اصلاحِ نفس و معاشرہ

فیصل بینک  کا “نور کارڈ”اسلامی کریڈٹ کارڈ یا سودی حیلہ

          عصرِ حاضر میں اسلامی بینکاری کے نام پر متعدد مالی مصنوعات (Financial Products) متعارف کروائی جا رہی ہیں، جن کے بارے میں عام تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ وہ مکمل طور پر شریعتِ اسلامی کے مطابق ہیں۔ انہی مصنوعات میں سے ایک اہم کاوش کریڈٹ کارڈ کو اسلامی شکل دینا ہے، جس کے لیے  فیصل بینک  کی جانب سے ’’نور کارڈ‘‘ جاری کیا گیا ہے۔ اس کی بنیاد تورق کے طریقۂ کار پر رکھی گئی ہے۔

اسلام ایک جامع ضابطۂ حیات ہے جو انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں، بالخصوص معاشی اور مالی معاملات کے لیے واضح اصول اور ضوابط فراہم کرتا ہے۔ قرآنِ کریم نے جہاں تجارت کو حلال قرار دیا ہے، وہیں سود کو صراحت کے ساتھ حرام ٹھہرایا ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

أَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا1

یعنی:  اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال کیا اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔

          جدید دور میں بینکاری نظام عالمی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بن چکا ہے۔ اسی تناظر میں اسلامی بینکاری کا تصور سامنے آیا، جس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ مالی معاملات کو سود، غرر اور ظلم سے پاک کر کے شریعت کے مطابق ڈھالا جائے۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ یہ سوال شدت اختیار کر گیا کہ آیا موجودہ اسلامی بینکاری کی تمام مصنوعات واقعی روحِ شریعت کے مطابق ہیں یا بعض مقامات پر محض فقہی حیلوں کے ذریعے سودی نظام کو اسلامی لبادہ پہنایا جا رہا ہے۔

          پاکستان میں فیصل بینک کو ایک اسلامی بینک کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، اور اس کا ’’نور کارڈ‘‘ بظاہر ایک شرعی کریڈٹ کارڈ کے طور پر متعارف کروایا گیا ہے۔ بینک کے مطابق یہ کارڈ سود پر مبنی نہیں بلکہ تورق کے اسلامی طریقے پر کام کرتا ہے۔ اسی پس منظر میں یہ تحقیقی مضمون مرتب کیا گیا ہے تاکہ نور کارڈ کے طریقۂ کار کو واضح کیا جائے، تورق کی فقہی اصطلاح کو سمجھا جائے اور انتہائی منصفانہ نظر سے یہ جائزہ لیا جائے کہ یہ کارڈ  حقیقتاً اسلامی  قرار دیا جاسکتا ہے یا نہیں؟

تورق کی حقیقت: تعریف، اقسام اور فقہی پس منظر

تورق کی لغوی تعریف:

من الوَرِقُ : الفِضَّة، مضروبةً كانت أَوغيرَ مضروبة . والجمع : أوراقٌ2

تورق عربی زبان میں ’’وَرِق‘‘ سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ہیں چاندی یا نقدی۔

تورق کی  اصطلاحی تعریف:

         اسلامی بینکاری کے شریعہ اسٹینڈرز میں اس کی اصطلاحی  تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے:

التورق  شراءُ سلعةٍ بثمنٍ مؤجَّلٍ لأجلِ مساومةٍ أو مرابحةٍ، ثم يبيعها إلى غيرِ من اشتراها منه بثمنٍ حالٍّ، للحصول على النقد3

یعنی: تورق یہ ہے کہ کوئی شخص کسی غیر سے ادھار (مؤجل) قیمت پر کوئی چیز خریدے، خواہ وہ قیمت مساومہ ہو یا مرابحہ، پھر اس چیز کو اس شخص کے سوا کسی اور کو نقد قیمت پر بیچ دے، تاکہ اسے نقد رقم حاصل ہو جائے۔

تورق کی شرعی حیثیت:

           تورق اپنی اصل کے اعتبار سے  جائز ہے یا ناجائز اس میں علماء کا اختلاف پایا جاتا ہے، شیخ الاسلام ابن تیمیہ کا رجحان اس طرف  ہے کہ یہ حرام ہے، بلکہ مجموع الفتاویٰ میں عمر بن عبدالعزیز سے ان کا قول ذکر کرتے ہیں کہ :؂”

التورق آخية الربا4

یعنی: تورق سود کا پھندا ہے۔

نیز امام احمد بن حنبل سے ایک روایت بھی اسی موقف کی تائید میں ہے، جیسا  کہ امام ابن قیم نے تھذیب السنن میں نقل کیا ہے۔5

          جبکہ  دیگر  علماء  کی رائے یہ ہے کہ یہ جائز ہے کیونکہ آدمی کوئی چیز خریدتا ہے توا س کا مقصد یا تو بعینہ وہ چیز اور سامان ہوتا ہے ،یا پھر اس کا کوئی عوض ،اور یہ دونوں مقصد صحیح ہیں، نیز آج کے دور میں لوگوں کی ضرورت اور قرض دینے والوں کی کمی کے پیش نظر کچھ شرائط کے ساتھ اسے جائز کہنا  زیادہ مناسب ہے :

(1)تورق کا معاملہ کرنے والا شخص ضرورت مند ہو ،اور اگر وہ رقم کا محتاج نہیں تو پھر جائز نہیں ہوگا،مثلاً کوئی شخص کسی دوسرے کو قرض دینے کے لئے یہ طریقہ اختیار کرے تو ایسا کرنا جائز نہیں ہوگا۔

(2) کسی اور مباح ذریعے سے اس کے لئے مال حاصل کرناممکن نہ ہو مثلاً قرض کے ذریعے ،اور اگرکسی اور طریقہ سے اس کے لئے مال حاصل کرنا ممکن ہو تو اس کے لئے یہ طریقہ (تورق ) اختیار کرنا جائز نہیں ہوگا کیونکہ اسے اس کی ضرورت نہیں۔

(3) معاہدہ کسی ایسی صورت پر مشتمل نہ ہو جو سود کے مشابہ ہو، مثلاً یہ کہا جائے:“میں نے تمہیں یہ دس درہم گیارہ درہم کے بدلے فروخت کیے”یا اسی قسم کی کوئی اور شرط/عبارت ہو۔اگر عقد میں ایسی صورت پائی جائے تو یہ یا تو مکروہ ہوگا یا حرام۔چنانچہ امام احمد رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ انہوں نے اس طرح کے مسئلے کے بارے میں فرمایا:“گویا یہ دراہم کے بدلے دراہم ہیں، یہ صحیح نہیں ہے۔”

یہی موقف دلائل کی روشنی میں راجح معلوم ہوتا ہے۔

البتہ اسلامی بینک میں جو طریقہ کار اپنایا جاتا ہے وہ ایک باقاعدہ :”منظم تورق” کا ہوتا ہے، منظم تورق  کی تعریف  مجمع فقہ الاسلامی ، مکہ مکرمہ نے یہ کی ہے:

التَّورُّقُ المَصرِفيُّ المُنظَّمُ هو: قِيامُ المَصرِفِ بعَملٍ نَمَطيٍّ يَتِمُّ فيه تَرتيبُ بَيْعِ سِلعةٍ (ليْست مِن الذَّهبِ أو الفِضَّةِ) مِن أسواقِ السِّلعِ العالميَّةِ أو غيرِها، على المُسْتورِقِ بثَمنٍ آجِلٍ، على أنْ يَلتزِمَ المَصرِفُ -إمَّا بشَرطٍ في العقدِ، أو بحُكمِ العُرفِ والعادةِ- بأنْ يَنوبَ عنه في بَيعِها على مُشتَرٍ آخَرَ بثَمنٍ حاضرٍ، وتَسليمِ ثَمنِها للمُستورِقِ 6

ترجمہ:   منظّم بینکاری تورّق (التورق المصرفي المنظّم) سے مراد وہ منظم اور طے شدہ عملی طریقۂ کار ہے جس کے تحت بینک عالمی اجناس کی منڈیوں یا دیگر بازاروں سے کسی ایسی شے کو، جو سونا اور چاندی کے علاوہ ہو، مؤجّل قیمت پر مستورِق (یعنی نقد رقم حاصل کرنے کے خواہش مند فرد) کو فروخت کرتا ہے۔ پھر بینک یا تو عقد میں صریح شرط کے ذریعے، یا عرف و رواج کے تقاضے کے تحت، اس بات کا پابند ہوتا ہے کہ وہ اسی مستورِق کی نیابت کرتے ہوئے اس شے کو کسی تیسرے خریدار کے ہاتھ نقد قیمت پر فروخت کرے، اور حاصل ہونے والی رقم مستورِق کے حوالے کر دے۔یعنی اس تورق میں تمام مراحل پہلے سے طے شدہ ہوتے ہیں،بینک یا ادارہ خود وکیل بھی مقرر کرتا ہے اورسامان محض ایک رسمی واسطہ (Paper Transaction) بن جاتا ہے،اصل مقصد صرف نقد رقم کی فراہمی ہوتا ہے،یہی منظم تورق کی صورت ہے، اس کی مزید وضاحت بینک  نور کارڈ کے عملی طریقہ کار میں واضح ہوگا۔

فیصل بینک کے ’’نور کارڈ‘‘ کا عملی طریقۂ کار

(Operational Structure of Noor Card)

          کسی  بھی چیز کی  حلت و   حرمت کا فتویٰ دینا ایک انتہائی حساس اور نازک معاملہ ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ معین مسئلہ کی کیفیت اور اس کا تصور مفتی کے سامنے واضح  ہو،جیسا کہ شرعی قاعدہ ہے:

الحكم على الشيء فرع عن تصوره7

ترجمہ: کسی چیز کے بارے میں شرعی یا علمی فیصلہ کرنا، اس کی صحیح سمجھ اور درست تصور پر موقوف ہوتا ہے۔

           اور اگر ایسا نہ کیا جائے تو اس  حکم کو  بیان کرنے میں غلطی ہوتی ہے۔اسی وجہ سے نور کارڈ  کا شرعی حکم بیان کرنے سے قبل ضروری سمجھا گیا کہ اس کا مکمل طریقہ  کا ر پہلے واضح کردیا جائے۔

(1) درخواست (Application):

سب سے  پہلے  صارف  جسے فیصل اسلامی نور کارڈ کی ضرورت ہے، وہ کارڈ کی درخواست جمع کرواتا ہے، جس میں وہ بینک سے فیصل اسلامی نور کارڈ جاری کرنے کی درخواست کرتا ہے۔

(2) مساومہ کا معاہدہ (Musawamah Agreement):

اس درخواست میں صارف بینک کے ساتھ بیع مساومہ 8کے  معاہدہ پردستخط کرتا ہے، جس کی رو سےصارف بینک سےادھار پراثاثوں یعنی میوچل فنڈز یونٹس

 (Mutual Funds Units) کی خریداری کا معاہدہ کرتا ہے۔ صارف اور بینک کے درمیان اس معاہدے کی نوعیت وعدہ کی ہوتی ہے۔فیصل بینک  صارف کو پہلے سے خریدے ہوئے یونٹس بیچے گا یا  فیصل ایسیٹ مینجمنٹ لمیٹڈ(Faysal Asset Management Limited) سے میوچل فنڈز حسبِ ضرورت اثاثوں کی خریداری کرتا ہے اور پھر صارف  کی مقدار کے مطابق صارف کو بیچتا ہے۔

نوٹ: فیصل بینک نور کارڈ کے لیے 100 ملین کے فنڈز خرید کر رکھے ہوئے ہیں، جسے seed money کہتے ہیں۔ پھر صارف کے آنے پر بینک ان فنڈز میں سے مناسب یونٹس فروخت کر کے صارف کو فراہم کرتا ہے۔9

(3) وکالت کا معاہدہ (Agency Agreement):

اس مرحلے میں صارف کی طرف سے ایک وکیل مقرر کیا جاتا ہے جو کہ حقیقتاً  بینک کی جانب سے ہی نامزد کیا جاتا ہے،یہ وکیل بینک کی  جانب سے فریقِ ثالث ہوتا ہے۔ وقتِ تحریر   ویلس کمپنی (VaulSys Company)  بینک کی طرف سے مقرر کردہ وکیل ہے۔10

جو کہ صارف کے  وکیل کی حیثیت سے  خرید و فروخت کے انتظامات میں اس کی نمائندگی کرتی ہے، اس کا تعین مساومہ معاہدہ میں کیا جاتا ہے،  اس معاہدے کے الفاظ معاہدے کی شرائط و ضوابط میں ان الفاظ کے ساتھ مذکور ہیں:

I hereby authorize the agent nominated by the bank (“Agent”) to represent me regarding the execution of purchase and sale of units…. against the selling price (“Selling Price”) offered by the bank…11

(4) مضاربہ کا معاہدہ (Mudarabah Agreement):

صارف بینک کے ساتھ مضاربہ کا معاہدہ کرتا ہے، جس کی بنیاد  پر اس کا نان چیکنگ  مضاربہ اکاؤنٹ کھولا جاتا ہے، صارف بینک کے ساتھ مضاربہ عقد کی رو سے یہ متعین کرتا ہے کہ صارف جو رب المال ہے، وہ پاکستانی روپے میں پیسے جمع کرائے گا،اور بینک بحیثیت مضارب اس کی اسلامی اسالیب تمویل کے مطابق سرمایہ کاری کرے گا،اور اس سے حاصل ہونے والے منافع کو مشترکہ طور پر  تقسیم کیا جائے  گا۔

Mudarabah Funds mobilized by the Bank shall be deployed in Shariah compliant Islamic financing.12

I/We shall be allowed to utilize any balance available (up to the modes of financing assigned limit on Islamic Card) under the Mudarabah Account only through Islamic Card and as such no cheque book shall be issued to me/us against the Account.

اس میں صارف رب المال اور بینک مضارب ہوتا ہے،یعنی رقوم کے انتظامی معاملات کو دیکھے گا، اس سے حاصل ہونے والے منافع کو مضاربہ کے طے شدہ قوانین کے مطابق  تقسیم کیا جائے گا، نیز نقصان ہونے کی صورت میں صارف جو کہ رب المال ہے وہ نقصان برداشت کرے گا، البتہ اگر نقصان بینک کی کوتا ہی کی وجہ سے ہو تو   ایسی صورت میں بینک بھی نقصان کا ذمے دار ہوگا۔

The bank shall only be responsible for losses if they occur due to the Mudarib’s negligence or willful misconduct.

صارف مضاربہ میں سرمایہ کاری کے انتظامی فیصلوں میں حصہ نہیں لے سکتا اور نہ اسے اختیار حاصل ہے، بلکہ وہ مکمل طور پر بینک کو اختیار دیتا ہے:

The Customer will not participate in the management or in decisions concerning investment of the Mudarabah funds and by signing this contract investor understands that investor has given unrestricted right to Bank / Mudarib to invest these funds.

(5) عقدِ مساومہ (Musawamah Contract):

فیصل بینک پہلے سے موجود اثاثے یا فیصل ایسٹ مینجمنٹ (FAML) سے اثاثہ جات (Units) خرید کر  حسبِ وعدہ   صارف کے وکیل کو”ادھار“ پر اثاثہ جات فروخت کرتا ہے، اور اثاثہ جات کی قیمت (Musawamah Price) مساومہ کی  بنیاد پر طے  ہوتی ہے۔ یہ عقد مساومہ صارف کے وکیل اور بینک کے درمیان طے پاتا ہے، جس میں صارف کا وکیل “ادھار” پر بینک سے یونٹس خریدتا ہے۔

          یہاں ایک اہم سوال یہ پیدا   ہوتا ہےکہ صارف  ان “یونٹس ” پر قبضہ کیسے حاصل کرتا ہے؟کیونکہ بغیر قبضہ حاصل کیے کسی چیز کو آگے فروخت کرنا منع ہے، لہذا   اس کی تفصیل میں فیصل بینک کا شریعہ بورڈ ذیل تفصیلات پیش کرتا ہے:

 فیصل بینک کے فیصل ایسٹ مینجمنٹ کمپنی (FAML)میں دو اکاؤنٹ ہیں:

 فولیوز-1 (Folio-1) اور فولیوز-2 (Folio-2)۔
فولیوز-1: فولیوز-1 میں فیصل بینک  کے ملکیتی شیئرز رکھے ہوتے ہیں۔
فولیوز-2: فولیوز-2  بھی  فیصل بینک کاہی  اکاؤنٹ ہے، جس میں  جب بینک صارف کے وکیل کو شیئرز فروخت کرتا ہے تو وہ اس  اکاؤنٹ میں رکھے جاتے ہیں اور صارف کا وکیل    ویلس کمپنی (VaulSys Company) ان یونٹس پر قبضہ حاصل کرتا ہے۔ قبضہ حاصل کرنے کے  بعد وکیل کی طرف سے وہ شیئرز اب  تیسرے فریق  فیصل ایسٹ مینجمنٹ (Faysal Asset Management Limited) کو فروخت کیے جاتےہے، اور اس سے حاصل ہونے والی رقم صارف کے مضاربہ اکاؤنٹ میں ڈال دی جاتی ہے، یہی رقم صارف کی لیمٹ ہوتی ہے اور اس رقم پر اس کو تصرف حاصل ہوتا ہے۔ مگر اس میں  درج ذیل ضوابط ہوتے ہیں:

The cash deposited in this account would be under the ownership of the customer and would
Any money paid by serve as a limit of Islamic Card (up to the assigned limit on Islamic Card. Me or my agent in cash (PKR) as deposit shall be deposited in my Mudarabah based account for Islamic card limit in line with Declaration of Islamic Card.13

          مساومہ عقد کے نفاذ کے بعد اگر صارف نے کارڈ استعمال کیا ،تو  معاہدے کی رو سے ضروری ہےکہ بینک  کی جانب  سے مقررہ تاریخ  کو واجب الادا رقم ادا کرے۔

The Customer has offered to purchase the Assets at the Musawamah Price and the Bank has agreed to accept the offer and sell the Assets to the Customer in consideration of the Musawamah Price to be paid by the Customer…the Customer who will be acting through an agent.

مکمل طریقہ کار کی وضاحت  ایک مثال سے:

فرض کریں ایک شخص (مثلاً زید) کو فوری طور پر ایک لاکھ روپے کی ضرورت ہے۔ نور کارڈ کے ذریعے یہ ضرورت درج ذیل مراحل میں پوری کی جاتی ہے:

(1) کارڈ کی منظوری اور وکالت

زید فیصل بینک سے نور کارڈ حاصل کرتا ہے اور معاہدے کے تحت بینک ہی کی جانب سے مقرر کردہ ایک وکیل کو اپنا نمائندہ (وکیل) بناتا ہے۔

(2) یونٹس کی ادھار خریداری

بینک زید کے وکیل کے ذریعے اپنی ملکیت میں موجود یافیصل ایسیٹ مینجمنٹ لمیٹڈ (FAML) سے حاصل کردہ یونٹس زید کو ادھار فروخت کرتا ہے۔

(3) یونٹس کی فوری فروخت

زید کی جانب سے مقرر کردہ وہی وکیل ،انہی یونٹس کو بینک کی طرف سے پہلے سے طے شدہ وینڈر (عموماً FAML )ہی کو نقد فروخت کر دیتا ہے۔

اس  طرح  زید کو مطلوبہ ایک لاکھ روپے نقد حاصل ہو جاتے ہیں، اور یونٹس کی خرید و فروخت عملاً مکمل ہو جاتی ہے۔

(4) رقم کی وصولی اور اکاؤنٹ میں منتقلی

یونٹس کی فروخت کے بعد حاصل ہونے والی رقم  صارف کے ایک مخصوص اکاؤنٹ میں منتقل کی جاتی ہے،جسے بینک مضاربہ اکاؤنٹ قرار دیتا ہے،یہاں سے صارف محدود حد تک کیش نکال سکتا ہے،باقی رقم کو پے آرڈر یا ٹرانسفر کے ذریعے استعمال کرتا ہے۔

یونٹس کی فروخت کے بعد حاصل ہونے والی رقم  صارف کے ایک مخصوص اکاؤنٹ میں منتقل کی جاتی ہے،جسے بینک مضاربہ اکاؤنٹ قرار دیتا ہے،یہاں سے صارف محدود حد تک کیش نکال سکتا ہے،باقی رقم کو پے آرڈر یا ٹرانسفر کے ذریعے استعمال کرتا ہے۔

(5) ادائیگی اور منافع کا معاملہ

اگر زید مقررہ وقت کے اندر بینک کو ایک لاکھ روپے ادا کر دیتا ہے تو بینک اس سے اپنا منافع  وصول نہیں کرتا البتہ اگر  ادائیگی میں تاخیر ہو جائے تو بینک مقررہ مساومہ منافع کا مطالبہ کرتا ہے، جو عملی طور پر اضافی رقم کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔نیز اگر صارف یہ رقم بھی نہ دے پائے تو اس پر صدقہ واجب کیا جاتا ہے۔

نور کارڈ  /مروجہ منظم تورق پر چند بنیادی  اعتراضات:

                   نور کارڈ کا تفصیلی طریقہ کار دیکھنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچنا مشکل نہیں کہ یہ بھی  مروجہ اسلامی بینکاری کی دیگر مصنوعات کی طرح  کئی شرعی قباحتوں  کا مجموعہ ہے اورظاہری  نام  سے ہٹ  کر حقیقت میں ایک سودی معاہدہ  ہی ہے، جس میں شرعی اصطلاحات کا استعمال برائے نام  ہی  کیا گیا ہے۔ ذیل میں چند اعتراضات پیش کیے جاتے ہیں:

  1. پہلا اعتراض:منظم تورق کا استعمال :

         بینک کا  اس کارڈ کو اسلامی جامہ پہنانے کے لیے فقہی اصطلاح تورق کا استعمال کرنا، جوکہ منظم تورق کی  ہی صورت ہے یعنی اس میں تمام مراحل پہلے سے طے شدہ ہوتے ہیں،بینک یا ادارہ خود وکیل بھی مقرر کرتا ہے اورسامان محض ایک رسمی واسطہ (Paper Transaction) بن جاتا ہے،اصل مقصد صرف نقد رقم کی فراہمی  ہوتی ہے۔ “منظم تورق”  کے متعلق معاصر اہلِ علم کی اکثریت اس کی حرمت کی قائل ہے اور اس کو سود کا حیلہ اور بیع العینہ کے  مشابہ قرار دیتی ہے۔

         اسلامی  معاملات  میں اصل اعتبار ظاہری الفاظ کا نہیں ہوتا بلکہ  اس کے پسِ پشت جو اصل مقاصد ہوتے ہیں ان کا اصل اعتبار کیا جاتا ہے،  اسی بنیاد پر احکامات  جاری کیے جاتے ہیں،  شریعت کا اصول بھی یہی ہے:

العبرة في العقود بالمقاصد والمعاني لا بالألفاظ والمباني۔14

ترجمہ: معاملات میں اصل اعتبار نیت اور حقیقت کا ہوتا ہے،  نہ کہ ظاہری الفاظ کا ۔

           اسی وجہ سے چونکہ نور کارڈ  کے اجراء سے بینک کا اصل مقصد صارف کو قرضہ کی فراہمی ہے اور اس کے لیے منظم   تورق کا استعمال کیا  جاتا ہے، اسی بنیاد پر یہ معاملہ بیع العینہ کے مشابہ اور بدترین سودی حیلہ بن کر رہ جاتا ہے۔ منظم تورق کو حرام قرار دینے والے حضرات  میں ڈاکٹر حسین حامد خان، ڈاکٹر علی السالوس، ڈاکٹر  وھبۃ الزحیلی، اس کے علاوہ مجمع الفقہ الاسلامی جدہ15، مجمع فقہ الاسلامی مکہ مکرمہ16 کی قراداد بھی اس کی حرمت کی ہی صراحت کرتی ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات مندرجہ ذیل ہیں:

  • اس میں صارف جب بینک سے سامان خریدتا ہے تو بینک صارف کو ایک وکیل بنانے کا بولتا ہے جو کہ  بینک کی طرف سے ہی نامزد کردہ کمپنی ہوتی ہے، اس کے بعد وکیل سامان کی خریداری  کے بعد بینک کی ہی ایک ایسٹ مینیجمنٹ کمپنی کو وہ سامان  نقد  میں فروخت کردیتا ہے۔یہ صورت بالکل بیع العینہ کے مشابہ ہے، کیونکہ بیع العینہ  کو  اس مثال سے سمجھا جاسکتا ہے: احمدنامی شخص نے سلیم نامی شخص کوکوئی سامان خاص مدت کے لئے ادھار بیچا اور پھر اسی سامان کو احمدنے سلیم سے اس سے کم قیمت پر نقد خریدلیا  ۔

        نبیﷺ نے اس بیع کو مسلمانوں کی ذلت و رسوائی کا سبب قرار دیا،

جیسا کہ نبیﷺ کا فرمان ہے:

إِذَا تَبَايَعْتُمْ بِالْعِينَةِ، سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ ذُلًّا لَا يَنْزِعُهُ، حَتَّى تَرْجِعُوا إِلَى دِينِكُمْ17

ترجمہ: جب تم عینہ کی بیع کرنے لگو گے ، تو اللہ تم پر ایسی ذلت مسلط کر دے گا جو کسی طرح زائل نہ ہو گی حتیٰ کہ تم اپنے دین کی طرف لوٹ آؤ ۔

       لہذا مذکورہ معاملہ جب بیع العینہ کے مشابہ  ہے تو اس کو   تورق کا نام دیا جائے یا کسی اور اسلامی فقہی اصطلاح کا ، اس کا استعمال جائز نہیں ہوسکتا۔

دوسرا اعتراض :بینک کی طرف سے  فروخت کیے جانے والے UNITS ، حقیقی سامان یا کچھ اور؟؟:

اگر بنظرِ دقیق بینک کے اس عمل کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جن UNITS کی خرید و فروخت کا دعویٰ کیا جاتا ہے، وہ کسی حقیقی سامان یا قابلِ قبض عین پر مشتمل نہیں ہوتیں، بلکہ محض ایک عددی قدر (Value) ہوتی ہیں۔

         اس حقیقت کا انکشاف راقم الحروف کو فیصل بینک کے نمائندے سے براہِ راست گفتگو کے دوران ہوا، جب یہ سوال کیا گیا کہ یہ goods/units درحقیقت کیا ہیں؟ تو جواب دیا گیا کہ یہ کوئی حسی یا مادی چیز نہیں بلکہ صرف ایک value ہے۔

         اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ معاملہ حقیقت میں رقم کے بدلے رقم کا ہے، اور شریعتِ اسلامیہ میں جب ایک ہی جنس کی رقم کا تبادلہ کیا جائے (مثلاً روپے کے بدلے روپے)، تو اس کے لیے دو بنیادی شرائط کا پایا جانا لازم ہے:1۔ مقدار میں برابری ہو  2۔ معاملہ نقد ہو، ادھار نہ ہو

         جیسا کہ نبیﷺ کا فرمان ہے:

الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ   …… مِثْلًا بِمِثْلٍ، يَدًا بِيَدٍ، فَمَنْ زَادَ، أَوِ اسْتَزَادَ، فَقَدْ أَرْبَى، الْآخِذُ وَالْمُعْطِي فِيهِ سَوَاءٌ 18

ترجمہ: سونے کے عوض سونا، چاندی کے عوض چاندی،……… (کی بیع) مثل بمثل (ایک جیسی) ہاتھوں ہاتھ ہو،جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا اس نے سود کا لین دین کیا، اس میں لینے والا اور دینے والا برابر ہیں۔

         جبکہ اس معاملے میں بینک کی جانب سے ادھار پر فروخت کی صورت اختیار کی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں یہ معاملہ ربا النسیئہ کی واضح صورت اختیار کر لیتا ہے، اور یوں فیصل بینک کے نور کارڈ میں ایک مزید سنگین شرعی قباحت کا اضافہ ہو جاتا ہے۔

  • تیسرا اعتراض:صارف کی ہی رقم پر “حجر علی التصرف”  کا اطلاق کرنا:

     بینک صارف پر یہ پابندی لگاتا ہے کہ وہ معاہدے کی صورت میں جو  رقم اس کے اکاؤنٹ میں آئی ہے اس میں صرف 20 فیصد ہی کیش نکالی جاسکتی ہے، بقیہ رقم صارف بذریعہ پے آرڈر کے ذریعے لے سکتا ہے یا اپنے دوسرے اکاؤنٹ میں آن لائن ٹرانسفر کرسکتا ہے۔  بینک یہ اعتراف کرتے ہوئے کہ   رقم صارف کی ہے اور اس کے تصرف میں اس کو اختیار حاصل ہے، اس پابندی کو” حجر علی التصرف” کا نام دیتا ہے۔19

     یہ بھی  ایک انتہائی بھونڈا موقف ہے حالانکہ  شریعتِ اسلامیہ کی روشنی میں جب تک قرض کی ادائیگی کی مقررہ مدت پوری نہ ہو جائے، اس وقت تک قرض دار پر کسی قسم کی مالی پابندی عائد کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ قرض دار اور قرض خواہ کے درمیان طے پانے والا یہ معاملہ دراصل ایک معاہدہ  ہے، جس میں دونوں فریق مقررہ شرائط کے پابند ہوتے ہیں اور شریعت نے  معاہدے کی پاسداری کو لازم قرار دیا ہے،

جیسا کہ قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ ۖ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا20

ترجمہ:اور عہد کو پورا کرو، بے شک عہد کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔

     اسی بنا پر فقہاءِ کرام نے صراحت فرمائی ہے کہ قرض کی مدت کے اندر قرض دار کو ادائیگی پر مجبور کرنا، یا اس پر کسی قسم کی  پابندی “الحجر على التصرف” کے نام  پر عائد کرنا  شرعاً درست نہیں،یہی موقف مذاہبِ اربعہ (احناف،21مالکیہ،22شوافع،23 حنابلہ 24کا متفقہ موقف ہے۔

     اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ  یہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے ۔ اگر قرض دار واقعی تنگ دست ہو تو شریعت نے قرض خواہ کو مزید مہلت دینے بلکہ معاف تک کر دینے کی ترغیب دی ہے، چہ جائیکہ مدتِ قرض کے اندر اس پر حجر کے احکامات لگائے جائیں۔

     لہٰذا فقہی اصول کے مطابق قرض کی مدت پوری ہونے سے پہلے کسی قسم کی پابندی نہ صرف عقدِ قرض کے منافی ہے بلکہ قرآن و سنت کے واضح احکام کے بھی خلاف ہے۔ شریعت قرض کے معاملے میں سختی نہیں بلکہ نرمی، وفائے عہد اور باہمی اعتماد کو بنیادی اصول قرار دیتی ہے۔

چوتھا اعتراض:صارف    کا رب المال ہوتے ہوئے رقم کے استعمال کی اجازت:

    چوتھی شرعی خرابی اس کارڈ کے نظام میں یہ ہے کہ صارف کے وکیل کی جانب سے یونٹس فروخت کرنے کے بعد جو رقم حاصل ہوتی ہے، وہ صارف کے جس اکاؤنٹ میں منتقل کی جاتی ہے اسے”مضاربہ اکاؤنٹ” قرار دیا جاتا ہے۔ اس اکاؤنٹ میں صارف کو یہ اجازت دی جاتی ہے کہ وہ اس رقم کو اپنی مرضی سے استعمال کرے، نقد نکلوائے، ٹرانسفر کرے یا دیگر ذاتی مصارف میں خرچ کرے، حالانکہ شریعتِ اسلامیہ میں مضاربہ کی حقیقت اور اس کے شرعی تقاضے اس طرزِ عمل کی صریح نفی کرتے ہیں۔

     فقہی اصطلاح میں مضاربہ ایک ایسا عقد ہے جس میں ربُّ المال اپنی رقم مضارب کے حوالے کر دیتا ہے تاکہ وہ اس میں تجارت کرے، اور نفع طے شدہ تناسب سے تقسیم ہو۔ اس عقد کی بنیادی شرط یہ ہے کہ ربُّ المال اپنی رقم مضارب کے حوالے کرنے کے بعد اس میں تصرف کا حق ترک کر دیتا ہے، اور پورا اختیار مضارب کو منتقل ہو جاتا ہے۔ اگر ربُّ المال کو اس مال میں آزادانہ تصرف کی اجازت دے دی جائے یا وہ خود تصرف کرنے لگے تو یہ مضاربہ کا عقد ہی فاسد ہو جاتا ہے۔

جیسا کہ  فقہِ حنفی کی معتبر اور مشہور کتاب المبسوط للسرخسي میں ہے:

فَصَاحِبُ الْمَالِ قَطَعَ هَذَا الْقَدْرَ مِنَ الْمَالِ عَنْ تَصَرُّفِهِ، وَجَعَلَ التَّصَرُّفَ فِيهِ إِلَى الْعَامِلِ بِهَذَا الْعَقْدِ25

ترجمہ: عقد  مضاربہ کے ذریعے صاحبِ مال اپنے مال کے اس حصے سے اپنا تصرف ختم کر دیتا ہے، اور اس میں تصرف کا حق عامل (مضارب) کو دے دیتا ہے۔

     اسی شرط کی وجہ سے عقد مضاربہ کو قراض بھی کہا جاتا ہے،  کیونکہ اس میں رب المال اپنے مال کے  معین حصہ  میں سے اپنا تصرف ختم کرکےاپنا مال  مضارب کے حوالے کردیتا ہے، جیسا کہ امام ابن قدامہ  اس کی تعریف کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں:

[أن يشترك بدن ومال وهذه المضاربة، وتسمى قراضا…]26

ترجمہ: یہ کہ ایک فریق اپنی محنت (بدن) دے اور دوسرا اپنا مال لگائے، اسی کو مضاربہ کہا جاتا ہے، اور اسے قراض بھی کہتے ہیں۔

     اس بنیاد پر جب نور کارڈ کے تحت صارف کو مضاربہ اکاؤنٹ کے نام سے ایک ایسا اکاؤنٹ دیا جاتا ہے جس میں وہ خود رب المال ہونے کے باوجود مال میں مکمل تصرف کر رہا ہوتا ہے، تو یہ مضاربہ کی شرعی حقیقت کے بالکل خلاف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نہ یہاں صحیح مضاربہ پایا جاتا ہے، نہ اس کے ارکان و شرائط پورے ہوتے ہیں، بلکہ یہ محض ایک اصطلاحی لیبل ہے جو شرعی قباحت کو ختم نہیں کرتا۔

خلاصہ کلام:

     مندرجہ بالا تمام تفصیلی مباحث اور شرعی اعتراضات کا حاصل یہ ہے کہ فیصل بینک کا نور کارڈ اپنی حقیقت اور عملی ساخت کے اعتبار سے کوئی شرعی یا اسلامی کریڈٹ کارڈ نہیں  ہے، بلکہ یہ درحقیقت ایک سودی کریڈٹ نظام ہے جسے اسلامی اصطلاحات، فقہی عناوین اور ظاہری عقود (جیسے تورق،وکالہ ، مضاربہ اور مساومہ) کی آڑ میں پیش کیا گیا ہے۔ حقیقت میں یہ تمام عقود محض حیلہ سازی پر مبنی ہیں، جن کے ذریعے نقد کے بدلے زیادہ نقد کو مؤخر کر کے حاصل کرنے کی صورت پیدا کی گئی ہے، جو کہ  شریعتِ اسلامیہ میں واضح سود  ہے۔ لہٰذا شرعی اصولوں، فقہی تصریحات اور عملی حقائق کی روشنی میں یہ فیصلہ ناگزیر ہے کہ فیصل بینک کا نور کارڈ ایک سودی حیلہ پر مبنی کریڈٹ نظام ہے، اس کا استعمال شرعاً جائز نہیں، اور اہلِ ایمان پر لازم ہے کہ ایسے مشتبہ اور ممنوعہ مالی ذرائع سے مکمل اجتناب کریں، تاکہ وہ سود جیسے کبیرہ گناہ سے محفوظ رہ سکیں۔

وباللھ التوفيق، وما علينا إلا البلاغ المبين

كتبه:حمزة سلمان شيخ27

_______________________________________________________________________________________________________________

  1. سورۃ البقرۃ: (275)
  2. معجم الوسيط- الورق.
  3. AAOFI Standards, Standard #30. Monetization
  4. -مجموع الفتاویٰ،303/29،مجمع ملک فھد، مدینہ منورہ
  5. تهذيب السنن لإبن القيم 80\5
  6. ۔ قرارات المَجْمَع الفقهي الإسلامي بمكة المكرمة – الدورة السابعة عشرة المنعقِدة في الفترة من 19 – 23 / 10 / 1424 هـ، الَّذي يوافقه 13 – 17 / 12 / 2003 م)) (ص: 27).
  7. البحر الرائق (1/ 232)، الفواكه الدواني (1/ 112)، تحفة المحتاج (1/ 287)
  8. بیع مساومہ میں فروخت کنندہ(Seller)اپنی اصل لاگت اور اُس میں شامل منافع بتانے کا پابند نہیں ہوتا ۔
  9. Resident Shariah Board Member (FBL), Interview by: Muhammad Asghar Shehza, October 28, 2024
  10. Resident Shariah Board Member (FBL), Interview by: Muhammad Asghar Shehza, October 28, 2024
  11. Faysal Bank , Terms and Conditions, 04
  12. Faysal Bank ,Mudarabah Account Terms and Conditions
  13. Resident Shariah Board Member (FBL), Interview by: Muhammad Asghar Shehza, October 28, 2024
  14. – القواعد الفقهية محمد بكر إسماعيل (ص/ 39)؛ د. عزام (ص/ 370)، والأشباه والنظائر؛ لابن الملقن (1/ 325)
  15. سیمینار نمبر:19(2009)
  16. سیمنیار نمبر:17(2003)
  17. سنن ابی  داؤد:كتاب الأجارة، بَابٌ فِي النَّهْيِ عَنْ الْعِينَةِ،حدیث  رقم:3462
  18. ۔ صحيح مسلم: كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ وَالمُزَارَعَةِ  بَابُ الصَّرْفِ وَبَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ نَقْدًا، رقم الحدیث:1588 (ترقیم فواد عبدالباقی)
  19. Resident Shariah Board Member (FBL), Interview by: Muhammad Asghar Shehza, October 28, 2024
  20. سورۃ الاسراء/بنی اسرائیل:35
  21. تبيين الحقائق: 174/4، والبناية شرح الهداية: 427/8، والدر المختار: 757/6.
  22. الذخيرة: 172/8، والقوانين الفقهية: ص 210، والتاج والإكليل: 600/6
  23. الأم للشافعي: 182/6، والحاوي الكبير: 191/6، ونهاية المحتاج: 313/4
  24. المغني: 327/4، والإنصاف: 307/5
  25. المبسوط للسرخسي، ج 22، ص 18
  26. المغني:19/5
  27. متخرج جامعۃ البیان، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر
حمزہ سلمان

فاضل جامعۃ البیان، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر معاون مفتی،المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر BS, Computer Science and Islamic Studies, SZIC, Karachi University

Recent Posts

عید الفطر کے مسنون اعمال؟

عید کی خوشی کیسے منائیں؟ عید کا چاند دیکھ کر نبی کریم ﷺ کیا کرتے…

1 day ago

رمضان المبارک کے اختتام پر آٹھ اہم نصیحتیں

ماہِ رمضان المبارک اپنے اختتام کے قریب ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں ہم…

1 day ago

عید کی تیاری میں رمضان نہ رہ جائے!

رمضان میں عید کی شاپنگ پر جانے کے حوالے سے شریعت کیا رہنمائی کرتی ہے؟…

2 days ago

سچے ایمان کی علامت؟

آپ ﷺ کو صادق (سچا) ماننے کا اصل مطلب کیا ہے؟ آپ ﷺ کی شان…

4 days ago

نیک اعمال میں ثابت قدمی:

وہ کون شخص ہے جو قیامت کے دن کامیاب ہوگا، اور کامیابی کے لیے کیا…

6 days ago

زکوٰۃ کی Calculation کیسے کریں؟

نقدی رقم، بینک اکاؤنٹ میں پڑی رقم، شیئرز، بانڈز، کاروباری اثاثہ جات، جائیداد اور باقیہ…

1 week ago