حق تلاوت کی اہمیت
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ1
یعنی وہ لوگ جو کتاب کے سچے وارث ہیں، اس کی تلاوت اس کے حق کے ساتھ کرتے ہیں، یعنی درست تجوید کے ساتھ پڑھتے اور اس پر عمل کرتے ہیں۔ غلط تلاوت معنی بگاڑ سکتی ہے اور جان بوجھ کر درست سیکھنے کی کوشش نہ کرنا گناہ ہے، جبکہ سیکھنے والے کے لیے اجر ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
جو ایک آیت کی تعلیم دیتا ہے، اسے اس کا اجر ملتا رہے گا2۔
حفاظ کرام کو چاہیے کہ قرآن کے ساتھ جڑے رہیں، تاکہ وہ خود بھی اجر پائیں اور دوسروں کے لیے ہدایت کا ذریعہ بنیں۔
____________________________________________________________________________________________________________
کیا مسح صرف چمڑے کے موزوں پر ہی ہوتا ہے؟ کیا جرابوں پر مسح کرنے…
عبادت میں دل کیوں نہیں لگتا؟ عبادت میں دل کیسے لگائیں؟ عبادت کے اثرات ہماری…
ایک غریب صحابی کے رشتے کے لیے نبی کریم ﷺ نے کس گھرانے کو منتخب…
مسئلہ تین طلاق پر اجماع کے دعوے کی حقیقت؟ "حلالہ" کی حقیقت اور شرعی حیثیت؟…