اصلاحِ نفس و معاشرہ

رمضان نیکیوں کا مہینہ ہے، اسے غنیمت جانو

خطبہ اول:

بے شک تمام تعریف اللہ کے لیے ہے۔ ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد مانگتے ہیں اور اپنے نفسوں کی برائیوں اور اپنے برے اعمال سے اسی کی پناہ چاہتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔ انہوں نے پیغام پہنچا دیا، امانت ادا کر دی، امت کی خیر خواہی کی اور اللہ کی راہ میں کما حقہ جہاد کیا یہاں تک کہ وفات پا گئے۔ اللہ بہت زیادہ درود و سلام نازل فرمائے ان پر، ان کی آل پر، ان کے صحابہ پر اور ان سب پر جو قیامت تک ان کی پیروی کریں۔

اما بعد:

تقویٰ کی وصیت اور رمضان کی فضیلت:
سب سے بہترین بات اللہ کا کلام ہے اور سب سے بہترین طریقہ ہمارے نبی محمد بن عبداللہ کا طریقہ ہے، اور بدترین امور وہ ہیں جو دین میں نئے نکالے جائیں، اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی کا ٹھکانہ جہنم ہے۔

 اللہ کے بندو! میں تمہیں اللہ عزوجل کے تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہی پہلے اور بعد والوں کے لیے اللہ کی وصیت ہے۔
 اللہ کا فرمان ہے:

 وَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ وَإِيَّاكُمْ أَنِ اتَّقُوا1

اور ہم نے ان لوگوں کو بھی جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور تمہیں بھی یہی وصیت کی کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔

 پھر جان لو کہ اللہ کی اطاعت بہترین فائدہ اور کمائی ہے، اور اس کی رضا سب سے بڑا نفع اور مراد ہے۔ جنت کو مشقتوں سے گھیر دیا گیا ہے اور جہنم کو خواہشات سے، اور قیامت کے دن تمہیں تمہارے اعمال کا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ سو جو دوزخ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا وہی کامیاب ہے۔

رمضان: برکتوں بھرا مہینہ:
مسلمانو! اللہ نے تمہیں اس بابرکت مہینے تک پہنچا کر عزت بخشی ہے۔ یہ اس شخص کے لیے عظیم موقع ہے جو اپنی کوتاہی کی تلافی کرنا چاہتا ہے اور اس کے لیے توبہ کی طرف دوڑ کر جانے کا ایک میدان ہے، قبل اس کے کہ عمریں ختم ہو جائیں اور وقت ہاتھ سے نکل جائے۔ لہذا رمضان کے سلسلے میں اللہ سے ڈرو، اس کی صحیح قدر کرو، کما حقہ روزہ رکھو، اسے ہر اس چیز سے بچاؤ جو اس کے اجر کو کم کرے، اور اس کے دنوں اور راتوں کو غنیمت جانو۔

رمضان: نیکی اور عبادت کا موسم:
اللہ کے بندو! رمضان کرم والا مہینہ اور عظیم موسم ہے۔ یہ برکتوں اور نوازشوں کے ساتھ آتا ہے، خیر اور سخاوت اس میں عام ہو جاتی ہے۔ لوگ اس مہینے میں نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھتے ہیں اور اطاعتوں میں سبقت لے جاتے ہیں۔ اس میں رحمت کے دروازے کھلے ہوتے ہیں اور اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔

رمضان عبادت اور توبہ کا مہینہ ہے، اللہ کے تقرب اور اس کی طرف رجوع ہونے کا مہینہ ہے، جدوجہد اور محنت کا مہینہ ہے، نفس کے خلاف جہاد کا مہینہ ہے۔ رمضان توبہ، انابت، اخلاص، خشوع، سجدہ اور رکوع کا مہینہ ہے۔ یہ روزے اور قیام کا مہینہ ہے، نیکی، احسان اور قرآن کی تلاوت کا مہینہ ہے۔

 نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کو اس کی آمد کی خوشخبری دیتے ہوئے فرماتے تھے:

 قَدْ جَاءَكُمْ رَمَضَانُ، شَهْرٌ مُبَارَكٌ، افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ، تُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَيُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَحِيمِ، وَتُغَلُّ فِيهِ الشَّيَاطِينُ، فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ، مَنْ حُرِمَ خَيْرَهَا قَدْ حُرِمَ .2

 تمہارے پاس رمضان آیا ہے، یہ ایک بابرکت مہینہ ہے، اللہ عزوجل نے تم پر اس کے روزے فرض کیے ہیں، اس میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، سرکش شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے، اس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، جو اس کی خیر سے محروم رہا، وہ واقعی محروم رہا۔

رمضان میں وقت کا استعمال:
روزہ دارو! تم عظیم دنوں اور فضیلت کے اوقات میں ہو، انہیں ضائع نہ کرو، بلکہ انہیں اللہ کی قربت والے اعمال میں صرف کرو۔ انہیں فرائض، سنتوں اور نوافل میں، نماز اور روزے میں، قرآن کی تلاوت میں، ذکر، تسبیح، تہلیل اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجنے میں صرف کرو۔ انہیں اللہ واحد قہار کے حضور توبہ، استغفار، دعا، گڑگڑانے اور عاجزی میں صرف کرو۔ انہیں صدقات و خیرات، مسکینوں کو کھانا کھلانے اور روزہ داروں کو افطار کرانے میں لگاؤ، انہیں صلہ رحمی اور نیک اعمال میں خرچ کرو۔

غفلت کا خطرہ:
اللہ کے بندو! غفلت سے بچو کیونکہ یہ ایسی مصیبت ہے جو انسان کو خیر کے موسم سے محروم کر دیتی ہے، عمر ضائع کر دیتی ہے، وقت برباد کر دیتی ہے، طاقت تباہ کر دیتی ہے، دل کو مردہ کر دیتی ہے، ہر پسندیدہ خیر سے محروم کر دیتی ہے اور ہر مقصد سے روک دیتی ہے۔

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 لَا تَزُولُ قَدَمُ ابْنِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ عِنْدِ رَبِّهِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ خَمْسٍ عَنْ عُمُرِهِ فِيمَ أَفْنَاهُ وَعَنْ شَبَابِهِ فِيمَ أَبْلَاهُ3

آدمی کاپاؤں قیامت کے دن اس کے رب کے پاس سے نہیں ہٹے گا یہاں تک کہ اس سے پانچ چیزوں کے بارے پوچھ لیا جائے: اس کی عمر کے بارے میں کہ اسے کہاں صرف کیا، اس کی جوانی کے بارے میں کہ اسے کہاں کھپایا۔

اعمال کی قبولیت کی اہمیت:
اللہ تم پر رحم کرے، نیکیوں کی طرف جلدی کرو، بھلائی میں سبقت کرو اور نیک اعمال میں آگے بڑھو، اس سے پہلے کہ عمل کا موقع ختم ہو جائے۔ تم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ کیا اسے آئندہ رمضان دوبارہ موقع ملے گا یا نہیں ملے گا اور کیا عمر میں مزید مہلت ہے یا نہیں۔ لہذا اعمال میں جلدی کرو اور تمہاری زبان حال یہ کہے “اور میں نے تیری طرف جلدی کی اے میرے رب! تاکہ تو راضی ہو جائے”۔ جو اللہ سے ایک بالشت قریب ہوتا ہے اللہ اس سے ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے، جو اللہ سے ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے وہ اس سے ایک بازو قریب ہوتا ہے، اور جو اللہ کی طرف چل کر آتا ہے، اللہ اس کی طرف تیزی سے آتا ہے۔

اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف سبقت کرو جس کی وسعت آسمانوں اور زمین کی وسعت جیسی ہے، جو ان لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ یہ اللہ کا فضل ہے، وہ اسے جسے چاہے عطا کرے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔

 اللہ مجھے اور آپ کو قرآن عظیم میں برکت دے اور اس کی آیات اور حکمت بھری نصیحتوں سے فائدہ پہنچائے۔ اور میں اپنے لیے، آپ کے لیے اللہ سے تمام گناہوں کی مغفرت طلب کرتا ہوں، آپ بھی اس سے مغفرت طلب کریں، بے شک وہ بہت مغفرت والا، نہایت مہربان ہے۔

خطبہ ثانی:

اعمال کی قبولیت کی شرط:
تمام تعریف اللہ کے لیے جس نے ہمیں ایمان کی ہدایت دی اور اپنے فضل سے رمضان کے مہینے تک پہنچایا اور اپنی اطاعت اور ذکر کے ذریعے دلوں کی وحشت کو انسیت میں بدل دیا اور بعض زمانوں اور اوقات کو فضیلت دی اور انہیں مختلف قربتوں اور عبادات کے ساتھ مختص کیا۔ میں اللہ کی عظمت و بزرگی بیان کرتے ہوئے گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں اور وہ پیشوائی اور رہنمائی کے لیے کافی ہیں۔ اللہ تاقیامت ان پر، ان کے آل و اصحاب پر بہت زیادہ درود و سلام نازل فرمائے۔

اعمال میں اخلاص کی نصیحت:
لوگو! نیک اعمال اللہ کے تقرب کا وسیلہ ہیں، لہذا جیسے تم انہیں ادا کرنے کی کوشش کرتے ہو ویسے ہی ان کی قبولیت کی فکر کرو۔ کتنے ہی اعمال یوں ہی ضائع ہو گئے اور کتنی ہی محنت رائیگاں چلی گئی، اور اللہ صرف متقیوں سے قبول کرتا ہے۔

عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کے بارے میں پوچھا:

 عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ قَالَتْ عَائِشَةُ أَهُمْ الَّذِينَ يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ وَيَسْرِقُونَ قَالَ لَا يَا بِنْتَ الصِّدِّيقِ وَلَكِنَّهُمْ الَّذِينَ يَصُومُونَ وَيُصَلُّونَ وَيَتَصَدَّقُونَ وَهُمْ يَخَافُونَ أَنْ لَا يُقْبَلَ مِنْهُمْ أُولَئِكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ4

اور وہ لوگ جو دیتے ہیں جو کچھ دیتے ہیں اور ان کے دل ڈرے ہوئے ہوتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں”۔ میں نے پوچھا: “کیا یہ وہ لوگ ہیں جو شراب پیتے اور چوری کرتے ہیں؟” تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “نہیں اے صدیق کی بیٹی! بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو روزہ رکھتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں اور صدقہ و خیرات کرتے ہیں اور انہیں ڈر ہوتا ہے کہ کہیں ان سے قبول نہ کیا جائے۔

اللہ کے بندو! عمل کی قبولیت اسے اچھے طریقے سے ادا کرنے اور سنت کی پیروی کرنے پر موقوف ہے۔

 عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ5

 جس نے ایسا عمل کیا جس پر ہمارا حکم نہیں تو وہ مردود ہے۔

لہذا اپنے اعمال میں اللہ سے ڈرو کیونکہ اللہ تمہاری صورتوں اور جسموں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔ کتنے ہی روزہ دار ہیں جنہیں اپنے روزے سے سوائے پیاس، بھوک اور تھکن کے کچھ نہیں ملتا اور کتنے ہی قیام کرنے والے ہیں جنہیں اپنے قیام سے سوائے شب بیداری اور تھکاوٹ کے کچھ اور حاصل نہیں ہوتا۔

اللہ کے بندو! عمل کی قبولیت کی علامت یہ ہے کہ انسان کا حال بہتر ہو جائے، نیک اعمال پر استقامت ہو اور اللہ عزوجل کی طرف سچی توبہ ہو۔ سو اپنی طرف سے اللہ کو خیر دکھاؤ اور اللہ کو اچھا قرض دو۔

اللہ کا فرمان ہے:

 وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُم مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِندَ اللَّهِ هُوَ خَيْرًا وَأَعْظَمَ أَجْرًا ۚ وَاسْتَغْفِرُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ6

اور جو نیکی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے، اسے اللہ تعالیٰ کے ہاں بہتر سے بہتر اور ثواب میں بہت زیادہ پاؤ گے۔ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے رہو، یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔

اے اللہ! ہمیں ان کاموں کی توفیق دے جنہیں تو پسند کرتا ہے اور جن سے تو راضی ہو۔ ہمارے اعمال قبول فرما اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جو بات کو کان لگا کر سنتے ہیں پھر جو بہترین بات ہو اس کا اتباع کرتے ہیں، یہی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی ہے اور یہی عقلمند بھی ہیں۔

 اے اللہ! ہمیں اپنی اطاعت میں لگا دے، ہمیں اپنے اوقات کو تیری عبادت میں صرف کرنے کی توفیق دے، ہماری عمروں میں برکت دے اور ہمیں صحت اور عافیت عطا فرما، اے رب العالمین! اے اللہ! تو معاف کرنے والا، کریم ہے اور معاف کرنا پسند کرتا ہے، پس ہمیں معاف فرما۔

اے اللہ! ہمارے گناہ بخش دے، ہماری لغزشیں معاف فرما، ہماری پردہ پوشی فرما، ہماری پریشانیاں دور کر دے، ہماری تکلیفیں ختم کر دے اور ہمیں اپنی حفاظت اور نگہبانی میں رکھ۔ اے اللہ! ایمان کو ہمارے دلوں میں محبوب بنا دے اور اسے ہمارے دلوں میں مزین کر دے، اور کفر، فسق اور نافرمانی کو ہمارے لیے ناپسندیدہ بنا دے اور ہمیں نیک کاروں میں شامل فرما۔ اے دلوں کو پھیرنے والے! ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔ اے دلوں کو پھیرنے والے! ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف موڑ دے۔ اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، بے شک تو ہی بہت عطا کرنے والا ہے۔ اے اللہ! ہمیں، ہمارے والدین کو اور تمام مومن مردوں اور عورتوں کو بخش دے۔

 اے اللہ! ہمارے بیماروں کو شفا دے، ہمارے مصیبت زدہ لوگوں کو عافیت دے اور ہمارے فوت شدگان پر رحم فرما۔ اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت دے، شرک اور مشرکوں کو ذلیل کر، دین کے دشمنوں کو تباہ کر، اپنے موحد بندوں کی مدد فرما اور اس ملک کو اور تمام مسلم ممالک کو امن اور اطمینان عطا فرما۔

اے اللہ! ہمارے وطنوں میں ہمیں امن دے اور ہمارے سربراہان اور حکمرانوں کی اصلاح فرما۔ اے اللہ! ہمارے ولی امر خادم حرمین شریفین کو اپنی توفیق سے شاد کام فرما، اپنی مدد سے ان کی تائید فرما اور ان کے ذریعے اپنے دین کو غلبہ عطا فرما۔ اے اللہ! انہیں اور ان کے ولی عہد کو ان کاموں کی توفیق دے جنہیں تو پسند کرتا ہے اور جن سے تو راضی ہو، اے دعاؤں کو سننے والے! اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی دے اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے۔ اے اللہ! ہمارے نبی محمد پر، ان کے آل و اصحاب پر درود و سلام نازل فرما۔

خطبہ جمعہ مسجد نبوی

تاریخ: 10 رمضان 1447ھ بمطابق 27 فروری 2026ء۔

 خطیب: فضیلۃ الشیخ عبداللہ البعیجان۔

  1. (سورۃ النسآء:131)
  2. (مسند احمد:7148)
  3. (جامع ترمذی:2416)
  4. (جامع ترمذی:3175)
  5. (صحیح مسلم:1718)

     

  6. (سورۃ المزمل:20)
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبداللہ بن عبدالرحمٰن بعیجان حفظہ اللہ

آپ مسجد نبوی کے امام و خطیب ہیں، آپ ایک بلند پایہ خطیب اور بڑی پیاری آواز کے مالک ہیں۔جامعہ محمد بن سعود الاسلامیہ سے پی ایچ ڈی کی ، پھر مسجد نبوی میں امام متعین ہوئے اور ساتھ ساتھ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کلیۃ الشریعۃ میں مدرس ہیں۔

Share
Published by
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبداللہ بن عبدالرحمٰن بعیجان حفظہ اللہ

Recent Posts

عید الفطر کے مسنون اعمال؟

عید کی خوشی کیسے منائیں؟ عید کا چاند دیکھ کر نبی کریم ﷺ کیا کرتے…

2 days ago

رمضان المبارک کے اختتام پر آٹھ اہم نصیحتیں

ماہِ رمضان المبارک اپنے اختتام کے قریب ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں ہم…

2 days ago

عید کی تیاری میں رمضان نہ رہ جائے!

رمضان میں عید کی شاپنگ پر جانے کے حوالے سے شریعت کیا رہنمائی کرتی ہے؟…

2 days ago

سچے ایمان کی علامت؟

آپ ﷺ کو صادق (سچا) ماننے کا اصل مطلب کیا ہے؟ آپ ﷺ کی شان…

4 days ago

فیصل بینک  کا “نور کارڈ”اسلامی کریڈٹ کارڈ یا سودی حیلہ

          عصرِ حاضر میں اسلامی بینکاری کے نام پر متعدد مالی مصنوعات (Financial Products) متعارف…

6 days ago

نیک اعمال میں ثابت قدمی:

وہ کون شخص ہے جو قیامت کے دن کامیاب ہوگا، اور کامیابی کے لیے کیا…

7 days ago