رمضان المبارک کے اختتام پر آٹھ اہم نصیحتیں
ماہِ رمضان المبارک اپنے اختتام کے قریب ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں ہم نے روزے رکھے، نمازیں پڑھیں، قرآن کی تلاوت کی اور مختلف نیک اعمال انجام دیے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس مبارک مہینے کا بہترین انداز میں اختتام کریں، کیونکہ اسلام میں اعمال کے خاتمے کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ ام المؤمنین عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالْخَوَاتِيمِ1
ترجمہ: بے شک اعمال کا دارومدار ان کے خاتمے پر ہوتا ہے۔
اسی لیے ہمیں چاہیے کہ رمضان کے آخری دنوں کو بھی عبادت، ذکر اور نیکیوں سے آباد رکھیں۔ اس سلسلے میں چند اہم نصیحتیں پیش کی جاتی ہیں:
1۔ آخری دنوں میں عبادت میں کمی نہ آنے دیں
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ رمضان کے آخری دنوں میں عید کی تیاریوں اور مصروفیات کی وجہ سے عبادت میں کمی آ جاتی ہے، حالانکہ ایک مؤمن کے لیے ضروری ہے کہ وہ رمضان کے آخری لمحات تک عبادت اور نیکیوں پر ثابت قدم رہے۔اس لیے رمضان کے آخری دنوں میں انسان کو چاہیے کہ اپنے دل کو سستی اور کمزوری سے بچائے اور عید کی مصروفیات کو اپنے دل و دماغ پر اس طرح غالب نہ آنے دے کہ وہ رمضان کے آخری ایک دو دنوں میں نمازِ قیام، تلاوتِ قرآن یا لوگوں کے ساتھ احسان جیسے نیک اعمال کو ترک کر دے۔یاد رکھنا چاہیے کہ نیک عمل پر آخر تک ثابت قدم رہنا اللہ تعالیٰ کے ہاں قبولیت کی علامتوں میں سے ہے۔ اور نبی کریم ﷺ کا طریقہ بھی یہی تھا کہ آپ نیک اعمال کو ہمیشہ جاری رکھتے اور انہیں ترک نہیں کرتے تھے۔ چنانچہ صحیح مسلم میں ام المؤمنین عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا عَمِلَ عَمَلًا أَثْبَتَهُ 2
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ جب کوئی نیک عمل کرتے تو اسے ہمیشہ جاری رکھتے تھے۔
“أثبته” کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ اسے خوب اچھی طرح ادا کرتے، اسے مضبوطی سے انجام دیتے اور اس پر پابندی کے ساتھ قائم رہتے تھے۔
اسی طرح یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اس مبارک مہینے کے آخری دنوں میں فرشتے بندوں کے اعمال کے صحیفے لپیٹ کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کرتے ہیں۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے آپ کو ان لوگوں میں شامل رکھیں جو آخر تک اللہ کی اطاعت پر قائم رہتے ہیں، تاکہ اللہ تعالیٰ ہمارے اعمال کو قبول فرما لے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
أَحَبُّ الأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ 3
ترجمہ: اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے، اگرچہ کم ہی کیوں نہ ہو۔
لہٰذا رمضان کے بعد بھی نماز، قرآن، صدقہ اور دیگر نیک اعمال کو جاری رکھنا چاہیے۔
2۔ رمضان کے بعد بھی نیک اعمال جاری رکھنے کا عزم
نیک عمل پر پابندی اختیار کرنا، چاہے وہ کم ہی کیوں نہ ہو، اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہے۔ چنانچہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ام المؤمنین عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
أَحَبُّ الأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ 4
ترجمہ: اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے، اگرچہ وہ کم ہی کیوں نہ ہو۔
سیدنا علقمة بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:
سَأَلْتُ أُمَّ المُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ، قُلتُ: يا أُمَّ المُؤْمِنِينَ، كيفَ كانَ عَمَلُ النبيِّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ، هلْ كانَ يَخُصُّ شيئًا مِنَ الأيَّامِ؟ قالَتْ: لَا، كانَ عَمَلُهُ دِيمَةً 5
میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا:اے ام المؤمنین! رسول اللہ ﷺ کے اعمال کیسے ہوتے تھے؟ کیا آپ کچھ دنوں کو خاص عبادت کے لیے مقرر کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا:نہیں، بلکہ آپ کا عمل ہمیشہ جاری رہتا تھا۔”
اسی طرح رمضان کے بعد بھی نیک اعمال کو جاری رکھنے میں ایک بڑی مددگار بات یہ ہے کہ انسان یہ یقین رکھے کہ یہ رمضان میں کیے گئے اعمال کی قبولیت کی علامت ہے۔ کیونکہ نیکی کی قبولیت کی نشانی یہ ہے کہ اس کے بعد بھی انسان کو نیکی کی توفیق ملتی رہے۔
جناب عروة بن الزبير رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
إذَا رَأَيْت الرَّجُلَ يَعْمَلُ الْحَسَنَةَ فَاعْلَمْ أَنَّ لَهَا عِنْدَهُ أَخَوَاتٍ، فَإِنَّ الْحَسَنَةَ تَدُلُّ عَلَى أُخْتِهَا6
ترجمہ : جب تم کسی شخص کو کوئی نیکی کرتے دیکھو تو سمجھ لو کہ اس کے پاس اس نیکی کی اور بہنیں بھی ہیں، کیونکہ ایک نیکی دوسری نیکی کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔”
اسی طرح امام ابن قيم الجوزية فرماتے ہیں:
الحسنات والسيئات آخذ بَعْضهَا برقاب بعض يَتْلُو بَعْضهَا بَعْضًا ويثمر بَعْضهَا بعض، وقَالَ بعض السّلف: إِن من ثَوَاب الْحَسَنَة الْحَسَنَة بعْدهَا وَإِن من عِقَاب السَّيئَة السَّيئَة بعْدهَا 7
ترجمہ:نیکیاں اور برائیاں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہوتی ہیں؛ ایک دوسرے کے پیچھے آتی ہیں اور ایک دوسرے کو جنم دیتی ہیں۔اور بعض سلف صالحین نے فرمایا: نیکی کا ایک بدلہ یہ بھی ہے کہ اس کے بعد مزید نیکی کرنے کی توفیق ملے، اور گناہ کی سزا یہ ہے کہ اس کے بعد مزید گناہ سرزد ہوں۔
اسی طرح یحییٰ بن معاذ الرازی فرماتے ہیں:
من استغفر بلسانه وقلبه على المعصية معقود، وعزمه أن يرجع إلى المعصية بعد الشهر ويعود، فصومه عليه مردود، وباب القبول في وجهه مسدود 8
ترجمہ: جو شخص زبان سے استغفار کرے لیکن اس کا دل گناہ پر قائم ہو، اور وہ یہ ارادہ رکھتا ہو کہ رمضان کے بعد پھر گناہ کی طرف لوٹ آئے گا، تو اس کا روزہ مردود ہے اور قبولیت کا دروازہ اس کے لیے بند ہے۔”
لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ رمضان کے بعد بھی نیک اعمال جاری رکھنے کا پختہ ارادہ کرے۔
3۔ لوگوں کو معاف کرنا اور دل صاف کرنا
لوگوں کو معاف کرنا اور دل سے بغض و کینہ نکال دینا مومن کی بڑی صفات میں سے ہے۔ یہ نہ صرف ہمارے دل کو سکون اور اطمینان دیتا ہے بلکہ اللہ کی رضا اور مغفرت کا سبب بھی بنتا ہے۔ جو شخص دوسروں کو معاف کرتا ہے، اللہ بھی اسے اپنی نعمتوں اور رحمتوں سے نوازتا ہے، اور اس کے اعمال جنت میں بلند مقام پاتے ہیں۔لہٰذا جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دے، اسے چاہیے کہ وہ بھی لوگوں کو معاف کرے اور درگزر سے کام لے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
إِنْ تُبْدُوا خَيْرًا أَوْ تُخْفُوهُ أَوْ تَعْفُوا عَنْ سُوءٍ فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِيرًا 9
ترجمہ: اگر تم کسی بھلائی کو ظاہر کرو یا اسے چھپاؤ یا کسی برائی کو معاف کر دو تو بے شک اللہ بہت معاف کرنے والا اور قدرت رکھنے والا ہے۔
ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالی ہے:
وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَن يَغْفِرَ اللہُ لَكُمْ وَاللہُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ 10
ترجمه : انھیں چاہئے کہ وہ ان کو معاف کردیں اور ان سے درگزر کریں۔ کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں معاف کردے۔ اور اللہ بڑا بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
اسی طرح لوگوں کو معاف کرنا اور آپس کی دشمنی اور کدورت کو ختم کرنا جنت میں داخلے کا بھی ایک اہم سبب ہے۔ کیونکہ بندوں کے اعمال اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو معاف فرما دیتا ہے، مگر وہ لوگ جن کے درمیان باہمی دشمنی اور رنجش ہو، ان کی مغفرت مؤخر کر دی جاتی ہے۔چنانچہ صحیح مسلم میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، إِلَّا رَجُلًا كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ، فَيُقَالُ: أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا 11
ترجمہ: پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور ہر اس بندے کو بخش دیا جاتا ہے جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا، سوائے اس شخص کے جس کے اور اس کے بھائی کے درمیان دشمنی ہو۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے: ان دونوں کو مہلت دو یہاں تک کہ یہ آپس میں صلح کر لیں۔
4۔ صدقۂ فطر ادا کرنا
صدقہ فطر سب پر فرض ہے، چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا، مرد ہو یا عورت، آزاد ہو یا غلام، بشرطیکہ اس کے پاس روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے کی استطاعت ہو۔ اور یہ فرض رسول اللہ ﷺ نے رمضان کے آخری دنوں میں مقرر فرمایا۔ چنانچہ سیدنا عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
فرضَ رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ زَكاةَ الفطرِ طُهرةً للصَّائمِ منَ اللَّغوِ والرَّفثِ وطعمةً للمساكينِ، مَن أدَّاها قبلَ الصَّلاةِ فَهيَ زَكاةٌ مقبولةٌ ومن أدَّاها بعدَ الصَّلاةِ فَهيَ صدقةٌ منَ الصَّدقاتِ12
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے صدقۂ فطر کو فرض قرار دیا تاکہ یہ روزہ دار کو لغو اور بےہودہ باتوں سے پاک کرے اور مسکینوں کے لیے کھانے کا ذریعہ بنے۔ جس نے نمازِ عید سے پہلے یہ ادا کر دیا، اس کا یہ قبول شدہ صدقہ ہے اور جس نے نماز کے بعد ادا کیا تو وہ ایک عام صدقہ ہے(صدقہ فطر نہیں۔ )
5۔ کثرت سے استغفار کرنا
رمضان کے اختتام پر استغفار کی بہت اہمیت ہے، کیونکہ یہ روزوں اور عبادتوں میں ہونے والی کوتاہیوں کو پورا کرتا ہے۔خلیفۂ راشد جناب عمر بن عبد العزيز رحمہ اللہ اپنے گورنروں کو یہ نصیحت لکھ کر بھیجاکرتے تھے:
اخْتِمُوا رَمَضَانَ بِالِاسْتِغْفَارِ وَصَدَقَةِ الْفِطْرِ، فَإِنَّ الْفِطْرَ طُهْرَةٌ لِلصَّائِمِ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفَثِ، وَالِاسْتِغْفَارُ يُرَقِّعُ مَا تَخَرَّقَ مِنَ الصِّيَامِ 13
ترجمہ: رمضان کا اختتام استغفار اور صدقۂ فطر کے ساتھ کرو، کیونکہ صدقۂ فطر روزہ دار کو لغو اور بےہودہ باتوں سے ہونے والی آلودگی سے پاک کر دیتا ہے اور اور استغفار روزے میں لغو اور فضول باتوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی کمی اور نقص کو پورا کر دیتا ہے۔
6۔ عید کی رات تکبیر کہنا
اللہ تعالیٰ نے عید کی رات میں تکبیر کهنا اور اسے مساجد میں بلند آواز سے کہنا فرض کیا تاکہ اللہ کی بڑائی کی تعظیم ہو اور اس کے عطا کردہ احسانات کا شکر ادا ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ14
ترجمہ: رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو تمام لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور اس میں ہدایت اور حق و باطل میں امتیاز کرنے والے واضح دلائل موجود ہیں۔ لہٰذا تم میں سے جو شخص اس مہینہ کو پالے اس پر لازم ہے کہ پورا مہینہ روزے رکھے۔ ہاں اگر کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں سے گنتی پوری کرسکتا ہے (کیونکہ) اللہ تمہارے ساتھ نرمی کا برتاؤ چاہتا ہے سختی کا نہیں چاہتا۔ (بعد میں روزہ رکھ لینے کی رخصت اس لیے ہے) کہ تم مہینہ بھر کے دنوں کی گنتی پوری کرلو۔ اور جو اللہ نے تمہیں ہدایت دی ہے اس پر اس کی بڑائی بیان کرو۔ اور اس لیے بھی کہ تم اس کے شکرگزار بنو۔
تكبیر كهنے كا وقت
يَبدأُ وقتُ تكبيرِ عيدِ الفِطرِ بغُروبِ شَمسِ ليلةِ العِيدِ 15
ترجمہ: تکبیرِ عیدِ الفطر کا وقت عید کی شب سورج کے غروب ہوتے ہی شروع ہو جاتا ہے۔
وقتِ تکبیر کے بابت فقہاء کے اقوال
امام نووی رحمه الله فرماتے هیں :
أمَّا أول وقتِ تكبير عيد الفِطر، فهو إذا غربتِ الشمسُ ليلةَ العيد، هذا مذهبُنا، ومذهبُ سعيد بن المسيَّب، وأبي سَلَمةَ، وعروة، وزيد بن أسلمَ 16
ترجمه : جہاں تک عیدِ الفطر کی تکبیر کا آغاز ہے، اس کا وقت عید کی شب سورج غروب ہوتے ہی شروع ہوتا ہے۔ یہی ہمارا طریقه عمل ہے اور جناب سعید بن المسيب، ابو سلمہ، عروة، اور زید بن اسلم رحمہم اللہ کا بھی یہی فتوی ہے ۔
شیخ ابنُ عُثَيمين رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
استحبابُ التكبير في ليلة العيد من غروبِ الشَّمس آخِرَ يوم من رمضان إلى حضورِ الإمام للصلاةِ 17
عید کی رات میں تکبیر کرنا مستحب ہے، اور یہ رمضان کے آخری دن سورج غروب ہوتے ہی شروع ہو کر امام کے عید کی نماز کے لیے آنے تک جاری رہتی ہے۔
شیخ ابنُ عُثَيمين رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
التكبيرُ يومَ العيد يَبتدئ من غروب الشَّمس آخرَ يوم من رمضان، إلى أنْ يَحضُرَ الإمامُ لصلاة العيد 18
ترجمہ : عید کے دن کی تکبیر رمضان کے آخری دن سورج غروب ہوتے ہی شروع ہوتی ہے اور اس وقت تک جاری رہتی ہے جب تک امام عید کی نماز کے لیے نہ آ جائیں۔
امام ابنُ حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
التكبيرُ ليلةَ عيد الفطر: فرضٌ، وهو في ليلةِ عيد الأضحى: حسنٌ 19
ترجمہ: عید الفطر کی رات میں تکبیر کہنا فرض ہے، اور عید الاضحیٰ کی رات میں یہ عمل مستحب اور اچھا ہے۔
7۔ عید کی مبارکباد دینا
عید کی مبارکباد دینا ایک خوشی اور محبت کا اظہار ہے۔ اس سے دلوں میں محبت اور بھائی چارہ بڑھتا ہے۔ صحابہ کرام ﷺ کی طرح ہم بھی ایک دوسرے سے کہہ سکتے ہیں:
تَقَبَّلَ اللَّهُ مِنَّا وَمِنْكَ
یعنی اللہ ہمارے اور آپ کے اعمال کو قبول فرمائے۔
یہ چھوٹے الفاظ دل کو خوشی دیتے ہیں اور عید کے خوشگوار ماحول کو بڑھاتے ہیں۔
اور یہ بات صحابہ کرام سے بھی ثابت ہے ۔چنانچه ابن عدی نے واثلہ سے روایت کی کہ وہ عید کے دن رسول ﷺ سے ملے توانہوں نے کہا:
تقبل الله منا ومنك
اور رسول ﷺ نے جواب میں فرمایا:
نعم تَقَبَّلَ اللہُ مِنَّا وَمِنْكَ
جی ہاں، اللہ ہمارے اور آپ کے اعمال کو قبول فرمائے۔
سیدنا جُبیر بن نفیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللہُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اِلْتَقَوْا يَوْمَ الْعِيدِ يَقُولُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: تَقَبَّلَ اللہُ مِنَّا وَمِنْك 20
ترجمہ: صحابۂ رسول ﷺ عید کے دن جب ایک دوسرے سے ملتے، تو ایک دوسرے سے کہتے:
تَقَبَّلَ اللہُ مِنَّا وَمِنْكَ
اللہ ہمارے اور آپ کے اعمال کو قبول فرمائے۔
جناب علی بن ثابت الجزری رحمۃ اللہ علیہ (صدوق حسن الحدیث)كهتے هیں :میں نےامام مالک بن انس رحمۃ اللہ علیہ سے عید کے دن لوگوں کے “تَقَبَّلَ اللَّهُ مِنَّا وَمِنْكُمْ” کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا:ہمارے ہاں(مدینے میں) اسی پر عمل جاری ہے،ہم اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے۔21
امام شعبہ بن الحجاج رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ مجھے عید کے دن یونس بن عبید ملے تو کہا: “تَقَبَّلَ اللَّهُ مِنَّا وَمِنْكُمْ”22
جناب محمد بن زياد الا لہانی(ابوسفیان المحصی ) كهتے هیں :
كنا نأتي أبا أمامة وواثلة بن الأسقع في الفطر والأضحى ونقول لهما : قبل الله منا ومنكم فيقولان: ومنا ومنكم
ہم عید الفطر اور عید الاضحیٰ میں سیدنا ابوامامہ اور سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جاتے تو کہتے:
“تَقَبَّلَ اللَّهُ مِنَّا وَمِنْكُمْ”
“اللہ ہمارے اور تمہارے(اعمال) قبول فرمائے ،تو وہ دونوں جواب دیتے:اللہ ہمارے اور تمہارے(اعمال) قبول فرمائے ۔ 23
8۔ اعمال کی قبولیت کی امید اور رد ہونے کا خوف
مسلمان ان بابرکت دنوں میں اپنے رب سے دعا کرتا ہے کہ اللہ اس کے روزے، قیام اور نیک اعمال قبول فرمائے۔ جب وہ کوئی نیک عمل کرتا ہے تو اللہ کے حکم کے مطابق کرتا ہے، لیکن یہ نہیں سوچتا کہ یہ عمل ضرور قبول ہو گیا، بلکہ رغبت کے ساتھ قبولیت کی امید اور خوف کے ساتھ رد ہونے کا اندیشہ رکھتے ہوئے اسے انجام دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ24
یعنی وہ نیک کاموں میں آگے بڑھتے تھے، ہمارے در پر رغبت اور خوف کے ساتھ دعا کرتے تھے اور ہمارے سامنے عاجزی سے کھڑے ہوتے تھے۔
ترمذی اور ابن ماجہ نے صحیح سند کے ساتھ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: یہ آیت
وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ 25
کس کے بارے میں ہے؟ رسول ﷺ نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں جو روزہ رکھتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں اور صدقہ دیتے ہیں، اور انہیں خوف ہے کہ یہ قبول نہ ہو جائیں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
كونوا لقبول العمل أشد اهتماماً منكم بالعمل، ألم تسمعوا إلى قول الحق عز وجل:
إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ 26
اعمال کے قبول ہونے کی زیادہ دھیان اور فکر کرنا عمل کرنے سے زیادہ ضروری ہے۔ کیا تم نے اللہ کا یہ ارشاد نہیں سنا:
إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ 27
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ رمضان کی آخری رات میں پکارا کرتے تھے۔
يا ليت شعري! من هذا المقبول منَّا فنهنيه، ومن هذا المحروم فنعزيه، أيها المقبول هنيئاً لك، أيها المحروم جبر الله مصيبتك 28
ترجمہ : کاش مجھے معلوم ہوتا کہ ہم میں سے وہ کون ہے جس کا عمل قبول کیا گیا تو ہم اسے مبارکباد دیں، اور وہ کون ہے جو محروم رہا تو ہم اسے تعزیت کریں۔ اے قبول کیے جانے والے! تجھے مبارک ہو، اے محروم! اللہ تیری مصیبت (محرومی) کا ازالہ فرمائے.
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے روزے، نمازیں، صدقات اور تمام عبادات کو قبول فرمائے اور ہمیں رمضان کے بعد بھی نیکیوں پر قائم رکھے۔ آمین۔
________________________________________________________________________________________________
عید کی خوشی کیسے منائیں؟ عید کا چاند دیکھ کر نبی کریم ﷺ کیا کرتے…
رمضان میں عید کی شاپنگ پر جانے کے حوالے سے شریعت کیا رہنمائی کرتی ہے؟…
عصرِ حاضر میں اسلامی بینکاری کے نام پر متعدد مالی مصنوعات (Financial Products) متعارف…
وہ کون شخص ہے جو قیامت کے دن کامیاب ہوگا، اور کامیابی کے لیے کیا…
نقدی رقم، بینک اکاؤنٹ میں پڑی رقم، شیئرز، بانڈز، کاروباری اثاثہ جات، جائیداد اور باقیہ…