهُمْ أَنفُسَهُمْ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ1
اور تم ان لوگوں کی طرح مت ہوجانا جنہوں نے اللہ کے احکام کو بھلا دیا تو اللہ نے بھی انہیں اپنی جانوں سے غافل کر دیا اور ایسے ہی لوگ فاسق ہوتے ہیں۔
اے مسلمانو! اللہ تعالیٰ نے انسانی جسم کے ہر عضو کے لیے ایک کمال رکھا ہے جو اس کی زندگی کا سرمایہ، اس کی قوت کا سرچشمہ اور اس کی شادابی کا راز ہے۔ جب یہ کمال ختم ہوجاتا ہے یا اس میں کمی آجاتی ہے، تو انسان پر ویرانی چھا جاتی ہے، اس کی شادابی ماند پڑ جاتی ہے، اس کی رونق پھیکی پڑ جاتی ہے اور تابانی ختم ہوجاتی ہے۔ یہ سب اسی قدر ہوتا ہے جس قدر کمال فوت ہوتا ہے۔ چنانچہ آنکھ کا کمال دیکھنے میں، کان کا کمال سننے میں، اور زبان کا کمال بولنے میں ہے۔
رہا دل تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے عظیم مقام اور بلند مرتبے کو ان الفاظ میں بیان فرمایا:
أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً، إِذَا صَلُحَتْ صَلُحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، وَإِذَا فَسَدَتْ، فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ»2
سنو! جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، جب وہ درست ہو تو پورا جسم درست رہتا ہے، اور جب وہ بگڑ جائے تو پورا جسم بگڑ جاتا ہے، جان لو کہ وہ دل ہے۔
پس دل کا کمال، اس کی راحت، اور اس کی خوشی اللہ تبارک و تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اسی کی طرف رجوع، اسی کی جانب متوجہ رہنے، اس سے شوق رکھنے اور اس سے انس و الفت میں ہے۔ دنیا کی تمام لذتوں میں سب سے بڑی لذت اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی معرفت اور اس کی محبت کی لذت ہے۔ یہی دنیا کی جنت اور اس کی نعمت ہے، اور یہی دنیا کی تمام چیزوں میں سب سے پاکیزہ ہے۔ اور آخرت کی سب سے بڑی لذت، جنت میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا دیدار اور اس کی رضا سے سرفراز ہونا ہے۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی معرفت آنکھوں کی ٹھنڈک، روحوں کی لذت، اور دلوں کی شادمانی ہے۔ دل کے لیے اس کے سوا نہ کوئی لذت ہے، نہ کوئی نعمت، نہ فلاح، اور نہ حقیقی زندگی۔ اور جب اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی معرفت سے دل خالی ہو جائے، تو اس کا بگاڑ، جسم کے اس بگاڑ سے بہت بڑا ہوتا ہے جو روح نکلنے کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ اس حقیقت کو وہی شخص سمجھ سکتا ہے جس کا دل سلامت ہو، کیونکہ مردوں کو درد نہیں ہوتا۔
اور جب دل کے کمال اور اس کی استقامت کا یہ بلند مقام اور عظیم شرف ہے، تو دل کی استقامت حاصل کرنے والے امور کی معرفت ناگزیر ہے۔ خصوصاً ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں کہ دل کی استقامت ہر درستگی کی بنیاد، ہر ہدایت کا ستون اور ہر خیر کا باعث ہے۔ خبردار! اے اللہ کے بندو! دل کی استقامت دو چیزوں سے حاصل ہوتی ہے۔
پہلی چیز: بندے کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی محبت تمام دوسری محبوب چیزوں کی محبت پر مقدم ہو۔ چنانچہ جب اللہ تعالیٰ کی محبت اور کسی دوسری چیز کی محبت میں ٹکراؤ ہو، تو اللہ تعالیٰ کی محبت کو اس کے ماسوا کی محبت پر ترجیح حاصل ہوتی ہے۔ اور اس کے نتیجے میں بندہ اللہ کے احکام و نواہی کی تعظیم بجا لاتا ہے۔ پس جب بندہ اپنی پسند اور خواہش کو اللہ کی پسند اور رضا پر مقدم کرتا ہے، تو اس کا انجام یہ ہوتا ہے کہ اس کی اپنی محبوب چیزیں بھی اس کے لیے بدمزہ ہو جاتی ہیں، اور وہ ان سے کچھ بھی حاصل نہیں کر پاتا۔ بلکہ اس کی مثال اس شخص کی سی ہوتی ہے جو ایسی ناممکن چیز کا طلب گار ہو جو کبھی ممکن ہی نہ ہو، جس تک پہنچنے کی نہ قدرت ہے اور نہ وہاں تک پہنچ پانے کا کوئی ذریعہ و راستہ۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فیصلہ کر رکھا ہے کہ جو شخص اس کے سوا کسی اور چیز کو محبوب رکھے گا، اسے اسی کے ذریعے عذاب دیا جائے گا۔ جو اس کے سوا کسی اور سے ڈرے گا، اسی کو اس پر مسلط کیا جائے گا۔ اور جو اللہ کے سوا اور چیز میں مشغول رہے گا، وہ اس پر نحوست اور وبال بن جائے گی۔
اللہ تعالیٰ کی محبت، اس کا مسلسل ذکر، اسی سے سکون و اطمینان، اور محبت، امید، توکل، اور تمام معاملات میں اسی کو یکتا ماننا، یہی دنیا کی جنت اور ایسی نعمت ہے جس کے جیسی کوئی دوسری نعمت نہیں۔ یہی محبت کرنے والوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ لوگوں کی آنکھیں اللہ عزوجل سے جس قدر ٹھنڈی ہوتی ہیں، اسی قدر اس نعمت سے انہیں آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب ہوتی ہے۔ پس جس کی آنکھ اللہ تعالیٰ سے ٹھنڈی ہوگئی، اس سے ہر آنکھ ٹھنڈی ہوتی ہے، اور جس کی آنکھ اللہ تعالیٰ سے ٹھنڈی نہ ہوئی، وہ دنیا کی حسرت میں اپنے آپ کو ہلاک کر لیتا ہے۔
دوسری چیز جس سے دل کو استقامت حاصل ہوتی ہے، اللہ کے امر اور نہی کی تعظیم ہے۔ یہ تعظیم حکم دینے اور منع فرمانے والی ذات، اللہ عزوجل کی تعظیم سے پیدا ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی مذمت فرمائی ہے جو اس کے امر و نہی کی تعظیم سے اعراض کرتے ہیں۔
چنانچہ ارشاد فرمایا:
مَّا لَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقَارًا3
تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی برتری کا عقیدہ نہیں رکھتے۔
یعنی تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی عظمت سے نہیں ڈرتے اور تمہارے نزدیک اس کی کوئی قدر نہیں۔
اللہ کے بندو! اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام انسانوں کی طرف جو پیغام دے کر بھیجا، اس کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ کے امر و نہی کے سامنے سر تسلیم خم کیا جائے۔ اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب اللہ کے امر کی تعظیم اور پیروی کی جائے، اور اس کے نہی کی تعظیم کی جائے اور اس سے اجتناب کیا جائے۔ اور اس طرح اللہ کے امر و نہی کی تعظیم کرنے والا، ان نیک اور برگزیدہ لوگوں میں شامل ہوتا ہے جن کے ایمان، سچائی، عقیدے کی درستگی، اور شرک سے براءت کی گواہی دی جاتی ہے۔
لیکن جو شخص لوگوں کی نگاہوں میں اچھا بننے، ان کے ہاں بلند مرتبہ حاصل کرنے، ان کی نظروں سے گرنے کے خوف اور دنیاوی سزاؤں سے بچنے کے لیے اوامر کی پابندی کرتا اور نواہی سے اجتناب کرتا ہے، تو اس کا یہ کرنا اور چھوڑنا، اللہ کے امر و نہی کی تعظیم یا حکم دینے اور منع کرنے والی ذات، اللہ کی تعظیم کی بنیاد پر نہیں ہوتا، بلکہ وہ اپنی نفسانی خواہشات پوری کرنے، اپنا مقصد حاصل کرنے اور اپنی مطلوبہ چیز پانے کے لیے ایسا کرتا ہے۔ یہ طرز عمل اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کے منافی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کے خلاف ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اعمال کی قبولیت کی یہی دو شرطیں ہیں۔
پس اے اللہ کے بندو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، اور دلوں کی استقامت کے حریص رہو کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعظیم اس طرح کرو کہ ان کی پیروی اور ان کے سامنے سر تسلیم خم کرو۔ اور اس کے نہی کی تعظیم اس طرح کرو کہ ان سے اجتناب کرو اور اس سے دور رہو۔ ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی محبت، اس کی معرفت اور اس سے قرب حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو اپنی کتاب کے طریقے اور اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے نفع پہنچائے۔ میں اپنی یہ بات کہتا ہوں اور اپنے لیے، آپ سب کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے ہر گناہ سے اللہ عظیم و جلیل سے مغفرت طلب کرتا ہوں، بیشک وہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔
خطبہ ثانی:
تمام تعریف اللہ کے لیے اس کے احسان پر، اور اس کا شکر ہے اس کے انعام پر، اور میں اس کی تعظیم کرتے ہوئے گواہی دیتا ہوں کہ اس اللہ وحدہ لا شریک لہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، جو اس کی رضا کی طرف بلانے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ پر، آپ کے آل و اصحاب پر درود و سلام نازل فرمائے، جو اس کے دین کو مضبوطی سے تھامنے والے اور اس کے نور و ایمان سے روشنی حاصل کرنے والے ہیں، اور خوب خوب سلام نازل فرمائے۔
اما بعد!
اے اللہ کے بندو! اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی کی تعظیم کی ایک علامت جو اس پر دلالت کرتی ہے اور ایک ایسی نشانی جو اس کا پتا دیتی ہے، وہ علامت یہ ہے کہ ان کے اوقات اور حدود کی رعایت کی جائے، ان کے ارکان و واجبات اور ان تمام امور کا اہتمام کیا جائے جن سے وہ کمال کو پہنچتے ہیں۔ ان کے مقررہ اوقات میں ان کی طرف جلدی کی جائے، ان کے واجب ہوتے ہی انہیں ادا کیا جائے، اور ان میں کسی چیز کے فوت ہو جانے پر افسوس، غم اور ندامت محسوس کی جائے۔
اس کی ایک مثال یہ ہے کہ کسی شخص کی جماعت کی نماز فوت ہو جائے تو وہ اس پر غمگین اور افسوس زدہ ہو کہ اس سے ستائیس گنا زیادہ اجر حاصل کرنے کا موقع ہاتھ سے نکل گیا، جو فرق ایک اکیلے نماز پڑھنے اور جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے ثواب میں ہے۔ اسی طرح اگر کسی شخص سے نماز کا اول وقت، یا پہلی صف، یا مسجد تک زیادہ قدم چل کر جانے کا موقع فوت ہو جائے، تو اسے اس پر افسوس ہونا چاہیے، کیونکہ انسان مسجد کی طرف جو قدم بھی اٹھاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کا ایک درجہ بلند فرماتا ہے اور اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے یہاں تک کہ وہ مسجد میں داخل ہو جائے، یا اگر کسی شخص کی نماز میں خشوع و خضوع، حضور قلب فوت ہو جائے، تو اسے اس پر افسوس ہونا چاہیے، کیونکہ خشوع کے بغیر نماز اس مردہ جسم کی مانند ہے جس میں روح نہ ہو، اگرچہ اس سے فرض ادا ہو جاتا ہے۔
نبی ﷺنے فرمایا:
إِنَّ الرَّجُلَ لَيَنْصَرِفُ وَمَا كُتِبَ لَهُ إِلَّا عُشْرُ صَلَاتِهِ تُسْعُهَا ثُمْنُهَا سُبْعُهَا سُدْسُهَا خُمْسُهَا رُبْعُهَا ثُلُثُهَا نِصْفُهَا4
بیشک آدمی نماز سے فارغ ہوتا ہے، حالانکہ اس کے لیے اس کی نماز کا صرف دسواں حصہ لکھا جاتا ہے، یا نواں حصہ، یا آٹھواں حصہ، یا ساتواں حصہ، یا چھٹا حصہ، یا پانچواں حصہ، یا چوتھائی حصہ، یا تہائی حصہ، یا نصف حصہ۔
پس اے اللہ کے بندو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اس کے اوامر و نواہی کی تعظیم کرو۔ اس سے تمہاری زندگی خوشگوار ہوگی، تمہاری گزر بسر راحت و سکون کے ساتھ ہوگی، تمہارے معاملات درست ہوں گے، تم اپنے رب کی رضا حاصل کرو گے، اور کامیاب و کامران لوگوں میں شامل ہو جاؤ گے۔ اور اللہ کے محبوب رسول پر درود و سلام بھیجو کیونکہ اللہ کی کتاب میں تمہیں اسی کا حکم دیا گیا ہے۔
چنانچہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا5
بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔
اے اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد پر درود و سلام نازل فرما۔ اے اللہ! ان کے چاروں خلفائے راشدین، ابوبکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم سے راضی ہو جا، اور تمام آل و اصحاب اور تابعین سے بھی راضی ہو جا، اور آپ کی ازواج امہات المؤمنین اور ان لوگوں سے بھی جو قیامت کے دن تک بھلائی کے ساتھ ان کی پیروی کریں۔ اے اکرم الاکرمین! اے عفو و کرم اور احسان والے! اپنے احسان کے ذریعے ہمیں بھی ان سب کے ساتھ شامل فرما۔
اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما، انہیں غلبہ عطا فرما، دین کی حرمت کی حفاظت فرما، اپنے موحد بندوں کی مدد فرما، مسلمانوں کے دلوں میں الفت پیدا فرما، ان کی صفوں کو متحد فرما، ان کے قائدین کی اصلاح فرما، اے رب العالمین! انہیں حق پر متحد فرما۔ اس ملک اور تمام اسلامی ممالک کو امن و اطمینان کی سرزمین بنا دے۔ اے اللہ! ہمارے وطنوں میں ہمیں امن عطا فرما، ہمارے پیشواؤں اور ہمارے حکمرانوں کی اصلاح فرما، اور ہمارے امام و حاکم خادم حرمین شریفین کی حق کے ساتھ تائید فرما اور انہیں توفیق سے نواز، ان کے لیے نیک مشیر عطا فرما، اور انہیں ان کاموں کی توفیق دے جنہیں تو پسند کرتا اور جن سے تو راضی ہوتا ہے۔ اے دعاؤں کے سننے والے! اے اللہ! انہیں اور ان کے ولی عہد کو ان امور کی توفیق عطا فرما جن میں اسلام اور مسلمانوں کی بھلائی ہو، اور جن میں ملک و قوم اور تمام بندوں کے لیے دنیا و آخرت میں ہر طرح کی فوری اور آئندہ کی بھلائی ہو۔ اے وہ ذات جس کی طرف قیامت کے دن سب کو لوٹ کر جانا ہے۔
اے اللہ! اس ملک کی حفاظت فرما جو ہر خیر سے بہرہ مند ہو، اور ہر شر سے محفوظ رہے۔ اے اللہ! اس کے تمام علاقوں میں امن و استحکام ہمیشہ قائم رکھ، اسے سازشیں کرنے والوں کی چالوں، جارحیت کرنے والوں کی زیادتیوں سے محفوظ فرما، اور تمام اسلامی ممالک کی بھی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہماری سرحدوں پر تعینات ہمارے فوجیوں کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! انہیں ان کے آگے سے، ان کے پیچھے سے، ان کی دائیں سے، ان کی بائیں سے، اور ان کے اوپر سے ہر طرح سے محفوظ فرما۔ اور ہم تیری عظمت کی پناہ چاہتے ہیں اس بات سے کہ وہ اپنے نیچے سے اچانک ہلاک کر دیے جائیں۔ اے اللہ! ان کے زخمیوں کو شفا عطا فرما، ان کے شہداء پر رحم فرما۔ اے جلال و اکرام والے! اے اللہ! تو ان کا مددگار و معاون بن جا۔ اے رب العالمین! جس طرح تو چاہے اپنے اور ہمارے دشمنوں کے مقابلے میں ہمارے لیے کافی ہو جا۔ اے اللہ! ہم تجھے ان کے مقابلے میں کرتے ہیں، اور ان کے شر سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔ اے اللہ! اسی دہشت گردوں کی گرفت فرما۔ اے کتاب نازل کرنے والے، بادلوں کو چلانے والے، اور لشکروں کو شکست دینے والے، جھوٹے مجرم حوثیوں کو، اے اللہ! پکڑ لے، انہیں شکست دے، انہیں جھنجھوڑ کر رکھ دے، اور ان کی مدد کرنے والوں کو بھی۔ اے معبود برحق! اے اللہ! ان کی جمعیت کو منتشر کر دے، ان کی شیرازہ بندی بکھیر دے، اور ان پر بدترین انجام مسلط فرما۔ اے قوی و عزیز!
اے اللہ! مسجد اقصیٰ کو آزاد فرما۔ اے اللہ! فلسطین میں مسلمانوں کی حفاظت فرما۔ اے جلال و اکرام والے! ان کا مددگار، پشت پناہ، تائید اور نصرت کرنے والا بن جا۔ ہم نے اپنے اوپر بڑا ظلم کیا ہے اے ہمارے رب! ہم نے اپنا بڑا نقصان کیا، اور اگر تو ہماری مغفرت نہ کرے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو واقعی ہم نقصان پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔ اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور رسول، ہمارے نبی محمد پر، آپ کی آل اور تمام اصحاب پر درود و سلام نازل فرمائے۔ اور تمام تعریف اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔
خطبہ جمعہ مسجد الحرام
تاریخ: 19 جمادی الاول 1448 ہجری بمطابق 30 اکتوبر 2026 عیسوی
خطیب: فضیلۃ الشیخ أسامہ خیاط حفظہ اللہ
_________________________________________________________________
