احکام و مسائل

کھانے میں عیب نکالنے سے پرہیز

کھانے کا آغاز بسم اللہ سے کرنا نبی کریم ﷺ کی سنت ہے۔ اس سے کھانے میں برکت آتی ہے اور یہ عمل اللہ کی یاد کے ساتھ شروع کرنے کی علامت ہے۔ کھانے کے دوران اگر کسی کو کھانا پسند نہ آئے، تو اسے برا کہنے یا اس میں عیب نکالنے کے بجائے خاموشی سے ترک کر دینا چاہیے۔ نبی کریم ﷺ نے کبھی کھانے میں عیب نہیں نکالا، جو کھانا پسند ہوتا وہ تناول فرما لیتے، اور جو پسند نہ ہوتا اسے چھوڑ دیتے۔

یہ طرزِ عمل ایک مسلمان میں دو عظیم صفات پیدا کرتا ہے اور وہ کیا ہیں ؟
اس سنت پر عمل نہ صرف معاشرتی تعلقات کو خوشگوار رکھتا ہے بلکہ دل میں قناعت اور زبان میں نرمی پیدا کرتا ہے۔

شیخ سعد اللہ خان حفظہ االلہ

Recent Posts

پیر بچائے گا یا اعمال؟

یہودیوں کی وہ کون سی خوش فہمی تھی جس نے انہیں دھوکے میں رکھا؟ "فلاں…

11 hours ago

سنتِ رسول ﷺ کی قطعی حجیت اور عقل پرستی کا فتنہ

مقرر کے مطابق اسلام کی تاریخ میں سب سے پہلا اور سب سے بدترین فتنہ…

3 days ago

عُلماء کرام زمین کے ستارے!

امام عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے "اہلِ حدیث" کے بارے میں کیا فرمایا؟…

1 week ago

عورتیں جہنم میں زیادہ کیوں؟مشہور اعتراض کی حقیقت!

جہنم میں عورتوں کی کثرت کس اعتبار سے ہوگی؟ جہنم میں عورتوں کی تعداد زیادہ…

1 week ago

عمل اور نیت

خطبہ اول: یقیناً ہر قسم کی تعریف زمین و آسمان کے رب اللہ کے لیے…

1 week ago

غزوہ اُحد کی روشنی میں دفاعِ صحابہؓ

نبی اکرم ﷺ نے غزوہ احد سے پہلے کیا خواب دیکھا اور اس کی تعبیر…

2 weeks ago