پہلا خطبہ:

یقیناً تمام  تعریفیں اللہ  کے لئے ہیں، ہم اس کی تعریف بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد کے طلب گار ہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش بھی مانگتے ہیں، نفسانی و بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ تعالی ہدایت عنایت کر دے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی بھی رہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں ، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد   اللہ کے بندے اور اس کے رسول  ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل ، اور صحابہ کرام پر ڈھیروں درود  و سلامتی نازل فرمائے۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

اللہ کے بندوں! کما حقہ اللہ سے ڈرو اور خلوت و جلوت میں اسی کو اپنا نگہبان و نگران سمجھو۔

مسلمانوں!

تخلیق ، تدبیر اور کسی کو چنیدہ بنانے کا صرف اللہ تعالی کو اختیار ہے، اللہ تعالی کا کسی کو چننا اور خاص بنانا اللہ تعالی کی ربوبیت اور وحدانیت سمیت کامل حکمت و قدرت اور علم کی دلیل ہے، اللہ تعالی نے مختلف جگہوں، شخصیات، اعمال ، مہینوں اور ایام  کو ایک دوسرے پر فضیلت سے نوازا ہے، چنانچہ سیدنا محمد ﷺ خیر الخلق ہیں،  اللہ تعالی کی وحدانیت کا اقرار کر کے صرف اسی کی عبادت  کرنا افضل ترین عمل ہے،  مہینوں میں سے اعلی ترین ماہِ رمضان ہے، افضل ترین رات لیلۃ القدر ہے، دنوں میں سے افضل ترین  دن قربانی کا دن ہے، اللہ تعالی کے ہاں سب سے اچھی اور محبوب ترین جگہ   مکہ مکرمہ ہے، آپ ﷺ نے [مکہ کو مخاطب کر کے] فرمایا تھا: (اللہ کی قسم! تو اللہ تعالی کی سب سے بہترین جگہ ہے، نیز اللہ تعالی کے ہاں سب سے محبوب  بھی ہے، اگر مجھے یہاں سے نہ نکالا جاتا تو میں کبھی یہاں سے نہ نکلتا) احمد

مکہ مکرمہ کا ایک نام ام القری ہے، دیگر تمام  علاقے اسی کے ماتحت ہیں، اللہ تعالی نے اس شہر کی عظمت اجاگر کرتے ہوئے اس کی قسم بھی اٹھائی،:

لَا أُقْسِمُ بِهَذَا الْبَلَدِ

البلد – 1

میں اس شہر کی قسم اٹھاتا ہوں۔

ایک اور جگہ قسم کے ساتھ اس کا نام بھی  امن والا شہر رکھا اور فرمایا:

وَهَذَا الْبَلَدِ الْأَمِينِ

التین – 3

اور اس پر امن شہر کی قسم۔

اس شہر کی مسجد  سب سے معزز مسجد ہے ، اللہ تعالی نے اسی مسجد کو روئے زمین پر سب سے پہلا  بابرکت اور لوگوں کے لئےہدایت والا گھر  قرار دیا ، فرمانِ باری تعالی ہے:

إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِلْعَالَمِينَ

آل عمران – 96

 پہلا گھر جو لوگوں کے لیے بنایا گیا وہ مکہ میں ہے جو تمام دنیا کے لیے برکت و ہدایت والا ہے ۔

ابو ذر رضی اللہ عنہ نے استفسار کیا: “اللہ کے رسول! روئے زمین پر سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی؟” آپ ﷺ نے فرمایا: (مسجد الحرام) پھر انہوں نے کہا: “اس کے بعد؟” تو آپ ﷺ نے فرمایا: (مسجد اقصی) متفق علیہ

اللہ تعالی نے ابراہیم علیہ السلام کی اس گھر کی تعمیر اور پھر صفائی کے لئےرہنمائی فرمائی، فرمانِ باری تعالی ہے:

وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَاهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ

الحج – 26

 اور جب ہم نے ابراہیم کے لیے بیت اللہ کی جگہ متعین کر دی۔ [الحج: 26] تو ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ مل کر بیت اللہ کی دوبارہ تعمیر فرمائی۔

سیدنا  ابراہیم خلیل  علیہ السلام نے لوگوں کے دلوں میں بیت اللہ کی محبت اور اس کی جانب خوشی سے کھنچتے چلے آنے کی دعا فرمائی:

فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ

ابراهیم – 37

 بعض لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کر دے ۔

اللہ تعالی نے اس شہر کو اپنے معزز ترین پیغمبر کے لئےپسند فرمایا، چنانچہ یہاں پر آپ ﷺ کی پیدائش ہوئی، یہی پر آپ پروان چڑھے ، اسی شہر میں آپ کی بعثت ہوئی اور قرآن کی صورت میں وحی کا نزول شروع ہوا، آپ ﷺ نے یہاں پر پچاس سال سے زیادہ عرصہ گزارا، اسی شہر سے اسلام کی دعوت پھیلی، نیز یہاں پر انبیائے کرام کے بعد معزز ترین صحابہ کرام نے بھی نشو و نما پائی، اسی شہر سے آپ ﷺ کو مسجد اقصی لے جایا گیا، نبی ﷺ کو اس شہر سے بہت ہی زیادہ محبت تھی، لیکن آپ کو یہاں سے زبردستی نکالا گیا، چنانچہ مدینہ آنے کے بعد بھی آپ ﷺ دعا فرمایا کرتے تھے: (یا اللہ! مدینہ کو بھی ہمارے دلوں میں ایسا ہی محبوب بنا دے جیسے  تو نے مکہ کی محبت ڈالی یا اس سے بھی زیادہ)متفق علیہ

مکہ پر امن شہر ہے ، اس کے امن کے لئےابراہیم علیہ السلام نے دعا کرتے ہوئے فرمایا:

رَبِّ اجْعَلْ هَذَا بَلَدًا آمِنًا

البقرة – 126

 پروردگار! اس شہر کو پر امن بنا دے ۔

تو اللہ تعالی نے یہ دعا قبول فرمائی اور احسان جتلاتے ہوئے فرمایا:

أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ

العنكبوت – 67

 کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو پر امن بنایا حالانکہ ان کے ارد گرد سے لوگوں کو اٹھا لیا جاتا ہے؟!

قرطبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ” مکہ مکرمہ ہمیشہ سے جابر حکمرانوں اور زلزلوں سمیت دیگر شہروں پر آنے والی ہر قسم کی آفات سے امن میں رہا ہے” اس شہر کی مسجد میں داخل ہونے والا سکون محسوس کرتا ہے؛ کیونکہ فرمانِ باری تعالی ہے:

وَمَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا

آل عمران – 97

جو بھی اس میں داخل ہو گا اسے امان حاصل ہے۔

اللہ تعالی نے مکہ مکرمہ کو آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے وقت سے  ہی حرمت والا بنایا ، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (اللہ تعالی نے مکہ کو  آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے دن ہی  حرمت والا قرار دے دیا تھا، چنانچہ یہ شہر قیامت تک کے لئےاللہ تعالی کی جانب سے حرمت والا ہے) بخاری سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے لوگوں کے لئےاس شہر کی حرمت کو اجاگر کیا، جیسے کہ نبی ﷺ کا فرمان ہے: (ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرمت والا قرار دیا) متفق علیہ

نبی ﷺ خود بھی اس شہر کی تعظیم کیا کرتے تھے، آپ ﷺ نے حدیبیہ کے دن فرمایا تھا: (اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!  وہ مجھ سے کوئی بھی ایسا مطالبہ کریں جس میں اللہ تعالی کی حرمتوں کی تعظیم ہو گی میں اسے مان لوں گا) بخاری

اس شہر کی حرمت میں یہ بھی شامل ہے کہ یہاں  نا حق خون بہانا دیگر  کسی بھی علاقے میں خون بہانے سے  کہیں ابتر ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والے کسی بھی شخص کے لئےیہاں  خون بہانا جائز نہیں ہے) متفق علیہ

مکہ کے لوگوں کو اسلحہ اٹھا کر خوفزدہ کرنا بھی جائز نہیں ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (تم میں سے کسی کے لئےمکہ میں اسلحہ اٹھانا جائز نہیں ہے) مسلم

اللہ تعالی کی طرف سے حیوانات کو مکہ کے صحرا جبکہ پرندوں کو  یہاں کی فضا  میں بھی امن حاصل ہے، مکہ کے درخت بھی امن و امان  کے ساتھ لہلہاتے ہیں؛ کیونکہ انہیں کاٹا نہیں جاتا، دیگر علاقوں کی طرح گری پڑی چیز کو یہاں اٹھانا جائز نہیں ہے، نبی ﷺ کا فرمان ہے: (مکہ میں سبزہ نہیں کاٹا جائے گا، یہاں کے درخت نہیں کاٹے جائیں گے، یہاں پر شکار کو بھگایا نہیں جائے گا، اور گری پڑی چیز صرف اعلان کرنے والے کے لئےاٹھانا جائز ہے۔) متفق علیہ

نبی ﷺ نے مال، جان اور عزت آبرو کی حرمت کو مکہ شہر کی حرمت سے تشبیہ دی؛ کیونکہ اس شہر کی عظمت اللہ تعالی کے ہاں بہت زیادہ ہے، چنانچہ آپ ﷺ کا فرمان ہے: (تمہاری جان، مال اور عزت آبرو ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں جیسے تمہارے آج کے دن  کی حرمت اس شہر اور اس مہینے میں ہے) متفق علیہ

اللہ تعالی اس شہر کے متعلق بری سوچ رکھنے پر بھی عذاب دیتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:

وَمَنْ يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ

الحج – 25

 جو بھی یہاں ظلم کرتے ہوئے الحاد کا ارادہ کرے گا ، ہم اسے درد ناک عذاب چکھائیں گے۔

ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ” اگر کوئی شخص مکہ شہر میں الحاد  پیدا کرنے کی منصوبہ بندی عدن ابین [یمن کا علاقہ] میں بیٹھ کر بھی کرتا ہے تو اللہ تعالی اسے بھی درد ناک عذاب سے دوچار کرے گا “۔

اس شہر میں ظلم کرنے والا اللہ تعالی کے ہاں ناپسندیدہ ترین  شخص ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (حرم میں رہنے والا  ملحد اللہ تعالی کے ہاں ناپسندیدہ ترین شخص ہے ) بخاری

اس شہر کی عظمت کے پیش نظر یہاں کی دھرتی پر مشرک قدم بھی نہیں رکھ سکتا، فرمانِ باری تعالی ہے:

إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ

التوبة – 28

 بیشک مشرکین  نجس ہیں، لہذا وہ مسجد الحرام کے قریب بھی نہ آئیں۔

دجال  کافر ہے اور وہ لوگوں کو دینی اعتبار سے فتنے میں ڈال دے گا، لیکن اللہ تعالی نے اسے مکہ اور مدینہ میں داخل ہونے سے روک دیا ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (مکہ اور مدینہ کے علاوہ کوئی ایسا شہر نہیں ہے جہاں دجال نہ پہنچے) متفق علیہ

مکہ مکرمہ اللہ تعالی کی حفاظت میں ہے اور یہ آئندہ بھی اللہ کی حفاظت میں رہے گا، اس شہر کے بارے میں غلط خیالات رکھنے والے کو اللہ تعالی تباہ فرما دے گا، چنانچہ اللہ تعالی نے ہاتھیوں والوں کو  بیت اللہ کے قریب جانے سے روک دیا اور انہیں قیامت تک کے لئےنشانِ عبرت بنا دیا، (ایک لشکر کعبہ پر حملہ آور ہو گا جب وہ بیداء یعنی صحرا میں ہوں گے تو اللہ تعالی شروع سے لیکر آخر تک سب کو زمین دوز کر دے گا) بخاری اللہ تعالی نے اس شہر کو امن و امان والا بنایا اور یہاں پر وافر مقدار میں رزق اور پھل بھی  پہنچایا، حالانکہ  مکہ دو پہاڑوں کے درمیان ایک بے ثمر و شجر  وادی میں ہے اور چاروں جانب سے پہاڑوں نے گھیرا ہوا ہے، جس کے باعث یہاں بھوک افلاس کا خدشہ بہت زیادہ  ہے، اس لیے ابراہیم علیہ السلام نے اہل مکہ کے لئےپھلوں کی صورت میں رزق ملنے کی ایسے ہی دعا فرمائی جیسے کہ آب و گیاہ والے علاقوں میں رزق عطا ہوتا ، آپ نے فرمایا:

وَارْزُقْ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ

البقرة – 126

اس شہر کے باشندوں کو پھلوں کی صورت میں رزق  عطا فرما۔

تو اللہ تعالی نے اس کا جواب یوں دیا:

أَوَلَمْ نُمَكِّنْ لَهُمْ حَرَمًا آمِنًا يُجْبَى إِلَيْهِ ثَمَرَاتُ كُلِّ شَيْءٍ رِزْقًا

القصص – 57

 کیا ہم نے پرامن حرم کو ان کی جائے قیام نہیں بنایا؟ جہاں ہماری طرف سے رزق کے طور پر ہر طرح کے پھل کھنچے چلے آتے ہیں ؟

نیز ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کے صاع اور مد یعنی کھانے پینے میں برکت کی دعا فرمائی اور نبی  ﷺ  دعا فرمایا کرتے تھے: (“یا اللہ! مدینہ میں اس سے بھی د گنی برکت فرما جتنی تو نے مکہ میں فرمائی ہے”) متفق علیہ

اللہ تعالی نے اہل مکہ کو ایسا پانی مہیا فرمایا کہ پوری سر زمین پر ایسا پانی نہیں ہے، لوگ اس پانی کے قطروں کو بھی ترستے ہیں، یہ آب زمزم ہے جو کہ بابرکت بھی ہے اور بھوکے شخص کے لئےکھانے کا متبادل بھی ، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (یہ با برکت پانی ہے اور کھانے والے کے لئےکھانا بھی ہے) مسلم، نیز  آبِ زمزم تمام بیماریوں سے شفا کا باعث بھی ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (زمزم کھانے والے کے لئےکھانا اور بیمار کے لئےشفا کا باعث ہے) مسلم ، نیز نبی ﷺ کے سینے کو فرشتے نے شق کر کے زمزم سے ہی دھویا تھا۔ بخاری

اس شہر میں رزق اور امن کی فراوانی صرف ایک اللہ تعالی کی عبادت کا موجب ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے:

فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ (3) الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ

قریش – 3/4

وہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں ۔ جس نے انہیں بھوک میں کھلایا اور خوف میں امن عطا کیا۔

بیت اللہ کی تعظیم اورعقیدہ توحید کے عوض یہاں کے باشندوں کا اللہ تعالی دفاع فرماتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:

جَعَلَ اللَّهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِيَامًا لِلنَّاسِ

المائدة – 97

 اللہ تعالی نے کعبہ  کو حرمت والا گھر اور لوگوں کے لئےقیام کی جگہ بنایا۔

 ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: ” یعنی اللہ تعالی بیت اللہ کی تعظیم کے باعث ان کی مشکل کشائی فرماتا ہے”۔

مکہ مکرمہ بابرکت شہر ہے اور اس سے حاصل ہونے والی برکتیں بھی بحرِ بے کنار ہیں، اس شہر کی برکت یہ بھی ہے کہ یہاں ایک نماز  کی ثواب بہت بڑھا چڑھا کر دیا جاتا ہے، چنانچہ (مسجد الحرام میں ایک نماز دیگر مساجد  کی ایک لاکھ نمازوں سے بہتر ہے) احمد

بیت اللہ کا طواف عبادت  اور نماز کے قائم مقام ہے، دن اور رات کے کسی بھی حصے میں کسی کو بھی طواف کرنے سے نہیں روکا جا سکتا، فرمانِ باری تعالی ہے:

وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ}

الحج – 29

اور انہیں چاہیے کہ وہ اس قدیم گھر کا طواف کریں۔

مکہ کے مشاعر مقدسہ مسلمانوں کے لئےجائے عبادت ہیں، اللہ تعالی نے یہاں پر آنا فرض قرار دیا اور اسے اسلام کے ارکان میں شامل فرمایا، نیز مسجد الحرام کی جانب سفر کرنے پر مسافر کو ثواب بھی ملتا ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (تین مساجد کے علاوہ کسی مسجد کی جانب رخت سفر نہیں باندھا جا سکتا: مسجد الحرام، رسول اللہ ﷺ کی مسجد اور مسجد اقصی) متفق علیہ

پوری دھرتی پر بیت اللہ کے سوا ایسا کوئی مقام نہیں  جہاں کا طواف جائز ہو اور نہ ہی اس سر زمین پر حجر اسود کے علاوہ کوئی ایسی جگہ ہے جسے بوسہ دینا جائز ہو، نیز بیت اللہ کے رکن یمانی کا استلام کرنا شرعی عمل ہے۔

اللہ تعالی نے بیت اللہ کو لوگوں کے ٹھہرنے اور امن کی جگہ بنایا، اسی گھر کی جانب لوگ سالہا سال سے بڑی بڑی دور کا سفر کر کے آتے ہیں، قلب و روح اس کی جانب کھنچتے چلے آتے ہیں، جس قدر بیت اللہ کی زیارت زیادہ ہوتی ہے لوگوں کی تڑپ بھی اتنی ہی بڑھ جاتی ہے، بہت سے انبیائے کرام بھی اس گھر میں آئے ، موسی علیہ السلام ، یونس علیہ السلام اور جناب محمد ﷺ  نے اس گھر کا حج کیا، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (گویا کہ مجھے موسی علیہ السلام گھاٹی سے نیچے اترتے ہوئے نظر آ رہے ہیں اور بڑی عاجزی کے ساتھ تلبیہ کہہ رہے ہیں، گویا کہ مجھے یونس بن متی علیہ السلام سرخ اونٹنی پر تلبیہ کہتے ہوئے نظر آ رہے ہیں) مسلم

اللہ تعالی نے بیت اللہ  کی شان اجاگر کرتے ہوئے اسے اپنی نسبت سے نوازا اور بیت اللہ کو مینارِ توحید قرار دے کر توحید سے متصادم چیزوں سے پاک رکھنے کا حکم دیا، چاہے وہ بتوں کی شکل میں ہوں یا تھانوں کی عبادت کی صورت میں، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَطَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْقَائِمِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ} میرے گھر کو طواف، قیام، رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لئےپاک کرو۔[الحج: 26]،  نیز اس گھر کی طرف آنے کو سابقہ گناہوں کے لئےکفارہ بنا دیا، آپ ﷺ کا فرمان  ہے: (جو شخص اس گھر کا حج کرتے ہوئے بیہودگی اور فسق  کا ارتکاب نہ کرے تو وہ [گناہوں سے پاک صاف]ایسے واپس لوٹتا ہے جیسے اس کی ماں نے جنم دیا تھا) متفق علیہ اللہ تعالی نے اس گھر کا حج کرنے والے کے لئےجنت سے کم ثواب پسند ہی نہیں فرمایا، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (ایک عمرہ دوسرے عمرے تک کے درمیان والے گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے اور حج مبرور کا بدلہ صرف جنت ہے)متفق علیہ

بیت اللہ تمام زمین والوں کا قبلہ ہے، پوری دنیا میں تمام مسلمان روزانہ کئی بار اس کی جانب رخ کر کے نماز ادا کرتے ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے:

فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ

البقرة – 144

 آپ اپنا رخ مسجد الحرام (کعبہ) کی طرف پھیر لیجئے۔ اور جہاں کہیں بھی تم لوگ ہو، اپنا رخ اسی کی طرف پھیرلیا کرو۔

اور فوت ہونے کے بعد مسلمان کا چہرہ قبلہ کی جانب کیا جاتا ہے۔

اللہ تعالی نے اس گھر کی حرمت کو عظمت بخشی اس لیے بول و براز کرتے ہوئے قبلہ رخ نہیں ہونا چاہیے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (بول و براز کرتے ہوئے قبلہ رخ مت کرو، [اہل مدینہ] مشرق یا مغرب کی جانب رخ کریں) متفق علیہ

اسی گھر کی جانب ہدی اور نذرانے بھیجے جاتے ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے:

ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ

الحج – 33

 پھر ان [قربانیوں کے] ذبح ہونے کی جگہ قدیم گھر ہے۔

بیت اللہ میں واضح نشانیاں ہیں کہ یہ ابراہیم علیہ السلام کی تعمیر ہے، انہی نشانیوں میں مقام ابراہیم بھی ہے، اللہ تعالی نے ہمیں وہاں نماز پڑھنے کا حکم دیا، فرمانِ باری تعالی ہے:

وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى

البقرة – 125

 اور مقام ابراہیم کو جائے نماز بناؤ۔

بیت اللہ میں حجر اسود بھی ہے :(حجر اسود جس وقت جنت سے نازل ہوا تو دودھ سے زیادہ سفید  تھا لیکن بنی  آدم کے گناہوں نے اسے سیاہ کر دیا) احمد

حجر اسود نفع اور نقصان کچھ نہیں دے سکتا، اسے بوسہ نبی ﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے دیا جاتا ہے، عمر رضی اللہ عنہ  نے فرمایا تھا: ” میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، نہ نفع دے سکتا ہے اور نہ نقصان، اگر میں نے نبی ﷺ کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو تجھے کبھی بوسہ نہ دیتا” متفق علیہ

مسجد الحرام میں صفا ، مروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں، ان کی تعظیم اور ان کے درمیان سعی کرنا واجب ہے، سب سے اعلی اور بہترین پانی بھی بیت اللہ میں ہے، آب زمزم کی وافر مقدار اور ڈھیروں فوائد  الگ نشانیاں ہیں۔

ان تمام تر تفصیلات کے بعد: مسلمانوں!

بیت اللہ ، اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کے لئےبنایا گیا، بیت اللہ توبہ کی قبولیت اور اللہ  سے لو لگانے کی جگہ ہے، اس لیے مسجد الحرام جاتے ہوئے  اللہ تعالی کے لئےعاجزی، انکساری، اور قربِ الہی سمیت گناہوں سے پاک صاف ہونا ضروری ہے، لوگوں پر بیت اللہ کی تعظیم واجب ہے، نیز اللہ تعالی کی جانب سے جن چیزوں کو عظمت دی گئی ہے انہیں معظّم سمجھنا تقوی کا حصہ ہے، اس کی برکت سے مسلمانوں کے دینی و دنیاوی حالات سنور جائیں گے، اسی طرح حرمین شریفین ، حجاج اور معتمرین کی خدمت کرنے والے کا اجر اللہ تعالی کے ہاں بہت بلند ہے، کیونکہ ان دونوں مسجدوں کو اللہ کے نبیوں نے بنایا ہے، اور دونوں اللہ تعالی کے شعائر میں شامل ہیں۔

أَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ

إِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ رَبَّ هَذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِي حَرَّمَهَا وَلَهُ كُلُّ شَيْءٍ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ

النمل – 91

 یقیناً مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس شہر کے پروردگار کی عبادت کروں جس نے اسے حرمت والا قرار دیا ہے، ہر چیز کا مالک وہی ہے، اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلے فرمانبردار ہونے والوں میں شامل ہو جاؤں۔

 اللہ تعالی میرے اور آپ سب کے لئےقرآن مجید کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو ذکرِ حکیم کی آیات سے مستفید ہونے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی  بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے بخشش مانگو، بیشک وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کے لئےہیں کہ اس نے ہم پر احسان کیا ، اسی کے شکر گزار بھی ہیں کہ اس نے ہمیں نیکی کی توفیق دی، میں اس کی عظمت اور شان کا اقرار کرتے ہوئے گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں وہ یکتا اور اکیلا ہے ، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد  اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، اللہ تعالی ان پر، ان کی آل و صحابہ کرام پر ڈھیروں رحمتیں و سلامتی نازل فرمائے۔

مسلمانوں!

بابرکت اور پر امن شہر میں مسلمان اپنا فریضۂ حج ادا کریں گے، ان سب مسلمان دنیا اور دنیاوی لالچوں سے بالکل یکسر الگ ہیں، انہوں نے اپنا سب کچھ اللہ کے سپرد کیا ہوا ہے، ان مسلمانوں کو ایک جگہ عقیدہ توحید  نے اکٹھا کیا اور ایمان نے ان دلوں میں باہمی الفت ڈالی،  یہ مسلمان اللہ تعالی کے لئےاپنی مکمل اطاعت گزاری  کا اظہار کر رہے ہیں، اور اپنی ضروریات اور حاجتیں اللہ تعالی سے مانگے گیں، آتے جاتے وہ اللہ تعالی کا کثرت سے ذکر کریں گے۔

ارکان حج میں بہت سے اسباق اور نصیحتیں ہیں: تمام لوگ اللہ تعالی کے ہاں  برابر ہیں، اللہ تعالی کے ہاں معیار تقوی ہے، احرام کی حالت میں  لوگوں کے یکجا جمع ہونے سے میدان محشر کی یاد تازہ ہوتی ہے۔

اللہ تعالی کے ہاں اسی شخص کا عمل مقبول ہو گا جو خالص اللہ کے لئےاور صحیح طریقے سے ادا ہو، جس میں شرک یا  ریا کاری یا بدعات نہ ہوں۔ حج کے دوران ایک ایک لمحہ انتہائی قیمتی ہوتا ہے، کامیاب وہی شخص ہے جو کثرت سے ذکرِ الہی  کرے اور نیکیاں بجا لائے۔

یہ بات جان لو کہ ، اللہ تعالی نے تمہیں اپنے نبی پر درود و سلام پڑھنے کا حکم دیا اور  فرمایا:

إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا

الاحزاب – 56

 اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام  بھیجا  کرو۔

اللهم صل وسلم وبارك على نبينا محمد

 یا اللہ! حق اور انصاف کے ساتھ فیصلے  کرنے والے خلفائے راشدین : ابو بکر ، عمر، عثمان، علی اور بقیہ تمام صحابہ سے راضی ہو جا؛ یا اللہ !اپنے رحم و کرم کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا اکرم الاکرمین!

یا  اللہ !اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، شرک اور مشرکوں کو ذلیل فرما، یا اللہ !دین کے دشمنوں کو نیست و نابود فرما،  یا اللہ! اس ملک کو اور مسلمانوں کے تمام ممالک کو خوشحال اور امن کا گہوارہ بنا دے۔

یا اللہ! جو بھی ہمارے یا ہمارے ملک کے خلاف ، یا مسلمانوں کے خلاف عیاری  کرے تو اسے اپنی ہی جان کے لالے پڑ جائیں، اس کی مکاری اسی کی  تباہی کا باعث بنا دے، اور اس کے دل میں رعب ڈال دے، یا قوی! یا عزیز!

یا اللہ! حجاج اور معتمرین کی حفاظت فرما، یا اللہ ! ان کا حج مبرور بنا، ان کی جد و جہد قبول فرما اور ان کی عبادات منظور فرما، یا ذو الجلال و الاکرام!

یا اللہ! ان کی نیت خالص بنا اور ان کی نسلوں کی اصلاح فرما، یا اللہ! ان پر اطمینان اور سکون نازل فرما، انہیں تیرے لیے  خشوع اور انکساری عطا فرما، یا اللہ! پوری دنیا میں مسلمانوں کے حالات درست فرما۔

یا اللہ! ہماری سرحدوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! ہمارے سپاہیوں دل مضبوط فرما، یا اللہ! ان کے نشانے درست فرما، یا اللہ! ان کی مدد فرما، یا ذو الجلال و الاکرام!

یا اللہ! ہمارے حکمران کو تیری رہنمائی کے مطابق توفیق عطا فرما، اور ان کے سارے اعمال اپنی رضا کے لئےمختص فرما۔

یا اللہ! حرمین شریفین کی خدمت کے لئےکام کرنے والے لوگوں کو کامیاب فرما، یا اللہ! ان کے اجر و ثواب میں اضافہ فرما، یااللہ! انہیں تیرے ہاں پسندیدہ لوگوں میں شامل فرما، یا ذو الجلال و الاکرام! یا اللہ! ہمیں دنیا و آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آگ کے عذاب سے محفوظ فرما۔

اللہ کے بندوں!

إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ

النحل – 90

 اللہ تعالیٰ تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے  منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں اس لئے نصیحت کرتا ہے کہ تم اسے [قبول کرو]اور یاد رکھو۔

تم عظیم و جلیل اللہ کا ذکر کرو وہ تمہیں یاد رکھے گا، اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرو تو وہ  اور زیادہ دے گا ،یقیناً اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے ، تم جو بھی کرتے ہو اللہ تعالی جانتا ہے ۔

فضیلۃ الشیخ جسٹس ڈاکٹر عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ

آپ یعنی جناب عبد المحسن بن محمد بن عبد الرحمن القاسم القحطانی کو پیدا ہوئے۔ آپ نے جامعہ امام محمد بن سعود ریاض سے گریجویشن کیا اور المعہد العالی للقضاء سے ماسٹر اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی مسجد نبوی کی امامت و خطابت کے ساتھ ساتھ محکمۃ الکبریٰ مدینہ منورہ میں قاضی (جسٹس ) بھی ہیں ۔

Recent Posts

نزول قرآن کے حوالے سے اہم معلومات

لیلۃ القدر میں قرآن مجید مکمل نازل ہونے کے ساتھ دوسرا اہم کام کیا ہوا؟…

13 hours ago

فراغت کے لمحات کیسے گزاریں؟

عبادت کے حوالے سے قرآن مجید کی کیا نصیحت ہے؟ کیا چھٹیوں کے دن آرام…

13 hours ago

عید الفطر کے مسنون اعمال

عید کی خوشی کیسے منائیں؟ عید کا چاند دیکھ کر نبی کریم ﷺ کیا کرتے…

6 days ago

فیشن اختیار کیجیے مگر۔۔۔۔!

کیا فیشن اختیار کرنے میں ہم آزاد ہیں؟ زینت، خوبصورتی یا فیشن اختیار کرنا شرعا…

7 days ago

فلسطین: ایک مرتبہ پھر لہو لہو!

غزہ کی حالیہ صورتحال کس قرآنی آیت کی عکاسی کرتی ہے؟ رمضان المبارک میں اہلِ…

1 week ago

ایسی مسجد میں اعتکاف نہ کریں!

رمضان المبارک میں نبی کریم ﷺ کی عبادت کیسی ہوتی تھی؟ نبی کریم ﷺ کا…

2 weeks ago