آخری عشرہ کے فضائل اور اعمال
خطبہ اول:
تمام تعریف اللہ کے لیے ہے، ہم اس کی حمد کرتے ہیں، اسی سے مدد مانگتے ہیں، اسی سے مغفرت طلب کرتے ہیں۔ ہم اپنے نفسوں کے شر اور برے اعمال سے اللہ کی پناہ لیتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں، اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ کا کماحقہ تقویٰ اختیار کرو اور دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا۔ اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کر کے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں، اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناطے توڑنے سے بچو، بے شک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے۔
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو، سیدھی سچی باتیں کیا کرو تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے کام سنوار دے، تمہارے گناہ معاف فرما دے، اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرے گا اس نے بڑی مراد پا لی۔
اما بعد:
یقیناً سب سے سچی بات اللہ کی کتاب ہے، سب سے بہتر طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے، بدترین امور وہ ہیں جو دین میں ایجاد کیے جائیں، اور دین میں ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔
مسلمانوں! قرآن مجید کی ایک سورۃ ایسی ہے جو اسلام کے عظیم ترین مقاصد اور نہایت بلند اہداف پر مشتمل ہے۔ اس میں انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کی رسالتوں کی صداقت پر گواہی ہے، کفر اور گمراہی والے لوگوں کے شبہات کا رد ہے، حشر و نشر کی نشانیوں کو حجت و برہان کے ساتھ قائم کیا گیا ہے، اور موت اور حساب کے مناظر کو آشکارا کیا گیا ہے تاکہ عقل والوں کے لیے عبرت و نصیحت ہو۔ یہ سورۃ ق ہے جس کی آیات پر آج ہم غور و فکر کریں گے، اس کے مطالب اخذ کریں گے، اس کے مقاصد پر غور و خوض کریں گے اور اس کے معانی پر تفصیلی گفتگو کریں گے۔ یقیناً اس میں اس شخص کے لیے بڑی نصیحت ہے جس کے پاس دل ہو یا جو توجہ سے کان لگائے اور حاضر ہو۔
رسول اللہ ﷺ لوگوں کو اجتماعات، عیدوں، موسموں اور محفلوں میں کثرت سے اس سورت کے ذریعے وعظ و نصیحت فرمایا کرتے تھے۔
چنانچہ ام ہشام رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں
أَخَذْتُ ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهُوَ يَقْرَأُ بِهَا عَلَى الْمِنْبَرِ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ1
کہ میں نے سورۃ ق کو رسول اللہ ﷺ کی زبانِ مبارک سے ہی یاد کیا، آپ ﷺ ہر جمعہ کے دن منبر پر خطبہ دیتے وقت اسے پڑھا کرتے تھے-
ایمان والو! اللہ عزوجل نے اس سورت کا آغاز حروفِ مقطعات کے ایک حرف سے فرمایا جن میں ایسے مطالب اور اشارے ہیں جن کی انتہا، مراد اور مقصد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ پھر اللہ عزوجل نے قرآن مجید کی قسم کھائی، اس کے بعد نبی ﷺ کی بعثت کے تعلق سے مشرکین کے تعجب کا ذکر فرمایا اور ان کے حشر و نشر کے انکار کا بیان کیا، پھر ان کے اس تعجب کا جواب دیا۔
اللہ نے فرمایا:
ق ۚ وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِۚ بَلْ عَجِبُوا أَن جَاءَهُم مُّنذِرٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ الْكَافِرُونَ هَٰذَا شَيْءٌ عَجِيبٌۚ أَإِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا ۖ ذَٰلِكَ رَجْعٌ بَعِيدٌۚ قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنقُصُ الْأَرْضُ مِنْهُمْ ۖ وَعِندَنَا كِتَابٌ حَفِيظٌ ۚبَلْ كَذَّبُوا بِالْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُمْ فَهُمْ فِي أَمْرٍ مَّرِيجٍ2
قۤ۔ قسم ہے قرآن کی جو بہت بڑی شان والا ہے!بلکہ انھوں نے تعجب کیا کہ ان کے پاس انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا، تو کافروں نے کہا یہ ایک عجیب چیز ہے۔کیا جب ہم مر گئے اور ہم مٹی ہوگئے ؟ یہ واپس لوٹنا بہت دور ہے۔بے شک ہم جان چکے ہیں جو کچھ زمین ان میں سے کم کرتی ہے اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جو خوب محفوظ رکھنے والی ہے۔بلکہ انھوں نے سچ کو جھٹلادیا جب وہ ان کے پاس آیا۔ پس وہ ایک الجھے ہوئے معاملے میں ہیں۔
یوں اس سورۃ کا آغاز نہایت مضبوط اور محکم اسلوب اور دقیق و راسخ بیان کے ساتھ مشرکین کو بعث بعد الموت کے انکار اور حق کی تکذیب پر سخت ڈانٹ پلاتا ہے۔ پھر اس کے بعد بعث کے اثبات پر دلائل ہیں اور یہ کہ آسمانوں کی ابتدا میں تخلیق اور ان میں موجود چیزوں اور زمین کی تخلیق اور اس پر موجود مخلوقات سے زیادہ کٹھن بعث بعد الموت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کائنات میں کھلی ہوئی نشانیاں پھیلا رکھی ہیں کہ اگر ان میں غور و فکر کرتے تو اپنی بحث و تکرار سے باز آ جاتے، اپنی گمراہی سے لوٹ آتے۔ اس میں ہر اس شخص کے لیے عبرت ہے جو نصیحت قبول کرے یا ڈرے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
أَفَلَمْ يَنظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنَاهَا وَزَيَّنَّاهَا وَمَا لَهَا مِن فُرُوجٍ وَالْأَرْضَ مَدَدْنَاهَا وَأَلْقَيْنَا فِيهَا رَوَاسِيَ وَأَنبَتْنَا فِيهَا مِن كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ تَبْصِرَةً وَذِكْرَىٰ لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِيبٍ3
کیا انہوں نے آسمان کو اپنے اوپر نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے کس طرح بنایا اور تو کیا انھوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا کہ ہم نے کیسے اسے بنایا اور اسے سجایا اور اس میں کوئی درزیں نہیں ہیں۔اور زمین، ہم نے اسے پھیلایا اور اس میں گڑے ہوئے پہاڑ رکھے اور اس میں خوبی والی ہر قسم اگائی۔ہر اس بندے کو دکھانے اور یاد دلانے کے لیے جو رجوع کرنے والا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے حشر و نشر کی مثال مردہ زمین کو زندہ کرنے سے بیان فرمائی۔ جب اللہ بادلوں کو بارش برسانے اور زمین کو اگانے کا حکم دیتا ہے تو روئے زمین سرسبز ہو جاتی ہے، اس کے پھول کھل اٹھتے ہیں وہ اپنے پھل اگا دیتی ہے۔
اللہ عزوجل نے فرمایا:
وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً مُّبَارَكًا فَأَنبَتْنَا بِهِ جَنَّاتٍ وَحَبَّ الْحَصِيدِوَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِيدٌ رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ ۖ وَأَحْيَيْنَا بِهِ بَلْدَةً مَّيْتًا ۚ كَذَٰلِكَ الْخُرُوجُ 4
ہم نے آسمان سے بابرکت پانی برسایا، اس سے باغات اور کٹنے والے کھیت کے غلے پیدا کیے، اور کھجوروں کے بلند و بالا درخت جن کے خوشے تہہ بہ تہہ ہیں، بندوں کی روزی کے لیے، اور ہم نے پانی سے مردہ شہر کو زندہ کر دیا، اسی طرح قبروں سے نکلنا ہے۔
پس زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کرنا انسان کو اس کی موت کے بعد زندہ کیے جانے کی روشن حجت اور واضح دلیل ہے۔
لیکن انہوں نے اپنے سے پہلے لوگوں کی پیروی کی، انہوں نے ظلم کرتے ہوئے اللہ کی آیات کو جھٹلایا، قرآن مجید سے فائدہ اٹھانے میں اندھے اور بہرے بنے رہے۔
اللہ عزوجل نے فرمایا:
كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَأَصْحَابُ الرَّسِّ وَثَمُودُوَعَادٌ وَفِرْعَوْنُ وَإِخْوَانُ لُوطٍوَأَصْحَابُ الْأَيْكَةِ وَقَوْمُ تُبَّعٍ ۚ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِيدِأَفَعَيِينَا بِالْخَلْقِ الْأَوَّلِ ۚ بَلْ هُمْ فِي لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِيدٍ5
ان سے پہلے نوح کی قوم نے جھٹلایا اور کنویں والوں نے اور ثمود نے۔اور عاد اور فرعون نے اور لوط کے بھائیوں نے۔اور درختوں کے جھنڈ والوں نے اور تبع کی قوم نے، ان سب نے رسولوں کو جھٹلایا تو میرے عذاب کا وعدہ ثابت ہوگیا۔تو کیا ہم پہلی دفعہ پیدا کرنے کے ساتھ تھک کر رہ گئے ہیں؟ بلکہ وہ ایک نئے پیدا کیے جانے کے متعلق شک میں مبتلاہیں۔
پھر خلاقِ علام نے پرزور طور پر ثابت کیا ہے کہ وہ اپنی تخلیق میں یکتا ہے، وہی نفسِ انسانی اور اس میں موجود عزم، ارادہ اور چھپے ہوئے وسوسوں کا علم رکھتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِ نَفْسُهُ ۖ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ6
اور بلا شبہ یقیناً ہم نے انسان کو پیدا کیا اور ہم ان چیزوں کو جانتے ہیں جن کا وسوسہ اس کا نفس ڈالتا ہے اور ہم اس کی رگ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔
اور یہ انسان کو اپنے اس خالق سے ڈرنے کی دعوت دیتا ہے جو اس کے ضمیر اور باطن کو جانتا ہے اور ہر حالت میں اس کے قریب ہے، چنانچہ بندہ اس سے حیا کرے کہ اللہ اسے وہاں گم پائے جہاں اس نے بندے کو حاضر رہنے کا حکم دیا ہے، یا اسے وہاں دیکھے جہاں سے اس نے منع فرمایا اور روکا ہے۔
اللہ نے انسان کے لیے دو فرشتے مقرر فرمائے ہیں جو اس کے اعمال لکھتے ہیں اور وہ کبھی بھی غافل نہیں ہوتے۔
اللہ نے فرمایا:
إِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيَانِ عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيدٌ مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ7
جس وقت دو لینے والے جا لیتے ہیں، ایک دائیں طرف، ایک بائیں طرف بیٹھا ہوا ہے، انسان منہ سے کوئی لفظ نکال نہیں پاتا مگر یہ کہ اس کے پاس نگہبان تیار ہیں۔
یہ نگرانی خلوت و جلوت، تمام حرکات و سکنات میں ہمیشہ رہتی ہے۔ لیکن بہت سے گناہگار اس سے لاپرواہ ہیں، اس کے نتائج سے بے خبر ہیں یہاں تک کہ جب موت آ پہنچے گی اس کی سکرات سے خوف شدید ہو جائے گا، جدائی کا وقت آ جائے گا، پنڈلی سے پنڈلی مل جائے گی، غافل انسان پچھتائے گا لیکن اس وقت پچھتانے کا کوئی فائدہ نہیں۔
اللہ عزوجل نے فرمایا:
وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ۖ ذَٰلِكَ مَا كُنتَ مِنْهُ تَحِيدُ8
موت کی بے ہوشی حق لے کر آ پہنچی، یہی ہے جس سے تو بدکتا پھرتا تھا۔
اس کے بعد بندہ اللہ جتنا چاہے گا بندہ برزخ میں رہے گا یہاں تک کہ وہ دن آئے گا جب قبروں سے مردوں کو نکال دیا جائے گا، سینوں میں چھپی ہوئی باتیں ظاہر کر دی جائیں گی، تب ظلم کا خاتمہ ہو گا، عدل قائم ہو گا، بندوں کا حساب ہو گا، میزانیں قائم کی جائیں گی، دفاتر کھول دیے جائیں گے، گواہان حاضر کیے جائیں گے، اعضاء و جوارح بول پڑیں گے۔ کچھ فرشتے بندوں کو محشر کی طرف ہانکیں گے، کچھ فرشتے ان کے خلاف گواہی دیں گے۔
اللہ عزوجل نے فرمایا:
وَنُفِخَ فِي الصُّورِ ۚ ذَٰلِكَ يَوْمُ الْوَعِيدِ وَجَاءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَائِقٌ وَشَهِيدٌ لَّقَدْ كُنتَ فِي غَفْلَةٍ مِّنْ هَٰذَا فَكَشَفْنَا عَنكَ غِطَاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ9
ور پھونک دیا جائے گا، وعدۂ عذاب کا دن یہی ہے، اور ہر شخص اسی طرح آئے گا اس کے ساتھ ایک لانے والا ہو گا، ایک گواہی دینے والا، یقیناً تو اس سے غفلت میں تھا لیکن ہم نے تیرے سامنے سے پردہ ہٹا دیا آج تیری نگاہ بہت تیز ہے۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے:
وَقَالَ قَرِينُهُ هَٰذَا مَا لَدَيَّ عَتِيدٌأَلْقِيَا فِي جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِيدٍمَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ مُّرِيبٍالَّذِي جَعَلَ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ فَأَلْقِيَاهُ فِي الْعَذَابِ الشَّدِيدِ10
اس کا ہم نشین فرشتہ کہے گا یہ حاضر ہے جو کہ میرے پاس تھا، ڈال دو جہنم میں ہر کافر سرکش کو جو نیک کام کرنے سے روکنے والا، حد سے گزر جانے والا اور شک کرنے والا تھا، جس نے اللہ کے ساتھ دوسرا معبود بنا لیا تھا، پس اسے سخت عذاب میں ڈال دو۔
پھر بندہ اپنے قرین شیطان پر الزام لگائے گا جس نے اسے سرکشی میں ڈالا، لیکن وہ اس سے براءت کرے گا، انکار کرے گا کہ اس نے اسے ہرگز گمراہ نہیں کیا، کہے گا:
قَالَ قَرِينُهُ رَبَّنَا مَا أَطْغَيْتُهُ وَلَٰكِن كَانَ فِي ضَلَالٍ بَعِيدٍ11
اس کا ساتھی (شیطان) کہے گا اے ہمارے رب ! میں نے اسے سر کش نہیں بنایا اور لیکن وہ خود ہی دور کی گمراہی میں تھا-
پھر اللہ تعالیٰ اس جھگڑے کو فیصلہ کن بات اور منصفانہ عدل کے ساتھ ختم فرمائے گا کیونکہ پہلے ہی وعید آ چکی ہے، بندوں کے لیے پے در پے ڈرانے والے آ چکے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قَالَ لَا تَخْتَصِمُوا لَدَيَّ وَقَدْ قَدَّمْتُ إِلَيْكُم بِالْوَعِيدِمَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ وَمَا أَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ12
فرمایا میرے پاس جھگڑا مت کرو، حالانکہ میں نے تو تمھاری طرف ڈرانے کا پیغام پہلے بھیج دیا تھا۔میرے ہاں بات بدلی نہیں جاتی اور میں بندوں پر ہرگز کوئی ظلم ڈھانے والا نہیں۔
قیامت کے عظیم ترین مناظر میں سے یہ ایک منظر ہو گا کہ آگ شدید غضب کی وجہ سے پھٹ رہی ہو گی، وہ اپنے رب سے مزید طلب کر رہی ہو گی۔
اللہ عزوجل نے فرمایا:
يَوْمَ نَقُولُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَأْتِ وَتَقُولُ هَلْ مِن مَّزِيدٍ13
جس دن ہم دوزخ سے پوچھیں گے کیا تو بھر چکی؟ وہ جواب دے گی کیا کچھ اور زیادہ بھی ہے؟
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : ” لَا تَزَالُ جَهَنَّمُ تَقُولُ : هَلْ مِنْ مَزِيدٍ ؟ حَتَّى يَضَعَ فِيهَا رَبُّ الْعِزَّةِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَدَمَهُ، فَتَقُولُ : قَطْ قَطْ وَعِزَّتِكَ. وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ14
جہنم برابر کہتی رہے گی: کیا اور بھی ہے؟ یہاں تک کہ ربُّ العزّت تبارک و تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھ دے گا، تو وہ کہے گی: بس، بس! تیری عزّت کی قسم۔ اور اس کا ایک حصہ دوسرے حصے میں سمٹ جائے گا۔
اور اس کے مقابلے میں ایک شاندار منظر ہو گا جس میں متقی بندوں کی تکریم ہو گی، مستقل نعمتیں ہوں گی جو اللہ نے ان کے لیے تیار فرمائی ہیں۔ جنت ان کے قریب کر دی جائے گی تاکہ وہ اسے دیکھیں اور اس میں داخل ہونے سے پہلے ان کی محبت اور شوق میں مزید اضافہ ہو جائے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَأُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِينَ غَيْرَ بَعِيدٍهَٰذَا مَا تُوعَدُونَ لِكُلِّ أَوَّابٍ حَفِيظٍمَّنْ خَشِيَ الرَّحْمَٰنَ بِالْغَيْبِ وَجَاءَ بِقَلْبٍ مُّنِيبٍادْخُلُوهَا بِسَلَامٍ ۖ ذَٰلِكَ يَوْمُ الْخُلُودِ15
جنت پرہیزگاروں کے بالکل قریب کر دی جائے گی، ذرہ بھی دور نہ ہو گی، یہ ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا ہر اس شخص کے لیے جو رجوع کرنے والا، پابندی کرنے والا ہو، جو رحمان کا غائبانہ خوف رکھتا ہو، توجہ والا دل لایا ہو، پس خوشخبری ہے ان کے لیے جب کہا جائے تم اس جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ، یہ ہمیشہ رہنے کا دن ہے۔
جنت ایک ایسی جگہ ہے جہاں امن و سکون ہو گا، نہ کسی میں بغض و حسد ہو گا نہ لڑائی و جھگڑا۔ ان کے منہ سے یہ بات نکلے گی “سبحانک اللھم” اور ان کا باہمی سلام ہو گا “السلام علیکم”۔ وہاں ان کے لیے وہ نعمت ہے جو نہ آنکھ نے دیکھا، نہ کان نے سنا اور نہ کسی دل میں اس کا خیال گزرا ہے۔ اور اس سے بھی بڑھ کر، اس سے بھی عظیم، اس سے بھی افضل یہ ہو گا کہ وہ اللہ کے معزز چہرے کو دیکھیں گے، اس کا کلام سن کر لطف اندوز ہوں گے، اس کی قربت سے شادکام ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
َلَهُم مَّا يَشَاءُونَ فِيهَا وَلَدَيْنَا مَزِيدٌ16
ان کے لیے جو کچھ وہ چاہیں گے اس میں ہوگا اور ہمارے پاس مزید بھی ہے۔
اللہ کے بندو! اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو قرآنِ عظیم میں برکت عطا فرمائے اور رسولِ کریم ﷺ کے طریقے سے فائدہ پہنچائے۔ میں اپنی بات کہتا ہوں، اللہ سے اپنے لیے آپ سب کے لیے تمام مسلمانوں کے لیے مغفرت طلب کرتا ہوں، پس آپ بھی اللہ سے مغفرت طلب کریں، بے شک وہی غفور رحیم ہے۔
خطبہ ثانی:
تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے قرآنِ کریم کو متقیوں کے لیے ہدایت، مومنوں کے لیے رحمت و نصیحت اور عبرت لینے والوں کے لیے عبرت بنا کر بھیجا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ درود و سلام اور برکت نازل فرمائے آپ ﷺ پر، آپ کی آل و اصحاب پر اور تا قیامت ان لوگوں پر جو ان کے طریقے پر چلیں۔
اما بعد! مسلمانوں! گزشتہ تنبیہ اور وعید کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ سورت دلیل دینے کے بعد دھمکی دینے کی طرف منتقل ہوتی ہے۔ چنانچہ وہ پچھلی قوموں اور گزشتہ زمانوں کے جھٹلانے والوں کا انجام یاد دلا رہی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَكَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُم مِّن قَرْنٍ هُمْ أَشَدُّ مِنْهُم بَطْشًا فَنَقَّبُوا فِي الْبِلَادِ هَلْ مِن مَّحِيصٍإِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَذِكْرَىٰ لِمَن كَانَ لَهُ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ17
اور ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی نسلیں ہلاک کردیں، جو پکڑنے میں ان سے زیادہ سخت تھیں۔ پس انھوں نے شہروں کو چھان مارا، کیا بھاگنے کی کوئی جگہ ہے ؟بلاشبہ اس میں اس شخص کے لیے یقیناً نصیحت ہے جس کا کوئی دل ہو، یا کان لگائے، اس حال میں کہ وہ (دل سے) حاضر ہو۔
پھر اللہ تعالیٰ نے بیان کیا کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے درمیان کی چیزوں کو چھ دن میں پیدا کیا اور اسے تھکان اور کمزوری چھو کر بھی نہیں گزری۔ سو جس ذات نے انہیں اس عظمت کے ساتھ پیدا کیا وہ دوبارہ لوٹانے اور زندہ کرنے پر قادر ہے، بلکہ یہ اس کے لیے زیادہ آسان اور معمولی ہے اور اللہ کے لیے بلند ترین مثال ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَمَا مَسَّنَا مِن لُّغُوبٍ18
اور بلاشبہ یقیناً ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے چھ دنوں میں پیدا کیا اور ہمیں کسی قسم کی تھکاوٹ نے نہیں چھوا۔
تاہم جھٹلانے والوں نے جھٹلایا، انکار کرنے والوں نے انکار کیا، اس لیے نبی ﷺ کو یہ ربانی ہدایت دی گئی کہ مشرکین کی اذیت رسانی پر صبر کریں اور ہر وقت تسبیح و ذکر میں مشغول رہیں۔
اللہ نے فرمایا:
فَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِوَمِنَ اللَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَأَدْبَارَ السُّجُودِ19
“پس یہ جو کچھ کہتے ہیں آپ اس پر صبر کریں اور اپنے رب کی تسبیح تعریف کے ساتھ بیان کریں، سورج نکلنے سے پہلے بھی، سورج غروب ہونے سے پہلے بھی، رات کے وقت بھی تسبیح کریں اور نماز کے بعد بھی۔”
پھر یہ سورت دوبارہ زندہ کیے جانے کے مناظر کی یاد دہانی کی طرف لوٹتی ہے، جس دن پکارنے والا پکارے گا، صور میں پھونک مارا جائے گا، مردے قبروں سے اٹھائے جائیں گے۔
اللہ نے فرمایا:
وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنَادِ الْمُنَادِ مِن مَّكَانٍ قَرِيبٍيَوْمَ يَسْمَعُونَ الصَّيْحَةَ بِالْحَقِّ ۚ ذَٰلِكَ يَوْمُ الْخُرُوجِإِنَّا نَحْنُ نُحْيِي وَنُمِيتُ وَإِلَيْنَا الْمَصِيرُيَوْمَ تَشَقَّقُ الْأَرْضُ عَنْهُمْ سِرَاعًا ۚ ذَٰلِكَ حَشْرٌ عَلَيْنَا يَسِيرٌ20
اور کان لگا کر سن جس دن پکارنے والا ایک قریب جگہ سے پکارے گا۔جس دن وہ چیخ کو حق کے ساتھ سنیں گے، یہ نکلنے کا دن ہے۔یقیناً ہم ہی زندہ کرتے ہیں اور ہم ہی مارتے ہیں اور ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔جس دن زمین ان سے پھٹے گی، اس حال میں کہ وہ تیز دوڑنے والے ہوں گے، یہ ایسا اکٹھا کرنا ہے جو ہمارے لیے نہایت آسان ہے۔
چونکہ قرآنِ کریم نجات اور سعادت کی بنیاد ہے، غائب و حاضر کے جاننے والے اللہ اور مومن کے درمیان تعلق کی ڈور ہے، اس لیے سورت کا آغاز قرآن کی قسم سے اور اس کا اختتام قرآن کے ذریعے یاد دہانی پر کیا گیا۔
اللہ نے فرمایا:
نَّحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُونَ ۖ وَمَا أَنتَ عَلَيْهِم بِجَبَّارٍ ۖ فَذَكِّرْ بِالْقُرْآنِ مَن يَخَافُ وَعِيدِ21
ہم اسے زیادہ جاننے والے ہیں جو یہ کہتے ہیں اور تو ان پر کوئی زبردستی کرنے والا نہیں، سو قرآن کے ساتھ اس شخص کو نصیحت کر جو میرے عذاب کے وعدے سے ڈرتا ہے۔
یہ کتنا شاندار آغاز اور کتنا جاندار خاتمہ ہے۔
کتنی بات ہوئی اور آپ سب کائنات کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے محمد بن عبداللہ ﷺ پر درود و سلام بھیجیں۔
اللہ نے فرمایا:
إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا22
بے شک اللہ اور اس کے فرشتے اس نبی پر درود بھیجتے ہیں اے ایمان والو تم بھی ان پر درود بھیجو اور خوب سلام بھی پڑھتے رہا کرو
اور اوس بن اوس سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيهِ, فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ23
تمہارے افضل ترین دنوں میں سے جمعہ کا دن ہے تم اس میں مجھ پر زیادہ سے زیادہ درود بھیجو کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔
اے اللہ! تو درود نازل کر محمد ﷺ پر اور آلِ محمد ﷺ پر جیسا تو نے ابراہیم علیہ السلام پر اور آلِ ابراہیم علیہ السلام پر جہانوں میں نازل کیا، بے شک تو لائقِ حمد اور صاحبِ عظمت ہے، اور برکت نازل کر محمد ﷺ پر اور آلِ محمد ﷺ پر جیسا کہ تو نے برکت نازل کی جہانوں میں ابراہیم علیہ السلام پر اور آلِ ابراہیم علیہ السلام پر، بے شک تو لائقِ حمد اور صاحبِ عظمت ہے۔
اے اللہ! خلفائے راشدین ہدایت یافتہ ائمہ ابوبکر و عمر و عثمان و علی سے اور تمام صحابہ تابعین سے قیامت تک ان کے نیک پیروکاروں سے راضی ہو جا، ان کے ساتھ ہم سے بھی راضی ہو جا اپنے فضل و کرم اور احسان سے اے اکرم الاکرمین۔ اے اللہ! تو قرآن کو ہمارے دلوں کی بہار، ہمارے سینوں کا نور، ہمارے غموں کے دور ہونے، ہماری فکرمندیوں اور پریشانیوں کے ختم ہونے کا ذریعہ اور تیری بارگاہ، تیری نعمتوں والی جنتوں تک لے جانے والا پیشوا اور رہبر بنا دے۔
اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، دین کے قلعے کی حفاظت فرما، اس ملک کو اور تمام مسلم ممالک کو امن و سکون، خوشحالی کا گہوارہ بنا اے رب العالمین۔ اے اللہ! تو ہماری سرحدوں پر مقرر ہمارے سکیورٹی اہلکاروں، سپاہیوں کی حفاظت فرما، اپنی طرف سے ان کی نگہبانی کر، تو ان کا معین و مددگار اور مؤید بن جا، تو ان کے سامنے سے، ان کے پیچھے سے، ان کے دائیں سے، ان کے بائیں سے اور ان کے اوپر سے ان کی حفاظت فرما، ہم انہیں تیری عظمت کی پناہ میں دیتے ہیں کہ وہ اپنے نیچے سے اچک لیے جائیں اے رب العالمین۔
اے اللہ! تو فلسطین میں ہمارے بھائیوں کا مددگار بن جا، انہیں امن و امان، سلامتی، اطمینان و سکون عطا فرما۔ اے اللہ! مسجدِ اقصیٰ کی حفاظت فرما، اسے تا قیامت بلند و معزز بنا کر رکھ۔ اے اللہ! تو ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے۔
اللہ کے بندو! اللہ تعالیٰ عدل کا، بھلائی کا، قرابت داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے، بے حیائی کے کاموں، ناشائستہ حرکتوں اور ظلم و زیادتی سے روکتا ہے، وہ تمہیں نصیحت کر رہا ہے کہ تم نصیحت حاصل کرو۔ تم بلندی و عظمت والے اللہ کو یاد کرو وہ تمہیں یاد کرے گا، یقیناً اللہ کا ذکر سب سے بڑا ہے، اللہ ہر وہ چیز جانتا ہے جو تم جانتے ہو۔
خطبہ جمعہ مسجد الحرام
تاریخ: 20 رجب 1447 ہجری بمطابق 09 جنوری 2026 عیسوی
خطیب: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر یاسر الدوسری حفظہ اللہ
_________________________________________________________________________________________________________________
عید کی خوشی کیسے منائیں؟ عید کا چاند دیکھ کر نبی کریم ﷺ کیا کرتے…
ماہِ رمضان المبارک اپنے اختتام کے قریب ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں ہم…
رمضان میں عید کی شاپنگ پر جانے کے حوالے سے شریعت کیا رہنمائی کرتی ہے؟…
عصرِ حاضر میں اسلامی بینکاری کے نام پر متعدد مالی مصنوعات (Financial Products) متعارف…
وہ کون شخص ہے جو قیامت کے دن کامیاب ہوگا، اور کامیابی کے لیے کیا…