بیٹی کی پیدائش اور گھریلو ظلم
پاکستانی معاشرے کی ایک نہایت افسوسناک اور دل کو چیر دینے والی حقیقت یہ ہے کہ آج بھی کئی گھروں میں بیٹی کی پیدائش کو خوشی نہیں بلکہ بوجھ اور مصیبت سمجھا جاتا ہے۔ اس جاہلانہ سوچ کے نتیجے میں ایک معصوم بہو، ساس اور نندوں کے طعنوں، بدزبانی اور نفسیاتی اذیت کا سامنا کرتی ہے، اور المیہ یہ ہے کہ بسا اوقات خود خاوند، جسے اس کا محافظ ہونا چاہیے، بیٹی کی ولادت پر بیوی کو جسمانی و ذہنی تشدد کا نشانہ بناتا ہے، طلاق کی دھمکیاں دیتا ہے اور گھر سے نکالنے جیسے ظالمانہ رویے اختیار کرتا ہے۔ یہ تو نہ صرف انسانیت کی تذلیل، عورت کی توہین اور اللہ کی دی ہوئی نعمت کی ناقدری ہے، بلکہ شریعت اسلامیہ سے کھلی بغاوت ، فطرتِ انسانی، اور عقل سلیم کے بھی سراسر خلاف ہے۔ جو لوگ بیٹی کی پیدائش پر ماتم کرتے ہیں، وہ درحقیقت قرآن کے واضح احکام، نبی رحمت ﷺ کی عملی سنت، اور اللہ کی تقسیم پر عدم خوشی کا اعلان کرتے ہیں، انہیں مندرجہ ذیل امور یاد رکھنے چاہیے:
1- اولاد بیٹا ہو یا بیٹی، ہم اس بات کے مکلف ہیں کہ ان کی بہترین تربیت کریں، خصوصاً بیٹی، جس کی موجودگی دلوں میں نرمی اور گھروں میں رزق کی برکت کا باعث بنتی ہے۔1
2۔ بیٹی کو نہ صرف اللہ تعالیٰ کا عطیہ قرار دیا گیا ہے، بلکہ قرآن میں بیٹی کا ذکر، بیٹے سے بھی پہلے کیا گیا ہے، گویا یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ تمہاری طرف سے نظر انداز کی ہوئی یہ حقیر قسم اللہ کے ہاں ذکر میں مقدَّم ہے۔2
3۔ بیٹی کی پیدائش پر رنجیدہ ہونا کفار کا طریقہ اور عقل کے منافی ہے؛ لہذا اللہ کی رحمت کو بوجھ سمجھنے اور اس تحفے کی ناقدری سے پہلے غور کریں: ماں، بہن اور بیوی بھی بیٹیاں ہیں۔ اگر یہ نہ ہوتیں، تو آپ کا وجود بھی ممکن نہ تھا!3
4- بیٹی کی پیدائش پر عورت کو قصوروار ٹھہرانا شرعی اور اخلاقی طور پر سراسر غلط ہے، کیونکہ اولاد خالصتاً اللہ کی عنایت ہے، اس میں زوجین کا کوئی کردار نہیں۔4
5- اسلام نے بیٹیوں کے حقوق ادا کرنے والوں کو ایسی عظیم خوشخبریاں دی ہیں کہ اتنی بشارتیں کئی بیٹوں کے والد ہونے پر بھی نہیں دی گئیں۔5
6- بیٹیوں کے والدین کی فضیلت اس سے بڑھ کر کیا ہو سکتی ہے کہ ہمارے نبی ﷺ خود چار بیٹیوں کے والد تھے، اور آپ ﷺ نے ان کے ساتھ بے پناہ شفقت اور عزت کا برتاؤ فرمایا، جو ہمارے لیے کامل نمونہ ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم ان اسلامی تعلیمات اور پیغمبرانہ اسوہ کو مدنظر رکھتے ہوئے، بیٹی کی پیدائش پر بھی خوشی کا اظہار کریں، اور اس پر اپنی بیوی کو قصوروار ٹھہرانے یا اس پر ظلم کرنے سے باز رہیں۔ بیٹی بھی اللہ کی رحمت ہے، اور اس رحمت کی ناقدری اور ظلم کرنے والے نہ صرف دنیا میں ذلت و پشیمانی کا سامنا کر سکتے ہیں، بلکہ آخرت میں بھی سخت جوابدہی کے لیے تیار رہیں؛ لہذا بیٹی کو بوجھ نہیں، بلکہ جنت میں داخلے کا ذریعہ اور رحمت سمجھیں۔
___________________________________________________________________________
عید کی خوشی کیسے منائیں؟ عید کا چاند دیکھ کر نبی کریم ﷺ کیا کرتے…
ماہِ رمضان المبارک اپنے اختتام کے قریب ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں ہم…
رمضان میں عید کی شاپنگ پر جانے کے حوالے سے شریعت کیا رہنمائی کرتی ہے؟…
عصرِ حاضر میں اسلامی بینکاری کے نام پر متعدد مالی مصنوعات (Financial Products) متعارف…
وہ کون شخص ہے جو قیامت کے دن کامیاب ہوگا، اور کامیابی کے لیے کیا…