اصلاحِ نفس و معاشرہ

موسم سرما : شریعت کی ممانعتیں  اورنصیحتیں

اسلام ایک کامل اور معتدل دین ہے جو انسانی زندگی کے ہر پہلو میں سہولت، حفاظت اور توازن کو ملحوظ رکھتا ہے۔ شریعتِ اسلامیہ جہاں مختلف حالات میں انسان کو رخصتیں عطا کرتی ہے، وہیں بعض ایسے امور سے بھی روکتی ہے جو انسان کی جان، مال، صحت اور ایمان کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ موسمِ سرما چونکہ سردی، غفلت اور بعض اوقات سستی و کوتاہی کا سبب بن جاتا ہے، اس لیے شریعت نے اس موسم میں بھی چند واضح ممانعتیں بیان فرمائی ہیں تاکہ مسلمان عبادات میں کوتاہی سے بچیں اور اپنے آپ کو دینی و دنیوی نقصان سے محفوظ رکھ سکیں۔زیرِ نظر مضمون میں موسمِ سرما میں شریعت کی ان ممانعتوں کو دلائل کی روشنی میں واضح کیا جائے گا، تاکہ ایک مسلمان سرد موسم میں بھی شریعت کے تقاضوں کو بہتر طور پر سمجھ کر اپنی زندگی کو محفوظ اور باعمل بنا سکے۔

1۔ چادر یا رومال لٹکاکر نماز پڑھنے کی ممانعت

نماز کے دوران کسی چادر یا رومال وغیرہ کو اس طرح لٹکالینا جس سے اُس کےدونوں کنارے زمین پر لٹک رہے ہوں اوراس کے دونوں کنارے  ایک دوسرے کے ساتھ ملائے ہوئے نہ ہوں ۔   یہ  ممنوع ہے ،چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

نهى رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّم عن السدلِ في الصلاةِ 1

ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں سدل کرنے سے منع فرمایا ہے ۔

سدل : چادر یا رومال وغیرہ کو اپنے سر  پر یا دونوں کندھوں پر ڈال کر اس کے دونوں کناروں کوآپس میں ملائے بغیر  لٹکتا چھوڑ دیا جائے ۔

2۔ منہ ڈھانپ کر نماز پڑھنے کی ممانعت

سردی کے موسم میں سردی سے بچنے کیلئے گرم چادر یا رومال وغیرہ اوڑھ کر نماز پڑھنا درست ہے ، اِس میں کوئی حرج نہیں ،البتہ مُنہ کو ڈھانکنا نہیں چاہیئے ،کیونکہ  نبی کریمﷺنےاس سے منع کیا ہے، چنانچہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

نهَى رسولُ اللہِ صلَّى اللہُ عليهِ وسلَّمَ أن يغطِّيَ الرَّجلُ فاهُ في الصَّلاةِ 2

ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں منہ ڈھانپنے سے منع فرمایا ہے۔

3۔ پورے جسم کو چادر میں لپیٹ کر نماز پڑھنے کی ممانعت

سردی کے موسم میں  سردی سے بچنے کیلئے چادر سے جسم کو اس طرح لپیٹ لے کہ بوقت ضرورت ہاتھ بھی نہ نکال سکے، ایسا کرنے سے نبی ﷺ نے منع کیا ہے ،چنانچہ سیدنا ابوہریرہ رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ :

نَهى عن لُبستينِ:الصَّمَّاءِ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ بِثَوْبِهِ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ3

ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو لباس سے منع فرمایا: ایک یہ کہ آدمی چاد سے جسم کو اس طرح لپیٹ لے کہ بوقت ضرورت ہاتھ بھی نہ نکال سکے اور دوسرا یہ کہ کوئی شخص خود کو کپڑے میں اس طرح لپیٹ لے کہ اس کی شرمگاہ پر اس کپڑے کا کوئی حصہ نہ رہے ۔

صماء : یہ ہے کہ آدمی چادر سے جسم کو اس طرح لپیٹ لے کہ بوقت ضرورت ہاتھ بھی نہ نکال سکے ۔

احتباء: ایک کپڑے میں گوٹ مار کر اس طرح بیٹھنا کہ پاؤں پیٹ سے الگ ہوں اور شرمگاہ آسمان کی طرف کھلی رہے۔

4۔ انگیٹھی، ہیٹر وغیرہ جلتا چھوڑ کر سونے ممانعت

سونے کے آداب اور سنتوں میں سے ایک ادب اور سنت یہ بھی ہے کہ سونے سے پہلے کمرے، گھر یا قریب میں جلتی ہوئی آگ بجھا دی جائے، اسی طرح آگ والی چیزوں کو بھی بند کردیا جائے یعنی بجھا دیا جائے، کیوں کہ آگ کو یوں ہی چھوڑ دینے میں یہ قوی اندیشہ ہوتا ہے کہ وہ آگ کسی وجہ سے دوسری چیزوں کو بھی لگ جائے جس کی وجہ سے خدا نخواستہ ہلاکت اور نقصان کا حادثہ پیش آجائے۔سردیوں میں اکثر لوگ سردی سے بچنے کے لیے ہیٹر، کوئلے، آگ اور انگیٹھی وغیرہ جلاتے ہیں لیکن سونے سے پہلے پہلے انہیں ہر صورت بجھانے کا اہتمام کرنا چاہیے  سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا:

لاَ تَتْرُكُوا النَّارَ فِي بُيُوتِكُمْ حِينَ تَنَامُونَ 4

رات کو جب تم سوتے ہو تو اپنے گھروں میں آگ اور چراغ کو چلتا نہ چھوڑو۔

سیدنا  ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:

احْتَرَقَ بَيْتٌ بِالْمَدِينَةِ عَلَى أَهْلِهِ مِنَ اللَّيْلِ فَحُدِّثَ بِشَأْنِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: إِنَّ هذِهِ النَّارَ إِنَّمَا هِيَ عَدُوٌّ لَكُمْ، فَإِذَا نِمْتُمْ فَأَطْفِئُوهَا عَنْكُمْ 5

مدینہ منورہ میں ایک گھر رات کے وقت جل گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق کہا گیا تو آپ ﷺنے فرمایا کہ یہ آگ تمہاری دشمن ہے، اس لئے جب سونے لگو تو اسے بجھا دیا کرو۔

آگ کو  دشمن کہنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ انسان کے لیے ہلاکت کا باعث بن جاتی ہے، یا یوں کہنا چاہیے کہ جب بھی انسان اور اس کا مال آگ کی زد میں آتے ہیں تو وہ ہلاکت اور نقصان ہی کا سبب بنتی ہے۔سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیہان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

خَمِّرُوا الآنِيَةَ، وأَوْكُوا الأسْقِيَةَ، وأَجِيفُوا الأبْوَابَ واكْفِتُوا صِبْيَانَكُمْ عِنْدَ العِشَاءِ، فإنَّ لِلْجِنِّ انْتِشَارًا وخَطْفَةً، وأَطْفِئُوا المَصَابِيحَ عِنْدَ الرُّقَادِ، فإنَّ الفُوَيْسِقَةَ رُبَّما اجْتَرَّتِ الفَتِيلَةَ فأحْرَقَتْ أهْلَ البَيْتِ 6

ترجمہ :برتنوں کو ڈھانپ دیا کرو، پانی کے برتنوں کا منہ بند کر دیا کرو ، دروازے بند کر لیا کرو، اور عشاء کے وقت اپنے بچوں کو (باہر نکلنے سے) روک لیا کرو، اس لیے کہ جنات کے پھیلنے اور اچک لینے کا وقت ہوتا ہے۔ اور سوتے وقت چراغ بجھا دیا کرو، یونکہ یہ چوہا بعض اوقات چراغ کی بتی کھینچ لیتا ہے اور گھر والوں کو جلا دیتا ہے۔

حاصل کلام

ان احادیثِ مبارکہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سونے سے پہلے کمرے، گھر یا اس کے آس پاس جلنے والی آگ کو بجھا دینا چاہیے، تاکہ کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچاؤ ہو سکے۔ خاص طور پر وہ آگ جس سے نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو، اس کے بجھانے کا حکم نہایت واضح ہے۔ بلکہ احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ اگر آگ سے فوری طور پر خطرہ محسوس نہ بھی ہو، تب بھی حتی المقدور اسے بجھا دینا ہی بہتر اور محفوظ طرزِ عمل ہے۔

یہ ہدایت صرف کھلی آگ تک محدود نہیں، بلکہ ہر اس چیز کو شامل ہے جس کے ذریعے آگ لگنے کا امکان ہو، جیسے چولہا، چراغ، لالٹین، ہیٹر اور اسی نوعیت کے دیگر آلات۔ چونکہ آگ معمولی غفلت کے باعث بھی بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے، اس لیے اس معاملے میں خاص احتیاط ضروری ہے۔

وجہ تاکید

سونے سے پہلے آگ بجھانے کی تاکید اس لیے کی گئی ہے کہ نیند کی حالت میں انسان غفلت میں ہوتا ہے اور اپنی جان، گھر اور مال کی حفاظت پوری طرح نہیں کر پاتا۔ تاہم یہ اصول صرف سونے تک محدود نہیں، بلکہ عام حالات میں بھی جب آگ کی ضرورت باقی نہ رہے تو اسے بجھا دینا چاہیے، تاکہ کسی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکے۔

اس معاملے میں ذرا سی لاپرواہی بھی بڑے جانی و مالی نقصان کا سبب بن سکتی ہے، اور اسی غفلت کی وجہ سے ماضی میں بہت سے افسوسناک واقعات اور اموات پیش آ چکی ہیں، لہٰذا اس بارے میں کسی قسم کی سستی نہیں برتنی چاہیے۔

5۔ آدھی دھوپ اور آدھی چھاؤں میں بیٹھنے کی ممانعت

سردیوں میں لوگ دھوپ تاپتے ہیں لیکن اس دوران ایک بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ آدھا جسم دھوپ اور آدھا چھاؤں میں نہ ہو

نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

إذا كان أحدُكم في الشمسِ فقلص عنه الظلُّ وصار بعضُه في الشمسِ وبعضُه في الظلِّ فليقمْ7

ترجمہ: یعنی جب تم میں سے کوئی دھوپ میں بیٹھا ہو پھر اس پر چھاؤں آجائے اور اس کا کچھ حصہ دھوپ اور کچھ حصہ چھاؤں میں ہو تو ایسی حالت میں وہ اٹھ جائے( یا تو سارا دھوپ میں چلا جائے یا سارا چھاؤں میں ہو جائے )

6۔ موسم کو گالی دینے کی ممانعت

چونکہ سردی وگرمی اللہ تعالی کی مخلوق ہیں ، ان میں سختی وگرمی اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہے۔ لہذا انھیں گالی دینا یا برا بھلا کہنا جائز نہیں ہے، چنانچہ حدیث قدسی میں نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالی فرماتا ہے :

يُؤْذِينِي ابن آدَمَ، يَسُبُّ الدَّهْرَ، وأنا الدَّهْرُ، بِيَدِي الأَمْرُ، أُقَلِّبُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ8

ترجمه : ابن آدم مجھے ایذا دیتا ہے ،وہ اس طرح کہ زمانے کو گالی دیتا ہے، حالانکہ میں خود صاحب زمانہ ہوں ، سب کچھ میرے ہاتھ میں ہے۔ رات ودن کو میں ہی پھیرتا اور تبدیل کرتا ہوں  ۔

مذکورہ حدیث میں دھر سے مراد زمانہ اور وقت دونوں ہی ہیں، کیوں کہ زمانہ اور وقت قریباً ایک ہی ہیں، وقت لمحے بھر کو بھی کہا جاتا ہے، جب کہ زمانہ کچھ مدت وقت کے لیے استعمال ہوتاہے، گویا وقت زمانے کا ہی حصہ ہے۔

معلوم ہوا کہ زمانہ کو بُرا بھلا کہنادر حقیقت اللہ تعالیٰ کو بُرا بھلا کہناہے۔ اور اپنی مشکلات اور دکھوں کو زمانے کی طرف منسوب کرکے اسے برا بھلا کہنا مشرکین عرب اور دھریہ کاکام ہے۔

7۔ ہواپر لعنت کرنےکی ممانعت

جس طرح سردی وگرمی اللہ تعالی کی مخلوق ہیں، اسی طرح ہوا بھی اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ مخلوق ہے، لہذا اُسے گالی دینا ، لعنت کرنا اور برا بھلا کہنا جائز نہیں ہے، حدیث میں آتا ہے:

إِنَّ رَجُلًا نَازَعَتْهُ الرِّيحُ رِدَاءَهُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَعَنَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا تَلْعَنْهَا فَإِنَّهَا مَأْمُورَةٌ وَإِنَّهُ مَنْ لَعَنَ شَيْئًا لَيْسَ لَهُ بِأَهْلٍ رَجَعَتِ اللَّعْنَةُ عَلَيْهِ 9

نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں ہوا نے ایک شخص کی چادر اڑا دی، تو اس نے اس پر لعنت کی، نبی اکرم ﷺنے فرمایا: اس ہوا پر لعنت نہ کرو، اس لیے کہ وہ (تو اللہ کے حکم کی) تابعدار ہے، اور جو آدمی کسی ایسی چیز پر لعنت کرے جس کی وہ حقدار نہ ہو تو وہ لعنت اسی کی طرف لوٹ آتی ہے ۔

8۔ ہوا کو  گالی دینے کی ممانعت

تیز ہواؤں اور آندھیوں کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

الرِّيحُ مِنْ رَوْحِ اللہِ فَرَوْحُ اللہِ تَأْتِي بِالرَّحْمَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَتَأْتِي بِالْعَذَابِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا، ‏‏‏‏‏‏فَلَا تَسُبُّوهَا وَسَلُوا اللہَ خَيْرَهَا، ‏‏‏‏‏‏وَاسْتَعِيذُوا بِاللہِ مِنْ شَرِّهَا 10

ترجمہ : ہوا اللہ کی رحمت میں سے ہے تو کبھی وہ رحمت لے کر آتی ہے، اور کبھی عذاب لے کر آتی ہے، جب تم اسے دیکھو تو اسے برا مت کہو بلکہ اللہ سے اس کی بھلائی مانگو، اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرو۔

9۔ بخار کو برا بھلا کہنے کی ممانعت

موسم سرما میں سردی کی شدت کی وجہ سے لوگ مختلف بیماریوں مثلا نزلہ ، زکام اور بخار کا کثرت سے شکار ہوجاتے ہیں ، تو اکثر لوگ ان بیماریوں کو کوسنا شروع ہوجاتے ہیں اور برا بھلا کہنے لگ جاتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ اللہ نے ان تکالیف میں کیا اجر وثواب رکھا ہے، کسی بھی تکلیف یا بیماری کو برا بھلا یا گالی نہیں دینا چاہئے کیونکہ حدیث میں آتا ہے۔ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :

أن رسول الله -ﷺ- دخل على أم السائب أو أم المسيب فقال: مَا لَكِ يَا أُمَّ السَّائِبِ أَوْ يَا أُمَّ الْمُسَيِّبِ تُزَفْزِفِينَ؟ قالت: الحمى، لا بارك الله فيها، فقال: لَا تَسُبِّي الْحُمَّى، فَإِنَّهَا تُذْهِبُ خَطَايَا بَنِي آدَمَ كَمَا يُذْهِبُ الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ  11                                                        

ترجمه:رسول اللہ ﷺ ایک انصاری خاتون حضرت ام سائب یا حضرت ام مسیب رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے، آپ ﷺ نے فرمایا: ام سائب یا ام مسیب ! تمہیں کیا ہوا؟ کیا تم شدت سے کانپ رہی ہو؟ انہوں نے کہا : بخار ہے، اللہ تعالیٰ اس میں برکت نہ دے ! آپ ﷺ نے فرمایا : بخار کو برا نہ کہو ، کیونکہ یہ آدم کی اولاد کے گناہوں کو اس طرح دور کرتا ہے جس طرح بھٹی لوہے کے زنگ کو دور کرتی ہے۔

10۔ حرام اشیاء کے ساتھ سردی دور کرنے کی ممانعت

اسلام میں حرام اشیاء سے سردی دور کرنا جائز نہیں ہے ۔ سید نا دیلم حمیری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:

سألتُ رسولَ اللہِ صلَّى اللہُ عليهِ وسلَّمَ فقلتُ: يا رسولَ اللَّهِ إنَّا بأرضٍ باردةٍ نعالجُ فيها عملًا شديدًا، وإنَّا نتَّخذُ شرابًا من هذا القمحِ نتقوَّى بِهِ على أعمالِنا وعلى بردِ بلادنا، قالَ: هل يسكرُ؟ قُلتُ: نعَم. قالَ: فاجتنِبوهُ. قالَ: قلتُ فإنَّ النَّاسَ غيرُ تارِكيهِ، قالَ: فإن لم يترُكوهُ فقاتلوهم 12

میں نے رسول اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : اللہ کے رسول ! ہم لوگ سرد علاقے میں رہتے ہیں اور سخت محنت و مشقت کے کام کرتے ہیں، ہم لوگ اس گیہوں سے شراب بنا کر اس سے اپنے کاموں کے لیے طاقت حاصل کرتے ہیں اور اپنے ملک کی سردیوں سے اپنا بچاؤ کرتے ہیں، آپﷺ  نے فرمایا: کیا وہ نشہ آور ہے ؟” میں نے عرض کیا: ” ہاں” آپ ﷺ نے فرمایا:تو اس سے بچو ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کیا : لوگ اسے نہیں چھوڑ سکتے ، آپ نے فرمایا: “اگر وہ اسے نہ چھوڑیں تو تم ان سے لڑائی کرو ۔

موسم سرما میں شریعت کی نصیحتیں

موسم ِسرما باعث ِ اجر وثواب

اہلِ علم کے نزدیک یہ بات طے شدہ ہے کہ مؤمن کو عبادت کے دوران جتنی زیادہ محنت اور مشقت اٹھانی پڑتی ہے، اتنا ہی اس کا اجر و ثواب بڑھ جاتا ہے۔ سردیوں کے موسم میں بعض عبادات کے ساتھ جو دشواری اور تکلیف ہوتی ہے، وہ درحقیقت عبادت گزار کے حق میں فائدہ مند ہوتی ہے، کیونکہ اس سے اجر کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ کے نیک بندے ان امور کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھتے ہیں۔

چنانچہ امام ابن رجب حنبلی  رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وَلَا رَيْبَ أَنَّ إِسْبَاغَ الْوُضُوءِ فِي الْبَرْدِ يَشُقُّ عَلَى النَّفْسِ وَتَتَأَلَّمُ بِهِ، وَكُلُّ مَا يُؤْلِمُ النُّفُوسَ وَيَشُقُّ عَلَيْهَا فَإِنَّهُ كَفَّارَةٌ لِلذُّنُوبِ 13

ترجمہ : اس میں کوئی شک نہیں کہ سردیوں میں مکمل وضو کرنا نفس کے لیے مشکل اور تکلیف دہ ہوتا ہے، اور جو بھی عمل نفس کو تکلیف دے یا اسے مشقت میں ڈالے، وہ گناہوں کےکفارے کا سبب بنتا ہے۔

نمازیں مسجد میں ادا کیجیے

سردی کی شدت کے باعث اکثر لوگ نماز باجماعت کی ادائگی کے لیے مسجد جانے میں سستی کر جاتے ہیں، خاص کر نماز عشاء اور فجر میں زیادہ کوتاہی کرتے ہیں، جس کے باعث لوگ مسجد جانے ، باجماعت نماز ، نماز عشاء اور فجر  اور اندھرے میں مسجد جانے کی فضیلتوں اور  اجر وثواب کے عظیم نعمتوں سے محروم رہ جاتے ہیں ۔سیدنا بریدہ اور سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

بشرِّ المشائينَ في الظلمِ إلى المساجدِ، بالنورِ التامِّ يومَ القيامةِ 14

ترجمہ: تاریکیوں میں مسجدوں کی جانب چل کر جانے والوں کو قیامت کے دن کامل نور کی بشارت سنا دو ۔

اسی طرح  سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مَن تَطَهَّرَ في بَيْتِهِ، ثُمَّ مَشَى إلى بَيْتٍ مَن بُيُوتِ اللهِ لِيَقْضِيَ فَرِيضَةً مِن فَرَائِضِ اللهِ، كَانَتْ خَطْوَتَاهُ إحْدَاهُما تَحُطُّ خَطِيئَةً، وَالأُخْرَى تَرْفَعُ دَرَجَةً. 15

ترجمہ: جس نے اپنے گھر میں وضو کیا، پھر اللہ کے گھروں میں سے اس کے کسی گھر کی طرف چل کر گیا تاکہ اللہ کے فرضوں میں سے ایک فریضے کو ادا کرے تو اس کے دونوں قدم میں سے ایک قدم  گناہ مٹاتا ہے اور دوسرا قدم درجہ بلند کرتا ہے۔

نفلی  روزےرکھیے

سردی کے موسم میں دن چھوٹے اورراتیں لمبی ہوتی ہیں لهذا روزے رکھنا بہت آسان ہے، اس لیے ان چھوٹے دنوں میں ایک مسلمان کے لیے نیکیاں اور ثواب کمانے کا ایک بہترین موقع ہے جس میں ذرا سی مشقت کو جھیل کر نہایت آسانی سے اپنی آخرت کے لیے بڑے بڑے ذخیرے جمع کیے جاسکتے ہیں ۔ چنانچہ حدیث میں آتاہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

الشِّتَاءُ رَبِيعُ الْمُؤْمِنِ قَصُرَ نَهَارُهُ فَصَامَ وَطَالَ لَيْلُهُ فَقَامَ 16

ترجمہ: سردی مؤمن کے لئے بہار کا موسم ہے،کیونکہ اس کے دن چھوٹے ہوتے ہیں تو وہ روزہ رکھتا ہے اور راتیں طویل ہوتی ہیں جس میں وہ قیام کرتا ہے۔

سیدنا عامر بن مسعود جحمی رضی اللہ عنہ بیان كرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اِرشاد فرمایا:

الصَّوْمُ فِي الشِّتَاءِ الْغَنِيمَةُ الْبَارِدَةُ 17

ترجمہ: سردی میں روزہ رکھنا ٹھنڈی غنیمت ہے۔

 یعنی ایسی نیکی جو بغیرکسی جدو جہد اور مشقّت کے مفت میں حاصل ہوجاتی ہے کیونکہ سردی میں دن چھوٹے اور اس کی راتیں لمبی ہوتی ہیں۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى الْغَنِيمَةِ الْبَارِدَةِ؟ قَالُوا بَلَى. فَيَقُولُ الصِّيَامُ فِي الشِّتَاءِ.18

ترجمہ:   کیا میں تمہیں ٹھنڈی غنیمت نہ بتاؤں؟ ہم نے کہا: ابوہریرہ! وہ کیا ہے؟ فرمانے لگے: سردی کے موسم میں روزہ رکھنا ٹھنڈی غنیمت ہے۔

قیام اللیل کیجیے

موسم سرما میں اگر کوئی بندہ سرد رات میں اٹھ کر  اللہ کی عبادت کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف دیکھ کر  خوشی سے مسکراتا ہے۔سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

إنَّ اللَّهَ ليضحَكَ إلى رجُلَينِ: رجلٌ قامَ في ليلةٍ بارِدَةٍ مِن فِراشِهِ ولِحافِهِ ودِثارِهِ فتوضَّأَ ، ثمَّ قامَ إلى الصَّلاةِ ، فيقولُ اللَّهُ عزَّ وجلَّ لملائكتِهِ:  ما حمل عبدي هذا على ما صنَعَ ؟  فيقولون : ربَّنا ! رجاءَ ما عِندَكَ ، وشفقَةً مِمَّا عندَكَ  فيقولُ :  فإنِّي قد أعطيتُهُ ما رجا ، وأمَّنتُهُ مِمَّا يخافُ”19

ترجمہ : اللہ تعالیٰ دو آدمیوں کی طرف دیکھ کر پر مسکراتا ہے: ایک وہ  شخص ہے جو سرد رات میں بھی اپنے بستر، لحاف اور کمبل سے اٹھ  کھڑا ہوتا ہے ، وضو کرتا ہے اور پھر نماز پڑھتا ہے۔ اللہ عزوجل فرشتوں سے پوچھتا ہے: “میرے اس بندے کو اس عمل پر کس چیز نے اُبھارا؟” فرشتے جواب دیتے ہیں: “یا رب! وہ تیری رحمت کی امید وار ہے اور تیرے عذاب سے ڈرتا ہے۔” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وہ جس چیز کا امیدوار ہے وہ میں نے اسے عطا کردی اور جس سے وہ ڈرتا ہے اس سے امن عطا کردیا ۔

تیز ہواؤں کے وقت مسنون  دعا پڑھیے

سردیوں میں جب تیز ہوائیں چلتی ہیں تو ہم جلدی سے گھر کے دروازے اور کھڑکیاں تو بند کر لتے ہیں لیکن ایسے موقعوں پر تعلیمات نبوی ﷺ بھول جاتے ہیں ، ام المؤمنیں عاشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب تیز ہوائیں چلتیں تو نبی کریم ﷺ یہ دعا پڑھا کرتے تھے:

اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا، وَخَيْرَ مَا فِيهَا، وَخَيْرَ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا، وَشَرِّ مَا فِيهَا، وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ

اے اللہ ! میں تجھ سے اس کی اور جو کچھ اس میں ہے اس ک خیر اور بھلائی کا سوال کرتا ہوں۔ اور جو کچھ اس کے ذریعے بھیجا گیا ہے اس کی خیر کا طلبگار ہوں اور میں اس کے شر اور جو کچھ اس میں ہے اور جو اس کے ساتھ بھیجا گیا ہے اس کے شر سے تیری پناہ چاہتاہوں۔

اعضاءوضو مکمل دھولیجیئے

سردیوں کے موسم میں جب سردی کی شدت میں نہایت اضافہ ہوتا ہے تو بعض لوگ وضو میں سستی کرتے ہوئے پورے اعضاء کو ٹھیک سے نہیں دھوتے، یہ طریقہ نہایت خطرناک ہے کیونکہ اس بارے میں نبی کریم ﷺ کی سخت وعید آئی ہے، چنانچہ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:

تَخَلَّفَ عَنَّا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ سَافَرْنَاهُ فَأَدْرَكَنَا وَقَدْ حَضَرَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ فَجَعَلْنَا نَمْسَحُ عَلَى أَرْجُلِنَا فَنَادَى: وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ20

ترجمہ : ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں ہم سے پیچھے رہ گئے ،  کچھ دیر کے بعد آپ ﷺ نے ہمیں پالیا ، جب آپ ہمارے پاس پہنچے تو عصر کی نماز کا وقت ہو چکا تھا ، ہم لوگ وضو کرتے ہوئے پاؤں کو ٹھیک سے دھونے کے بجائے  پاؤں پر جلدی میں  ہاتھ پھیرنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے فرمایا : (سوکھی رہ جانے والی) ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے ۔

رضا الہی  کا سبب

موسمِ سرما کے اندر رات کی تاریکی میں تہجد کے لیے وضو کی مشقت برداشت کرنا اللہ ربّ العزت کی رضا کا سبب اور فرشتوں کے سامنے بندے پر فخر کا موجب بنتا ہے، اور جب یہ عمل شدید سردی میں ہو تو اس کی فضیلت اور بھی زیادہ مؤکد ہو جاتی ہے۔چنانچہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا :

رجُلانِ مِن أُمَّتي يَقومُ أحَدُهما مِنَ اللَّيلِ فيُعالِجُ نفْسَه إلى الطَّهورِ وعليه عُقَدٌ، فيَتَوضَّأُ، فإذا وَضَّأَ يدَيهِ انحلَّتْ عُقْدةٌ، وإذا وَضَّأَ وَجْهَه انحلَّتْ عُقْدةٌ، وإذا مسَحَ رأسَه انحلَّتْ عُقْدةٌ، وإذا وَضَّأَ رِجْلَيهِ انحلَّتْ عُقْدةٌ، فيقولُ الرَّبُّ للذينَ وراءَ الحِجابِ: انظُروا إلى عَبْدي هذا يُعالِجُ نفْسَه، ما سألَني عَبْدي هذا فهو له. 21

ترجمه: میری امت کے دو آدمی ہیں جن میں سے ایک شخص رات کے وقت بیدار ہو کر اپنے آپ کو وضو کے لئے تیار کرتا ہے اس وقت اس پر کچھ گرہیں لگی ہوتی ہیں، چنانچہ وہ وضو کرتا ہے، جب وہ ہاتھ دھوتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، چہرہ دھوتا ہے تو ایک اور گرہ کھول جاتی ہے، سر کا مسح کرتا ہے تو ایک اور گرہ کھل جاتی ہے اور جب پاؤں دھوتا ہے تو ایک اور گرہ کھل جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے فرماتا ہے جو نظر نہیں آتے کہ میرے اس بندے کو دیکھو جس نے اپنے نفس کے ساتھ مقابلہ کیا، میرا یہ بندہ مجھ سے جو مانگے گا وہ اسے ملے گا۔

ایمان کی اعلی  صفات

سخت سردی میں پورا اور اچھی طرح وضو کرنا ایمان کی اعلیٰ صفات میں سے ہے۔  

 امام ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

فإسباغُ الوضوء في شِدَّةِ البَردِ من أعلى خِصالِ الإيمان 22

ترجمہ: سخت سردی کے وقت مکمل اور اچھی طرح وضو کرنا ایمان کی بلند ترین صفات میں سے ہے۔

کھجوروں سے افطاری کیجیئے

سردی میں کھجوروں سے افطاری کیجیئے کیونکہ کھجور گرم ہے۔ رسول اللہ ﷺ  سردی سے بچاؤ اور سکون حاصل کرنے کیلئے اس کا استعمال زیادہ کیا کرتے تھے جیسا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:

أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يفطر في الشتاء على تمرات وفي الصيف على الماء23

اور یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ  سردیوں میں چند کھجوروں سے افطاری کرتے اور گرمیوں میں پانی سےافطاری کرتے ۔

سردیوں میں کھجور کے طبی فوائد

سردی کے موسم میں کھجور کو ایک قدرتی سپر فوڈ کی حیثیت حاصل ہے۔ یہ نہ صرف غذائیت سے بھرپور ہوتی ہے بلکہ جسم کو توانائی فراہم کرنے، حرارت برقرار رکھنے اور بیماریوں سے تحفظ میں بھی مؤثر کردار ادا کرتی ہے۔ موسم  سرمامیں روزانہ تین کھجوریں کھانے کے اہم فوائد  درج ذیل ہیں۔

1۔ نزلہ، زکام اور فلو سے بچاؤ

کھجور غذائی اجزا سے بھرپور ہوتی ہے جو قوتِ مدافعت کو مضبوط بناتی ہے۔  نزلہ، زکام اور فلو جیسے موسمی امراض سے بچاؤ میں کھجور مؤثر کردار ادا کرتی ہے، کیونکہ اس میں موجود میگنیشیئم اور اینٹی آکسیڈنٹس جسم کو انفیکشن کے خلاف مضبوط بناتے ہیں۔

2۔ جسم کو گرم رکھنا

کھجور میں موجود قدرتی شکر جسم کو فوری توانائی فراہم کرتی ہے، جس کے نتیجے میں سرد موسم میں جسم کی حرارت برقرار رہتی ہے۔

3۔ دمہ میں فائدہ

کھجور پھیپھڑوں کو مضبوط بناتی اور ان کے افعال کو بہتر کرتی ہے، جس سے دمے کی علامات میں کمی آتی ہے، خاص طور پر سردیوں میں جب سانس کی تکالیف بڑھ جاتی ہیں۔

4۔ جوڑوں کے درد میں کمی

کھجور میں میگنیشیئم اور کیلشیئم جیسے اہم معدنیات پائے جاتے ہیں، جو ہڈیوں اور جوڑوں کی صحت کو بہتر بناتے اور سرد موسم کی وجہ سے ہونے والے جسمانی درد میں کمی لاتے ہیں۔

بزرگوں کا خاص خیال رکھیے

آپ نے غور کیا ہوگا کہ جیسے ہی شدید سردی کے دو مہینے آتے ہیں، سوشل میڈیا پر ایک ہی طرح کی خبریں قطار سے نظر آنے لگتی ہیں:

” والد صاحب قضائے الٰہی سے انتقال کر گئے”، ”والدہ محترمہ ہم سے بچھڑ گئیں “   ،”  ساس، سسر اس دنیا سے رخصت ہو گئے”۔

یہ محض اتفاق نہیں۔ درحقیقت یہ ایک خاموش انتباہ ہے کہ ہمارے بہت سے بزرگ سردی کی نذر ہو جاتے ہیں۔والدین کبھی اپنی اولاد سے کچھ مانگتے نہیں۔ خواہ ضرورت کتنی ہی شدید کیوں نہ ہو، ان کی فطرت ہی سوال سے مانوس نہیں۔ ذرا سوچئے! ساری عمر مسجد و مدرسے کے لیے چندہ مانگنے والا شخص بھی بڑھاپے میں اپنی اولاد سے ایک کمبل مانگنے کی ہمت نہیں کر پاتا۔اسی لیے صرف پوچھنے پر اکتفا نہ کیجیے، کیونکہ سوال کا جواب اکثر یہی ملتا ہے:”نہیں، مجھے کچھ نہیں چاہیے۔”

ہمارا المیہ

ہمارا  المیہ یہ ہے کہ ہم اس “نہیں” کو حرفِ آخر سمجھ لیتے ہیں۔احساس کیجیے، خود ذمہ داری اٹھائیے۔ان کے لیے گرم رضائیاں لائیے، گرم کپڑے، کوٹ، موٹے موزے، مناسب جوتے اور طاقت بخش گرم غذا کا انتظام کیجیے۔ یہ بات ذہن میں بٹھا لیجیے کہ ان کی رضائی آپ کی رضائی سے زیادہ موٹی ہونی چاہیے، اور ان کے کپڑے آپ کے کپڑوں سے زیادہ گرم ہوں۔ اس لیے کہ بڑھاپے میں سردی زیادہ لگتی ہے اور قوتِ مدافعت دیگر قوتوں کی طرح کمزور ہو چکی ہوتی ہے۔سردیوں میں بزرگوں کی اموات میں جو غیر معمولی اضافہ ہوتا ہے، اس کی ایک بڑی وجہ وہ اولاد بھی ہوتی ہے جو ان بنیادی باتوں کا شعور ہی نہیں رکھتی۔ یاد رکھیے! جس طرح آپ کے بچپن میں والدین خود دیکھتے تھے کہ آپ کے گرم کپڑے پورے ہیں یا نہیں، آج وہی کردار آپ کو ادا کرنا ہے۔پوچھنا نہیں ہے، خود دیکھنا ہے۔کہلوانا نہیں ہے، خود انتظام کرنا ہے۔ یہ ایک امانت ہے۔والدین ایک عظیم ذمہ داری ہیں، جو اللہ تعالیٰ نے آپ کے کندھوں پر رکھی ہے۔یہ ذمہ داری دنیا بھی سنوارتی ہے اور آخرت بھی۔خود بھی اس پر عمل کیجیے، اور دوسروں تک بھی یہ پیغام پہنچائیے۔امید ہے آپ سمجھیں گے اور عمل کریں گے۔ان شاء اللہ۔

غریبوں اور ناداروں کا خیال رکھیے

سردیوں کے موسم میں غریب اور مستحق افراد کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ٹھنڈی ہوائیں، کم درجۂ حرارت اور وسائل کی کمی ان کی روزمرہ زندگی کو مزید مشکل بنا دیتی ہے۔ ایسے حالات میں ان کی مدد کرنا نہایت ضروری ہے۔ گرم کپڑوں، کمبل اور دیگر ضروری اشیاء کی فراہمی سے نہ صرف انہیں سردی سے تحفظ ملتا ہے بلکہ ان کے دلوں میں امید اور حوصلہ بھی پیدا ہوتا ہے۔ ضرورت مندوں کی بروقت مدد سردیوں کی سختی کو کم کرنے اور باوقار زندگی گزارنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

خلاصہ مضمون

سردیوں کے موسم میں شریعت کی بعض ممانعتیں انسان کو ضرر، مشقت اور غفلت سے محفوظ رکھنے کے لیے ہیں، جبکہ اس کی نصیحتیں دلوں میں ایمان کی تازگی، عبادات میں پابندی اور باہمی ہمدردی کے جذبے کو مضبوط کرتی ہیں۔چنانچہ ایک باشعور مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس موسم میں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ آسانیوں سے فائدہ اٹھائے، مگر فرائض اور سنتوں میں سستی نہ آنے دے۔ طہارت، نماز اور دیگر عبادات کو سہولت کے ساتھ ادا کرے اور محتاجوں، کمزوروں اور ضرورت مندوں کا خصوصی خیال رکھے۔ اس طرح موسمِ سرما محض سردی کا نام نہیں رہتا بلکہ یہ محاسبۂ نفس، شکر گزاری اور تقویٰ میں اضافے کا ایک قیمتی موقع بن جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر حال میں اپنی شریعت پر خلوص کے ساتھ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

__________________________________________________________

  1. (حسّنه الألباني في صحيح الترمذي: 378
  2. ( صحيح ابن ماجه: 798 ، و صحیح أبی داؤد:643)
  3. ( صحيح الترمذي: 1758)
  4. (أخرجه البخاري (6293)، ومسلم (2015)
  5. (أخرجه البخاري (6294)، ومسلم (2016)
  6. (أخرجه البخاري (3316)، ومسلم (2012)
  7. (صححه الألباني في صحيح أبي داود: 4821)
  8. (صحيح البخاري: 4826)
  9. (صحيح أبي داود: 4908)
  10. (صحيح أبي داود: 5097 )
  11. (2575:صحیح مسلم)
  12. (صحيح أبي داود: 3683)
  13. (مجموع الرسائل: ( 67/1 )
  14. ( صحيح أبي داود: 561)
  15. (صحيح مسلم : 666)
  16. (السنن الکبریٰ للبیهقی:8456، ومسند أحمد:  11716،اسنادہ حسن)
  17. (صحيح الجامع. 3868 ، صحيح الترمذي: 797)
  18. (سنن الكبري للبيهقي: 09/44، وسندہ صحيح)
  19. (صححه الألباني في صحيح الترغيب (630)
  20. (صحیح مسلم :572)
  21. (صححه شعيب الأرناؤوط  في تخريج المسند : 17458)
  22. (لطائف المعارف، ص: 610)
  23. (صحيح الترمذى : (696) وصحیح أبی داود (2356)
الشیخ اکرم الٰہی حفظہ اللہ

Share
Published by
الشیخ اکرم الٰہی حفظہ اللہ

Recent Posts

حج پر جانے سے پہلے یہ کام ضرور کریں!

سفرِ حج پر جانے والے خوش نصیب لوگ کن باتوں کا خاص خیال رکھیں؟ دورانِ…

1 day ago

غزوہ اُحد: واقعات اور اسباق

عبداللہ بن اُبی اور اس کے ساتھیوں کا جنگ سے واپس پلٹنا ہمیں منافقت کی…

2 days ago

خوش قسمت قوم جس کی تعریف نبی کریمﷺنے فرمائی!

نبی کریم ﷺ نے کس قوم کے ایمان، فقہ اور حکمت کو مثالی قرار دیا،…

3 days ago

نبی کریمﷺ 4 سے زائد شادیان کیوں کیں؟

نبی کریم ﷺ کی چار سے زیادہ ازواجِ مطہرات ہونے کے پیچھے کون سی تین…

5 days ago

پیر بچائے گا یا اعمال؟

یہودیوں کی وہ کون سی خوش فہمی تھی جس نے انہیں دھوکے میں رکھا؟ "فلاں…

6 days ago

تعمیر کعبہ اور ابراہیم علیہ السلام

خطبہ اول: یقیناً ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے، ہم اس کی حمد…

1 week ago