تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس کی تعریف بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد طلب کرتے ہیں، اور اسی سے مغفرت چاہتے ہیں، ہم اپنے نفس کے شر اور اپنے برے اعمال سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، اللہ جسے ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ تنہا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔
بے شک سب سے سچا کلام اللہ کی کتاب ہے، اور سب سے بہترین طریقہ محد سلم کا طریقہ ہے، سب سے بد ترین امور نئی ایجاد کردہ چیز میں ہیں، اور ہر نئی چیز بدعت ہے، ہر بدعت گمر اہی ہے اور ہر گمر اہی جہنم میں لے جانے والی ہے۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ
آل عمران – 102
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے اتنا ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہئیے اور دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا۔
يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا
النساء – 1
اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کرکے ان دونوں سے بہت سے مرد اورعورتیں پھیلا دیں، اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پرایک دوسرے سے مانگتے ہواور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو بے شک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا
الاحزاب – 70
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سیدھی سیدھی (سچی) باتیں کیا کرو۔
مومنو! یقینا اللہ تعالی نے عظمت و کبریائی اورغلبہ وعظمت کو اپنی ربوبیت کی جلوہ گاہ، انعام واحسان، فضل و کرم اورعفوودرگزرکو اپنی وسعت رحمت کی نشانی، اور قہر وغضب، عدل وانصاف اور طاقت و انتقام کو اپنی بادشاہت اور غلبے کا مظہرقراردیا ہے، چنانچہ اس کے اسماۓ حسنی اور صفاتِ کمال کا مرجع اور سرچشمہ یہی صفت ربوبیت، رحمت اور بادشاہت ہے۔
اور قرآن عظیم کی پہلی سورت کی ابتدائی آیات ان تینوں صفات پر مشتمل ہیں، اور یہ سورت اللہ کی طرف سے آسمان سے زمین پر نازل ہونے والا سب سے افضل کلام ہے، ارشاد باری تعالی ہے:
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿٢﴾ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ﴿٣﴾ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ
الفاتحة – 1/3
”سب تعریفیں اللہ تعالی کے لیے ہیں، جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے ؟ بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے بدلے کے دن (یعنی قیامت کا مالک ہے “۔
اول سے آخر تک تمام مخلوق کا ان صفات سے تعلق ہے ، ان کی ابتدا بھی، اور (قیامت کے اس عظیم دن میں ان کا لوٹنا بھی ان ہی صفات سے تعلق رکھتا ہے ، جس دن لوگ اللہ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے ۔
پس اللہ وہ ہے جس کی عبادت حق کے ساتھ کی جاتی ہے ، رب وہ ہے جو سب کا خالق ہے ، اور رحمن و رحیم وہ ہے جس کے دنیاوی واخروی فضل واحسانات سب کو شامل ہیں، اور { مالک یوم الدین یعنی بدلے کے دن کا مالک کا مطلب یہ ہے کہ وہی مخلوق کا حساب و کتاب لینے والا اور حق وانصاف کے ساتھ بدلہ دینے والا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:
وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا ۖ وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا ۗ وَكَفَىٰ بِنَا حَاسِبِينَ
الانبیاء – 47
”اور ہم روز قیامت انصاف کے ترازور کھیں گے اور کسی کی کچھ بھی حق تلفی نہ ہو گی ، اور اگر کسی کارائی کے دانہ برابر بھی عمل ہو گا تو وہ بھی سامنے لائیں گے اور حساب کرنے کو ہم کافی ہیں“۔
اور دنیا و آخرت میں مخلوق کے تمام احوال کا خلاصہ یہی ہیں۔
الوہیت اس عظیم غرض و غایت کی متقاضی ہے جس کی وجہ سے مخلوق کو پیدا کیا گیا، رسولوں کو مبعوث کیا گیا، کتابیں نازل کی گئیں اور وہ یہ ہے کہ خالص اللہ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کی جاۓ، جس طرح اس کے مثل کوئی چیز نہیں ، مخلوق میں اس کا کوئی مدد گار نہیں اور اس کی بادشاہت میں کوئی اس کا شریک نہیں ، ٹھیک اس طرح اس کے سوا کسی اور کی عبادت بھی نہ کی جاۓ گی، اور محبت و خشیت اور امید کے ساتھ کسی کی پرستش بھی نہ کی جائے گی۔ ارشاد باری تعالى ہے :
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ ﴿٥٦﴾ مَا أُرِيدُ مِنْهُم مِّن رِّزْقٍ وَمَا أُرِيدُ أَن يُطْعِمُونِ ﴿٥٧﴾ إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ
الذاریات – 57/59
اور میں نے جنوں اور انسانوں کو پیدا نہیں کیا مگر اس لیے کہ وہ میری عبادت کر میں۔ میں ان سے رزق نہیں چاہتا، نہ ہی یہ چاہتاہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔ بیشک اللہ ہی بے حد رزق دینے والا، طاقت والا، نہایت مضبوط ہے۔
اور پوری کائنات اللہ سبحانہ کے وجود کی علامت ہے ، اس کی وحدانیت پر ناطق ہے ، پس رب العالمین ہی ہے جس نے تمام مخلوقات، آسمان وزمین اور ان میں اور ان کے درمیان جو کچھ ہے جسے ہم جانتے ہیں اور جسے نہیں جانتے سب کو پیدا کیا ہے۔
اللہ عزوجل نے موسی علیہ السلام اور فرعون کا قصہ بیان کرتے ہوئےبر حق فرمایا:
قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعَالَمِينَ ﴿٢٣﴾ قَالَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ إِن كُنتُم مُّوقِنِينَ ﴿٢٤﴾ قَالَ لِمَنْ حَوْلَهُ أَلَا تَسْتَمِعُونَ ﴿٢٥﴾ قَالَ رَبُّكُمْ وَرَبُّ آبَائِكُمُ الْأَوَّلِينَ ﴿٢٦﴾ قَالَ إِنَّ رَسُولَكُمُ الَّذِي أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ لَمَجْنُونٌ ﴿٢٧﴾ قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ إِن كُنتُمْ تَعْقِلُونَ
الشعراء – 23/27
”فرعون نے کہا رب العالمین کیا چیز ہے؟ موسی(علیہ السلام) نے فرمایا : وہ آسمانوں اور زمین اور ان کے در میان کی تمام چیزوں کارب ہے، اگر تم یقین رکھنے والے ہو چہ فرعون نے اپنے گر د والوں سے کہا: کیا تم سن نہیں رہے ؟ (موسی(علیہ السلام) نے فرمایا : وہ تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا پروردگار ہے فرعون نے کہا (لوگو!): تمہارا یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے یہ تو یقینا دیوانہ ہے یہ موسی (علیہ السلام) نے فرمایا : مشرق و مغرب کا اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا رب ہے، اگر تم عقل رکھتے ہو“۔
پس تم حیوانات و جمادات میں سے جس سے چاہو رب العالمین کے بارے میں پوچھو، اگر وہ تمہیں اس کا جو اب زبان قال سے نہ ملے تو زبان حال سے مل جائے گا۔ دنیا کی ہر چیز اس کی تسبیح بیان کرتی ہے اور اس کے سامنے سجدہ ریز ہے، جسے اللہ ہی جانتا ہے اور جسے اللہ خبر دے دے، وہی جانتا ہے۔
تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَن فِيهِنَّ ۚ وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَٰكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ ۗ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا
الاسراء – 44
ساتوں آسمان اور زمین اور جو بھی ان میں ہے اس کی تسبیح کر رہے ہیں۔ ایسی کوئی چیز نہیں جو اسے پاکیزگی اور تعریف کے ساتھ یاد نہ کرتی ہو۔ ہاں یہ صحیح ہے کہ تم اس کی تسبیح سمجھ نہیں سکتے۔ وہ بڑابردبار اور بخشنے والا ہے۔
اورارشاد فرمایا:
أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَسْجُدُ لَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَكَثِيرٌ مِّنَ النَّاسِ ۖ وَكَثِيرٌ حَقَّ عَلَيْهِ الْعَذَابُ ۗ وَمَن يُهِنِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِن مُّكْرِمٍ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ
الحج – 18
کیا تو نہیں دیکھ رہا کہ اللہ کے سامنے سجدے میں ہیں سب آسمانوں والے اور سب زمینوں والے اور سورج اور چاند اورستارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے انسان بھی، ہاں بہت سے وہ بھی ہیں جن پرعذاب کا مقولہ ثابت ہو چکا ہے، جسے رب ذلیل کر دے اسے کوئی عزت دینے والا نہیں ، اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔
اللہ کے بندو! دل غور و فکر کے ذریعے ہی معرفت الہی کے رنگ میں رنگتا ہے، اور ذکر الہی کے ذریعے ہی محبت الہی کے نور سے منور ہوتا ہے ، اور انسان ذکروفکراورانکساری وعاجزی کے امتزاج سے رب العالمین کی وحدانیت اور اس کی عظمت و قدرت کی حقیقتوں تک رسائی پالیتا ہے۔ اور جو شخص اللہ کی عظمت پر غوروفکر کرے گا وہ اس کی نافرمانی نہیں کرے گا، اور جو اپنے مالک کو یاد کرے گا وہ اس کی رہنمائی کرے گا۔
اور جو اپنے مالک کی پناہ میں آئے گا وہ اسے پناہ دے گا۔ غور و فکر کرنے ، اللہ کو یاد کرنے ، عبرت حاصل کرنے اور اکیلے غلبے والے اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کرنے سے انسان غالب ، بخشنے والے رب کی توحید اور وحدانیت کے اقرار تک پہنچ جاتا ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ ﴿١٩٠﴾ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَٰذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ﴿١٩١﴾ رَبَّنَا إِنَّكَ مَن تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ ۖ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ ﴿١٩٢﴾ رَّبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي لِلْإِيمَانِ أَنْ آمِنُوا بِرَبِّكُمْ فَآمَنَّا ۚ رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّئَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ ﴿١٩٣﴾ رَبَّنَا وَآتِنَا مَا وَعَدتَّنَا عَلَىٰ رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ ﴿١٩٤ فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّي لَا أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنكُم مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ ۖ بَعْضُكُم مِّن بَعْضٍ ۖ فَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَأُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِمْ وَأُوذُوا فِي سَبِيلِي وَقَاتَلُوا وَقُتِلُوا لَأُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَأُدْخِلَنَّهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ثَوَابًا مِّنْ عِندِ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عِندَهُ حُسْنُ الثَّوَابِ﴾
آل عمران – 190/195
”بے شک آسمان اور زمین کے بنانے ، رات اور دن کے آنے جانے میں البتہ عقلمندوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ وہ جو اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے یاد کرتے ہیں اور آسان اور زمین کی پیدائش میں فکر کرتے ہیں، (کہتے ہیں) اے ہمارے رب! تو نے میں بے فائدہ نہیں بنایا، تو سب عیبوں سے پاک ہے ، سو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔ اے ہمارے رب! جسے تو نے دوزخ میں داخل کیا سوتو نے اسے رسوا کیا، اور ظالموں کا کوئی مدد گار نہیں ہو گا۔ اے ہمارے رب! ہم نے ایک پکارنے والے سے سناجو ایمان لانے کو پکار تا تھا کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ سو ہم ایمان لائے ، اے ہمارے رب ! اب ہمارے گناہ بخش دے اور ہم سے ہماری برائیاں دور کر دے اور ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ موت دے۔ اے ہمارے رب! اور ہمیں دے جو تو نے ہم سے اپنے رسولوں کے ذریعے سے وعدہ کیا ہے اور ہمیں قیامت کے دن رسوانہ کر، بے شک تو وعدہ کے خلاف نہیں کرتا۔ پھر ان کے رب نے ان کی دعا قبول کی کہ میں تم میں سے کسی کام کرنے والے کا کام ضائع نہیں کر تا خواہ مرد ہو یا عورت، تم آپس میں ایک دوسرے کے جز ہو ، پھر جن لوگوں نے وطن چھوڑا اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں ستائے گئے اور لڑے اور مارے گئے ، میں ان سے ان کی برائیاں دور کروں گا اور انہیں باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، یہ اللہ کے ہاں سے بدلہ ہے، اور اللہ ہی کے ہاں اچھا بدلہ ہے۔
لہذا تم اللہ تعالی کو بکثرت یاد کرو اور صبح و شام اس کی پاکی بیان کرو اور اس سے مغفرت طلب کرو، بے شک وہ بہت زیادہ معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو سارے جہانوں کا پالنے والا ہے ، بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا اور جز او سزا کے دن کا مالک ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ، وہ برحق بادشاہ ہے اور ہر چیز کو ظاہر کرنے والا ہے ۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں جنہیں اللہ نے سارے جہاں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔ اے اللہ ! درود و سلام نازل فرما اپنے بندے اور رسول ہمارے نبی محمد ﷺ پر ، آپ کی آل اور تمام صحابہ کرام پر۔
اما بعد!
ارشاد باری تعالی ہے:
هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۖ هُوَالرَّحْمَٰنُ الرَّحِيمُ
الحشر – 22
” وہی اللہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، سب چھپی اور کھلی باتوں کا جاننے والا ہے ، وہ بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ “
” وہی اللہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، سب چھپی اور کھلی باتوں کا جاننے والا ہے ، وہ بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ “
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اللہ کا قرب تلاش کرو اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو تا کہ تم کامیاب ہو جاؤ۔
اور جان لو کہ تمہارارب بڑا مہربان ہے۔ جس میں صفت رحمت بدرجہ اتم واکمل موجود ہے۔ اوراس کی تعظیم و توقیراورعبادت و فرمانبر داری اسی رحمت کے واضح مظاہرہیں۔
وہ اس قدر رحم کرنے والا ہے کہ اس نے مخلوقات کو اپنی رحمتوں سے ڈھانپ رکھا ہے بایں طور کہ وہ ناپسندیدہ امور کو دورکرتا ہے، گناہوں کی پردہ پوشی کرتا ہے اور سزاؤں کو معاف فرماتا ہے۔ وہ بادشاہ اور مالک ہے اور بڑی عظمت والا ہے۔
اس کی بادشاہی اور حکمرانی اپنے پورے جلال و کمال کے ساتھ اس عظیم دن ظہور پذیر ہوگی جس دن مخلوقات پہلے فرد سے لے کر آخری فرد تک۔ ارشاد باری تعالی ہے:
وَيَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاءُ بِالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلَائِكَةُ تَنزِيلًا ﴿٢٥﴾ الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ لِلرَّحْمَٰنِ ۚ وَكَانَ يَوْمًا عَلَى الْكَافِرِينَ عَسِيرًا
الفرقان – 25-/26
” اور جس دن آسمان بادل سے پھٹ جائے گا اورفرشتے بکثرت اتارے جائیں گے۔ اس دن حقیقی حکومت رحمان کی ہی ہو گی، اور وہ دن کافروں پربڑاسخت ہو گا “۔
وہ دن غلبے ، حساب و کتاب اور بدلے کا ہو گا اور بندوں کے اپنے رب کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کا دن ہو گا۔ ارشاد باری تعالی ہے:
إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا ﴿١﴾ وَأَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا ﴿٢﴾ وَقَالَ الْإِنسَانُ مَا لَهَا ﴿٣﴾ يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا ﴿٤﴾ بِأَنَّ رَبَّكَ أَوْحَىٰ لَهَا ﴿٥﴾ يَوْمَئِذٍ يَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتَاتًا لِّيُرَوْا أَعْمَالَهُمْ ﴿٦﴾ فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ ﴿٧﴾ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ
الزلزلة
” جب زمین بڑے زور سے ہلا دی جائے گی۔ اور زمین اپنے بوجھ نکال پھینکے گی۔ اور انسان کہے گا کہ اس کو کیا ہو گیا۔ اس دن وہ اپنی خبر میں بیان کرے گی، اس لیے کہ آپ کا رب اس کو حکم دے گا۔ اس دن لوگ مختلف حالتوں میں لوٹیں گے تاکہ انہیں ان کے اعمال دکھائے جائیں۔ پھر جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہے وہ اس کو دیکھ لے گا۔ اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہے وہ اس کو دیکھ لے گا۔ “
اس دن اللہ تعالی زمین کو اپنی مٹھی میں لے لے گا، اور آسمان کو اپنے دائیں ہاتھ سے لپیٹ کر کہے گا کہ : میں ہی بادشاہ ہوں، زمین کے بادشاہ کہاں ہیں ؟
هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ ۚ سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ ﴿٢٣﴾ هُوَ اللَّهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ ۖ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ ۚ يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
الحشر – 23/24
اللہ کے بندو! دعا ہی عبادت ہے ، جس کا وسیلہ وطریقہ زمین و آسمان کے پالنہار کی تعریف و ثناخوانی ہے ، اور جس کی معراج سرور کائنات پر درود وسلام بھیجنا ہے ، کیوں کہ درودو سلام ہی کنجی ہے ، اور اس سے جو دوسخا اور عطا و بخشش والے رب سے بھیک مانگی جاتی ہے۔
اے اللہ! تو ہی تمام طرح کی حمد و ثنا اور شکریے کا حقدار ہے، تو ہی سارے امور کا مرجع ہے، تو ہی سب سے اول ہے، تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں، تو ہی سب سے آخری ہے، تیرے بعد کوئی چیز نہیں، تو ہی غالب ہے، تجھ پر کوئی چیزغالب نہیں اور تو ہی باطن و پوشیدہ ہے، تجھ سے پوشیدہ تر کوئی چیز نہیں۔
تو برحق ہے، تیرا وعدہ برحق ہے، تیری ملاقات برحق ہے، جنت برحق ہے، جہنم برحق ہے، سارے انبیا برحق ہیں اور محمد ﷺ برحق ہیں۔ ہم تیرے چہرے کے اس نور کا واسطہ دے کر سوال کرتے ہیں جس سے تاریکیاں روشن ہو جاتی ہیں اور دنیا و آخرت کے معاملات درست ہوتے ہیں کہ تو اپنے بندے اور سول محمد ﷺ پر اعلی و عمده در ورد و سلام اور پاکیزہ برکتیں اور رحمتیں نازل فرما۔ جو کہ خاتم النبیین ہیں، جنھوں نے مقفل دلوں کو کھولا، حق کا اعلان یوں کیا جیسے اس کا حق تھا اور باطل کے لشکروں کو شکست فاش دی، نبوت ورسالت کی ذمہ داری اٹھائی، جو ہمہ وقت تیری اطاعت و فرماں برداری پر قائم رہے، تیری رضا کے لیے کوشاں رہے ، نہ ایک قدم پیچھے ہٹے اور نہ ہی ان کے عزم وارادے میں کوئی کمزوری آئی، تیری وحی کو یادر کھا، تیرے عہد و پیان کا پاس رکھا، تیرے احکام کو نافذ کرتے رہے یہاں تک کہ نور و روشنی حاصل کرنے والے کو منور کر دیا۔
اے اللہ ! تو انھیں سب سے بلند مقام ومرتبہ عطا فرما، تو ان کی خوب ضیافت و مہمان نوازی فرما اور ان کے نور اور اجر وثواب کو مکمل کر دے۔
اے اللہ ! ان کی ازواج مطہرات ، ان کی آل ، ان کے داماد، ان کے دوست واحباب، ان کے محبین اور ان کی امت پر رحم فرما اور ان سب کے ساتھ ہم پر بھی رحم فرما، اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ۔
اے اللہ ! تو اپنی رضا و چاہت کے مطابق ان پر اس قدر رحمتیں نازل فرما جس قد روہ مستحق ہیں۔ انہیں بلند مقام، شرف وفضیلت اور اعلی درجہ عطا فرما۔
اے اللہ ! تو ہمیں ان کے حوض سے اتناسیر اب فرمانا کہ جس کے بعد ہم کبھی پیاسے نہ ہوں، بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔
اے اللہ ! تو ہمیں ان لوگوں میں سے بنادے جنہوں نے آپ ﷺ کی ملت کو مضبوطی سے تھاما، آپ کی حرمت کا خوب خیال رکھا، آپ کے کلے کو بلند کیا، آپ کے عہد و پیمان کا پاس رکھا، آپ کے گروہ اور دعوت کی نصرت و مدد کی، آپ کے متبعین اور پیروکاروں میں اضافہ کیا اور آپ کے ساتھیوں کے ساتھ وفاداری کی اور آپ کے راستے و سنت کی مخالفت نہیں کی۔
اے اللہ ! تو ہمیں ان لوگوں میں سے بنا جنہوں نے آپ کی سنت کو مضبوطی سے تھاما۔
اے اللہ ! ہم آپ ﷺ کے اوامر کی مخالفت اور آپ کی لائی ہوئی شریعت سے انحراف ورو گردانی سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔
اے اللہ ! ہم تجھ سے ہر اس خیر کا سوال کرتے ہیں جس کا سوال تیرے بندے اور رسول محمد ﷺ نے کیا ہے ، اور ہر اس شر وبرائی سے تیری پناہ چاہتے ہیں جس سے تیرے بندے اور رسول محمد ﷺ نے پناہ مانگی ہے۔
اے اللہ! تو ہمیں فتنوں کے شر سے محفوظ رکھے ، تمام آزمائشوں سے عافیت عطا کر، ہمارے ظاہر وباطن کی اصلاح فرما، ہمارے دلوں کو حقد وحسد سے پاک کر اور ہم پر کسی کی غلامی مسلط نہ کرنا۔
اے اللہ! ہمارے رزق کا بندوبست فرما، مخلوقات سے بے نیاز کر دے، خوشی و ناراضی ہر حال میں عدل کی توفیق دے، قضا و قدر کے ماتحت آنے والے مصائب سے راضی ہونے ، فقر ومالداری میں میانہ روی اپنانے ، گفتار و کردار میں تواضع اختیار کرنے ، ہنسی مذاق اور سنجید گی ہر حال میں سچائی کا دامن تھامے رکھنے کی توفیق عطا فرما اور اپنے فضل و کرم سے اپنے علاوہ سب سے بے نیاز کر دے، بے شک تو بہت زیادہ معاف کرنے والا ہے۔
اے اللہ ! ہمارے دلوں کو نور علم سے منور کر دے، ہمیں اپنے جسم کو تیری اطاعت میں استعمال کرنے کی توفیق عطا فرما، ہمارے رازوں کو فتنوں سے بچا، ہماری فکر کو عبرت و نصیحت حاصل کرنے میں لگادے، ہمیں شیطانی وسوسے کے شر سے بچا اور ہمیں شیطان سے بچالے یہاں تک کہ ہم پر اس کا کوئی غلبہ نہ رہے۔
اے بہت زیادہ رحم کرنے والے! مرتے دم تک تو ہمیں تمام مخلوقات کے شر سے مضبوط پناہ میں رکھنا اور ہمارے ساتھ لطف و کرم اور عفو و در گزر کا معاملہ فرما، اے سارے جہانوں کے پالنہار۔
اے اللہ ! تو ہمارے حکمراں کو اپنی ہدایت کی توفیق دے، ان کا عمل تیری رضا کے لیے ہو، انھیں رشد و ہدایت عطا کر، ان کے ذریعہ حق اور اہل حق کی مدد فرما اور انہیں اسلام اور مسلمانوں کے لیے ڈھال بنا دے۔
اے اللہ! ان کے ولی عہد اور مشیر کاروں کو حق پر قائم رکھ ،اس طرح تمام مسلم حکمرانوں کو بھی حق پر قائم رکھ ، اے سارے جہانوں کے پالنہار۔
اے اللہ! تو اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، شرک اور مشرکوں کو رسوا کر ، اور ہمارے اس ملک کو اور تمام اسلامی ممالک کو امن وامان ، اور خوشحالی و فارغ البالی کا گہوارہ بنادے۔
خطبه جمعه مسجدِ نبوی ﷺ : فضیلة الشیخ احمد بن طالب حُمید حفظه اللہ
25 ربیع الاول 1444ھ بموافق 21اکتوبر 2022
لیلۃ القدر میں قرآن مجید مکمل نازل ہونے کے ساتھ دوسرا اہم کام کیا ہوا؟…
عبادت کے حوالے سے قرآن مجید کی کیا نصیحت ہے؟ کیا چھٹیوں کے دن آرام…
عید کی خوشی کیسے منائیں؟ عید کا چاند دیکھ کر نبی کریم ﷺ کیا کرتے…
کیا فیشن اختیار کرنے میں ہم آزاد ہیں؟ زینت، خوبصورتی یا فیشن اختیار کرنا شرعا…
غزہ کی حالیہ صورتحال کس قرآنی آیت کی عکاسی کرتی ہے؟ رمضان المبارک میں اہلِ…
رمضان المبارک میں نبی کریم ﷺ کی عبادت کیسی ہوتی تھی؟ نبی کریم ﷺ کا…