حق تلاوت کی اہمیت
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ1
یعنی وہ لوگ جو کتاب کے سچے وارث ہیں، اس کی تلاوت اس کے حق کے ساتھ کرتے ہیں، یعنی درست تجوید کے ساتھ پڑھتے اور اس پر عمل کرتے ہیں۔ غلط تلاوت معنی بگاڑ سکتی ہے اور جان بوجھ کر درست سیکھنے کی کوشش نہ کرنا گناہ ہے، جبکہ سیکھنے والے کے لیے اجر ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
جو ایک آیت کی تعلیم دیتا ہے، اسے اس کا اجر ملتا رہے گا2۔
حفاظ کرام کو چاہیے کہ قرآن کے ساتھ جڑے رہیں، تاکہ وہ خود بھی اجر پائیں اور دوسروں کے لیے ہدایت کا ذریعہ بنیں۔
____________________________________________________________________________________________________________
نیک لوگوں پر سب سے خطرناک شیطانی حملہ کیا ہوتا ہے؟ رمضان میں مسجد آنے…
کیا اہل حدیث وقت سے پہلے روزہ کھولتے ہیں؟ مفتی طارق مسعود صاحب کے بے…
مضان المبارک آپ ﷺ کن اعمال کا زیادہ اہتمام فرماتے؟ صدقہ کے روحانی، معاشرتی اور…
کیا نبی ﷺ نے تراویح باجماعت ادا فرمائی، اور کتنی رکعات پڑھائیں؟ بیس رکعات تراویح…
نبی کریم ﷺ کی سحری کیسی ہوتی تھی؟ سحری اور افطاری میں آپ ﷺ کا…