صحابہ واہل ِ بیت رضوان اللہ علیہم کے مابین تعلقات انتہائی عقیدت ،محبت و احترام پر مشتمل تھے ،یقیناً وہ دونوں آپس میں محبت و وفاء کے پیکر تھے ،صحابہ و اھلِ بیت کے مابین مذکورہ تعلقات کا اندازہ اُن فرامین سے لگایا جاسکتا ہے جو اُنہوں نے ایک دوسرے کے حق میں رہتی دنیا تک کے لئے بیان کردئیے ،یہی نہیں بلکہ اُنہوں نے آپس میں نسل در نسل تک ان تعلقات کو رشتہ داریوں میں بدل کے اس کا عملی ثبوت بھی دیا ۔مذکورہ حقائق پر مشتمل ایک مدلل و اثر انگیز خطاب۔
مقرر: الشیخ مفتی حافظ سلیم صاحب
(مفتی المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر کراچی)
یہودیوں کی وہ کون سی خوش فہمی تھی جس نے انہیں دھوکے میں رکھا؟ "فلاں…
مقرر کے مطابق اسلام کی تاریخ میں سب سے پہلا اور سب سے بدترین فتنہ…
امام عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے "اہلِ حدیث" کے بارے میں کیا فرمایا؟…
جہنم میں عورتوں کی کثرت کس اعتبار سے ہوگی؟ جہنم میں عورتوں کی تعداد زیادہ…
نبی اکرم ﷺ نے غزوہ احد سے پہلے کیا خواب دیکھا اور اس کی تعبیر…