انسان کی تخلیق کا مقصد
اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک حقیر سی چیز، نطفۂ امشاج، یعنی مرد و عورت کے ملے جلے پانی سے پیدا فرمایا، اور اسے سننے اور دیکھنے کی صلاحیت دے کر دنیا میں بھیجا تاکہ آزمائش کرے کہ وہ کیسا عمل کرتا ہے۔
یہ دنیا دراصل امتحان گاہ ہے جہاں ہر لمحہ انسان آزمائشوں سے دوچار ہوتا ہے — کبھی تنگی سے، کبھی فراخی سے، کبھی نعمت دے کر اور کبھی لے کر۔
یہ انسان کی تخلیق اس کے مقصدِ حیات اور اللہ کی طرف سے ہونے والی آزمائشوں پر غور و فکر کے لیے وقف ہے۔
آئیں! قرآن کی روشنی میں اپنا مقصد پہچانیں اور زندگی کی حقیقت کو سمجھیں ۔۔
اسلام عورت کی عصمت و پاکدامنی کی حفاظت کیسے یقینی بناتا ہے؟ گروپ اسٹڈی میں…
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کیسے تھے؟سورۃ الحجرات کو کس دوسرے نام سے…
انسانی زندگی نشیب و فراز کا مجموعہ ہے، جہاں خوشیوں کے ساتھ ساتھ آزمائشیں بھی…
کیا ساس، سسر کی خدمت شادی کے اہم مقاصد میں سے ہے؟ کیا بہو پر…
کیا ایک مجلس کی تین طلاقوں کے تین واقع ہونے پر اجماع ہے؟ ایک مجلس…
کیا سفرِ معراج 27 رجب کو ہوا؟ کیا شبِ معراج منانا بدعت ہے؟ شبِ معراج…