مومن کا معاملہ – اللہ کی خاص قدر دانی
قال رسول الله ﷺ:
“عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ، إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ…”
“مومن کا معاملہ عجیب ہے، اس کا ہر حال اس کے لیے خیر ہی خیر ہے…”
اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی حالتوں کو ضائع نہیں کرتا۔
نعمت ملے تو شکر کرتا ہے، آزمائش آئے تو صبر کرتا ہے — دونوں صورتوں میں اللہ اسے اجر دیتا ہے۔
یہی قدر دانی ہے، جو رب نے ہمیں نبی ﷺ کے ذریعے سکھائی۔
مومن کا ہر لمحہ قیمتی ہے، کیونکہ وہ اللہ کے بھروسے پر جیتا ہے۔
کیا قبر میں سوالات کے دوران نبی کریم ﷺ کی زیارت کرائی جاتی ہے؟ کیا…
اسباب اختیار کرتے ہوئے کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟ "فلاں ڈاکٹر کے ہاتھ میں…
مدینہ میں نفاق کا ظہور کب اور کیوں ہوا؟منافقین کی سب سے بنیادی اور خطرناک…
خطبہ اول: یقیناً تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، وہ اکیلا اور بے نیاز ہے،…
قدرتی وسائل سے بھرپور پاکستان معاشی بحران کا شکار کیوں ہے؟ ہماری بدحالی کی بنیادی…