ماہ رمضان کے بعد بھی عبادات میں تسلسل؟
خطبہ اول:
یقینا تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں ہم اسی کی حمد و ثنا بیان کرتے ہیں اسی سے مدد مانگتے ہیں اسی سے بخشش طلب کرتے ہیں ہم اپنے نفس کی برائیاں اور برے اعمال سے اللہ تعالی کی پناہ چاہتے ہیں جس شخص کو اللہ تعالی ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود برحق نہیں وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺاس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اللہ تعالی رحمتوں کا نزول فرمائے آپ ﷺپر اور کی ال اصحاب پر اور بہت زیادہ سلامتی کا نزول فرمائے۔
امابعد:
اللہ کے بندوں اللہ تعالی سے ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے خلوت اور سرگوشی میں اس کی نگرانی کا احساس رکھو مسلمانوں راتوں کے صفحات لپیٹے جا رہے ہیں اور زندگی کے لمحات ختم ہو رہے ہیں اور دین اور سال کس قدر تیزی سے گزر رہے ہیں بابرکت ایام ابھی گزرے ہیں جن کے ساتھ ہی زندگی کا ایک مرحلہ بھی بیت چکا ہے جو دوبارہ کبھی واپس نہیں آئے گا جس خوش نصیب نے ان میں نیکیاں کمائیوں اسے اللہ تعالی کی حمد و شکر کرتے ہوئے آگے بھی نیکیوں کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے کیونکہ اطاعت و عبادت کا وقت محدود نہیں ہوتا بلکہ یہ اللہ تعالی کا بندوں پر حق ہے کہ بندے ہر زمانے میں اس کے ذریعے کائنات کو آباد رکھے موت سے پہلے مومن کے عمل کے سامنے کوئی مقرحت نہیں ہوتی۔
ارشاد باری تعالی ہے ۔
وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ 1
’’اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہیں یہاں تک کہ آپ کو موت آجائے‘‘
ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں انبیاء کرام علیہم السلام اور ان کے صحابہ سب سے زیادہ اللہ تعالی کو جاننے والے اس کے حقوق کو صفات کو پہچاننے والے اور اس کی شایان شان تعظیم کا علم رکھنے والے تھے جس کے باوجود وہ تاحیات سب سے زیادہ عبادت گزار اور نیکی کے کاموں میں سب سے زیادہ مستقل مزاج رہے اور جو شخص ہدایت کا طلب بھر ہوتا ہے اللہ تعالی ہدایت کی طرف اس کی رہنمائی کر دیتا ہے پھر اس پر اسے ثابت قدم بھی رکھتا ہے اور اس میں اضافہ بھی فرماتا ہے۔
جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:
وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَآتَاهُمْ تَقْوَاهُمْ2
’’اور جو لوگ ہدایت یافتہ ہیں اللہ نے انہیں ہدایت میں بڑھا دیا ہے اور انہیں ان کی پرہیزگاری عطا فرمائی ہے‘‘
شیخ الاسلام رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ایک سچا مسلمان جب شریعت کے مطابق اللہ تعالی کی بندگی کرتا ہے تو اللہ تعالی بہت قلیل مدت میں اس پر ہدایت کے انوار اشکار کر دیتا ہے اور جو شخص کوئی نیک عمل کرے تو اسے اللہ تعالی سے قبولیت کی دعا مانگنی چاہیے
امام المومنین سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور ان کے لخت جگر سیدنا اسماعیل علیہ السلام دونوں جب بیت اللہ شریف کی بنیادیں اٹھا رہے تھے تو انہوں نے بھی اللہ تعالی سے قبولیت کی دعا مانگی
جیسا کہ اشاد باری تعالی ہے:
’وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ3
’’ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) کعبہ کی بنیادیں اٹھاتے جاتے تھے اور کہتے جا رہے تھے کہ ہمارے پروردگار تو ہم سے قبول فرما، تو ہی سننے والا اور جاننے والا ہے‘‘۔
اور جب نیکی والے عمل کے ساتھ دعا اور امید و خشیت کے ساتھ اللہ تعالی کا خوف بھی شامل ہو جائے تو ایسا عمل اللہ تعالی کے ہاں لائق تحسین اور قابل ستائش ٹھہرتا ہے۔
جیسا کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا:
’’میں تمہیں تقوی الہی کے وصیت کرتا ہوں اور یہ کہ تم اس کی شایان شان حمد و ثنا بیان کرو خوف اور امید دونوں کو یکجا کرو اور دعا مانگنے میں اصرار کے ساتھ ساتھ ہمیشگی کو بھی اختیار کرو کیونکہ اللہ تعالی نے زکریا علیہ السلام اور ان کے اہل خانہ کی مدا فرمائی ہے‘‘۔
چنانچہ اللہ تعالی نے فرمایا:
إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا ۖ وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ4
’’یہ بزرگ لوگ نیک کاموں کی طرف جلدی کرتے تھے اور ہمیں لالچ طمع اور ڈر خوف سے پکارتے تھے۔ ہمارے سامنے عاجزی کرنے والے تھے‘‘۔
مومن آدمی نیکی اور خوف کو ایک ساتھ رکھتا ہے جب وہ کسی نیک عمل کی تکمیل کر لیتا ہے تو اس کی عدم قبولیت سے ڈرتا رہتا ہے اس کی حالت یوں ہوتی ہے۔
جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا:
’’وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوا وَّقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ أَنَّهُمْ إِلَىٰ رَبِّهِمْ رَاجِعُونَ‘‘5
’’اور جو لوگ دیتے ہیں جو کچھ دیتے ہیں اور ان کے دل کپکپاتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں ‘‘۔
’’عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اس ایت کا مطلب پوچھا کہ اللہ کے رسول ﷺکیا یہ وہ لوگ ہیں جو شراب پیتے ہیں چوری کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں صدیق کے صاحبزادی بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو روزے رکھتے ہیں نمازیں پڑھتے ہیں صدقے دیتے ہیں اس کے باوجود ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں ان کی یہ نیکیاں مردود نہ ہو جائیں یہی وہ لوگ ہیں جو خیرات یعنی بھلے کاموں میں ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی کوشش کرتے ہیں اور یہی لوگ بھلائیوں میں سبقت کرنے والے ہے‘‘۔(اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے )
لہذا نیکیوں کی کثرت پر کبھی غرور مت کرو کیونکہ آپ نہیں جانتے وہ قبول بھی ہوں گی یا نہیں
سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
’’ تمہیں کسی بھی عمل سے زیادہ اس کی قبولیت کی فکر رہنی چاہیے اگر نیک اعمال آلودہ کرنے والی اشیاء سے پاک نہ ہو تو اللہ تعالی کے ہاں نفع مند نہ ہوں گے لہذا بندے کو چاہیے کہ وہ اپنے عمل کے قبول ہونے کی امید رکھنے کے بعد اس کے ضائع ہونے سے بھی ڈرے کیونکہ برائیاں نیک اعمال کی بربادی کا باعث بن سکتی ہیں‘‘۔
ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’اعمال کو برباد کرنے والے اسباب اور ان کو فاسد کرنے والے عناصر بے شمار ہیں اعمال انجام دینا بڑی بات نہیں بلکہ انہیں ضائع ہونے سے بچانا بڑی بات ہے نیکیوں کو ضائع کرنے والے اسباب میں سے ایک اپنے عمل پر اترانا ور خود پسندی میں مبتلا ہونا بھی ہے کیونکہ اس سے انسان کوتاہی برتنے لگتا ہے گناہوں کو معمولی سمجھنے لگتا ہے اور اللہ تعالی کے مقر و تکبیر سے اپنے آپ کو بے خوف سمجھتا ہے‘‘۔
جیسا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
دو چیزوں میں ہلاکت و تباہی ہے :ایک نا امیدی ،اور دوسری خود پسندی ،نیکیوں پر جو پسندی کا علاج یہ ہے کہ انسان اپنے گناہوں کا اعتراف کرے اپنی کمی کوتاہی کا اقرار کرے اللہ تعالی کی نعمتوں کو یاد کریں نعمتوں کے زائل ہونے ختم ہونے سے ڈرے عمل صالح کو محفوظ رکھنے کی اللہ تعالی سے دعا مانگے اور اللہ تعالی کی مغفرت و خوشنودی کا طرفدار رہے۔
انسان کو جلوت و خلوت میں تقوی الہی اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور تقوی میں کبھی کبھار کبھی کوتاہی بھی سرزد ہو جاتی ہے جو اسی لیے اسے گناہ کے بعد نیکی کا حکم دیا گیا ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
تو جہاں بھی ہو اللہ تعالی سے ڈر گناہ کے وقت فورا نیکی کر وہ نیکی اس گناہ کو مٹا ڈالے گی اور لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق کا برتاؤ کر(امام احمد نے مسند روایت کیا ہے) جب اللہ تعالی کسی بندے کا کوئی نیک عمل قبول کرتا ہے تو اسے اس کے بعد مزید نیک عمل کی توفیق عطا فرماتا ہے ہم و اطاعت پر استقامت اختیار کرنا اللہ تعالی کے ان نیک بندوں کی صفات میں شامل ہے جنہیں جنت کا وعدہ دیا گیا ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
’’الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ‘‘6
’’جن لوگوں نے کہا ہمارا پروردگار اللہ ہے (١) اور پھر اسی پر قائم رہے (٢) ان کے پاس فرشتے (یہ کہتے ہوئے) آتے ہیں (٤) کہ تم کچھ بھی اندیشہ اور غم نہ کرو (٣) (بلکہ) اس جنت کی بشارت سن لو جس کا تم وعدہ دیئے گئے ہو ‘‘۔
عبادت کے ہر موسم کے بعد اللہ تعالی کو نیک اعمال کر کے دکھاؤ اللہ تعالی سے ہدایت کے ساتھ اس پر ثابت قدمی بھی مانگو ثابت قدمی کی دعا کرو
جیسا کہ شیخ الاسلام رحمہ اللہ نے فرمایا:
تمام دعاؤں میں سے اصل اور افضل دعا یہ ہے۔
’’اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (۶) صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ْ(۷)‘‘
’’ہمیں سچی اور سیدھی راہ دکھا (۶) ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا (١)۔ ان کا نہیں جن پر غضب کیا گیا اور نہ گمراہوں کا(۷) ‘‘۔
یہ سب سے افضل دعا ہے مخلوق کو یہ دعا لازمی کرنی چاہیے کیونکہ یہ بندے کے دین دنیا اور آخرت کی صراح و کامیابی کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں اللہ سبحانہ و تعالی سے نیک اعمال پر قائم رہنے کے لیے بھی مدد مانگو
جیسا کہ نبی ﷺنے معاذ رضی اللہ تعالی عنہ کو ہر نماز کے آخر میں یہ دعا سکھلائی :
’’عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ أَخَذَ بِيَدِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي لَأُحِبُّكَ يَا مُعَاذُ فَقُلْتُ وَأَنَا أُحِبُّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا تَدَعْ أَنْ تَقُولَ فِي كُلِّ صَلَاةٍ رَبِّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ ‘‘
’’حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: ’’اے معاذ! میں تجھ سے محبت کرتا ہوں۔‘‘ میں نے عرض کیا: ’’اے اللہ کے رسول! میں بھی آپ سے محبت کرتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’پھر تو کسی نماز میں یہ دعا کرنا نہ چھوڑ: [رب أعنی علی ذکرک……] ’’اے میرے رب! میری مدد فرما کہ میں تیرا ذکر کروں اور تیرا شکر کروں اور تیری عبادت اچھی طرح بنا سنوار کے کروں‘‘۔(سنن النسائی:۱۳۰۴)
آپ ﷺنے ارشاد فرمایا:
’’فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ مِنْ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا وَإِنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ مَا دُووِمَ عَلَيْهِ وَإِنْ قَلَّ وَكَانَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَمِلُوا عَمَلًا أَثْبَتُوهُ‘‘
’’تو آپ نے فر ما یا :”لوگو !اتنے اعمال کی پابندی کرو جتنے اعمال کی تم میں طاقت ہے کیونکہ (اس وقت تک) اللہ تعا لیٰ (اجرو ثواب دینے سے رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہیں اکتاتا حتیٰ کہ تم خود اکتا جاؤ اور یقیناًاللہ کے نزدیک زیادہ محبوب عمل وہی ہے جس پر ہمیشگی اختیار کی جا ئے چاہے وہ کمہو۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والے جب کو ئی عمل کرتے تو اسے ہمیشہ بر قرار رکھتے ‘‘۔(صحیح مسلم: ۱۸۲۷)
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے عمل کو معیوب قرار دیا جو نیکی کرنے کے بعد اس میں کوتاہی کرنے لگتا ہے۔
’’جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عمر بن عاص رضی اللہ تعالی عنہ کو مخاطب کر کے فرمایا:
اے عبداللہ تو فلاں شخص کی طرح نہ ہو جانا وہ قیام اللیل کرتا تھا پھر اس نے چھوڑ دیا ‘‘(اسے بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے فرماتے ہیں)
تھوڑا مگر مسلسل عمل زیادہ مگر غیر مستقل عمل سے بہتر ہے کیونکہ مسلسل کیے جانے والے معمولی عمل سے اطاعت ذکر مراقبہ الہی کا احساس نیت اخلاص اور خالق کائناتات کی طرف توجہ ہمیشہ قائم رہتی ہے اور ایسا قلیل مگر مسلسل عمل کثیر مگر منقط عمل سے کئی گناہ زیادہ نفع مند اور ثمر آور ہوتا ہے ہر ایسا وقت انسان کے لیے روز قیامت باعث خسارہ ہوگا جو اطاعت الہی سے خالی گزرا اور ہر وہ لمحہ حضرت ندامت کا باعث ہوگا جسے انسان نے اللہ کے ذکر سے غفلت میں گزارا ہوگا اعمال میں کمی کوتاہی کرنے والے کے درمیان اور توبہ کے درمیان موت کے سوا کوئی چیز رکاوٹ نہیں ہے۔
نبی ﷺا ارشاد ہے:
’’یقینا اللہ تعالی اپنے بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتا ہے جب تک جان کنی کا وقت نہ آجائے ‘‘۔(اسے امام احمد نے روایت کیا ہے)
مسلمانوں بعد ازاں گزارش ہے کہ یہ راتیں اور یہ دن تمہارے اعمال کی خزانے ہیں جو روز قیامت انسان کے کام ائیں گے۔
جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالی نے ارشاد فرمایاـ:
’’ يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُّحْضَرًا‘‘(سورۃ آل عمران:۳۰)
’’جس دن ہر نفس (شخص) اپنی کی ہوئی نیکیوں کو اور اپنی کی ہوئی برائیوں کو موجود پالے گا‘‘
اور اللہ تعالی نے حدیث قدسی میں ارشاد فرمایا:
’’اے بندو یہ تمہارے اعمال ہیں کہ جنہیں میں شمار کر رہا ہوں اور پھر میں تمہیں ان کا پورا پورا بدلہ دوں گا لہذا جو شخص بھلائی پائے وہ اللہ تعالی کا شکر ادا کریں اور جو اس کے علاوہ پائے اپنے ہی نفس کو ملامت کرے‘‘۔( اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے)
نہ تو مبارک زمانے کسی کو مقدس بناتے ہیں اور نہ ہی مقدس مقامات ہی کسی کو پاک کرتے ہیں جب تک بندہ خود نیک اعمال نہ کرے اور ظاہر و باطن میں جب تک راہ راست پر قائم نہ رہے اور جب انسان کا دل سیدھا نہ ہو تو اعضائے جسمانی سے انجام دیے گئے باقاصد اعمال بھی سود مند نہیں ہوں گے عقلمند وہی ہے جو ہمیشہ اپنی قلبی اصلاح کے لیے فکر مند رہتا ہے ہر وقت اپنے اندر اور باطن کا جائزہ لیتا رہتا ہے لہذا نیک اعمال کا ذخیرہ جمع کر کے تیاری کر لو تم بڑے ہولناک حالات کا سامنا کرنے والے ہو یہ سالوں کا یکے بعد دیگر گزرنا راتوں اور دنوں کا گردش کرنا انسان کی عمر کی یاد دہانی کراتا ہے زندگی کے خاتمے کی تذکیر کراتا ہے بہت ہی بلند اور بڑی ذات کے حضور پیش ہونے کی یاد دلاتا ہے
اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:
’’يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ‘‘
’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو (١) اور ہر شخص دیکھ (بھال) لے کہ کل (قیامت) کے واسطے اس نے (اعمال کا) کیا (ذخیرہ) بھیجا ہے (٢) اور (ہر وقت) اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے (٣)‘‘۔
اللہ تعالی میرے اور آپ کے لیے قران عظیم کو باعث برکت بنائے اس کی ایات اور ذکر حکیم سے مجھے اور آپ کو نفع پہنچائے میں اسی پر اپنی بات مکمل کرتا ہوں عظمت والے اللہ سے اپنے لیے اور اپ سب کے لیے استغفار کرتا ہوں تم سب بھی اس طریقے استغفار کرو یقینا وہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔
خطبہ ثانی:
تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لیے ہیں اس کے احسانات پر اور ہر طرح کا شکر ہے اس کی توفیق اور انعامات پر میں اللہ تعالی کی عظمت شان کا اعتراف کرتے ہوئے گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود برحق نہیں وہ تنہا ہے اس سے کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺاس کے بندے اور رسول ہیں بے شمار درود و سلام نازل ہوں آپ پراور آپ کی ال اور صحابہ کرام پر اور ان پر بہت زیادہ سلامتی نازل ہو
مسلمانوں ماہ رمضان کے روزے رخصت ہو چکے ہیں لیکن روزے دیگر مہینوں میں بھی برابر مشروع اور مستحب ہے لہذا رمضان کے روزوں کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
’’عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ، كَانَ كَصِيَامِ الدَّهْرِ» ‘‘(صحیح مسلم: ۲۷۵۸)
ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے ان کو حدیث سنا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا:”جس نے رمضا ن کے روزے رکھے۔پھر اس کے بعد شوال کے چھروزے رکھے تو یہ (پوراسال ) مسلسل روزے رکھنے کی طرح ہے ۔
کیونکہ ایک نیکی 10 نیکیوں کے برابر ہے تو ایک رمضان 10 مہینوں کے برابر وہ اور چھ روزے دو مہینوں کے روزوں کے برابر ہوئے نبی ﷺنے پیر اور جمعرات کے روزوں کو بھی مشروع مستحب قرار دیا ہے۔
آْپ ﷺنے ارشاد فرمایا:
’’ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تَصُومُ حَتَّى لَا تَكَادَ تُفْطِرُ وَتُفْطِرُ حَتَّى لَا تَكَادَ أَنْ تَصُومَ إِلَّا يَوْمَيْنِ إِنْ دَخَلَا فِي صِيَامِكَ وَإِلَّا صُمْتَهُمَا قَالَ أَيُّ يَوْمَيْنِ قُلْتُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ قَالَ ذَانِكَ يَوْمَانِ تُعْرَضُ فِيهِمَا الْأَعْمَالُ عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ فَأُحِبُّ أَنْ يُعْرَضَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ‘‘
’’اے اللہ کے رسول! آپ کبھی اس قدر روزے رکھتے ہیں کہ لگتا ہے آپ چھوڑیں گے نہیں اور کبھی اس قدر چھوڑتے ہیں کہ لگتا ہے رکھیں گے نہیں، مگر دو دنوں کا ضرر رکھتے ہیں۔ آپ کے (عمومی) روزوں میں آجائیں تو فبہا، ورنہ آپ ان کا روزہ خصوصاً رکھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ’’کون سے دو دن؟‘‘ میں نے کہا: سوموار اور جمعرات۔ آپ نے فرمایا: ’’یہ دو دن ایسے ہیں کہ ان میں رب العالمین کے ہاں اعمال پیش ہوتے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ میرے عمل پیش ہوں تو میں روزے سے ہوں‘‘۔‘‘
یہ دو دن ایسے ہیں جن میں رب العالمین کے حضور اعمال پیش کیے جاتے ہیں اور میں چاہتا ہوں میرے اعمال جب پیش کیے جائیں تو میں حالت روزے میں اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
آپ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو ہر مہینے تین روزے رکھنے کی وصیت فرمائی تھی آپ نے فرمایا صبر کے مہینے یعنی رمضان کے روزے اور ہر مہینے تین روزے رکھنا سال بھر کے روزوں کی طرح اسے امام احمد نےروایت کی ہے ۔
رمضان کا قیام اگرچہ ختم ہو چکا ہے لیکن قیام اللیل تو سال بھر کی راتوں میں مشروع و مستحب ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح ثابت ہے۔
کہ آپ ﷺنے ارشاد فرمایاـ۔
’’عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَنْزِلُ اللَّهُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا كُلَّ لَيْلَةٍ حِينَ يَمْضِي ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ فَيَقُولُ أَنَا الْمَلِكُ مَنْ ذَا الَّذِي يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ فَلَا يَزَالُ كَذَلِكَ حَتَّى يُضِيءَ الْفَجْرُ‘‘
’’ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺنے فرمایا:’ اللہ تعالیٰ ہررات کو جب رات کا پہلا تہائی حصہ گزر جاتا ہے ۱؎ آسمان دنیا پراترتا ہے ۲؎ اورکہتا ہے: میں بادشاہ ہوں، کون ہے جو مجھے پکارے تاکہ میں اس کی پکار سنوں، کون ہے جو مجھ سے مانگے تاکہ میں اسے دوں ، کون ہے جومجھ سے مغفرت طلب کرے تاکہ میں اسے معاف کردوں۔ وہ برابراسی طرح فرماتا رہتا ہے یہاں تک کہ فجر روشن ہوجاتی ہیں’‘‘۔(سنن النسائی:۴۴۶)
قران کریم خیر و برکت خزانہ اور دائمی نفع والی کتاب ہے۔
جیسا کہ ارشادباری تعالی ہے:
’’وَهَٰذَا كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَلِتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَىٰ وَمَنْ حَوْلَهَا ۚ وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ يُؤْمِنُونَ بِهِ ۖ وَهُمْ عَلَىٰ صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ‘‘
’’اور یہ بھی ایسی ہی کتاب ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے جو بڑی برکت والی ہے، اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے تاکہ آپ مکہ والوں کو اور آس پاس والوں کو ڈرائیں۔ اور جو لوگ آخرت کا یقین رکھتے ہیں ایسے لوگ اس پر ایمان لے آتے ہیں اور وہ اپنی نماز پر مداومت رکھتے ہیں۔‘‘
جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’عَنْ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ أَنَّ نَافِعَ بْنَ عَبْدِ الْحَارِثِ لَقِيَ عُمَرَ بِعُسْفَانَ وَكَانَ عُمَرُ يَسْتَعْمِلُهُ عَلَى مَكَّةَ فَقَالَ مَنْ اسْتَعْمَلْتَ عَلَى أَهْلِ الْوَادِي فَقَالَ ابْنَ أَبْزَى قَالَ وَمَنْ ابْنُ أَبْزَى قَالَ مَوْلًى مِنْ مَوَالِينَا قَالَ فَاسْتَخْلَفْتَ عَلَيْهِمْ مَوْلًى قَالَ إِنَّهُ قَارِئٌ لِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِنَّهُ عَالِمٌ بِالْفَرَائِضِ قَالَ عُمَرُ أَمَا إِنَّ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَالَ إِنَّ اللَّهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ‘‘(صحیح مسلم:۱۸۹۷)
’’نافع بن عبدالحارث (مدینہ اور مکہ کے راستے پر ایک منزل) عسفان آکر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملے،(وہ استقبال کے لئے آئے) اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ انھیں مکہ کا عامل بنایا کرتے تھے،انھوں (حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے ان سے پوچھا کہ آپ نے اہل وادی،یعنی مکہ کے لوگوں پر(بطور نائب) کسے مقرر کیا؟نافع نے جواب دیا:ابن ابزیٰ کو۔انھوں نے پوچھا ابن ابزیٰ کون ہے؟کہنے لگے :ہمارے آزاد کردہ غلاموں میں سے ایک ہے۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا:تم نے ان پر ایک آزاد کردہ غلام کو اپنا جانشن بنا ڈالا؟تو (نافع نے) جواب دیا:و ہ اللہ عزوجل کی کتاب کو پڑھنے والا ہے اور فرائض کا عالم ہے۔عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: (ہاں واقعی) تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔اللہ تعالیٰ اس کتاب (قرآن) کے ذریعے بہت سے لوگوں کو اونچا کردیتا ہے اور بہتوں کو اس کے ذریعے سے نیچا گراتا ہے‘‘۔”
اور دعا ہر حال میں ضروری ہے ذکر کے بغیر تو دل مردہ ہو جاتے ہیں صدقہ ہر زمانے میں مالوں کے ساتھ ساتھ نفوس کو پاک کرنے کا بھی ذریعہ ہے جب خیر کا دروازہ کھلا ہو تو اس کی طرف جلدی کرنی چاہیے کیونکہ دروازے ہمیشہ کھلے نہیں رہتے دھوکے میں ہے وہ شخص جس نے اطاعت الہی سے اراز کر لیا اور حقیقی محروم ہے وہ شخص جو رحمت الہی سے محروم رہ گیا پھر جان لیجیے اللہ تعالی نے آپ سب کو اپنے نبی پر درود و سلام بھیجنے کا حکم دیا ہے
ارشاد باری تعالی ہے:
’’إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ‘‘
’’اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو‘‘۔(سورۃ احزاب:۵۶)
اے اللہ ہمارے نبی محمد درود و سلام اور برکتیں نازل فرما اے اللہ خلفائے راشدین ابو بکر ،عمر،عثمان علی رضی اللہ عنھم سے راضی ہو جا جنہوں نے حق و انصاف کے ساتھ فیصلے کیے بلکہ تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا اور اپنے جود و کرم کی بارش کرتے ہوئے ان کے ساتھ ساتھ ہم سب سے بھی راضی ہو جا اے سب سے زیادہ فضل و کرم کرنے والے اے اللہ اسلام اور مسلمانوں کو عزت و غلبہ عطا فرما شرک اور مشرکین کو ذلیل و رسواء عطا فرما دشمنان دین کو تہس نہس کرتے اے اللہ اس ملک کو اور تمام اسلامی ممالک کو امن و امان اور خوشحالی کا گہوارہ بنا دے۔
اے اللہ ہمارے امام اور ان کے ولی عہد کو اپنے پسندیدہ امور کی توفیق عطا فرما نیکیوں تقوی کے کاموں پر لگا دیں اور ان کے ذریعے اسلام اور مسلمانوں کو فائدہ پہنچا اے ہمارے پروردگار ہمیں دنیا میں نیکی دے اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور عذاب جہنم سے نجات عطا فرما اے اللہ بڑھانےرحمت کا ہم پہ نزول فرما اے اللہ ہمیں مایوس لوگوں میں شامل نہ کرنا اے ہمارے پروردگار ہم نے اپنا بڑا نقصان کیا اور اگر تو نے ہماری مغفرت نہ کی اور ہم پر رحم نہ کیا تو واقعی ہم نقصان پانے والوں میں سے ہو جائیں گے اللہ کے بندو اللہ تعالی عدل کا برائی کا قربہ داروں کو ہماری دعوت دینے کا حکم دیتا ہے بے حیائی کے کام ہونا چاہیے حرکتوں اور ظلم و زیادتی سے روکتا ہے اور تمہیں خود نصیحت کر رہا ہے تم نصیحت حاصل کرو وہ اللہ جو عظمت اور جلال بنائے اسے یاد کرو وہ تمہیں یاد کرے گا اس کے نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو وہ تمہیں اور زیادہ عطا کرے گا بے شک اللہ تعالی کا ذکر بڑی چیز ہے جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالی اس سے باخبر ہے۔
تاریخ : 06شوال 1446ھجری بمطابق 04اپریل 2025 عیسوی ۔
خطیب: فضیلۃ الشیخ عبد المنان القاسم حفطہ اللہ
_______________________________________________________________________
نبی کریم ﷺ کی چار سے زیادہ ازواجِ مطہرات ہونے کے پیچھے کون سی تین…
یہودیوں کی وہ کون سی خوش فہمی تھی جس نے انہیں دھوکے میں رکھا؟ "فلاں…
مقرر کے مطابق اسلام کی تاریخ میں سب سے پہلا اور سب سے بدترین فتنہ…
امام عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے "اہلِ حدیث" کے بارے میں کیا فرمایا؟…
جہنم میں عورتوں کی کثرت کس اعتبار سے ہوگی؟ جہنم میں عورتوں کی تعداد زیادہ…