عمل اور نیت
خطبہ اول:
ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے، اس نے عمل کرنے والوں کو اپنی طاعت کی توفیق دی اور ان پر اپنی بھرپور بڑی نعمتوں کا فیضان کیا اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں وہ کمال و تمام میں منفرد ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں نماز پڑھنے والوں اور روزہ رکھنے والوں میں آپ سب سے بہتر ہیں اے اللہ! درود و سلام نازل فرما آپ پر اور آپ کے نیک و معزز آل و اصحاب پر، امّا بعد! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اے لوگو، اللہ تمہارے درجات بلند کرے گا تمہارے گناہ مٹائے گا اور تمہیں بھرپور اجر سے نوازے گا
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يُكَفِّرْ عَنْهُ سَيِّئَاتِهِ وَيُعْظِمْ لَهُ أَجْرًا1
اور جو شخص اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کے گناہ مٹا دے گا اور اسے بڑا بھاری اجر دے گا۔
اے بندے! عظیم ترین نعمتوں میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر احسان کرے کہ تم رمضان کا آخری عشرہ پاؤ جس کی بڑی فضیلت اور جس کے اندر طاعتوں کے عظیم مرتبے پر نصوص دلالت کرتی ہیں یہ وہ راتیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے لیلۃ القدر کی بناء پر فضیلت بخشی ہے جو کہ عظیم شان والی اور بڑی فضیلت والی ہے
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:
إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ٘ وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ٘ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ2
یقیناً ہم نے اسے شبِ قدر میں نازل فرمایا تم کیا جانو کہ شبِ قدر کیا ہے؟ شبِ قدر ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔
اسی لیے ہمارے نبی ﷺ اس عشرے میں ایسی محنت کرتے تھے جو وہ دوسرے دنوں میں نہیں کرتے تھے صحیحین میں ہے کہ آپ ﷺ جب آخری عشرہ داخل ہوتا آپ رات کو جاگتے، اہل خانہ کو بیدار کرتے اور اپنی کمر کس لیتے
آپ ﷺ نے فرمایا:
تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْوِتْرِ مِنْ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ3
شب قدر کورمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں ڈھونڈو۔
آپ ﷺ شبِ قدر کی تلاش میں آخری عشرے میں اعتکاف کرتے تھے۔
اللہ تم پر رحم کرے فائدوں اور کامیابیوں کے زمانے کو غنیمت جانو کہ فضیلت والے موسموں کے ایام گنے چنے ہیں مہینے کے جو حصے باقی رہ گئے ہیں ان میں تلافیِ مافات کرو نیکیاں کر کے اور گناہوں کے مٹانے کے ذرائع اختیار کر کے غنیمتوں کی طلب میں کوشش کرو
مسلمانوں! یقیناً ہمارا رب کرم کرنے والا رحم کرنے والا ہے جو اس کی ہدایت سے روشنی طلب کرے وہ اسے ہدایت دیتا ہے جو اس کا ہو کر رہ جائے وہ اس کے لیے کافی ہے اور جو اس کے در پر پڑاؤ ڈال دے وہ اسے پناہ دیتا ہے اور جو اس سے اعراض برتتا ہے وہ اسے بلاتا ہے چنانچہ بھلائیوں کے حصول میں محنت کرو نیک عمل کرنے میں جلدی کرو اور زمین اور آسمانوں کے رب کی بارگاہ میں توبہ کرو
آپ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ4
جس نے ایمان کی حالت اور ثواب کی نیت سے شبِ قدر میں قیام کیا اس کے پچھلے گناہ بخش دیے گئے۔
میرے مسلمان بھائی! متقیوں اور نیک لوگوں کے بیچ مقابلہ آرائی کے میدان میں رہ کہ یہ قیامت کے دن کے لیے نیک لوگوں کی جائے تجارت اور تقویٰ کی کھیتی ہے اور اس سفر کے لیے زادِ سفر کے حصول کا مقام ہے جو عام سفروں کی طرح نہیں چنانچہ جلدی کرو کیا گھاٹا ہے اس شخص کے لیے جو غفلت و کوتاہی میں جیئے اور کیا ہی ناکامی ہے اس کے لیے جو ان ربانی فضیلتوں اور الٰہی جھونکوں کو ضائع کر دے
اللہ کے نبی ﷺ منبر پر چڑھے اور تین مرتبہ آمین کہا جب آپ منبر سے اترے اور اس بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: میرے پاس جبریل آئے اور کہا
أَنْفُ رَجُلٍ دَخَلَ عَلَيْهِ رَمَضَانُ ثُمَّ انْسَلَخَ قَبْلَ أَنْ يُغْفَرَ لَهُ وَرَغِمَ5
اس آدمی کی ناک خاک آلود ہو جس نے رمضان پایا اور اس کی مغفرت نہ کی گئی انہیں کہا آمین تو میں نے کہا آمین
اور آپ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ هَذَا الشَّهْرَ قَدْ حَضَرَكُمْ وَفِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ مَنْ حُرِمَهَا فَقَدْ حُرِمَ الْخَيْرَ كُلَّهُ وَلَا يُحْرَمُ خَيْرَهَا إِلَّا مَحْرُومٌ6
یقیناً رمضان میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے جو اس کے خیر سے محروم رہا وہ سارے خیر سے محروم رہا اس کے خیر سے حقیقی محروم ہی محروم رہے گا۔
اے بلند عزائم والو اور اے اعلیٰ و بالا مقاصد والو! ان راتوں میں جو بے شمار فضیلتیں اور بے انتہا نوازشیں ہیں انہیں غنیمت جانو کہ جس نے جان لیا کہ وہ کیا طلب کر رہا ہے اس پر ہر وہ چیز جو وہ خرچ کر رہا ہے آسان ہو جائے گی
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَسَارِعُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ7
اور اپنے رب کی بخشش کی طرف اور اس جنت کی طرف دوڑو جس کا عرض آسمانوں اور زمین کے برابر ہے جو پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔
اللہ ہمیں ان میں سے بنائے جنہیں لیلۃ القدر کے قیام کی توفیق ملی اور وہ بڑے اجر سے سرفراز ہوئے اور اول و آخر اللہ ہی کے لیے حمد ہے۔
خطبہ ثانی:
ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اے اللہ! درود و سلام نازل فرما آپ پر اور آپ ﷺ کے آل و اصحاب پر،
امّا بعد:
یقیناً ماہِ رمضان عبادت اور تقرب الی اللہ کا مہینہ ہے یہ قابلِ تعریف بات ہے کہ آدمی رابطے کے وسائل میں الجھ کر روزے اور قیام کے مقاصد سے دور نہ ہو بلکہ یہ قابلِ مذمت ہے کہ عبادت کی جگہوں پر ان چیزوں میں الجھا رہے مسجدیں نماز، ذکر اور تلاوتِ قرآن کے لیے ہیں بلکہ یہ تو عبادت کے عظیم مقاصد اور بڑے اہداف سے محرومی ہے ان گھروں میں جن کے بلند کرنے اور جن میں اپنے نام کی یاد کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے
اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:
ذَٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ8
اور جو اللہ کے مقرر کردہ شعائر کا احترام کرے تو یہ دلوں کے تقویٰ سے ہے۔
اللہ کے بندو! بہترین اعمال میں سے ہمارے نبی محمد ﷺ پر بکثرت درود بھیجنا ہے اے اللہ! درود و سلام اور برکتیں نازل کر آپ پر اور اے اللہ! تو راضی ہو جا آل و اصحاب سے اے اللہ! مسلمان زندہ مردہ مرد و خواتین کو بخش دے اے اللہ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا۔
اے اللہ! ہمارے اور مسلمانوں کے ملکوں کو ہر برائی اور ناپسندیدہ چیز سے بچا اے اللہ! ہم اس ملک کے لیے تجھ سے بھرپور امن اور دائمی امن کی دعا کرتے ہیں اور اسلام کے تمام ملکوں کے لیے اے اللہ! تو ہمارے لیے شریروں کے شر، فاجروں کے مکر اور شب و روز کی برائیوں کے بالمقابل کافی ہو جا۔
اے اللہ! مسلمانوں کے کلمے کو حق و ہدایت پر مجتمع کر ان کی صفیں ایک کر ان کی شوکت کو مضبوط کر اے قوی و عزیز اے اللہ! خادم الحرمین الشریفین اور ان کے ولی عہد کی حفاظت فرما تو ان دونوں کا ناصر و مددگار ہو اے اللہ! تمام سربراہان کو اس کی توفیق دے جس میں ان کی رعایا کی بھلائی ہو۔
اے اللہ! ہم سے قبول کر ہمیں نیکیوں اور بھلائیوں کی طرف سبقت کی توفیق دے اے اللہ! ہمیں بارش سے نواز اے غنی اے حمید ہمیں سیراب کر اے اللہ! ہمارے ملک اور مسلمانوں کے ملکوں کو سیراب کر اور درود و سلام نازل کر اپنے نبی محمد پر۔
خطبہ جمعہ مسجد النبوی
بتاریخ: 17 رمضان 1447ھ مطابق 06 مارچ 2026ء
موضوع: آخری عشرے کو غنیمت جانیں
خطیب: فضیلۃ الشیخ حسین بن عبد العزیز آل الشیخ حفظہ اللہ
_____________________________________________________
یہودیوں کی وہ کون سی خوش فہمی تھی جس نے انہیں دھوکے میں رکھا؟ "فلاں…
مقرر کے مطابق اسلام کی تاریخ میں سب سے پہلا اور سب سے بدترین فتنہ…
امام عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے "اہلِ حدیث" کے بارے میں کیا فرمایا؟…
جہنم میں عورتوں کی کثرت کس اعتبار سے ہوگی؟ جہنم میں عورتوں کی تعداد زیادہ…
نبی اکرم ﷺ نے غزوہ احد سے پہلے کیا خواب دیکھا اور اس کی تعبیر…