قرآن وسنت کے بیشتر دلائل سے سود کی حرمت روز روشن کی طرح واضح ہے۔ مگر کچھ لوگ اس دنیا کی خاطر آخرت کو داؤ پر لگاتے ہوئے اس حرمت سے بچنے کیلئے چور دروازے ڈھونڈتے نظر آتے ہیں۔ چنانچہ وہ لوگ نصوص صحیحہ کی من مانی تأویلات کرکے سود کی مختلف صورتوں کو جائز قرار دینے کے درپے ہوتے ہیں۔ حالانکہ یہ تمام حیلے بہانے سود کو حرمت کے دائرہ سےخارج نہیں کرتے۔

 سود کے اس دروازے کو بند کرنے کے لئےشریعت نے سود کھانے کے لیے بہانہ بازی اور حیلہ سازی کو حرام قرار دیا ہے ، یہی نہیں بلکہ اسلام نے تو کسی بھی حرام شے کو بذریعہ حیلہ حلال کرنے کی سختی سے مذمت کی ہے اور اس طرح کے کسی بھی فعل کو حرام ٹھہرایا ہے۔

 اللہ تعالیٰ نے یہودیوں پر گائے کی چربی حرام کی تھی مگر انہوں نے اسے حلال کرنے کیلئے یہ حیلہ رچا کہ چربی کو پگھلا کر بیچتے پھر اس کی قیمت استعمال کرتے۔ چنانچہ جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

قَاتَلَ اللّٰهُ الْيَهُودَ إِنَّ اللّٰهَ لَمَّا حَرَّمَ شُحُومَهَا جَمَلُوهُ ثُمَّ بَاعُوهُ فَأَكَلُوا ثَمَنَهُ

صحيح بخاري: كتاب البيوع ، باب البيع الميتة و الأصنام،حديث رقم :2236 صحيح مسلم : كتاب المساقاة، باب تحريم بيع الخمر و الميتة الخنزير والأصنام ،حدیث رقم 4026

ترجمہ:   اللہ تعالیٰ ان یہودیوں کو غارت کرے جب اللہ تعالیٰ نے ان پر چربی کو حرام کیا تو انہوں نے اسے پگھلایا پھر بیچا اور اس کی قیمت کھائی ۔

عصر ِحاضر میں سودکو بذریعہ حیلہ سازی حلال کرنے کی تفصیل سے قبل حیلہ کی تعریف اور اس کا مفہوم جانناضروری ہے۔

لغوی تعریف :

’’حِيَلْ‘‘حیلہ کی جمع ہے ،جس کے معنی’’ مہارت ،چالاکی ،باریکی سے کوئی کام انجام دینا ‘‘۔[1]

اصطلاحی تعریف :

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’لغت میں باریک بینی سے کسی کام کو انجام دینا حیلہ کہلاتا ہے۔ جبکہ اصطلاح دین میں اس لفظ کا استعمال مہارت اور چالاکی کے ساتھ اپنے غرض و مقصد کو پالینے کے معنی میں کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔’’اس فعل کا ارتکاب نہ کرنا جس کا ارتکاب یہودیوں نے کیا کہ اللہ تعالی کی حرام کردہ چیزوں کو حیلوں کے ذریعے حلال کرلو ‘‘۔[2]

فقہاء کے عرف میں حیلے کا معنی حرام کردہ امور کو تاویلات کے ذریعے حلال کرنے کی کوشش کیا جاتا ہے .[3]

 امام شاطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’ شریعت کے کسی حکم کے ابطال کی غرض سے ایسا عمل انجام دینا جو بظاہر جائز معلوم ہو( اسے حیلہ کہا جاتا ہے ) ‘‘[4]۔

علامہ ابن قدامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

وَالْحِيَلُ كُلُّهَا غَيْرُ جَائِزَةٍ فِي شَيْءٍ مِنْ أُمُورِ الدِّينِ

المغني: 4/ 63

دین کے کسی بھی معاملے میں کسی بھی قسم کا حیلہ حرام اور ناجائز ہے۔

پھر حیلے کی تعریف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں ’’ حیلہ یہ ہے کہ کوئی شخص جائز عقد ومعاملے کو ظاہر کرے مگر پھر بطور دجل وفریب حرام معاہدہ ومعاملہ کرے۔یا (ایسا طریقہ استعمال کرے جس سے ) حرام کو حلال کرنا ، واجب کو ساقط کرنا ، یا حق کو رد کرنا مقصود ہو ‘‘۔[5] گزشتہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ لغت کے اعتبار سے ’’حِیَلْ ‘‘ کا لفظ انتہائی وسیع مفہوم رکھتا ہے۔ کسی بھی معاملے میں ذھانت اور ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے اسے صحیح طرح انجام دینا بھی حیلہ ہے لیکن فقہاء کے عرف میں اس کا مذموم معنی ہےبخشیت طوالت ہم اسی مذموم معنی کو ہی لے کر اپنے مضمون کو آگے بڑھائیں گے۔ورنہ تمام اقسام کے حیلے اور ان کے احکام ذکر کرنے سے مضمون بہت طویل ہوجائے گا۔

و باللّٰه استمد العون والتوفيق۔

سود کو حلال کرنے کیلئے جو حیلے بہانے اختیار کئے جاتے ہیں ان میں سے چند ایک کی تفصیل ذیل میں بیان کی جاتی ہے۔

سودی معاملات میں تعاون کرنا

کچھ لوگ سود ی معاملات میں تعاون کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہم خود تو سود نہیں کھا رہے۔جبکہ یہ ایک انتہائی بھونڈی دلیل ہے کیونکہ اسلام نے سود کا دروازہ بند کرنے کے لئے ایسا ضابطہ دیا ہے کہ سودی معاملے سے منسلک ہونے والا ہر شخص برابر کا گنہگار ہوتا ہے۔ جن میں سود لینے والا ، دینے والا ، سودی دستاویز لکھنے والا، سودی کاروبار میں واسطہ بننے والا ،سب گنا ہ میں برابر ہیں۔

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں

لَعَنَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَكَاتِبَهُ  وقالَ هُمْ سواءٌ

صحيح مسلم: كتاب المساقاة ، باب لعن آكل الربا و موكله، حدیث نمبر 1598

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے اور سود دینے والے اور اس کے لکھنے والے اور اس کے گواہ بننے والوں پر لعنت بھیجی ہے اور فرمایا کہ یہ سارے لوگ گناہ میں برابر کے شریک ہیں ۔

چنانچہ سود سے منسلک لوگوں کے ساتھ کسی قسم کا تعلق درست نہیں۔اور اس کے جواز کے تمام حیلوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث نے باطل کردیا ہے۔

 بیع عینہ کو اختیار کرنا

اس کی صورت یہ ہے کہ احمدنامی شخص نے سلیم نامی شخص کوکوئی سامان خاص مدت کے لئے ادھار بیچا اور پھر اسی سامان کو احمدنے سلیم سے اس سے کم قیمت پر نقد خریدلیا علماء محققین نے اس قسم کے تجارتی معاملے کو سود قرار دیا ہے۔

اس بارے میں حدیث میں وعید بھی وارد ہوئی ہے ،چنانچہ فرمانِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے ’’ جب تم سودی کاروبار کرنے لگوگے اور کھیتی باڑی پر راضی ہوجاؤگے اور بیلوں کی دمیں پکڑ لوگے اورجہاد کو چھوڑ دوگے تو اللہ تعالی تم پر ذلت و پستی مسلط کردے گا۔اور اسے اس وقت تک تم سے دور نہیں کرے گا جب تک تم اپنے دین کی طرف واپس نہیں آجاتے‘‘۔[6]

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’ مفسر ِقرآن عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے فتوی پوچھا گیا کہ ایک آدمی نے حریز(مخصوص کھانہ ) ایک مدت کے لئے ادھار بیچا ، پھر اسے اس سے کم قیمت پر نقد خرید لیا تو انہوں نے جواباً کہا :’’یہ ان معاملات میں سے ہے جسے اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام کیا ہے ‘‘۔[7]

چنانچہ یہ بیع جمہور علماء کے نزدیک حرام ہے۔

قرض دینے پر کسی بھی قسم کا نفع حاصل کرنا

سود کا دروازہ بند کرنے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو اس نفع کے حصول سے بھی منع فرمایا ہےجس سے شبہ پیدا ہوکہ یہ قرض دینے کے سبب حاصل ہواہے مثلاً:کوئی ہدیہ دینا ،[8]یا قرض دینے والے کا کوئی کام مفت انجام دینا وغیرہ۔ فرمانِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:

إِذَا أَقْرَضَ أَحَدُكُمْ قَرْضًا فَأَهْدَى لَهُ أَوْ حَمَلَهُ عَلَى الدَّابَّةِ فَلَا يَرْكَبْهَا وَلَا يَقْبَلْهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ جَرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ قَبْلَ ذَلِكَ

سنن ابن ماجه:كتاب الصدقات،باب القرض،حدیث: 2432۔یہ حدیث حسن ہے

’’جب تم میں سے کوئی کسی کو قرض دےاس پر اسے ہدیہ دیا جائے یا سواری پر بٹھایا جائے تو وہ نہ بیٹھے اور نہ ہدیہ قبول کرے ،ہاں! اگر قرض دینے سے پہلے ہی سے یہ سلسلہ چلا آرہا ہے تو کوئی حرج نہیں ‘‘[9]

علماء کرام اس باب میں ایک اصولی قاعدہ ذکر کرتے ہیں :

كلُّ قرضٍ جَرَّ مَنفعةً فَهوَ ربًا

مجموع فتاوی ومقالات متنوعہ:ج25

ترجمہ:’’ جو قرض بھی نفع لائے وہ سود ہے ‘‘۔

اس بارے میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کےچند آثار ملاحظہ ہوں :

علامہ ابن سیرین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ:’’ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اُبیّ بن کعب رضی اللہ عنہ کو دس ہزار درہم قرض دئے تو اُبیّ بن کعب رضی اللہ عنہ نے اپنی زمین کا پھل انہیں بطور ہدیہ دیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے وہ ہدیہ قبول کرنے سے انکار کردیا ‘‘۔اس پر اُبیّ بن کعب عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے :

’’ اہل مدینہ کو علم ہے کہ میرا پھل سب سے بہتر اور اچھا ہوتا ہے ، اور ہمیں اس کی ضرورت بھی نہیں ، تو آپ نے ہمارا ہدیہ کیوں قبول نہیں کیا ؟پھر جب انہوں نے دوبارہ دیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے اسے قبول کرلیا‘‘۔

 امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

’’ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ ہدیہ اس خیال سے رد کیا کہ کہیں یہ ہدیہ قرض کی بنا پر نہ ہو لیکن جب انہیں یہ یقین ہوا کہ یہ قرض کی بنا پر نہیں تو انہوں نے ہدیہ قبول کرلیا ، اور مقروض شخص کا ہدیہ قبول کرنے سے باب میں یہ روایت فیصل ہے۔

امام شوکانی رحمہ اللہ ’’نيل الاوطار ‘‘ میں لکھتے ہیں :

’’ماحصل یہ کہ اگر تو ہدیہ یا عاریہ قرض میں اور مہلت لینے اور وقت زیادہ کرنے کے لئے ہو ،یا قرض خواہ کے لئے بطور رشوت ہو ، یا قرض خواہ کو قرض کے بدلے نفع دینے کے لئے ہو تو یہ حرام ہے ، کیونکہ یہ سود اور رشوت کی ایک قسم میں سے ہے۔

اور اگر مقروض اور قرض خواہ کی عادت میں سے ہو کہ وہ اس قرض سے قبل بھی ایک دوسرے کو ہدیہ دیتے ہوں تو اس میں کوئی حرج نہیں ، اور اگر یہ اصلا ً اس غرض سے نہیں تو ظاہر یہی ہے کہ اسے قبول نہیں کرنا چاہئے، کیونکہ اس کی ممانعت مطلقاً ہے ‘‘[10]

اگر آپ یہ کہیں کہ :

کیا ہدیہ رد کرنے کے علاوہ اور بھی کوئی حل ہے ،اور سود میں واقع ہونے کے علاوہ کوئی اور راستہ بھی ہے ؟

تو اس کا جواب یہ ہے :

جی ہاں ،اگر آپ اسے رد کرنے سے انکار کریں ،اور ضرور قبول کرنا چاہیں تو پھر آپ کے سامنے دو راستے ہیں ان میں سے جو چاہیں اختیار کریں:

یا تو اسے اسی طرح کا ہدیہ دیں جو اس سے بھی بہتر اور اچھا ہو ، یا پھر اسے قرض میں شامل کریں اور اس کی قیمت قرض میں سے کم کرکے ہدیہ کے مالک سے اتنا قرض کم واپس لیں۔

سعید بن منصور رحمہ اللہ اپنی سنن میں بیان کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا :

’’ میں نے بغیر کسی تعارف کے ایک شخص کو قرض دیا ،تواس نے مجھے کچھ ہدیہ دیا ، ابن عمر رضی اللہ عنہما کہنے لگے :اسے اس کا ہدیہ واپس کردو یا اسے قرض میں سےشامل کرلو‘‘

اور سعید بن منصور ہی بیان کرتے ہیں کہ سالم بن ابی جعد نے بیان کیا :’’ایک شخص ابن عباس رضی اللہ  عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا : عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا :

’’میں نے ایک مچھلی فروش کو بیس درھم قرض دئےتو اس نے مجھے ایک مچھلی ہدیہ دی ، میں نے اس مچھلی کی قیمت لگوائی تو وہ تیرہ درھم تھی ، اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے :’’ اس سے سات درہم لے لو‘‘[11]

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

’’اگر کوئی کہنے والا کہے کہ جب یہ مسئلہ ہے ہی حرام تو اسے اصل پر کیوں نہیں لوٹایا جاتا ( یعنی اسے بالکل منع ہی کیوں نہیں کردیا جاتا )؟

تو ہم کہیں گے :اس لئے کہ ہوسکتا ہے اسے حیاء اور شرم روک دے اور ہدیہ رد کرنے سے ہدیہ دینے والے کا دل ٹوٹ جائے تو ہم کہتے ہیں :

اس سے لے لو اور اسے اتنا یا اس سے بھی زیادہ بدلہ دینے کی نیت کرلو ، یا اس کی قیمت قرض میں شامل کرلو تو اس میں کوئی حرج نہیں کچھ کمی و بیشی کے ساتھ ‘‘۔[12]

اسی ضمن میں ایک اور ممنوعہ صورت کا ذکر کرتے چلیں کہ ایک شخص اگر کسی کو 10 ہزار روپے ادھار دے پھر ساتھ میں اپنا کوئی سامان جس کی قیمت 4 ہزار روپے ہو وہ 5 ہزار میں بیچ دے یہ بھی ناجائز ہے۔کیونکہ یہ 1 ہزار روپے کا منافع صرف اور صرف اس کے قرض دینے کی وجہ سے لیا جارہا ہے۔ اور قرض دار قرض کی مجبوری کی وجہ سے اس کا سامان خریدنے کے لئے تیار ہوجاتا ہے چنانچہ یہ بھی ایسا قرض ہے جو منافع لاتا ہے لہٰذا شرعی اصول کی بنا پر یہ ناجائز ٹھہرا۔اور اس کی حرمت پر سلف کا اجماع ہے۔ [13]

اس صورت میں ایک اور قباحت یہ ہے کہ اس میں ادھار اور خرید ایک ساتھ جمع ہورہی ہیں جو کہ شرعا ًممنوع ہے۔

حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :’’قرض کی شرط پر بیع حلال نہیں ،اور نہ ہی ایک بیع میں دو شرطیں ،اور نہ ہی اس میں منافع ہے جو مضمون نہ ہو اور جو تیرے پاس نہیں اس کی بیع نہیں‘‘۔[14]

’’میں نے ایک مچھلی فروش کو بیس درھم قرض دئےتو اس نے مجھے ایک مچھلی ہدیہ دی ، میں نے اس مچھلی کی قیمت لگوائی تو وہ تیرہ درھم تھی ، اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے :’’ اس سے سات درہم لے لو‘‘[15]

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

’’اگر کوئی کہنے والا کہے کہ جب یہ مسئلہ ہے ہی حرام تو اسے اصل پر کیوں نہیں لوٹایا جاتا ( یعنی اسے بالکل منع ہی کیوں نہیں کردیا جاتا )؟

تو ہم کہیں گے :اس لئے کہ ہوسکتا ہے اسے حیاء اور شرم روک دے اور ہدیہ رد کرنے سے ہدیہ دینے والے کا دل ٹوٹ جائے تو ہم کہتے ہیں :

اس سے لے لو اور اسے اتنا یا اس سے بھی زیادہ بدلہ دینے کی نیت کرلو ، یا اس کی قیمت قرض میں شامل کرلو تو اس میں کوئی حرج نہیں کچھ کمی و بیشی کے ساتھ ‘‘۔[16]

اسی ضمن میں ایک اور ممنوعہ صورت کا ذکر کرتے چلیں کہ ایک شخص اگر کسی کو 10 ہزار روپے ادھار دے پھر ساتھ میں اپنا کوئی سامان جس کی قیمت 4 ہزار روپے ہو وہ 5 ہزار میں بیچ دے یہ بھی ناجائز ہے۔کیونکہ یہ 1 ہزار روپے کا منافع صرف اور صرف اس کے قرض دینے کی وجہ سے لیا جارہا ہے۔ اور قرض دار قرض کی مجبوری کی وجہ سے اس کا سامان خریدنے کے لئے تیار ہوجاتا ہے چنانچہ یہ بھی ایسا قرض ہے جو منافع لاتا ہے لہٰذا شرعی اصول کی بنا پر یہ ناجائز ٹھہرا۔اور اس کی حرمت پر سلف کا اجماع ہے۔ [17]

اس صورت میں ایک اور قباحت یہ ہے کہ اس میں ادھار اور خرید ایک ساتھ جمع ہورہی ہیں جو کہ شرعا ًممنوع ہے۔

حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :’’قرض کی شرط پر بیع حلال نہیں ،اور نہ ہی ایک بیع میں دو شرطیں ،اور نہ ہی اس میں منافع ہے جو مضمون نہ ہو اور جو تیرے پاس نہیں اس کی بیع نہیں‘‘۔[18]

﴿وَأَحَلَّ اللّٰهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾

البقرۃ: 275

میں نے ایک مچھلی فروش کو بیس درھم قرض دئےتو اس نے مجھے ایک مچھلی ہدیہ دی ، میں نے اس مچھلی کی قیمت لگوائی تو وہ تیرہ درھم تھی ، اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے :’’ اس سے سات درہم لے لو‘‘[19]

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

’’اگر کوئی کہنے والا کہے کہ جب یہ مسئلہ ہے ہی حرام تو اسے اصل پر کیوں نہیں لوٹایا جاتا ( یعنی اسے بالکل منع ہی کیوں نہیں کردیا جاتا )؟

تو ہم کہیں گے :اس لئے کہ ہوسکتا ہے اسے حیاء اور شرم روک دے اور ہدیہ رد کرنے سے ہدیہ دینے والے کا دل ٹوٹ جائے تو ہم کہتے ہیں : اس سے لے لو اور اسے اتنا یا اس سے بھی زیادہ بدلہ دینے کی نیت کرلو ، یا اس کی قیمت قرض میں شامل کرلو تو اس میں کوئی حرج نہیں کچھ کمی وبیشی کے ساتھ ‘‘۔[20]

اسی ضمن میں ایک اور ممنوعہ صورت کا ذکر کرتے چلیں کہ ایک شخص اگر کسی کو 10 ہزار روپے ادھار دے پھر ساتھ میں اپنا کوئی سامان جس کی قیمت 4 ہزار روپے ہو وہ 5 ہزار میں بیچ دے یہ بھی ناجائز ہے۔کیونکہ یہ 1 ہزار روپے کا منافع صرف اور صرف اس کے قرض دینے کی وجہ سے لیا جارہا ہے۔ اور قرض دار قرض کی مجبوری کی وجہ سے اس کا سامان خریدنے کے لئے تیار ہوجاتا ہے چنانچہ یہ بھی ایسا قرض ہے جو منافع لاتا ہے لہٰذا شرعی اصول کی بنا پر یہ ناجائز ٹھہرا۔اور اس کی حرمت پر سلف کا اجماع ہے۔ [21]

اس صورت میں ایک اور قباحت یہ ہے کہ اس میں ادھار اور خرید ایک ساتھ جمع ہورہی ہیں جو کہ شرعا ًممنوع ہے۔

حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :’’قرض کی شرط پر بیع حلال نہیں ،اور نہ ہی ایک بیع میں دو شرطیں ،اور نہ ہی اس میں منافع ہے جو مضمون نہ ہو اور جو تیرے پاس نہیں اس کی بیع نہیں‘‘۔[22]

اور اس لئے بھی کہ اس میں سود کی صورت اور مقصد ظاہر نہیں ہوتا۔اور اس لئے بھی کہ خریدار سامان اس لئے خرید رہا ہے تاکہ اس سے فائدہ حاصل کرے۔ یا تو وہ بعینہ اس چیز سے فائدہ حاصل کریگا ،یا پھر اس کی قیمت سے، سعودی عرب کی مستقل فتوی کمیٹی کے علماء کرام اور شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے یہی رائے اختیار کی ہے۔[23]

مگر شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے اس میں توسط اختیار کرتے ہوئے کچھ معیّن شرائط کے ساتھ اس معاملے کو جائز قرار دیا ہے۔شیخ رحمہ اللہ اپنے ایک کتابچہ ’’رسالة المداينة‘‘ میں لکھتے ہیں : ’’پانچویں قسم (یعنی قرض کی اقسام میں سے ) کہ اسے رقم اور مبلغ کی ضرورت ہے اور اسے قرض دینے والا کوئی شخص نہیں تو وہ کوئی چیز ادھار خرید کر پھر اسے کسی اور شخص کو فروخت کردے جس سے خریدا ہے اسے فروخت نہ کرے ، یہ مسئلہ تورق کہلاتا ہے۔

اس کے جواز میں علماء کرام کا اختلاف ہے ،بعض تو اسے جائز قرار دیتے ہیں ، کیونکہ آدمی کوئی چیز خریدتا ہے توا س کا مقصد یا تو بعینہ وہ چیز اور سامان ہوتا ہے ،یا پھر اس کا کوئی عوض ،اور یہ دونوں مقصد صحیح ہیں۔

اور بعض علماء کرام کہتے ہیں کہ یہ جائز نہیں ، کیونکہ اس کا مقصد پیسےحاصل کرنا ہے ،اور یہ سامان توا ن کے مابین بطور حیلہ داخل ہوتا ہے اور ان وسائل کا استعمال کرناجس سے نقصان اور خرابی کا ازالہ نہیں ہوتا اس کی بنیاد پرکسی حرام چیز کو حلال کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ’’اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ، اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جو اس نے نیت کی ‘‘۔[24]مسئلہ تورق کو حرام قرار دینے کا قول شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اختیار کیا ہے،اور امام احمد رحمہ اللہ سے بھی ایک روایت ہے۔ بلکہ امام احمد رحمہ اللہ نے تو ابو داؤد کی روایت میں اسے العینہ یعنی سود میں شامل کیا ہے ،جیسا کہ ابن قیم رحمہ اللہ نے تہذیب السنن میں نقل کیا ہے۔[25]

لیکن آج کے دور میں لوگوں کی ضرورت اور قرض دینے والوں کی کمی کے پیش نظر کچھ شرائط کے ساتھ اسے جائز کہنا ضروری ہے :

 (1)تورق کا معاملہ کرنے والا شخص ضرورت مند ہو ،اور اگر وہ رقم کا محتاج نہیں تو پھر جائز نہیں ہوگا،مثلا کوئی شخص کسی دوسرے کو قرض دینے کے لئے یہ طریقہ اختیار کرے تو ایسا کرنا جائز نہیں ہوگا۔

(2) کسی اور مباح ذریعے سے اس کے لئے مال حاصل کرناممکن نہ ہو مثلاً قرض کے ذریعے ،اور اگرکسی اور طریقہ سے اس کے لئے مال حاصل کرنا ممکن ہو تو اس کے لئے یہ طریقہ (تورق ) اختیار کرنا جائز نہیں ہوگا کیونکہ اسے اس کی ضرورت نہیں۔

(3) معاہدہ کسی ایسی چیز پر مشتمل نہ ہو جو سود کے مشابہ ہو ،مثلا وہ یہ کہے :میں نے تجھے یہ دس درہم، گیارہ درہم میں فروخت کئے ، یا اس طرح کی بات کہے اگر وہ اس پر مشتمل ہو یا تو یہ مکروہ ہوگا یا پھر حرام۔ امام احمد سے منقول ہے کہ انہوں نے اس طرح کے مسئلہ میں فرمایا:گویا کہ یہ دراھم کے بدلے دراھم ہیں، یہ صحیح نہیں ہے۔

لہٰذا اس بنا پر صحیح طریقہ یہ ہے کہ دینے والا سامان کی قیمت اور اس کے نفع کی مقدار معلوم ومعیّن کرکے بیان کرے اور پھر لینے والے کو کہے ’’میں نے تجھے ایک سال تک اتنے میں دیا ‘‘۔

(2) ادھار لینے والا اسے اپنے قبضہ میں کرنے اور اپنے پاس لے جانے سے پہلے اس چیز کو فروخت نہ کرے کیونکہ’’ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تاجروں کو سامان اپنی دوکانوں اور اپنی جگہوں پر لے جانے سے قبل فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے‘‘۔[26]

جب یہ چاروں شرائط پوری ہوجائیں تو پھر مسئلہ تورق کو جائز قرار دیا جاسکتا ہے ،تاکہ لوگوں کو تنگی نہ ہو۔لیکن یہ معلوم ہونا چاہئے کہ ادھار لینے والے اور ادھار دینے والے کو یہ سامان اور چیز فروخت کرنے والے کو کسی بھی حالت میں خریدی ہوئی قیمت سے کم میں فروخت نہ کرے کیونکہ یہی ’’العینہ‘‘(سود کی ایک قسم ) ہے‘‘۔[27]

انتھی و اللہ اعلم

دو خریدوفروخت کرنے والوں کاتیسرےشخص کو واسطہ بنانا:

اس کی صورت یہ ہے کے دو آدمی کسی سودی معاملہ پر اتفاق کرلیں اور دوکان کے مالک کہ پاس آئیں اور اس سے کسی قیمت پر کوئی سامان کا مطالبہ کریں اور وہ سامان ان میں سے ایک آدمی خرید لے پھر دوسرے کے ہاتھ خریدی ہوئی قیمت سے زیادہ قیمت پر ادھارپراپنے ساتھی کو بیچ دے ، اور جب اس کا ساتھی خرید چکے تو پھر دوکان کے مالک کو اس سے کم قیمت پر واپس کر دے اس طرح دوکان کے مالک نے دونوں کے درمیان واسطہ بن کر منافع کمایا اس صورت کو علماء نے ’’حیلہ ثلاثیہ‘‘ سے تعبیر کیا ہے کیونکہ اس میں تین لوگ شریک ہوتے ہیں۔

 امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں’’ بلاشبہ یہ صورت سود میں سے ہے‘‘۔[28]

اس صورت میں ایک اور قباحت یہ بھی ہے کہ پہلے آدمی نے سامان اپنے قبضے میں لئے بغیر ہی بیچ ڈالا جوکہ ناجائزہے جیسا کہ حدیث میں ذکر ہوا۔

مخابرۃ ومذابنه ومحاقلة

یہ اقسام بھی ربا(سود) کے سدباب کےلئے حرام کی گئی ہیں۔ المخابرۃ: یعنی کھیت کی پیداوار سے اپنے لئے کچھ حصہ خاص کر لینا۔مثلا زمین کا مالک کسان سے کہے کہ زمین کے آخری حصہ میں جو کاشت کروگے وہ تمھارا ہوگا تو یہاں ربا کا دروازہ کھل رہا ہے کیونکہ وہاں زراعت کا ہونا یا نا ہونا یقینی نہیں ،ہاں اگر پوری زمین میں سے فیصد کے ساتھ تقسیم ہو کہ مکمل زراعت میں سے 5 فیصد تمہارا ہوگا تو یہ جائز ہے۔

 مزابنہ سے مراد یہ ہے کہ مثلا درخت میں لگی ہوئی کچی کھجور کو پکی ہوئی کھجور سے بیچنا۔

محاقلہ :یعنی کھیت میں لگے ہوئے کچے اناج کو پکے ہوئے اناج سے خریدنا۔وغیرہ

 امام ابن کثیررحمہ اللہ رقمطراز ہیں :’’خریدوفروخت کے معاملے کو اور ان جیسے دیگر معاملات کو اس وجہ سے حرام قرار دیا گیا ہے تاکہ سود کا مادہ ختم ہو اور اس کی جڑ کٹ جائے کیونکہ سوکھنے سے پہلے دونوں چیزوں میں ہم وزنی مما ثلث اور برابری معلوم نہیں ہے اسی لئے فقہاء نے لکھا ہے

 الجهل بالمماثلة كحقيقة المفاضلة

ترجمہ:’’ دو چیزوں میں برابری و مماثلت معلوم نہ ہونا ہی سود کی حقیقت ہے‘‘۔[29]

سود کو منافع اور فائدہ سے تشبیہ دینا :

 حیلوں میں سے یہ بھی ہے کہ سود لینے والے لوگ اسے فائدے ، نفع سے تعبیر کرتے ہیں۔ تاکہ جو قرآن وحدیث کے نصوص میں سود سے متعلق وعیدیں ہیں ان سے بچا جا سکے جبکہ یہ نہایت ہی بچگانہ عمل ہے۔ ہم ان سے پوچھتے ہیں کیا یہ مال اور منافع جو آپ نے لیا کیا اس لئے نہیں لیا کہ آپ نےایک مدت کیلئے قرض دیا اور اب واپسی کے وقت آپ اس پر نفع مانگ رہے ہیں ؟ یہ تو بعینہ ربا ہے آپ اسے جو چاہیں نام دیں ،کیا خنزیر کو اگر بھیڑ بکری کہہ دیا جائے تو وہ حلال ہوجائیگا؟ ہرگز نہیں، اسی طرح کچھ لوگ ایک اور حیلہ ڈھونڈتے ہیں کہ ہم کفار کے ممالک میں اپنا مال رکھیں گے پھر ان سے نفع لے کر ان کے ملک کے اقتصاد کو کمزور بنائیں گے۔یہ بھی مضحکہ خیز ہے، آپ کےان ممالک میں مال رکھوانے سے حقیقت میں اُن کا

اقتصاد مضبوط ہو رہا ہے کیونکہ ان کے ملک کی دولت بڑھ رہی ہے کبھی بھی وہ مجبوری میں اس مال کو استعمال کر سکتے ہیں اور اکثر ممالک یہ فوائد مسلم ممالک کو نقصان پہنچانے کے لئے استعمال کرتے ہیں یا مسلمانوں کو سودی قرضےدے کر ان پر مزید دباؤ بڑھاتے ہیں۔

اسی طرح آج کل کے ایک نام نہاد ڈاکٹر پروفیسر صاحب کا فتوی نظر سے گزار کہ فرماتے ہیں کافر ممالک میں رہائش پذیر لوگ سود لے سکتے ہیں سود کے یہ احکام صرف مسلمان ممالک پر لاگو ہوتے ہیں۔

ایسا عجیب فتوی یقینا مسلمانوں کے لیے شرّ عظیم کا دروازہ کھولنے کے مترادف ہے۔اگر کوئی اسی قسم کی بات زنا /حرام گوشت، کھانے وغیرہ کے بارے میں کہے تو ہمارا کیا رد عمل ہوگا ؟ کیا یہ امور بھی وہاں حلال ہو جائیں گے؟

اللہ تعالی ہمیں ربا کے تمام حیلوں سے بچنے اور اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام احکامات کے سامنے سرخم تسلیم کرنے والا بنائے( آمین)

وصلی اللّٰہ و سلم علی نبینا محمد و علی آلہ وصحبہ أجمعین


[1] لسان العرب 1/185

[2] رواه ابن بطة فی کتابه ’’إبطال الحيل ‘‘ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس سند کو حسن قرار دیا ہے دیکھئے مجموع الفتاویٰ 29/29

[3] الفتاوی الکبری 3/191

[4] الموافقات 4/201

[5] المغني: 4/ 63

[6] سنن ابی داود:كتاب الإجارة ،باب في النهي عن العينة،علامہ البانی نے اس روایت کو سلسلۃ الصحیحہ میں صحیح قرار دیا ہے۔

[7] فتاوی ابن تیمیہ 29/446

[8] تاکہ قرض دار اپنے قرض کا مطالبہ مؤخر کردے۔

[9] فتاوی الکبری 6/159 شیخ الاسلام نے اس حدیث کو حسن کہا ہے۔

[10] نيل الأوطار :6/257

[11] مجموع الفتاوی الکبری لإبن تيمية 6/159

[12] شرح الممتع 9/61

[13] المغني لابن قدامة 4/211

[14] جامع الترمذي:كتاب البيوع،باب ما جاء في كراهية بيع ما ليس عندك، امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو حسن صحیح قرار دیا ہے. سنن أبي داؤد كتاب الإجارة ،باب في الرجل يبيع ما ليس عنده

[15] مجموع الفتاوی الکبری لإبن تيمية 6/159

[16] شرح الممتع 9/61

[17] المغني لابن قدامة 4/211

[18] جامع الترمذي:كتاب البيوع،باب ما جاء في كراهية بيع ما ليس عندك، امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو حسن صحیح قرار دیا ہے. سنن أبي داؤد كتاب الإجارة ،باب في الرجل يبيع ما ليس عنده

[19] مجموع الفتاوی الکبری لإبن تيمية 6/159

[20] شرح الممتع 9/61

[21] المغني لابن قدامة 4/211

[22] جامع الترمذي:كتاب البيوع،باب ما جاء في كراهية بيع ما ليس عندك، امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو حسن صحیح قرار دیا ہے. سنن أبي داؤد كتاب الإجارة ،باب في الرجل يبيع ما ليس عنده

[23] فتاوی اللجنةالدائمة للبحوث العلميةوالإفتاء 13/141 مجموع فتاوی ابن باز 19/225

[24] صحيح البخاري:باب بدء الوحي

[25] تهذيب السنن لإبن القيم 80\5

[26] سنن أبي داؤد:كتاب الإجارۃ، باب في الطعام قبل أن يستوفي.

[27] رسالة المداينة للشيخ العثيمين رحمه الله

[28] المجموع:29/441

[29] تفسير ابن کثير 581/1

IslamFort

Recent Posts

نزول قرآن کے حوالے سے اہم معلومات

لیلۃ القدر میں قرآن مجید مکمل نازل ہونے کے ساتھ دوسرا اہم کام کیا ہوا؟…

2 days ago

فراغت کے لمحات کیسے گزاریں؟

عبادت کے حوالے سے قرآن مجید کی کیا نصیحت ہے؟ کیا چھٹیوں کے دن آرام…

2 days ago

عید الفطر کے مسنون اعمال

عید کی خوشی کیسے منائیں؟ عید کا چاند دیکھ کر نبی کریم ﷺ کیا کرتے…

7 days ago

فیشن اختیار کیجیے مگر۔۔۔۔!

کیا فیشن اختیار کرنے میں ہم آزاد ہیں؟ زینت، خوبصورتی یا فیشن اختیار کرنا شرعا…

1 week ago

فلسطین: ایک مرتبہ پھر لہو لہو!

غزہ کی حالیہ صورتحال کس قرآنی آیت کی عکاسی کرتی ہے؟ رمضان المبارک میں اہلِ…

1 week ago

ایسی مسجد میں اعتکاف نہ کریں!

رمضان المبارک میں نبی کریم ﷺ کی عبادت کیسی ہوتی تھی؟ نبی کریم ﷺ کا…

2 weeks ago