سچائی قرآن و حدیث کی روشنی میں
حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں شریک نہ ہو سکے، جس کا انہیں بہت افسوس تھا۔ انہوں نے عہد کیا کہ اگر دوبارہ موقع ملا تو اپنی جان قربان کر دیں گے۔ غزوہ احد میں انہوں نے یہ وعدہ نبھایا اور شہید ہو گئے۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:
مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ1
یعنی “مومنوں میں کچھ مرد ایسے ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے گئے وعدے کو سچ کر دکھایا۔”
یہ آیت اور حضرت انس بن نضر کی قربانی صدق (سچائی) کا اعلیٰ نمونہ ہے — وہ سچائی جو قول، عمل، اور قربانی میں ظاہر ہوتی ہے۔
___________________________________________________________________________________________________________
کیا قبر میں سوالات کے دوران نبی کریم ﷺ کی زیارت کرائی جاتی ہے؟ کیا…
اسباب اختیار کرتے ہوئے کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟ "فلاں ڈاکٹر کے ہاتھ میں…
مدینہ میں نفاق کا ظہور کب اور کیوں ہوا؟منافقین کی سب سے بنیادی اور خطرناک…
خطبہ اول: یقیناً تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، وہ اکیلا اور بے نیاز ہے،…
قدرتی وسائل سے بھرپور پاکستان معاشی بحران کا شکار کیوں ہے؟ ہماری بدحالی کی بنیادی…