اصلاحِ نفس و معاشرہ

والدین کی اطاعت و فرمانبرداری

پہلا خطبہ :

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، جس نے ہمیں پیدا کیا اور ہدایت بخشی، جس نے یہ حکم دیا کہ ہم صرف اسی کی عبادت کریں اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کریں۔ جس نے ہمیں نیکی و بھلائی اور تمام حقوق کی ادائیگی کا حکم دیا، اور شرک، فسق و فجور اور نافرمانی سے منع فرمایا۔ ہم اس کی نعمتوں پر حمد بجالاتے ہیں، ایسی حمد جو اسے محبوب ہو اور جس سے وہ راضی ہو ۔ ہم اپنے نفس کی برائی اور اپنے برے اعمال سے اللہ تعالی کی پناہ چاہتے ہیں۔ جس شخص کو اللہ تعالیٰ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں، اور جسے وہ گمراہ کر دے، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔

 اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ جنہوں نے اللہ کے پیغام کو لوگوں تک پہنچایا، اپنی ذمہ داری کو اچھی طرح سے نبھایا اور امت کی اصلاح و خیر خواہی میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور آخری سانس تک اللہ کی راہ میں کما حقہ جہاد کرتے رہے۔

 بہت زیادہ درودو سلام نازل ہوں آپ پر، آپ کی آل، صحابہ کرام، اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر۔

اما بعد !

 سب سے بہترین کلام اللہ کا ہے، اور سب سے بہترین راستہ محمد بن عبد اللہ ﷺ کا راستہ ہے، اور سب سے بدترین امور دین میں نئی ایجادات ہیں، اور ہر بدعت گمراہی ہے ، اور ہر گمر اہی جہنم تک لے جانے والی ہے۔

اللہ کے بندو! بے شک اللہ نے بنی نوع انسان کو اپنی اطاعت کے لیے پیدا کیا ہے ، جو کہ اس کی رضامندی کا موجب ہے اور اپنی نافرمانی سے منع فرمایا جو کہ اس کی ناراضی کا باعث ہے۔ پس جو شخص ذرہ برابر خیر کا عمل کرے گا وہ اس کو پالے گا، اور جو ذرہ برابر برائی کرے گاوہ اس کو بھی دیکھ لے گا۔ پس اللہ سے اس کے اوامر سے متعلق ڈرو، اور اس نے جس چیز سے روکا اور منع کیا ہے اس سے رک جاؤ۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ1

“اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو، جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تم ہر گزنہ مرو، مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو “۔

اے لوگو! یقینا اللہ تعالی نے عدل و احسان اور ہر حق دار کو اس کا حق دینے کا حکم دیا ہے، ارشادِ باری تعالی ہے:

وَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا2

” اور رشتے داروں کا اور مسکینوں اور مسافروں کا حق ادا کرتے رہو اور اسراف اور بے جا خرچ سے بچو۔“

اور ارشاد فرمایا:

فَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ ذَلِكَ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ3

(اے مسلمانو!) اپنے قرابت والے کو، مسکین اور مسافر کو اس کا حق دو۔ یہ بات ان لوگوں کے لئے بہتر ہے جو اللہ کی رضا چاہتے ہیں اور یہی لوگ کامیاب ہوں گے “۔

بے شک وفاداری، حق شناسی، جود و سخا، حسن اخلاق، اعلی خوبیوں، اور بلند اقدار میں سے یہ ہے کہ بھلائی کو یاد رکھا جائے، اس کا بدلہ دیا جائے، اور احسان کا بدلہ احسان سے دیا جائے۔ ارشاد باری تعالی ہے:

هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ 4

احسان کا بدلہ احسان کے سوا کیا ہے؟

اور ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ” جو شخص تمہارے ساتھ نیکی کرے اس کو اس کا پورا بدلہ دو، اگر تم بدلہ دینے کے لیے کچھ نہ پاؤ تو اس کے لیے اس قدر دعا کر دو کہ تمہیں لگے کہ تم نے بدلہ چکا دیا ہے “۔ (احمد)۔

اللہ کے بندو!بے شک اللہ رب العالمین نے نکاح کو مشروع اور زنا کو حرام قرار دیا ہے۔ کئی ایک حقوق اور مشقت بھری ذمہ داریاں والدین کو سونپی ہیں، چنانچہ انہیں بچوں کی دیکھ بھال اور تربیت کا مکلف بنایا ہے۔ اور ان کے دلوں میں بچوں کے لیے محبت، رحمت اور شفقت و مہربانی ودیعت کر دی ہے۔ لہذا انسان کو چاہیے کہ وہ اس بات کو یادر کھے کہ اس کے والدین نے اس کی خوشی کے لیے کتنی مشقتیں جھیلیں، اس کی راحت و آرام کے لیے کتنی تھکن اور صعوبتیں برداشت کیں، اس کی اچھی نیند کی خاطر کتنی نیندیں قربان کیں، اس کی شکم سیری کی خاطر کتنے فاقے کالے، اس کی سیرابی کے لیے کتنے پیاسے رہے اور اس کی راحت و طمانیت کے لیے کتنے خطرات برداشت کیے۔

اللہ نے اس کے بدلے میں والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے، ان کی صحبت اختیار کرنے، ان کے ساتھ احسان کرنے اوران کے لیے بازو پست رکھنے کو فرض قراردیا ہے۔ بلکہ اللہ نے ان کے حق کو اپنے حق کے ساتھ، ان کی رضامندی اورخوشی کو اپنی رضامندی کے ساتھ اوران کی ناراضی کو اپنی ناراضی کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ اور جنت کو ماؤں کے قدموں کے نیچے رکھ دیا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:

وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَالجَارِ ذِي الْقُرْبَى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ  بِالجُنْبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ5

“اور اللہ کی بندگی کرو اور اس کا شریک کسی کو نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ سے بھلائی کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور پاس کے ہمسائے اور دور کے ہمسائے اور کروٹ کے ساتھی اور راہ گیر اور اپنی باندی غلام سے بھلائی کرو۔“

اللہ کے بندو! بے شک والدین کے حقوق کا خیال کرنا، ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا، ان کے لیے اپنے بازو کو پست رکھنا اور ان پر شفقت و مہربانی کرنا ۔ خصوصا جب وہ معذور اور بوڑھے ہو جائیں۔ عظیم اور واجبی حقوق، اورعمدہ و محبوب ترین نیک اعمال میں سے ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے :

وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ هُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَريماً * وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا6

اور تیرارب فیصلہ کر چکا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو، اور اگر تیرے سامنے ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اف بھی نہ کہو اور نہ انہیں جھڑ کو اوران سے ادب سے بات کرو۔ اور ان کے سامنے شفقت سے عاجزی کے ساتھ جھکے رہو اور کہو اے میرے رب! جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔

مسلمانو! اللہ تعالی نے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کی ہے، اور اچھائی کے ساتھ ان کے ساتھ رہنے کا حکم دیا ہے، اگر چہ وہ کا فر ہی کیوں نہ ہوں، ارشادِ باری تعالی ہے:

وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهُنَا عَلَى وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ (١٤) وَإِنْ جَاهَدَاكَ عَلَى أَنْ تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبُهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا7

اور ہم نے انسان کو اپنے والدین سے (نیک سلوک کرنے کا) تاکیدی حکم دیا۔ اس کی ماں نے اسے کمزوری پر کمزوری سہتے ہوئے ( اپنے پیٹ میں ) اٹھائے رکھا اور دو سال اس کے دودھ چھڑانے میں لگے (اسی لئے یہ حکم دیا کہ میرا شکر ادا کرو اور اپنے والدین کا بھی (آخر) میرے پاس ہی ( تجھے ) لوٹ کر آنا ہے۔

 اور فرمایا :

وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا حَتَّى إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَبَلَعْ أَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَى وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّقٍ إِنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ (۱٥) أُولَئِكَ الَّذِينَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَنَتَجَاوَزُ عَنْ سَيِّئَاتِهِمْ فِي أَصْحَابِ الْجَنَّةِ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِي كَانُوا يُوعَدُونَ8

اور ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے کی تاکید کی، اس کی ماں نے اسے ناگواری کی حالت میں اٹھائے رکھا اور اسے ناگواری کی حالت میں جنا اور اس کے حمل اور اس کے دودھ چھڑانے کی مدت تیس مہینے ہے، یہاں تک کہ جب وہ اپنی پوری قوت کو پہنچا اور چالیس برس کو پہنچ گیا تو اس نے کہا اے میرے رب مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر انعام کی ہے اور یہ کہ میں وہ نیک عمل کروں جسے تو پسند کرتا ہے اور میرے لیے میری اولاد میں اصلاح فرما دے، بیشک میں نے تیری طرف توبہ کی اور بیشک میں حکم ماننے والوں سے ہوں۔

 اللہ کے بندو! والدین کے ساتھ صلہ رحمی کرنا، ان سے سچی محبت کرنا، ان کے ساتھ نرمی برتنا، بہت زیادہ حسن سلوک کرنا، ان کی تسکین خاطر کے لیے کوشاں رہنا، اور ان کے جذبات و احساسات کا خیال رکھنا یہ سب ان کے ساتھ اچھے برتاؤ میں شامل ہیں، اور ان کے ساتھ براسلوک کرنا، ان کی نافرمانی کرنا اور ان کے حقوق و معاملات میں کو تاہی برتنا حسن سلوک کی ضد ہے۔

مسلمانو! اللہ کی رضا والدین کی رضا میں ہے، اور اس کی ناراضی والدین کی ناراضی میں ہے، عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “اللہ تعالی کی خوشنودی والد کی خوشنودی میں ہے، اور اللہ کی ناراضی والد کی ناراضی میں ہے“۔ (اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے)۔ اور ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “والد جنت کا درمیانی دروازہ ہے، لہذا اس دروازے کا خیال رکھو“۔ (اسے امام حاکم نے روایت کیا ہے)۔

اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ناک خاک آلود ہو ، پھر ناک خاک آلود ہو ، پھر ناک خاک آلود ہو“، کہا گیا: کس کی؟ اے اللہ کے رسول! تو آپ ﷺ نے فرمایا: “اس شخص کی جس نے اپنے والدین میں سے کسی ایک کو یادونوں کو بڑھاپے میں پایا، پھر بھی ان کی خدمت کر کے ) جنت میں داخل نہ ہو سکا۔ (مسلم)۔

اللہ کے بندو! والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا ایک عظیم عبادت ہے، قربتِ الہی کا ایک اہم ذریعہ ہے، اور اللہ کے نزدیک ایک پسندیدہ عمل ہے جیسا کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا: اللہ تعالی کے نزدیک کون سا عمل سب سے زیادہ پسنددیدہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : “وقت پر نماز پڑھنا“۔ پوچھا: پھر کون سا؟ فرمایا: ”والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا“، پوچھا پھر کون سا؟ فرمایا: ”اللہ کے راستے میں جہاد کرنا“۔ (بخاری و مسلم)۔

رسول اللہ ﷺ نے والدین کے مقام کی اتنی تاکید بیان فرمائی کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے سے بھی اسے بڑا قرار دیا، جیسا کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس جہاد کی اجازت طلب کرنے کے لیے آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: “کیا تمہارے والدین زندہ ہیں ؟“ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر ان کی خدمت بجالانے میں جہاد کرو“۔ (بخاری و مسلم)۔

اسی طرح حضرت معاویہ بن جاہمہ سلمی سے روایت ہے کہ (میرے والد محترم) حضرت  جاہمہ سلمی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اورکہنے لگے: اے اللہ کے رسولﷺ! میرا جنگ کے لیے جانے کا ارادہ ہے، میں آپ سے مشورہ لینے کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیری والدہ ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے پاس ہی رہ (اور خدمت کر)۔ اس کے پاؤں تلے جنت ہے۔“(نسائی)۔

والدین کے ساتھ حسن سلوک سے مصیبتیں ٹل جاتی ہیں اور دعائیں قبول ہوتی ہیں جیسا کہ اسیر بن جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہا: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس جب بھی یمن کا امدادی لشکر آتا تو عمر رضی اللہ عنہ ان سے پوچھتے کہ: کیا تمھارے اندر اویس بن عامر ہیں؟ یہاں تک کہ (ایک جماعت میں) اویس بن عامر آگئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: کیا آپ اویس بن عامر ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا آپ قبیلہ مراد اور خاندان قرن سے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا آپ کو برص کی بیماری تھی جو کہ ایک درہم جگہ کے علاوہ ساری ٹھیک ہو گئی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: کیا آپ کی والدہ ہیں ؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ : ” تمہارے پاس اولیس بن عامر یمن کی کمک کے ساتھ آئیں گے جو قبیلۂ مراد اور خاندانِ قرن سے ہوں گے، ان کو برص کی بیماری تھی، جو ایک درہم جتنی جگہ کے علاوہ ساری ٹھیک ہو گئی۔ ان کی والدہ ہیں اور وہ اپنی والدہ کے بڑے فرماں بردار ہیں۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ پر قسم کھا لیں تو اللہ تعالی ان کی قسم پوری فرما دے گا۔ اگر تم سے ہو سکے تو ان سے اپنے لیے دعائے مغفرت کروانا“۔ لہذا آپ میرے لیے مغفرت کی دعا فرما دیں۔اویس قرنی رحمتہ اللہ علیہ نے عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے لئے دعائے مغفرت کر دی۔ (مسلم)۔

 اے اللہ! اے جہانوں کے پالنے والے! ہمیں اور ہمارے والدین کو معاف فرما۔

دوسرا خطبہ :

 تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو بہا دیا ہے اور پردہ پوشی کرنے والا ہے، جس نے ہمیں اخلاقی اقدار وروایات عطا کیں اور جس نے ہمارے نبی محمد ﷺ کو مبعوث فرما کر مکارم اخلاق کی تکمیل فرمائی، جو بشارت سنانے والے، ڈرانے اور روشن چراغ کی مانند تھے۔

 بے شمار درود و سلام نازل ہوں آپ ﷺ پر، آپ کی تمام آل اور صحابہ کرام پر۔

اللہ کے بندو! والدین کے ساتھ حسن سلوک کا سلسلہ ان کی موت کے ساتھ ختم نہیں ہو جاتا، بلکہ ان کی وفات کے بعد ان کے عہد و پیمان کو پورا کرنا، ان کے قرض کو ادا کرنا، ان کے لیے صدقہ کرنا، دعائیں کرنا، احسان و بھلائی کرنا اور ان کے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنا بھی حسن سلوک کا حصہ ہے۔ ابو اسید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیٹھا تھا کہ اسی اثنا میں انصار کا ایک آدمی آپ ﷺ کے پاس آیا اور والدین کی نافرمانی کی پاداش میں ہونے والی سزائے الہی سے بچو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالی گناہوں میں سے جسے چاہتا ہے قیامت تک مؤخر کرتا ہے سوائے والدین کی نافرمانی کے اللہ تعالی والدین کے نافرمان شخص کو موت سے پہلے زندگی ہی میں نافرمانی کی سزا دے دیتا ہے“۔ (اسے حاکم نے روایت کیا ہے)۔

اور حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”انسان کے ماں باپ دونوں، یا ان میں کوئی ایک فوت ہو جائے اور وہ انسان دونوں کا نافرمان رہا ہو، لیکن اگر وہ (ان کی موت کے بعد) ان کے لیے مسلسل دعا اور استغفار کرتا رہے تو اللہ تعالی اسے فرماں بردار لکھ لیتا ہے۔“ (اسے بیہقی نے روایت کیا ہے)۔

اللہ کے بندو! والدین کی نافرمانی ایک عظیم گناہ ہے، اس کی نحوست بڑی خطرناک ہے، اس کا انجام جہنم کا عذاب ہے، والدین کی نافرمانی کرنے والا نہ جنت میں داخل ہو گا اور نہ قیامت کے دن اللہ تعالی اس کی طرف نظر رحمت کرے گا، والدین کی نافرمانی کرنے والے پر تو اللہ تعالی نے لعنت بھیجی ہے جیسا کہ ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ” کیا میں تمہیں سب سے بڑے کبیرہ گناہوں کے بارے میں نہ بتلاؤں؟ کیا میں تمہیں سب سے بڑے کبیرہ گناہوں کے بارے میں نہ بتلاؤں؟ کیا میں تمہیں سب سے بڑے کبیرہ گناہوں کے بارے میں نہ بتلاؤں؟ صحابہ کرام نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالی کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا“۔ آپ ﷺ ٹیک لگائے ہوئے تھے، پھر بیٹھ گئے اور یہ فرمایا: ”اور جھوٹی بات“۔ آپ ﷺ نے اتنی بار یہ جملہ دوہرایا کہ ہم نے کہا: کاش اب آپ ﷺ خاموش ہو جائیں۔ (بخاری و مسلم)۔

اللہ کے بندو!والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا واجب الاداء حق ہے اور ایسا قرض ہے جس کی ادائیگی واجب ہے۔ یہ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے۔ لہذا اس میں کوئی کوتاہی مت کرو اور اس میں جو کچھ خرچ کر رہے ہو اسے زیادہ نہ سمجھو، کیوں کہ یہی دونوں تمہارے وجود کا سبب ہیں، ارشاد باری تعالی ہے:

هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْاِحْسَانُا9

احسان کا بدلہ احسان کے سوا کیا ہے؟

 اے اللہ ! ہمیں، ہمارے والدین کو اور جن کا بھی ہم پر کوئی حق ہے، انہیں معاف فرما اور ہمارا نام نیک اور صالح لوگوں میں درج فرمالے۔

 اے اللہ! تو ہمیں والدین کے ساتھ ان کے جیتے جی اور وفات کے بعد بھی حسن سلوک کرنے اور ان کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرما اور ان کے ساتھ ہمیں بھی اپنی جائے رحمت میں جگہ دے۔

 اے اللہ ! تو ہم سے اور ان سے راضی ہو جا، ہمیں ان کی رضا عطا فرما، ہماری طرف سے انھیں بہترین بدلہ عطا فرما اور ہمیں اور انھیں نیک اعمال کا وافر حصہ عطا فرما۔

اے اللہ ! ایمان کو ہمارے لیے محبوب بنادے، اسے ہمارے دلوں میں مزین کر دے، کفر اور فسق و فجور کو ہمارے لیے قابل نفرت بنادےاور ہمیں ہدایت یافتہ لوگوں میں شامل کرلے۔

اے اللہ ! اے دلوں کے پھیرنے والے ! تو ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ ، اے دلوں کے پھیرنے والے اللہ ! تو ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت و بندگی کی طرف پھیر دے۔

 اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر دینا اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، یقینا تو ہی سب سے بڑا عطا کرنے والا ہے۔

 اے اللہ ! اسلام اور مسلمانوں کو قوت عطا فرما، اپنے توحید پرست بندوں کی مدد فرما اور اس ملک کو اور دیگر اسلامی ممالک کو امن و امان کاگہوارہ بنا۔

 اے اللہ! تو ہمیں اپنے اپنے ملکوں میں امن و سکون عطا فرما، ہمارے ائمہ اور حکمراں کی اصلاح فرما، تو ہمارے فرماں روا خادم حر مین شریفین کو اپنی خاص توفیق سے نواز، ان کی مدد فرما اور انھیں صحت و عافیت عطا کر ، اے سارے جہاں کے پالنہار !۔

اے اللہ! انہیں اور ان کے ولی عہد کو اپنے پسندیدہ امور کی توفیق دے۔ اے دعا قبول کرنے والے ! ہماری دعا قبول فرما، بے شک تو سننے والا اور جاننے والا ہے۔ ہماری توبہ قبول فرما، بے شک تو توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

اے اللہ ! تو ہمارے نبی محمد ﷺپر ان کی آل اور تمام صحابہ کرام پر رحمتیں نازل فرما۔

خطبة الجمعة مسجد النبوی ﷺ :

فضیلة الشیخ ڈاکٹرعبداللہ بعیجان حفظه اللہ
4 جمادی الاول 1444 ھ  30 ستمبر 2022

_________________________________________________________________

  1. آل عمران – 102
  2. الاسراء – 26
  3. الروم – 38
  4. لرحمٰن – 60
  5. النساء – 36
  6. الاسراء – 24
  7. لقمان – 14/15
  8. الاحقاف – 15/
  9. لرحمٰن – 60
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبداللہ بن عبدالرحمٰن بعیجان حفظہ اللہ

آپ مسجد نبوی کے امام و خطیب ہیں، آپ ایک بلند پایہ خطیب اور بڑی پیاری آواز کے مالک ہیں۔جامعہ محمد بن سعود الاسلامیہ سے پی ایچ ڈی کی ، پھر مسجد نبوی میں امام متعین ہوئے اور ساتھ ساتھ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کلیۃ الشریعۃ میں مدرس ہیں۔

Share
Published by
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبداللہ بن عبدالرحمٰن بعیجان حفظہ اللہ

Recent Posts

کیا قبر میں پیارے نبیﷺ کی زیارت کرائی جاتی ہے؟

کیا قبر میں سوالات کے دوران نبی کریم ﷺ کی زیارت کرائی جاتی ہے؟ کیا…

1 day ago

اسباب اختیار کرتے ہوئے یہ غلطی ہرگز نہ کریں!

اسباب اختیار کرتے ہوئے کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟ "فلاں ڈاکٹر کے ہاتھ میں…

6 days ago

منافقین کی صفات اور نفاق کا ظہور

مدینہ میں نفاق کا ظہور کب اور کیوں ہوا؟منافقین کی سب سے بنیادی اور خطرناک…

1 week ago

اللہ کے اسماء وصفات کی معرفت

 خطبہ اول: یقیناً تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، وہ اکیلا اور بے نیاز ہے،…

1 week ago

چند جامع نصیحتیں

 خطبہ اول: تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جو بقا و ابدیت میں منفرد ہے۔…

1 week ago

مہنگائی کیوں؟

قدرتی وسائل سے بھرپور پاکستان معاشی بحران کا شکار کیوں ہے؟ ہماری بدحالی کی بنیادی…

1 week ago