کھانے پینے کے آداب
ہم جب بھوک محسوس کرتے ہیں، تو اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہم خودمختار نہیں بلکہ کمزور اور محتاج ہیں۔ ہمیں ہر لمحہ اپنے رب کی نعمتوں کی ضرورت ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
الَّذِي أَطْعَمَهُم مِّن جُوعٍ ۔۔۔۔
“جس نے انہیں بھوک سے نجات دے کر کھانا دیا اور خوف سے امن عطا کیا۔”
بھوک ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم بندے ہیں، اور ہمارا رب ہی ہے جو کھلاتا ہے، پلاتا ہے، اور زندہ رکھتا ہے۔
اسی لیے کھانے پینے سے پہلے اور بعد میں اللہ کا شکر ادا کرنا محض آداب نہیں، بلکہ بندگی کا تقاضا ہے۔
اسلامی مہینے 'ذوالحجہ' کے پہلے 10 دن اتنے اہم کیوں ہیں، اور نبی صلی اللہ…
مسلمان عورت کا لباس کیسا ہونا چاہیے؟ اسلام میں جسم ڈھانپنے اور پردے کے کیا…
کیا اسلام جدید ٹیکنالوجی کے خلاف ہے؟ اسلامی تاریخ کے حوالے سے ہم کس غلط…
شادیوں میں سلامی دینے کا رواج کیا واقعی تحفہ ہے یا سود؟ تحفہ کب لین…
سفرِ حج پر جانے والے خوش نصیب لوگ کن باتوں کا خاص خیال رکھیں؟ دورانِ…
عبداللہ بن اُبی اور اس کے ساتھیوں کا جنگ سے واپس پلٹنا ہمیں منافقت کی…