اصلاحِ نفس و معاشرہ

استقبالِ ماہِ رمضان میں  قابلِ اجتناب 10 امور

ماہِ رمضان رحمتوں، برکتوں اور مغفرتوں کا عظیم الشان مہینہ ہے، جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر خصوصی انعامات نازل فرماتا ہے اور نیکیوں کے اجر کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ یہ مہینہ محض بھوک اور پیاس کا نام نہیں، بلکہ تزکیۂ نفس، اصلاحِ کردار اور اللہ سے قرب حاصل کرنے کا سنہری موقع ہے۔ تاہم جس طرح اس مبارک مہینے میں نیکیوں کی ترغیب دی گئی ہے، اسی طرح بعض ایسے امور سے بچنے کی بھی سخت تاکید کی گئی ہے جو رمضان کی روح کو مجروح کرتے، اس کے ثمرات کو ضائع کر دیتے اور بندۂ مومن کو حقیقی فائدے سے محروم کر دیتے ہیں۔  بدقسمتی سے بہت سے لوگ رمضان کی آمد سے قبل یا اس کے آغاز پر بعض غلط رویّوں، غفلتوں اور کوتاہیوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں، جن کی وجہ سے وہ اس مقدس مہینے کی برکات سے پورا فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔ اس لیے ضروری ہے کہ رمضان کے استقبال کے وقت نہ صرف نیک ارادے کیے جائیں بلکہ ان امور سے بھی آگاہی حاصل کی جائے جن سے اجتناب کرنا شرعاً اور اخلاقاً لازم ہے۔زیرِ نظر مضمون میں ماہِ رمضان کے استقبال میں دس قابلِ اجتناب امور کو اختصار اور وضاحت کے ساتھ بیان کیا جائے گا، تاکہ قاری ان سے بچتے ہوئے رمضان المبارک کو حقیقی معنوں میں عبادت، اصلاح اور کامیابی کا مہینہ بنا سکے۔

ماہِ رمضان المبارک کے استقبال کے موقع پر ایک مسلمان کے لیے نہایت ضروری ہے کہ وہ درج ذیل امور سے بچے اور ان سے سختی کے ساتھ اجتناب کرے:

1سابقہ واجب روزوں کی قضا میں سستی کرنا

رمضان آنے سے پہلے پچھلے رمضان کے فوت شدہ روزوں، یا دیگر واجب روزوں (جیسے کفارے یا نذر کے روزے) کی قضا میں سستی کرنا ایک بڑی کوتاہی ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو فرماتے ہوئے سنا کہ

كانَ يَكونُ عَلَيَّ الصَّوْمُ مِن رَمَضَانَ، فَما أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقْضِيَهُ إلَّا في شَعْبَانَ؛ الشُّغْلُ مِن رَسولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وَسَلَّمَ، أَوْ برَسولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وَسَلَّمَ 1

ترجمہ: رمضان کے روزے مجھ سے قضا ہو جاتے تھے، تو میں ان روزوں کی قضا شعبان کے سوا نہیں کر سکتی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں مشغولیت کی وجہ سے ۔

روزہ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک رکن ہے۔ قرآنِ کریم نے روزے کے احکام کو اجمالی طور پر بیان کیا ہے، جبکہ سنتِ نبویہ نے ان کی تفصیل واضح کی ہے۔ چنانچہ سنت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اگر عورت کو رمضان میں حیض آ جائے تو وہ حیض کے دنوں میں روزہ نہیں رکھتی، یہاں تک کہ پاک ہو جائے، اور جو روزے اس سے رہ جائیں وہ بعد کے دنوں میں قضا کرتی ہے، جیسا کہ اس حدیث میں بیان ہوا ہے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو روزوں کی قضا میں تاخیر کا  دوسرا سبب رسول اللہ ﷺ کی خدمت اور مصروفیت تھی۔ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ ہر وقت رسول اللہ ﷺ کے لیے خود کو تیار رکھتی تھیں، جیسا کہ آپ ﷺ کی تمام ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کا معمول تھا۔ وہ سب آپ ﷺ کو خوش رکھنے اور آپ کی رضا حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کرتی تھیں، اسی لیے وہ نفلی روزہ رکھنے کے لیے بھی اجازت نہیں مانگتی تھیں، اس اندیشے سے کہ کہیں رسول اللہ ﷺ کو ان میں سے کسی کی ضرورت ہو اور وہ ان کی خواہش کے پیشِ نظر اجازت دے دیں، جس کے نتیجے میں آپ ﷺ کی اپنی ضرورت یا خواہش پوری نہ ہو سکے۔البتہ شعبان کے مہینے میں چونکہ رسول اللہ ﷺ اکثر دنوں میں روزے رکھتے تھے، اس لیے ازواجِ مطہرات کو موقع مل جاتا کہ وہ اپنے فوت شدہ روزوں کی قضا کر لیں، یا آپ ﷺ سے اجازت لے کر روزہ رکھ لیں، کیونکہ وقت تنگ ہو جاتا تھا۔ یہ طریقہ شریعت کی دی ہوئی رخصت اور وسعت کے عین مطابق تھا، کیونکہ ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک کا پورا عرصہ قضا روزوں کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وَيُؤْخَذُ مِنْ حِرْصِهَا عَلَى ذَلِكَ فِي شَعْبَانَ أَنَّهُ لَا يَجُوزُ تَأْخِيرُ الْقَضَاءِ حَتَّى يَدْخُلَ رَمَضَانُ آخَرُ2

ترجمہ: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس اہتمام اور حرص سے جو وہ شعبان کے مہینے میں قضا روزوں کے بارے میں رکھتی تھیں، یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ قضا کو اتنا مؤخر کرنا جائز نہیں کہ دوسرا رمضان آ جائے۔

اگر دوسرا رمضان آ جائے اور کسی شخص نے پہلے رمضان کے ذمہ باقی روزے ادا نہ کیے ہوں تو وہ روزے اس کے ذمے سے ساقط نہیں ہوتے، بلکہ بدستور اس کے ذمہ باقی رہتے ہیں۔ البتہ کیا قضا کے ساتھ اس پر کفارہ بھی لازم ہوگا یا نہیں؟ اس مسئلے میں اہلِ علم کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔

رہی بات رمضان کے علاوہ واجب روزوں کی—جیسے کفارے کے روزے یا نذر کے روزے—تو ان کی ادائیگی میں جلدی اس لیے ضروری ہے کہ اصل اصول یہ ہے کہ واجبات فوراً ادا کیے جائیں، تاخیر کی اجازت اسی وقت ہوتی ہے جب اس پر کوئی صریح دلیل یا شرعی عذر موجود ہو۔

اسی بنا پر بعض فقہاء کے نزدیک کفارے اور نذر کے روزے فوراً رکھنا واجب ہیں، جبکہ رمضان کے قضا روزوں کا حکم اس سے مختلف ہے، کیونکہ جمہور اہلِ علم کے نزدیک ان میں تاخیر  جائز ہے، برخلاف ابنِ حزم رحمہ اللہ اور ان کے موافقین کے۔

شیخُ الاسلام ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

قضاء النذر، والكفارة عندنا : على الفور، فهو كالمتعين، وصوم القضاء يشبه الصلاة في أول الوقت3

ترجمہ: ہمارے نزدیک نذر اور کفارے کی قضا فوراً ادا کرنا لازم ہے، گویا وہ متعین عبادت کی حیثیت رکھتے ہیں، جبکہ رمضان کے قضا روزے کا معاملہ نماز کو اولین وقت میں ادا کرنے کی مانندہے (یعنی اس میں وسعت ہے)۔

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وأما الكفارة فان كانت بغير عدوان، ككفارة القتل خطأ وكفارة اليمين في بعض الصور، فهي علی التراخي بلا خلاف؛ لأنه معذور. وان كان متعديا، فهل هي علی الفور أم على التراخي؟ فيه وجهان حكاهما القفال والأصحاب، أصحهما علي الفور4

ترجمہ: بہرحال کفارے کا معاملہ یہ ہے کہ اگر وہ کسی زیادتی اور جان بوجھ کر کیے گئے گناہ کے بغیر لازم ہوا ہو، جیسے غلطی سے قتل کا کفارہ یا بعض صورتوں میں قسم کا کفارہ، تو اس کی ادائیگی میں تاخیر کی گنجائش ہے، اور اس پر اہلِ علم کا کوئی اختلاف نہیں، کیونکہ ایسا شخص معذور ہوتا ہے۔

اور اگر کفارہ کسی زیادتی یا قصداً کیے گئے فعل کی وجہ سے لازم ہوا ہو، تو آیا وہ فوراً ادا کرنا واجب ہے یا تاخیر کی اجازت ہے؟ اس بارے میں دو قول ہیں جنہیں قفال اور دیگر علماء نے نقل کیا ہے، جن میں زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ اسے فوراً ادا کرنا واجب ہے۔

2۔ قرآن کی جاری تلاوت چھوڑ کر از سر نو شروع کرنا

قرآنِ کریم کی تلاوت میں بے شمار خیر اور عظیم اجر ہے، جو کسی سے پوشیدہ نہیں، اور یہ اجر ماہِ رمضان میں مزید بڑھ جاتا ہے۔ تاہم کوئی ایسی حدیث یا سلف صالحین کا کوئی  قول نہیں ہےجو اس بات پر دلالت کرتا ہو کہ رمضان کے آغاز پر لازماً تلاوت نئے سرے سے قرآن کے شروع سے ہی کی جائے، یا جاری ختم کو چھوڑ کر دوبارہ مصحف کے آغاز کی طرف لوٹ جایا جائے۔ بلکہ اہلِ علم نے یہ بات ذکر کی ہے کہ بہتر اور مستحب یہ ہے کہ آدمی جس مقام تک تلاوت پہنچ چکا ہو، وہیں سے تلاوت جاری رکھے یہاں تک کہ ختم مکمل ہو جائے، اور جب ختم کر لے تو پھر نئی ختم کا آغاز کرے ۔

لہذا  کسی مسلمان شخص  کا وہ سلسلہ تلاوت جس میں وہ قرآن پاک کو ماہ  شعبان کے آخر تک مکمل نہ کر سکا ہو، اسے ادھورا چھوڑ دینا اور رمضان کے آغاز پر نیے سرے سے شروع کر دینا ،یہ درست طرزِ عمل نہیں ہے۔کیونکہ اس طرح قرآنِ کریم کی سورتوں کی ترتیب اور تسلسل سے حاصل ہونے والے شرعی مقاصد فوت ہو جاتے ہیں۔بلکہ قاری کے لیے مستحب یہ ہے کہ وہ نئی ختم کی تلاوت اس وقت تک شروع نہ کرے جب تک کہ اپنی پچھلی ختم مکمل نہ کر لے۔

درست اور سنت طریقہ

بلکہ درست اور سنت طریقہ  وہ ہے جو حدیث شریف میں آیا ہے کہ جب کوئی شخص قرآن مجید کی تلاوت مکمل کرے اور سورہ ناس تک پہنچ جائے، تو اس کو چاہیئے کہ وہ دوبارہ قرآن مجید شروع کرے اور سورہ فاتحہ اور سورہ بقرہ کے شروع آیات سے لے کر اَلمفْلِحُون تک پڑھے۔

وأخرج الدارمي بسند حسن عن ابن عباس عن أبي بن كعب أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا قرأ {قل أعوذ برب الناس } افتتح من الحمد ثم قرأ من البقرة إلى { أولئك هم المفلحون } ثم دعا بدعاء الختمة ثم قام5

ترجمہ: امام دارمی نے حسن سند کے ساتھ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا  اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ جب {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ} پڑھ لیتے تو اس کے بعد سورۂ فاتحہ سے دوبارہ تلاوت کا آغاز فرماتے، پھر سورۂ بقرہ کی آیت {أُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ} تک تلاوت  کرتے، اس کے بعد ختمِ قرآن کی دعا مانگتے اور پھر اٹھ جاتے تھے۔

سیدنا زرارہ بن ابی اوفی  رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ :

أن النبي صلى الله عليه وسلم سئل أي العمل أفضل قال الحال المرتحل قيل وما الحال المرتحل؟ قال صاحب القرآن يضرب من أول القرآن إلى آخره ومن آخره إلى أوله كلما حل ارتحل6

ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا: سب سے افضل عمل کون سا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پڑاو ڈالنا اور کوچ کرنا، پوچھا گیا: پڑاو ڈالنا اور کوچ کرنے کا کیا مطلب ہے؟آپ ﷺ نے  فرمایا: قرآن پڑھنے والا شروع سے آخر تک پڑھتا ہے (یہ حال ہے)، پھر ختم کر کے دوبارہ شروع کرنا (ارتحال) ہے، جب بھی ختم کرے پھر سے شروع کر دے۔

اگرچہ اس روایت کی سند ضعیف ہے لیکن علمائے کرام نے اس عمل کو مستحب گردانا ہے ۔

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

يستحب إذا فرغ من الختمة أن يشرع في أخرى عقيب الختمة، فقد استحبه السلف واحتجوا فيه بحديث أنس رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم: قال خير الأعمال الحل والرحلة قيل وما هما قال افتتاح القرآن وختمه7

ترجمہ: جب قرآنِ کریم کی تلاوت ایک مرتبہ مکمل ہو جائے تو فوراً دوسری مرتبہ شروع کرنا مستحب ہے۔ سلف صالحین اس عمل کو پسند کرتے تھے اور اس کے ثبوت میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی اس حدیث کو پیش کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے بہتر اعمال پڑاو ڈالنا اور کوچ کرنا ہے، پوچھا گیا: ان دونوں کا کیا مطلب ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: قرآن کا آغاز کرنا اور اسے ختم کرنا۔

امام سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

 يسن إذا فرغ من الختمة أن يشرع في أخرى عقب الختم لحديث الترمذي وغيره أحب الأعمال إلى الله الحال المرتحل الذي يضرب من أول القرآن إلى آخره كلما حل ارتحل8

ترجمہ: قرآن مجید کی ایک ختم مکمل کرنے کے بعد فوراً دوسری ختم شروع کرناسنت  ہے، کیونکہ امام ترمذی اور دیگر محدثین کی روایت کے مطابق اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب عمل اس شخص کا ہے جو  پڑاو ڈالتا اور پھر کوچ کرتاہے، پوچھا گیا: یہ کیا ہے؟ فرمایا:وہ شخص جو  قرآن کو  شروع سے آخر تک پڑھتا ہے ، پھر ختم کر کے دوبارہ شروع کرتا ہے، یوں وہ ہر ختم کے بعد نئی تلاوت کا آغاز کر دیتا ہے۔

امام ابن جزری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وقد روى الحافظ أبو عمرو أيضا بإسناد صحيح عن الأعمش عن إبراهيم قال كانوا يستحبون إذا ختموا القرآن أن يقرءوا من أوله آيات وهذا صريح في صحة ما اختاره القراء وذهب إليه السلف9

ترجمہ: حافظ ابو عمرو رحمہ اللہ نے بھی صحیح سند کے ساتھ اعمش کے واسطے سے ابراہیم سے روایت کیا ہے کہ سلف صالحین اس بات کو پسند کرتے تھے کہ جب وہ قرآن مجید کی ایک ختم مکمل کر لیتے تو فوراً اس کے آغاز سے چند آیات پڑھ لیا کرتے تھے۔ یہ روایت اس بات کی صریح دلیل ہے کہ قُرّاء کا اختیار کردہ طریقہ بالکل درست ہے، اور یہی وہ طرزِ عمل ہے جس پر سلف صالحین کا عمل رہا ہے۔

خلاصہ کلام

قرآنِ کریم کی تلاوت میں بے شمار خیر اور عظیم اجر ہے، جو کسی سے پوشیدہ نہیں، اور یہ اجر ماہِ رمضان میں مزید بڑھ جاتا ہے۔ تاہم کوئی ایسی حدیث یا سلف صالحین کا کوئی  قول نہیں ہےجو اس بات پر دلالت کرتا ہو کہ رمضان کے آغاز پر لازماً تلاوت نئے سرے سے قرآن کے شروع سے ہی کی جائے، یا جاری ختم کو چھوڑ کر دوبارہ مصحف کے آغاز کی طرف لوٹ جایا جائے۔ بلکہ اہلِ علم نے یہ بات ذکر کی ہے کہ بہتر اور مستحب یہ ہے کہ آدمی جس مقام تک تلاوت پہنچ چکا ہو، وہیں سے تلاوت جاری رکھے یہاں تک کہ ختم مکمل ہو جائے، اور جب ختم کر لے تو پھر نئی ختم کا آغاز کرے ۔

یعنی جو قرآن کا  قاری مسافر  کی طرح اپنی منزل تک پہنچ کر پھر نئے سرے سے سفر کا آغاز کر دیتا ہے۔ یعنی ایک بار قرآن ختم کرے دوبارہ شروع کر دیتا ہے اس کا عمل اللہ کو زیادہ پسند ہے۔ لہذا مستحب عمل یہ ہے کہ اپنی جاری تلاوت کو مکمل کریں، اوراس کے بعد  اپنے لیے، اپنے والدین کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے دعا کریں، جیسا کہ سلف صالحین کرتے تھے، اور اس کے بعد  نیے سرے سے دوبارہ تلاوت کا سلسلہ  شروع کریں اور اسی طرح سلسلہ  جاری رکھیں۔

3۔ استقبال رمضان کا روزہ رکھنا

رمضان سے پہلے ایک یا دو دن روزہ رکھ کر اس کا استقبال کرنا، یا ایسے دن روزہ رکھنا جس میں رمضان ہونے کا شک ہو، درست نہیں؛ اس لیے کہ ان سب سے رسول اللہ ﷺ نے منع کیا ہے، اور یہ بات صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں واضح طور پر مذکور ہے۔ چنانچہسیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:

لَا يَتَقَدَّمَنَّ أحَدُكُمْ رَمَضَانَ بصَوْمِ يَومٍ أوْ يَومَيْنِ، إلَّا أنْ يَكونَ رَجُلٌ كانَ يَصُومُ صَوْمَهُ، فَلْيَصُمْ ذلكَ اليَومَ.10

ترجمہ : تم میں سے کوئی شخص رمضان سے پہلے (شعبان کی آخری تاریخوں میں) ایک یا دو دن کے روزے نہ رکھے البتہ اگر کسی کو (پیر یا جمعرات) کے روزے رکھنے کی عادت ہو تو وہ (شعبان کے آخر میں بھی) اس دن روزہ رکھ سکتا ہے۔

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

فيه التصريح بالنهى عن استقبال رمضان بصوم يوم ويومين، لمن لم يصادف عادة له، أو يصله بما قبله، فان لم يصله ولا صادف عادة فهو حرام 11

اس حدیث میں صاف ممانعت موجود ہے کہ رمضان سے ایک یا دو دن پہلے خاص طور پر روزہ رکھا جائے، سوائے اس کے کہ کسی کی پہلے سے روزہ رکھنے کی عادت ہو یا وہ مسلسل روزے رکھ رہا ہو۔ اگر یہ دونوں باتیں نہ ہوں تو پھر رمضان سے پہلے روزہ رکھنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے۔

یومِ شک سے مراد

یومِ شک اس دن کو کہا جاتا ہے جس میں یہ واضح نہ ہو کہ وہ رمضان کا دن ہے یا ابھی شعبان ہی کا حصہ ہے، یعنی جس دن رمضان شروع ہونے یا نہ ہونے میں تردد پایا جائے۔ جیساکہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ فرماتےہیں:

مَنْ صَامَ الْيَوْمَ الَّذِي يُشّكُّ فِيهِ فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم.12

ترجمہ: جس شخص نے اس دن روزہ رکھا جس کے بارے میں شک ہو، اس نے رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کی۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

اسْتُدِلَّ بِهِ عَلَى تَحْرِيمِ صَوْمِ يَوْمِ الشَّكِّ؛ لِأَنَّ الصَّحَابِيَّ لَا يَقُولُ ذَلِكَ مِنْ قِبَلِ رَأْيِهِ، فَيَكُونُ مِنْ قبيل الْمَرْفُوع13

ترجمہ: اس قول سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مشتبہ دن کا روزہ رکھنا حرام ہے، اس لیے کہ صحابی ایسی بات ذاتی رائے سے نہیں کہہ سکتا، لہٰذا یہ بات مرفوع کے حکم میں ہے۔

4۔دنیاوی مصروفیات كو رمضان کی آمد تک چھوڑ ے رکھنا

بعض مسلمان دنیاوی مصروفیات كو رمضان  المبارک کی آمد تک چھوڑ ے رکھتے ہیں، ضروری کام نمٹانے میں سستی برتتے ہیں  اور پھر ماہِ رمضان میں ان دنیاوی کاموں میں الجھ جاتے ہیں ، یہ طرزِ عمل  ماہِ رمضان کی برکتوں اور سعادتوں سے بڑی محرومی کا سبب بنتا ہے، رمضان  رب کی عبادت کے لیے دل و دماغ کو فارغ کرنے کا مہینہ ہے، لہذا بندے کو چاہیے کہ  ماہ ِرمضان  کی آمدسے پہلے عبادت کے لیے ہر اُس چیز سے خود کو فارغ کر لے جو اس کی توجہ بٹا دے، تاکہ وہ پوری یکسوئی، قلبی حضور اور دل کے اطمینان کے ساتھ اللہ کی  عبادت کر سکے۔

شریعتِ مطہرہ نےاسی حکمت کے تحت نماز پر اُس کھانے کو مقدم کیا ہے جو دل کو نماز سے غافل کر دے، اور اسی طرح پیشاب یا پاخانے جیسی انسانی ضرورت پوری کرنے کو بھی نماز سے پہلے انجام دینے کا حکم دیا ہے، تاکہ بندہ جب عبادت کرے تو کسی قسم کی الجھن یا مشغولیت کے بغیر، پوری توجہ اور خشوع کے ساتھ اللہ کی عبادت ادا کر سکے۔چنانچہ نبی کریمﷺ سے یہ ثابت ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا:

إذَا قُدِّمَ العَشَاءُ، فَابْدَؤُوا به قَبْلَ أنْ تُصَلُّوا صَلَاةَ المَغْرِبِ، ولَا تَعْجَلُوا عن عَشَائِكُمْ.14

ترجمہ: جب شام كاكھانا سامنے رکھ دیا جائے تو نماز مغرب سے پہلے کھانا کھاؤ اور اور اپنا کھانا چھوڑ کر نماز کے لیے جلدی مت کرو۔

یعنی اگر شام کا کھانا تیار ہو اور انسان کو بھوک بھی محسوس ہو رہی ہو تو بہتر ہے کہ وہ پہلے کھانا کھا لے اور پھر نماز کے لیے جائے۔ کیونکہ اگر بھوک کی حالت میں نماز کے لیے جائے تو اس کی توجہ کھانے کی طرف جائے گی اور نماز میں خشوع و خضوع کم ہو جائے گا۔اسی لیےرسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

لَا صَلَاةَ بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ، وَلَا هُوَ يُدَافِعُهُ الْأَخْبَثَانِ15

ترجمہ: کھانا سامنے آ جائے تو نماز نہیں۔ اور نہ وہ شخص نماز پڑھے جس پر پیشاب، پاخانہ کی ضرورت غالب آ رہی ہو۔

5۔ احکام ومسائل رمضان سے لا علم رہنا

ایک  مسلمان کا رمضان کے روزوں سے متعلق اُن بنیادی اور ضروری احکام و مسائل سے لاعلم رہنا، جن سے لاعلمی کی کوئی گنجائش نہیں، ایک بڑی کوتاہی ہے۔ حالانکہ روزے کی صحت اور قبولیت کا دار و مدار انہی احکام کے علم اور درست فہم پر ہوتا ہے۔ اگر انسان کو یہ معلوم ہی نہ ہو کہ کن چیزوں سے روزہ فاسد ہوتا ہے اور کن باتوں سے روزے کا اجر کم یا ختم ہو جاتا ہے تو وہ لاعلمی میں اپنے عمل کو ضائع کر بیٹھتا ہے۔

اس لیے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ رمضان آنے سے پہلے روزے کے فرائض، واجبات، سنن اور مفسدات کو سیکھے، تاکہ وہ عبادت کو صحیح طریقے سے ادا کر سکے۔ دین کے احکام سے غفلت نہ صرف عبادت میں نقص کا سبب بنتی ہے بلکہ بعض اوقات گناہ اور محرومی کا ذریعہ بھی بن جاتی ہے۔ علم کے بغیر عبادت کرنا ایسا ہی ہے جیسے اندھیرے میں راستہ طے کرنا، جس میں ٹھوکر لگنے کا اندیشہ ہر وقت رہتا ہے۔

مسائلِ رمضان سیکھنے کا اہتمام کریں:

رمضان سے قبل ہی رمضان سے متعلق احکام کا علم ہو، تاکہ اللہ کی طرف سے واجب کئے گئے فریضے کو کما حقہ ادا کر سکیں، شرعاً جو عمل فرض ہے اس فریضہ کو ادا کرنے کے لیے فرض کا علم بھی فرض ہو جاتا ہے، بعض لوگ جہالت اور لاعلمی کی بنا پر روزہ کی حالت میں ایسے امور کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں جن کا شمار حرام، ممنوع اور مفطرات (روزہ توڑ دینے والی چیزوں) میں ہوتا ہے، اپنی مرضی سے روزہ نہ چھوڑیں، شوگر کا مریض، بی پی کا مریض، ہارٹ کا مریض پوچھ لے کہ میرے روزے کا حکم کیا ہے؟ معتبر اور مستند علماء کی کتابوں کا مطالعہ جاری رکھیں، اپنے اہلِ خانہ سے اس کا مذاکرہ کریں، جس طرح روزہ رکھنا فرض ہے، اسی طرح اس روزہ کو فاسد ہونے سے بچانے کا علم حاصل کرنا بھی فرض ہے۔

رمضان المبارك کے ثمرات سے مستفید ہونے کے لئے ضروری ہے کہ آپس کی رنجشوں اور ناراضگیوں کو ختم کر دیں۔ اگر آپ اپنے بھائیوں، دوستوں، عزیزوں اور قریبی رشتہ داروں میں سے کسی سے خفا ہیں تو صلح کرکے یہ ناراضگی اور رنجشیں دور کر لیں، ناراض لوگوں کو منایئےکیونکہ ناراضگی کی موجودگی میں آپ کی کوئی عبادت قبول نہیں ہوگی۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :

تُفْتَحُ أبْوابُ الجَنَّةِ يَومَ الإثْنَيْنِ، ويَومَ الخَمِيسِ، فيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ لا يُشْرِكُ باللَّهِ شيئًا، إلَّا رَجُلًا كانَتْ بيْنَهُ وبيْنَ أخِيهِ شَحْناءُ، فيُقالُ: أنْظِرُوا هَذَيْنِ حتَّى يَصْطَلِحا، أنْظِرُوا هَذَيْنِ حتَّى يَصْطَلِحا، أنْظِرُوا هَذَيْنِ حتَّى يَصْطَلِحا.16

ترجمہ: ہر جمعرات اور پیر کے دن اعمال پیش کئے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کو معاف فرما دیتا ہے جو کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو سوائے اس شخص کے جس کے درمیان اور اس کے بھائی کے درمیان ناراضگی ہو تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ان دونوں کو اپنے حال پر چھوڑ دو حتی کہ یہ  دونوں آپس میں صلح کرلیں۔

سیدنا ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إيَّاكُم وسوءَ ذاتِ البينِ فإنَّها الحالِقةُ17

ترجمہ : آپسی پھوٹ کی برائی سے بچو اس لیے کہ یہ چیز مونڈنے والی ہے ۔

آپسی پھوٹ کی برائی سے مراد آپس کی عداوت اور بغض و حسد ہے اور مونڈنے والی سے مراد دین کو مونڈنے والی ہے۔ یعنی  اجر و ثواب کو مٹا دیتی ہیں۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپسی بغض و عداوت اور انتشار و افتراق سے اجتناب کرنا چاہیئے، کیونکہ اس سے نہ یہ کہ صرف دنیا تباہ ہوتی ہے بلکہ دین بھی ہاتھ سے جاتا رہتا ہے۔

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ:

لقيت رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال لي: يا عقبة بن عامر! صِل من قطعك، وأعط من حرمك، واعف عمن ظلمك18

ترجمہ : میں رسول اللہ ‌ﷺ‌ سے ملا تو آپ ﷺنے مجھے فرمایا: اے عقبہ بن عامر! جو تم سے تعلق توڑے اس سے صلہ رحمی کرو، جو تمہیں محروم کرے اسے عطا کرو، جو تم پر ظلم کرے اس سے در گزر کرو۔

ليسَ الواصِلُ بالمُكافِئِ، ولَكِنِ الواصِلُ الذي إذا قُطِعَتْ رَحِمُهُ وصَلَها.19

ترجمہ: کسی کام کا بدلہ دینا صلہ رحمی نہیں ہے بلکہ صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب اس کے ساتھ صلہ رحمی کا معاملہ نہ کیا جا رہا ہو تب بھی وہ صلہ رحمی کرے۔

یعنی وہ شخص صلہ رحمی کرنے والا نہیں ہے جو برابر سرابر کا معاملہ کرنے والا ہو بلکہ صلہ رحمی کرنے والا دراصل وہ ہے جو دوسرے کے توڑنے پر صلہ رحمی کرے۔

8۔ رمضان کے آمد پر خوش نہ ہونا

ماہِ رمضان کے آنے کے ساتھ ہی بعض مسلمانوں کے چہرے سنوَرنے کے بجائے ماند پڑ جاتے ہیں، وہ کچھ شکوے اور شکایتیں کرنے لگتے ہیں کہ اب روزے رکھنا ہوں گے۔ حالانکہ یہ مہینہ پورے گیارہ مہینوں کے بعد آتا ہے اور اللہ کی طرف سے ایک مہمان کی طرح ہمارے پاس تشریف لاتا ہے۔ ایک مہمان کی آمد پر کس قدر خوشی، شوق اور احترام ظاہر کرنا چاہئے، ہم سب جانتے ہیں۔ اپنے گھر کو صاف اور خوشنما بنانا، خود کو ذہنی طور پر تیار رکھنا اور اس کی آمد سے پہلے ہر طرح کی تیاری کرنا چاہیے۔ اسی طرح ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ ماہِ رمضان اللہ کی ایک بڑی رحمت ہے، اور جب رحمتِ الہی ہمارے دروازے پر آتی ہے تو ہمیں خوشی اور شکر کے ساتھ اس کا استقبال کرنا چاہئے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

 قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ20

ترجمہ: آپ کہہ دیجئے کہ انہیں اللہ کے اس فضل اور اس رحمت پر خوش ہونا چاہیے، یہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جنہیں وہ جمع کرتے ہیں۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَىٰ تِجَارَةٍ تُنجِيكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ21

یعنی وہ شخص صلہ رحمی کرنے والا نہیں ہے جو برابر سرابر کا معاملہ کرنے والا ہو بلکہ صلہ رحمی کرنے والا دراصل وہ ہے جو دوسرے کے توڑنے پر صلہ رحمی کرے۔

8۔ رمضان کے آمد پر خوش نہ ہونا

ماہِ رمضان کے آنے کے ساتھ ہی بعض مسلمانوں کے چہرے سنوَرنے کے بجائے ماند پڑ جاتے ہیں، وہ کچھ شکوے اور شکایتیں کرنے لگتے ہیں کہ اب روزے رکھنا ہوں گے۔ حالانکہ یہ مہینہ پورے گیارہ مہینوں کے بعد آتا ہے اور اللہ کی طرف سے ایک مہمان کی طرح ہمارے پاس تشریف لاتا ہے۔ ایک مہمان کی آمد پر کس قدر خوشی، شوق اور احترام ظاہر کرنا چاہئے، ہم سب جانتے ہیں۔ اپنے گھر کو صاف اور خوشنما بنانا، خود کو ذہنی طور پر تیار رکھنا اور اس کی آمد سے پہلے ہر طرح کی تیاری کرنا چاہیے۔ اسی طرح ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ ماہِ رمضان اللہ کی ایک بڑی رحمت ہے، اور جب رحمتِ الہی ہمارے دروازے پر آتی ہے تو ہمیں خوشی اور شکر کے ساتھ اس کا استقبال کرنا چاہئے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

 قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ22

ترجمہ: آپ کہہ دیجئے کہ انہیں اللہ کے اس فضل اور اس رحمت پر خوش ہونا چاہیے، یہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جنہیں وہ جمع کرتے ہیں۔

شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

رمضان اختصه الله تعالی عز وجل بخصائص ولهذا ینبغي لنا أن نفرح بقدومه وأن نسرّ به لأنه موسم خیر ، أرأیت التجار إذا أقبلت مواسم التجارة یفرحون أو لا ؟ یفرحون، ویستعدون لها ویسافرون إلیها، وتجارة رمضان هذا أربح من تجارة التجار۔ قال الله عز وجل:  يا ايها الذين امنوا هل ادلكم على تجارة تنجيكم من عذاب الیم ، هذه هو التجارة ، لأن تجارة الدين يا اخواني تجارة الدين تجارة في الدنيا والآخرة وتجارة الدنيا ِذا لم تكن على وفق الشريعه فهي خسارة في الدنيا والآخرة ، فعلیكم بتجارة الدين، اننا نستقبل موسما عظيما وهو شهر رمضان الذي أخصه الله بخصائص : منها : أن الله أنزل فيه القران وانزال القران نعمة عظيمة كبرى لأن الله تعالى أنزله شفاء لما في الصدور: یا أیها الناس قد جاءتكم موعظة من ربكم وشفاء لما في الصدور وهدی ورحمة للمؤمنین ۔23

ترجمہ: ماہِ رمضان کو اللہ تعالیٰ نے کئی خصوصیات سے نوازا ہے، اسی لیے ہمیں اس کے آمد پر خوش ہونا چاہیے اور دل سے اس کا استقبال کرنا چاہیے، کیونکہ یہ خیر و برکت کا موسم ہے۔ ذرا سوچیں، جب تاجروں کے لیے تجارت کے بڑے سیزن آتے ہیں تو کیا وہ خوش نہیں ہوتے؟ یقیناً  وہ خوش ہوتے ہیں، اور اس سیزن  کی تیاری کرتے ہیں، اس کے لیے سفر کرتے ہیں ۔ لیکن رمضان کی تجارت تو تاجروں کی ہر تجارت سے کہیں زیادہ نفع بخش ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَىٰ تِجَارَةٍ تُنجِيكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ24

ترجمہ: اے ایمان والو! کیا میں تمہیں ایسی تجارت بتاؤں جو تمہیں دردناک عذاب سے بچا لے؟

یہی اصل تجارت ہے، کیونکہ دینی تجارت، میرے بھائیو، دنیا اور آخرت دونوں میں نفع دیتی ہے، جبکہ دنیا کی تجارت اگر شریعت کے مطابق نہ ہو تو وہ دنیا اور آخرت دونوں میں خسارے کا سبب بنتی ہے۔ اس لیے تم دینی تجارت اختیار کرو۔

ہم اس وقت  ایک عظیم موسم کا استقبال کر رہے ہیں، اور وہ ہے ماہِ رمضان، جسے اللہ تعالیٰ نے خاص امتیازات عطا فرمائے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ اسی مہینے میں قرآن نازل ہوا، اور قرآن کا نزول ایک بہت بڑی نعمت ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے دلوں کی بیماریوں کے لیے شفا بنایا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَتْكُم مَّوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَشِفَاءٌ لِّمَا فِي الصُّدُورِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ25

ترجمہ: اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آ چکی ہے، اور دلوں کی بیماریوں کی شفا، اور ایمان والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔”

لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اس بابرکت مہینے کو غنیمت جانیں، اس کی قدر کریں اور اس میں نفع بخش دینی تجارت کے ذریعے اللہ کی رضا حاصل کریں۔

علامہ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

ولا أعلم شيئًا مُعينًا لاستقبال رمضان، سوى أن يستقبله المسلم بالفرح والسرور، والاغتباط وشكر الله أن بلَّغه رمضان، ووفقه، فجعله من الأحياء، الذين يتنافسون في صالح العمل، فإن بلوغ رمضان نعمة عظيمة من الله، ولهذا كان النبي صلى الله عليه وسلم يُبشر أصحابه بقدوم رمضان مبينًا فضائله، وما أعد الله فيه للصائمين، والقائمين من الثواب العظيم.26

ترجمہ : مجھے رمضان کے استقبال کا سوائے اس کے کوئی خاص طریقہ معلوم نہیں  کہ مسلمان اس مہینے کا استقبال خوشی، مسرت اور دل کی خوشی کے ساتھ کرے، اور اللہ کا شکر ادا کرے کہ اس نے اسے  ماہِ رمضان تک پہنچایا اور زندہ رکھا، تاکہ وہ نیک اعمال میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے والوں میں شامل ہو سکے۔ بے شک رمضان تک پہنچنا اللہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ اسی وجہ سے نبی کریم ﷺ اپنے صحابہ کو  ماہِ رمضان کی آمد کی خوش خبری دیا کرتے تھے، اور اس کی فضیلتیں بیان فرماتے تھے، نیز اللہ تعالیٰ نے اس مہینے میں روزہ داروں اور راتوں کو عبادت کرنے والوں کے لیے جو عظیم اجر و ثواب تیار کر رکھا ہے، اس سے آگاہ کرتے تھے۔

علامہ  محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

 المسلمون يفرحون برمضان على وجهين: الوجه الأول: من يفرح برمضان؛ لأنه ينشط في رمضان على العبادة، ويكثر من العبادة. الوجه الثاني: من يفرح برمضان لكثرة خيراته وكثرة نعم الله عز وجل وعفوه على عباده، ولما فيه من الأسباب الكثيرة التي يغفر الله بها للإنسان كالصيام مثلا، والذي ينبغي للإنسان أن يفرح برمضان للأمرين جميعا.27

ترجمہ: مسلمان رمضان کی آمد پر دو  اعتبار سے خوش ہوتے ہیں۔ ایک یہ ہے کہ رمضان آتے ہی ان میں عبادت کاذوق و شوق بڑھ جاتا ہے اور وہ زیادہ دلجمعی کے ساتھ عبادت کرنے لگتے ہیں۔ دوسرا یہ ہےکہ اس مہینے میں اللہ تعالیٰ کی رحمتیں، نعمتیں اور بندوں کے لیے معافی کے مواقع بہت زیادہ ہوتے ہیں، اور اس میں ایسے بہت سے اعمال ہیں جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے، جیسے روزہ رکھنا وغیرہ۔ لہٰذا انسان کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ رمضان کی آمد پر دونوں اعتبار سے خوشی محسوس کرے: عبادت کے شوق  میں اضافے پر بھی اور اللہ کی رحمت و مغفرت کی امید پر بھی۔

ایک اورموقع پرعلامہ  محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“اور ہم پر لازم ہے کہ ہم رمضان کی آمد پر خوش و خرم ہوں اور اس کے آنے پر خوشی کا اظہار کریں۔ اور اس کے لیے پوری محنت کے ساتھ تیاری کریں اور نیک اعمال میں تندہی سے جٹ جائیں۔ اور یہ کہ ہم اس موقع سے ان کاموں کے ذریعے فائدہ اٹھائیں جو ہمیں اللہ تبارک و تعالیٰ کے قریب کر دیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ انسان نہیں جانتا کہ وہ اگلے رمضان یا اس کے بعد کے وقت تک زندہ رہے گا یا نہیں۔ نیکیوں کے یہ موسم تجارتی سیزن کی طرح ہوتے ہیں، جس طرح تاجر خرید و فروخت کے سیزن کے لیے مختلف قسم کا مال درآمد کر کے (منافع کمانے کے لیے) تیاری کرتے ہیں، بالکل اسی طرح ہمارے لیے بھی مناسب ہے کہ ہم رمضان کی آمد کے لیے نیک اعمال اور حرام کاموں سے بچ کر بھرپور تیاری کریں۔28

9۔ رمضان کی تیاری کے لیے کھیل کودکے ذرائع اپنانا

رمضان کی تیاری کے لیے دنیاوی تفریحات اور غفلت کے اسباب اختیار کرنا نہ صرف وقت کے ضیاع کا سبب بنتا ہے بلکہ دل کو بھی اللہ کی یاد اور عبادت سے دور کر دیتا ہے۔ اگرچہ یہ سرگرمیاں بذاتِ خود حرام نہ ہوں، مگر رمضان کے مقدس مہینے میں یہ شدید ناپسندیدہ ہیں کیونکہ یہ انسان کی توجہ نیک اعمال اور طاعات سے ہٹا دیتے ہیں۔ ایسے اعمال مسلمان کو روحانی فوائد اور اللہ کی برکات سے محروم کر دیتے ہیں اور اسے رمضان کی عظیم فضیلت سے بھرپور فائدہ اٹھانے سے روک دیتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ مسلمان اس مہینے میں دنیاوی مشغولیات کو کم کرے، دل و دماغ کو اللہ کی عبادت اور نیک اعمال کی طرف مرکوز کرے، تاکہ رمضان کی ہر گھڑی کا بھرپور فائدہ اٹھا سکے اور اپنی روحانی زندگی کو نورانی اور مضبوط بنا سکے۔

10۔ اہلِ بلد کی مخالفت میں روزہ رکھنا یا افطار کرنا

اہلِ بلد کی مخالفت میں روزہ رکھنا یا افطار کرنا شرعاً درست نہیں کیونکہ اسلام میں امت کی اجتماعی ہم آہنگی اور وحدت کی بڑی اہمیت ہے۔ کسی بھی معاملے میں اپنے علاقے یا جماعت کے عام رواج کے خلاف جانا اختلاف اور انتشار کا سبب بن سکتا ہے، خاص طور پر روزے اور افطار جیسے عبادات میں۔ :

مسلمان دو وجوہات کی بنا پر اپنے علاقے کے لوگوں کے ساتھ روزے کے آغاز یا اختتام میں اختلاف کر سکتا ہے:

پہلی وجہ: کہ اُس کے علاقے کے لوگ ایسے ہلال کی بنیاد پر روزہ رکھیں جس کی صحیح طور پر تصدیق نہ ہوئی ہو۔

دوسری وجہ: کہ انہوں نے شعبان کا مہینہ مکمل کر لیا ، کیونکہ انہیں رمضان کاچاند دیکھنا مشکل ہو گیا، جبکہ  دوسرے لوگوں نے چاند دیکھ لیا ہو، اور اس وجہ سے اختلاف پیدا ہوتا ہے۔

حالانکہ علماء کا مضبوط موقف یہ ہے کہ ہر علاقے کا اپنا ہلال دیکھنے کا حق اور طریقہ ہے، اور اپنے علاقے کے لوگوں کے خلاف عمل کرنا جماعت سے الگ ہونا ہے، نیز یہ نبی ﷺ کے عام حکم کے خلاف بھی ہے۔

آپ ﷺ کا فرمان ہے:

الفطر يوم يفطر الناس والأضحى يوم يضحي الناس29

ترجمہ: عید الفطر کا دن وہ ہے جب لوگ عید منائیں، اور عید الاضحی کا دن وہ ہے جس دن لوگ قربانی کریں ۔

اگر کوئی فرد اپنی جماعت کے خلاف روزہ رکھے یا افطار کرے تو یہ نہ صرف شرعی طور پر درست نہیں بلکہ معاشرتی ہم آہنگی کو بھی متاثر کرتا ہے۔ لہٰذا مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنے علاقے اور جماعت کے معمول کے مطابق عمل کرے تاکہ عبادت کے ساتھ ساتھ امت میں اتحاد اور بھائی چارہ بھی قائم رہے۔
خلاصہ مضمون

ماہِ رمضان اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور رحمت کا موسم ہے، اس کے استقبال میں کوتاہی، غفلت اور ناپسندیدہ امور سے بچنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم ان قابلِ اجتناب امور سے خود کو محفوظ رکھیں، تو رمضان ہمارے لیے محض ایک رسم نہیں بلکہ اصلاحِ نفس، تقویٰ اور مغفرت کا حقیقی ذریعہ بن سکتا ہے۔ آئیے ہم عزم کریں کہ رمضان کو غفلت کے ساتھ نہیں بلکہ شعور، تیاری اور اخلاص کے ساتھ خوش آمدید کہیں گے، تاکہ یہ بابرکت مہینہ ہماری زندگیوں میں خیر، برکت اور قربِ الٰہی کا سبب بن جائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان کی قدر پہچاننے اور اس کے تقاضے پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

______________________________________________________________________________________________________

  1. (أخرجه البخاري (1950) ومسلم: 1146)
  2. (فتح الباري (4/ 191)
  3. (الفتاوى (5/518))
  4. (المجموع شرح المهذب (3/ 70))
  5. (الإتقان في علوم القرآن 2/716)
  6. (سنن الدارمي ،(3476)ص: 354) والترمذي (2949) ، وابن كثير فى فضائل القرآن، ص: 287، والحاكم فى المستدرك:(2088))
  7. (التبيان في آداب حملة القرآن )(ص:162) .
  8. (الإتقان في علوم القرآن (1/295) وانظر: ” سنن القراء ومناهج) المجودين ” (ص/227))
  9. (النشر في القراءات العشر: 2/449)
  10. (صحيح البخاري : 1914)
  11. ( مسلم :7/ 194)
  12. ( صحيح. ابن ماجة :1645)
  13. ( فتح الباری(4/ 120))
  14. (صحيح البخاري: 672 ، وصحيح مسلم: 557)
  15. (صحیح مسلم: 560)
  16. (صحیح مسلم : 2565)
  17. (صحيح الترمذي: 2508 )
  18. (سلسلة الأحاديث الصحيحة: 6/859، ومسند أحمد 4/158)
  19. (صحیح البخاری: 5991)
  20. (سورۃ يونس: 58)
  21. (سورہ الصف: 10)
  22. (سورۃ يونس: 58)
  23. (شذرات رمضانية  (01) الفرح بقدوم رمضان)
  24. (سورہ الصف: 10)
  25. (57:سورۃ یونس)
  26. (مجموع فتاواه ومقالاته (15/9))
  27. (اللقاءات الرمضانية : ص:31)
  28. (فتاویٰ سوال علیٰ الهاتف، ص: 629)
  29. (صحيح الجامع:4287)
الشیخ اکرم الٰہی حفظہ اللہ

Recent Posts

!دیِنی مَدارِس کے طلبہ اپنی قدر پہچانیں

کیا طاقت اور مضبوطی کا دار و مدار تعداد کی کثرت پر ہے؟ اتباعِ حق…

2 days ago

آخری عَالمی جنگ کب، کہا اور کن کے درمیان ہوگی؟

مسلمانوں کا "بیس کیمپ" کہاں ہوگا؟ کمیونسٹ بلاک (چین اور روس) کا کردار کیا ہوگا؟…

3 days ago

طالب علم بوجھ یاباعث برکت؟

نبی کریم ﷺ کو طلبہ سے کس درجے کی محبت تھی؟ جب ایک تاجر نے…

4 days ago

اللہ غَفور ہے! اس کا کیا مطلب ہے؟

“غفور” کا اردو ترجمہ کب مکمل ہوتا ہے؟ لفظ “غفور” کن دو بنیادی حقائق پر…

5 days ago

عبادت میں سستی کیوں؟ ایک اہم وجہ جانیے!

عبادت میں سستی اور شہوت کے غلبے کی کیا وجہ ہے؟ شکم سیری (پیٹ بھر…

5 days ago

حقیقی کامیابی

خطبہ اول: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو عظمت و جلال میں منفرد ہے…

1 week ago