Tanhai me libas utaarne ke aadaab
اسلام میں ستر پوشی ایمان کا حصہ ہے، چاہے تنہائی میں ہو یا مجمع میں۔ نبی کریم ﷺ نے لباس اتارتے وقت “بسم اللہ” پڑھنے کی تلقین فرمائی، تاکہ شیطان کی نظر سے پردہ ہو جائے۔ حدیث کے مطابق “سب سے افضل ایمان لا الہ الا اللہ کہنا اور سب سے کم تر راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا ہے”، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستر پوشی بھی ایمان کا ایک درجہ ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا: “اللہ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اس سے حیاء کی جائے” ، یعنی خلوت میں بھی حیاء ضروری ہے۔ مسلمان کو ہر حال میں شرم و حیا اختیار کرنی چاہیے، کیونکہ اللہ ہر جگہ دیکھ رہا ہے۔
کیا قبر میں سوالات کے دوران نبی کریم ﷺ کی زیارت کرائی جاتی ہے؟ کیا…
اسباب اختیار کرتے ہوئے کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟ "فلاں ڈاکٹر کے ہاتھ میں…
مدینہ میں نفاق کا ظہور کب اور کیوں ہوا؟منافقین کی سب سے بنیادی اور خطرناک…
خطبہ اول: یقیناً تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، وہ اکیلا اور بے نیاز ہے،…
قدرتی وسائل سے بھرپور پاکستان معاشی بحران کا شکار کیوں ہے؟ ہماری بدحالی کی بنیادی…