احکام و مسائل

خلوت میں لباس اتارنے کے آداب

اسلام میں ستر پوشی ایمان کا حصہ ہے، چاہے تنہائی میں ہو یا مجمع میں۔ نبی کریم ﷺ نے لباس اتارتے وقت “بسم اللہ” پڑھنے کی تلقین فرمائی، تاکہ شیطان کی نظر سے پردہ ہو جائے۔ حدیث کے مطابق “سب سے افضل ایمان لا الہ الا اللہ کہنا اور سب سے کم تر راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا ہے”، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستر پوشی بھی ایمان کا ایک درجہ ہے۔

نبی ﷺ نے فرمایا: “اللہ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اس سے حیاء کی جائے” ، یعنی خلوت میں بھی حیاء ضروری ہے۔ مسلمان کو ہر حال میں شرم و حیا اختیار کرنی چاہیے، کیونکہ اللہ ہر جگہ دیکھ رہا ہے۔

الشیخ حماد انس مدنی حفظہ اللہ

Recent Posts

کیا قبر میں پیارے نبیﷺ کی زیارت کرائی جاتی ہے؟

کیا قبر میں سوالات کے دوران نبی کریم ﷺ کی زیارت کرائی جاتی ہے؟ کیا…

23 hours ago

اسباب اختیار کرتے ہوئے یہ غلطی ہرگز نہ کریں!

اسباب اختیار کرتے ہوئے کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟ "فلاں ڈاکٹر کے ہاتھ میں…

6 days ago

منافقین کی صفات اور نفاق کا ظہور

مدینہ میں نفاق کا ظہور کب اور کیوں ہوا؟منافقین کی سب سے بنیادی اور خطرناک…

7 days ago

اللہ کے اسماء وصفات کی معرفت

 خطبہ اول: یقیناً تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، وہ اکیلا اور بے نیاز ہے،…

7 days ago

چند جامع نصیحتیں

 خطبہ اول: تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جو بقا و ابدیت میں منفرد ہے۔…

7 days ago

مہنگائی کیوں؟

قدرتی وسائل سے بھرپور پاکستان معاشی بحران کا شکار کیوں ہے؟ ہماری بدحالی کی بنیادی…

1 week ago