شکر گزاری: نعمتوں کی پہچان اور برکتوں کی کنجی
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں شکر گزاری کا حکم دیا ہے اور وعدہ کیا ہے کہ جو شکر کرے گا اسے مزید نعمتیں عطا کی جائیں گی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔
سلف صالحین کی زندگیوں میں شکر گزاری نمایاں تھی، وہ رمضان کے بعد چھ ماہ تک عبادات کی قبولیت کی دعا کرتے اور اس کی آمد سے پہلے اس کی برکتیں حاصل کرنے کی التجا کرتے تھے۔
شکر گزاری کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم ہر نعمت کو اللہ کی عطا سمجھیں، زبان سے “الحمدللہ” کہیں اور اپنے عمل سے نعمتوں کی قدر کریں کیونکہ شکر نہ صرف نعمتوں میں اضافہ کرتا ہے بلکہ دل کو سکون اور روح کو اطمینان بخشتا ہے۔ پس جو نعمتوں کی قدر کرنا سیکھ لے وہ دنیا و آخرت میں کامیابی کی راہ پر گامزن ہو جاتا ہے۔
کیا قبر میں سوالات کے دوران نبی کریم ﷺ کی زیارت کرائی جاتی ہے؟ کیا…
اسباب اختیار کرتے ہوئے کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟ "فلاں ڈاکٹر کے ہاتھ میں…
مدینہ میں نفاق کا ظہور کب اور کیوں ہوا؟منافقین کی سب سے بنیادی اور خطرناک…
خطبہ اول: یقیناً تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، وہ اکیلا اور بے نیاز ہے،…
قدرتی وسائل سے بھرپور پاکستان معاشی بحران کا شکار کیوں ہے؟ ہماری بدحالی کی بنیادی…