متفرقات

ماہ رمضان نیکیوں اور بھلائیوں کا موسم

خطبہ اول:

ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے، ہم اس کی حمد کرتے ہیں، اس سے مدد مانگتے ہیں، اس سے مغفرت چاہتے ہیں۔ ہم اس کی حمد و ثنا کرتے ہیں اور اس کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں ایسے بابرکت موسم عطا کیے جن کی مدح سرائی اعضاء و جوارح اور دلوں نے کی اور جس کا ورد زبانوں اور ضمیروں نے کیا۔ بڑھتے ہوئے فضل و احسان پر معبود کے لیے حمد کے بعد حمد ہے اور ہر وقت پیہم شکر ہے، ہم قیامت کے دن جس کے ثواب کی امید رکھتے ہیں۔

میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں جس نے بھلائی کی طرف سبقت کرنے والوں کو بلند مقام پر فائز کیا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں جو صبح و شام فضیلتوں اور بھلائیوں کی طرف بلانے والے ہیں۔ اللہ درود و سلام اور برکت نازل کرے آپ پر، آپ کے آل و اصحاب پر جو بھلائی حاصل کرنے کے لیے معزز کاموں کی طرف سبقت کرنے، عزت و شرف کے میدانوں میں پاکیزہ اثر چھوڑنے میں کامیاب ہونے والے اور قربت الٰہی میں بلند مقام پر فائز ہونے والے ہیں۔

 اما بعد:
اللہ کے بندوں اللہ کا تقوی اختیار کرو۔ آپ کو مبارک ہو کہ آپ ماہ صیام کے سائے سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، اس کی معطر ہواؤں میں راحت کی سانس لے رہے ہیں۔ روزہ اللہ تعالی کا تقویٰ حاصل کرنے کے لئے مشروع کیا گیا۔

اللہ کا فرمان ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ1

 اے ایمان والو! تم پر روزہ فرض کیا گیا جیسے کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا تاکہ تم تقویٰ شعار بن جاؤ۔

اور مومنوں، یہ دیکھو، ہم منافع والے مہینے سے اس کی نوازش، خوبصورتی اور عظمت کے ساتھ لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ یہ مہکتا مہینہ جس کی فضیلت نمایاں ہے، بھلائیوں سے لبریز ہے، جس کی برکت کے ساتھ صبح نمودار ہوئی ہے، جس کی پھوٹتی خوشبو سے شہر اور ملک معطر ہیں تاکہ ہماری بے تاب روحیں رحمت و خوشبو سے سرشار ہوں۔ اللہ اکبر۔ ماہ رمضان اس ربانی رحمتوں کا مہینہ ہے جو مسلمانوں کی زندگی کو اللہ کے ذکر اور قربت کے کاموں سے بھر دے۔ اس مہینے میں زبانوں پر معطر تلاوتیں جاری رہتی ہیں، دل روزے کی ہدایت اور قیام کی روشنی سے شاداں ہوتے ہیں۔ رمضان آیا تاکہ دلوں میں خیر کے جذبات کو جگائے، برائی کے سوتوں اور گناہوں کے چشموں کو معطل کرے۔ رمضان آیا تاکہ وجدان میں نیکی کے احساسات کو بڑھائے، احسان کے معنی کو دوگنا کرے اور خوشیاں پھیلائے۔ یوں سر کردہ اور زندگی کے بوجھ سے پژمردہ نفسوں کو شفا حاصل ہوگی اور مادیت کی پریشان کن بیڑیوں سے راحت۔ کان سننے والے ہیں، آنکھیں اشکبار ہیں، روحیں ڈری اور سہمی ہیں اور دل آہ و زاری کرنے والا ہے۔
اور یہ قبولیت کی باد بہار ہے، چل پڑی ہے۔ یہ بھلائی کا سیلاب امڈ پڑا ہے۔ یہ شیطان بیڑیوں میں جکڑا جا چکا ہے اور تباہ ہو چکا ہے۔ روزہ آیا تو تمام خیر لے کر کے آیا، یعنی قرآن کی ترتیل و تلاوت، تحمید و تسبیح، نفس، قول و عمل میں سرگرم ہے۔ دن میں روزہ اور رات میں تراویح۔ مومنوں!سنو، تم اپنے جوارح و اعضاء پر عقل و خرد کی لگام لگاؤ، پرہیزگاری تقویٰ کا پہرا بٹھاؤ تاکہ روزہ کمی اور خلل سے محفوظ رہے۔

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 الصَّوْمُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ2

روزہ (جہنم کی) آگ سے (بچاؤ کے لیے) ڈھال ہے۔

اور یہ تبھی حاصل ہو گا جب اعضاء و جوارح مہلک اور سنگین گناہوں سے دور رہیں گے۔ جب زبان لغو بات اور بکواس سے بچے گی۔ جب کلام دل آزاری سے محفوظ ہوگا۔ جب نگاہ حرام سے پھرے گی۔ جب قدم ناشائستہ اقدام سے رکا رہے گا۔ جب فیاضی کے ہاتھ پھیلائے جائیں گے۔ جب ایذا رسانی سے بچا جائے گا۔ اور جب ایسے پاک صاف خوفزدہ دلوں کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں گریہ و زاری کی جائے گی جن میں سچی توبہ، اخلاص اور توحید ہو۔ اس سب کا صلہ صرف نعمتوں والی جنت میں بلند مراتب ہیں۔ سو روزہ داروں اور قیام کرنے والوں کو خوشخبری۔

مسلمانوں! ہماری تابناک شریعت کا وتیرہ ہے کہ وہ مسلمانوں کا تزکیہ کرتی ہے، اسے بلند و بالا اخلاق اور خصلتوں کے ذریعے بلند ترین مقام و مرتبہ تک پہنچاتی ہے تاکہ اسے سربراہی اور ترقی حاصل ہو اور باعث تعظیم و حیرت عظیم امیدیں برآئیں۔ بالی طور کی بھلائیوں کو کرنے کی ترغیب دی جائے، فضیلت والی خوبیوں کے حصول میں جلدی کی جائے۔

 اس مبارک مہینے سے افضل اور عظیم کون سا مہینہ ہے؟ جو دل میں جذبہ پیدا کرنے اور پائیدار اثر ڈالنے کا سرچشمہ بن سکے، جس میں روزے کے عظیم مقاصد حاصل کیے جائیں، جیسے نفسوں کو سنوارنا، بلند کرنا، انہیں آلائشوں سے روکنا اور پاک کرنا، خاندان، معاشرے اور وطن میں مسلمان کے مثبت کردار کو تقویت دینا۔ بالی طور کے روزے کے ایمانی مطالب کو اس کے پائیدار ایمانی و عملی نظام میں بدلا جائے جو اصولوں اور اقدار کو راسخ کرنے میں مددگار ہو۔

لوگوں! وہ وقت سے فائدہ اٹھانے، اثر پیدا کرنے پر ابھارا جائے، علم و عمل اور عبادت و اخلاق میں توازن برقرار رکھا جائے، معتدل منہج پر قائم رہا جائے۔ دینی گفتگو میں میانہ روی اختیار کی جائے، صورت حال کو شرعی نصوص سے اس طرح جوڑا جائے کہ شرعی مقاصد حاصل ہوں، اسلامی معاشرہ کا اتحاد اور معاشرے کے مختلف گروہوں کا باہمی تعلق اور یکجہتی کا تحفظ ہو۔ تو پتہ چلا کہ یہ جذبہ نیت و ارادہ ہے، عزم و عزیمت ہے، منافست و تیز گامی ہے، مقابلہ آرائی اور اقدام ہے، بہتر اور پختہ عمل ہے، امتیاز و لگن ہے، امنگ اور بہترین کارکردگی ہے۔
اسی طرح پائیداری جاری رہنے والا فائدہ، باقی رہنے والا اثر اور ذخیرہ کیا جانے والا اجر ہے۔

حدیث میں ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا:

 كَيْفَ كَانَ عَمَلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ كَانَ يَخُصُّ شَيْئًا مِنْ الْأَيَّامِ قَالَتْ لَا كَانَ عَمَلُهُ دِيمَةً3

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کی کیفیت کیا تھی؟کیا آپ(کسی خاص عمل کے لیے )کچھ ایام مخصوص فر ما لیتے تھے؟انھوں نے فر ما یا :نہیں آپ کا عمل دائمی ہو تا تھا۔

 مسلمان بھائیوں! ماہ رمضان صرف عبادتوں میں محنت کرنے کا مہینہ نہیں، بلکہ وہ سال بھر برقرار رہنے والے جذبے اور پائیدار اثر کا مہینہ ہے۔ یہ مہینہ عزائم والے افراد کے لیے اور ہم آہنگ نسلوں کی آماجگاہ مسلمان خاندان کے لیے بھی ایک جامع پروگرام اور خاکہ ہے۔ یہ بڑوں کے لیے اس طرح پروگرام ہے کہ وہ نئی نسلوں کی تربیت و پرورش میں اپنی کارکردگی کو فعال بنائیں، اقدار اور رشتوں کو راسخ کریں، قدوہ حسنہ پر پروان چڑھائیں۔ بچوں اور چھوٹے افراد کے لیے پروگرام اس طرح کہ وہ پرکشش تربیتی اسالیب کے ذریعے اپنے ننھے شعور میں روزے کے معانی کو راسخ کریں، عبادت کو ایک پائیدار مثبت عمل میں بدلیں۔ جوانوں کے لیے پروگرام اس طرح کہ رمضان کے رضاکارانہ پروگراموں میں وہ اپنی طاقتوں کو موثر شراکت کی طرف پھیریں، اپنی ذات کے تئیں خود احتسابی اور نگرانی کو فعال بنائیں تاکہ وہ سماجی ذمہ داری اور جواب دہی کو محسوس کر سکیں۔ نیز یہ رمضان مسلمان عورت کے لیے اس اعتبار سے پروگرام ہے کہ وہ خاندان کا ستون اور گھر میں استحکام پیدا کرنے والی ہے۔

اسی طرح یہ ماہ رمضان خاص عبادت، زندگی کے ایک جامع طرز عمل اور ہم آہنگ تربیتی منہج میں بدل جاتی ہے کیونکہ یہ مہینہ زندگی کے تمام شعبوں میں جدت کاری اور بہتری کے لیے تبدیلی لانے کا موسم ہے۔ یہ کوئی غیر واضح روایات نہیں ہیں، بلکہ الہام کردہ عبادات اور اس پائیدار عمل کی تعبیر ہے جس کا اثر دنیا و آخرت میں باقی اور محفوظ رہے گا۔

میرے پیارے بھائی! آدمی وہاں ہے جہاں اس کے کارنامے ہیں، اس کے لیے تو سب سے بہتر کارنامہ انجام دے۔ جب لوگ نیک کاموں کا بوجھ اٹھانے سے بچیں تو تو انہیں بڑھ کے اٹھا لے۔

 ایمانی بھائیو! تم روزے کے مہینے کو نقطہ آغاز بناؤ، بھلائی و نیکی کے کاموں کا، رواداری اور صلح و صفائی کا، حسد و کینہ چھوڑنے کا، سینے اور دل کی سلامتی کا، اتحاد و حسن ظن کا، صدقہ و احسان کا، خاندان اور صلہ رحمی پر توجہ دینے کا، جوان لڑکوں اور لڑکیوں کی نگہداشت اور ان کی اچھی تربیت کرنے کا، امت میں اتحاد قائم کرنے اور اختلاف و تفرقہ سے دور رہنے کا، وسطیت و اعتدال کو مستحکم کرنے کا، امن و سلامتی قائم کرنے کا، جنت کے لیے کام کرنے اور جہنم سے بچنے کا، وقتوں کی حفاظت کا، بامقصد مواد تیار کرنے اور سوشل میڈیا، سیٹلائٹ چینلوں اور جدید ذرائع ابلاغ کے اقدار اور احترام کے اصولوں کو حفاظت کرنے کا اور دینی اقدار کی خدمت، وطن کی سلامتی کے لیے ٹیکنالوجی کو مسخر کرنے کا نقطہ آغاز بناؤ۔

اپنے رب کا شکر ادا کرو کہ اس نے تمہیں اس مبارک مہینے تک پہنچایا، کتنے لوگ ہیں جو پچھلے رمضان میں ہمارے ساتھ تھے، وہ ہم سے رخصت ہو چکے ہیں۔ ہم اللہ سے اپنے لیے، ان کے لیے رحمتوں اور وسیع جنتوں کا سوال کرتے ہیں۔ اس مہینے کو پانے پر شکر گزاری کے تتمہ میں سے ہے کہ اس مہینے میں بکثرت احسان کیا جائے، محتاج لوگوں کی مدد کی جائے، اللہ کے بندوں کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے، آپ رمضان میں سب سے زیادہ سخاوت کرنے والے تھے۔ آپ صدقہ و خیرات میں بہتی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہوتے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا اسوہ بناؤ، نیکیوں میں سبقت کرو، دعاؤں میں جدوجہد کرو۔

اللہ کافرمان ہے:

 وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ۖ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ4

جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو میں بہت قریب ہوں، دعا کرنے والے کی دعا سنتا ہوں جب وہ مجھے پکارے۔۔

 اور ہم صدقہ و خیرات اور سماجی تعاون کرنے کے مہینہ میں ہیں۔ لوگ فنا ہو جائیں گے لیکن ان کے کارنامے فنا نہیں ہوں گے۔ تو اپنے لیے وہ چیز اختیار کرو جس کے آثار کی تعریف کی جائے۔

 اللہ ہمیں اور آپ کو اجر و ثواب سے محروم نہ کرے، بے شک وہ فیاض اور خوب نوازنے والا ہے۔

 اللہ کا فرمان ہے:

  يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ5

اللہ تعالیٰ کا ارادہ تمہارے ساتھ آسانی کا ہے، سختی کا نہیں۔ وہ چاہتا ہے کہ تم گنتی کی تعداد پوری کر لو، اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی بڑائیاں بیان کرو، اس کی شکر گزاری کرو۔ ۔

اللہ مجھے اور آپ کو کتاب و سنت میں برکت دے، مجھے اور آپ کو سید الثقلین کے طریقے سے فائدہ پہنچائے۔ میں اپنی بات کہہ رہا ہوں اور اللہ سے اپنے لیے، آپ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے ہر گناہ کی مغفرت طلب کرتا ہوں، آپ اس سے مغفرت طلب کریں، اس کی بارگاہ میں توبہ کریں، بے شک وہ بڑا بردبار اور بخشنے والا ہے۔

خطبہ ثانی:
تمام تعریف اللہ کے لیے ہے، اس نے ہمیں نیکی میں سبقت لے جانے اور باوقار مقابلہ کرنے کی ترغیب دی، میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، نیکی آپ کی طبیعت میں رچی بسی تھی، آپ سے مانوس تھی۔ اللہ تعالیٰ درود و سلام نازل کرے آپ پر، آپ کے آل و اصحاب پر اور ان سب پر جو قیامت کے دن لوگوں کے جمع کیے جانے تک ان کے نقش قدم پر نیکی کے ساتھ چلتے رہیں۔

 اما بعد:

اللہ کے بندوں، قول و فعل میں اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، فروتنی اور اطاعت کے ساتھ اس سے ڈرو اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اور اللہ سے ڈرے، اس کی پرہیزگاری اختیار کرے تو یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔

 مومنوں! روزہ بے شک عظیم مقاصد اور واضح احکام کے لیے مشروع کیا گیا، ان مقاصد میں سرفہرست دین کی حفاظت تقویٰ کا حصول ہے، یہی وہ اعلی ترین غایت اور بلند ترین ہدف ہے جس کے لیے روزہ فرض کیا گیا ہے۔

 امام بغوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:

 “لعلکم تتقون” (تاکہ تم سب متقی بن جاؤ) یعنی روزے کے ذریعے، روزہ تقویٰ تک لے جاتا ہے کیونکہ روزہ نفس کو قابو میں رکھنے اور خواہشات کو توڑنے کا ذریعہ ہے۔ اسی طرح عبادات کی پابندی، قرآن کی تلاوت، ذکر و دعا، اعتکاف میں بھی یہی مقصد حاصل ہوتا ہے۔ اسی طرح جان کی حفاظت، اسے میلانات اور خواہشات سے روکنے، عبادات اور تقرب کے کاموں پر لگانے میں بھی یہ مقصد عیاں ہے۔ عقل کی حفاظت میں شیطان کے راستوں کو تنگ کر کے اس کی قوت کو توڑ کر وسوسوں اور وہموں کو دور کرکے اسے لگام لگانے میں بھی یہ مقاصد ہیں۔ غیبت و چغلی، بہتان تراشی سے پرہیز کرکے آبرو کی حفاظت میں بھی یہ عیاں ہے۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ6

 جو شخص جھوٹ بولنے اور اس پر عمل کرنے سے باز نہ آئے، اللہ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑے۔

 اور مال کی حفاظت میں بھی یہ مقصد ظاہر ہے کہ اسے خرچ کیا جائے، فضول خرچی اور اسراف سے پرہیز کیا جائے، فقراء مساکین اور مصیبت زدہ کے ساتھ احسان کیا جائے۔ رفاہی اور خیراتی اداروں خصوصاً اوقاف اور وصیتوں کو قابل اعتماد منظم ادارہ جاتی اور پائیدار طریقہ کار کے ذریعے مستحکم کیا جائے۔

 روزہ ہمدردی اور بھلائی کا نام ہے، قرآن و سنت دونوں میں اس کا حکم ہے اور روزہ کتنا خوب ہے جس میں تم احسان کرو۔ اور روزے میں نفس کا بعض چیزوں سے محروم رہنا حقیقت میں کوئی محرومی نہیں، پس امت مسلمہ کو ضرورت ہے، کتنی زیادہ ضرورت ہے کہ وہ ماہ رمضان اور روزے کے مقاصد سے فائدہ اٹھائے، انہیں سال کے باقی دنوں کے لیے ترغیب کا ذریعہ بنائے تاکہ سال کے باقی دنوں میں پائیدار نتیجہ حاصل ہو۔ خصوصاً جب اس کا ایک تہائی حصہ گزر چکا ہے، لہذا جتنا باقی رہ گیا ہے، اعمال صالحہ سے اس کا تدارک کر لو تاکہ تم اللہ کے فضل و کرم سے قبولیت اور جہنم سے آزادی سے شاد کام ہو جاؤ۔

اللہ کے بندوں، اللہ آپ پر رحم فرمائے، خفیہ و علانیہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجو، اس ہستی پر جو تمام مخلوقات میں سب سے بہتر، سب سے زیادہ باعزت، سب سے بلند مرتبہ ہیں، ہمارے نبی محمد بن عبداللہ الہاشمی القرشی پر جیسا کہ تمہیں اس کا حکم رب کریم نے دیا ہے۔

اللہ کا فرمان ہے:

 إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا7

بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر صلوٰۃ بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اس پر صلوٰۃ بھیجو اور سلام بھیجو، خوب سلام بھیجنا۔

 اللہ نے اپنے فضل سے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نازل فرمایا اور مخلوقات میں آپ کو عظیم مرتبہ عطا کیا۔ اے وہ لوگو جو ان کی شفاعت کی امید رکھتے ہو، ان پر درود و خوب سلام بھیجو۔

 اے اللہ اپنے بندے اور رسول محمد پر اور ان کے تمام آل و اصحاب پر درود بھیج اور جو ان کے راستے پر چلے، ان کی پیروی کرے، اے بہترین درگزر کرنے اور معافی دینے والے رب، اور ہمیں بھی ان کے ساتھ شامل فرما دے اپنے فضل و کرم سے اے اکرم الاکرمین۔

اے اللہ اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما۔ اے اللہ دین کے قلعہ کی حفاظت فرما، اس ملک کو امن و اطمینان، فراخی اور خوشحالی عطا فرما، مسلمانوں کے دیگر ممالک کو بھی۔ اے اللہ ہمیں ہمارے وطنوں میں امن دے، ہمارے اماموں اور حکمرانوں کو توفیق دے، ہمارے امام اور ولی امر کو حق و درست رہنمائی کے ساتھ مدد عطا فرما۔

 اے اللہ ہمارے امام خادم حرمین شریفین اور ان کے ولی عہد کو ہر اس چیز کی توفیق عطا فرما جس میں اسلام کا غلبہ ہو، مسلمانوں کی بھلائی اور بندوں اور ملک کے لیے خیر و ہدایت ہو۔ اے رب تمام مسلمان حکمرانوں کو توفیق عطا فرما دے۔ اے ہمارے رب، ہمارے سیکیورٹی اہلکاروں اور سرحدوں پر متعین محافظوں کو بھی توفیق عطا فرما دے۔

اے اللہ فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کی مدد فرما، مسجد اقصی کو سرکشوں کی سرکشی سے محفوظ رکھے۔ اے اللہ مسجد اقصی کو تو محفوظ رکھ۔

اے اللہ ہمیں ماہ رمضان کے روزے اور قیام میں مدد فرما، ہمیں اس میں نیک کاموں کی توفیق عطا فرما۔ اے اللہ ہمیں اس میں تیرے ذکر، تیری شکر گزاری، تیری اچھی عبادت کرنے میں ہماری مدد فرما۔ اے اللہ اسے ہمارے لیے نیک اعمال کا نقطہ آغاز اور گناہوں کا خاتمہ بنا دے۔ ہماری نیتوں کو درست فرما دے، ہمارے درجات کو بلند کر، ہماری خطائیں مٹا دے۔

اے دعاؤں کو قبول کرنے والے۔ اے اللہ ہمیں رمضان کے لیے صحیح و سالم رکھ، رمضان کو ہمارے لیے، ہمارے سپرد کر دے اور اسے ہم سے قبول شدہ صورت میں لے لے۔ اے اللہ بے شک تو بخشنے والا ہے، بخشنے کو پسند فرماتا ہے، تو ہم پر بھی بخشش کر اور ہمیں اپنی آگ سے نجات پانے والوں میں شامل فرما دے، ہمارے والدین اور تمام مسلمانوں کو بھی آگ سے پناہ دے دے۔ اے رب العالمین۔

خطبہ جمعہ مسجد الحرام
تاریخ: 10 رمضان 1447 ہجری بمطابق 27 فروری 2026 عیسوی
خطیب: فضیلۃ الشیخ عبدالرحمن السدیس حفظہ اللہ

  1. (سورۃ البقرۃ:183)
  2. (سنن نسائی:2233)
  3. (صحیح مسلم:1829)
  4. (سورۃ البقرۃ:186)
  5. (سورۃ البقرۃ:185)
  6. (صحیح بخاری:1903)
  7. (سورۃ الأحزاب:56)
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن بن عبدالعزیز السُدیس حفظہ اللہ

آپ 10 فروری 1960ء کو پیدا ہوئے ۔ کعبہ کے ائمہ میں سے ایک ممتاز نام الشیخ عبدالرحمن بن عبدالعزیز السدیس حفظہ اللہ کا ہے ، جن کی آواز دنیا بھر میں گونجتی ہے اور یہ سعادت 1984ء سے آپ کو حاصل ہے ، کم و بیش دس سال سے زائد عرصے سے آپ مسجد حرام ، اور مسجد نبوی کےا مور کے رئیس بھی ہیں ۔

Recent Posts

عید الفطر کے مسنون اعمال؟

عید کی خوشی کیسے منائیں؟ عید کا چاند دیکھ کر نبی کریم ﷺ کیا کرتے…

2 days ago

رمضان المبارک کے اختتام پر آٹھ اہم نصیحتیں

ماہِ رمضان المبارک اپنے اختتام کے قریب ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں ہم…

2 days ago

عید کی تیاری میں رمضان نہ رہ جائے!

رمضان میں عید کی شاپنگ پر جانے کے حوالے سے شریعت کیا رہنمائی کرتی ہے؟…

2 days ago

سچے ایمان کی علامت؟

آپ ﷺ کو صادق (سچا) ماننے کا اصل مطلب کیا ہے؟ آپ ﷺ کی شان…

4 days ago

فیصل بینک  کا “نور کارڈ”اسلامی کریڈٹ کارڈ یا سودی حیلہ

          عصرِ حاضر میں اسلامی بینکاری کے نام پر متعدد مالی مصنوعات (Financial Products) متعارف…

6 days ago

نیک اعمال میں ثابت قدمی:

وہ کون شخص ہے جو قیامت کے دن کامیاب ہوگا، اور کامیابی کے لیے کیا…

7 days ago